صدقہ فطر اور مسائل

(Ali Jan, Lahore)

اﷲ پاک نے ہمیں حضرت محمدﷺ نبی دے کرہماری زندگی پر بہت بڑا احسان کیا ہے کیونکہ انکی تعلیمات کی بدولت ہم سمجھ سکے ہیں کہ غریب وغربا ء کے حقو ق بھی ہیں ورنہ آج کے اس افراتفری کے دور میں ہر کسی کو اپنی پڑی ہوتی مگر ہمارے پیر نبی حضرت محمدﷺ نے تنگدست اور دکھی انسانوں کو اپنی خوشیوں میں شریک کرنے کی تلقین کی اسی وجہ سے ہر چھوٹے بڑے پرصدقہ واجب کردیا تاکہ صدقہ کے بدولت جو لوگ خوشی نہیں منا پاتے وہ بھی خوشی میں شریک ہوسکیں حضرت محمدمصطفٰے ﷺ نے غنی اور فقیر کی جانب سے صدقہ فطرادا کرنے کا حکم فرمایا اور ارشاد فرمایا ترجمہ:اب رہا تم میں مال دار غنی شخص اس سے اﷲ پاک تمہارے مال کو پاک کردیتا ہے اور تم میں سے جو جتنا صدقہ کرے گا اﷲ تعالٰی اسے سے زیادہ عطا کرے گا (مسندامام احمد)حضورنبی کریم ﷺ نے ہر چھوٹے بڑے مردوعورت پر صدقہ فطر کا حکم فرمایا ور اس کی ادائیگی نماز عید سے پہلے کی گئی ہے تاکہ جسے صدقہ دیا جائے وہ بھی خوشیوں میں شامل ہوسکے اسی حوالے سے سنن دارقطنی میں حدیث مبارکہ ہے کہ حضرت حسن بصری سے روایت ہے کہ حضرت عبداﷲ ابن عباس راضی اﷲ عنہا ماہ رمضان کے آخری جمعہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تم میں سے کون کون اہل مدینہ سے ہے؟اٹھو اور اپنے سب بھائیوں کو سیکھاؤ کیونکہ انکو نہیں پتا کہ رسول پاک ﷺ نے آزادوغلام مروعورت پر آدھا صاع گیہوں یا ایک صاع کھجور مقررفرمایا حضرت حسن بصری سے روایت ہے کہ حضرت علی نے فرمایا جب اﷲ تمہیں استطاعت ،وسعت فراخی عطا فرمائے تو گہیوں ایک صاع دے دو اسی لیے بہترہے ان چارچیزوں سے صدقہ فطردینا چاہیے تفصیل درج ذیل ہے
(۱)کھجور3.5کلوسعودی قیمت 60ریال ہندوستانی قیمت 600پاکستانی قیمت640روپے
(۲)جو3.5کلوسعودی قیمت 20یال ہندوستانی قیمت 100پاکستانی قیمت 240روپے
(۳)کشمش3.5کلوسعودی قیمت 70ریال ہندوستانی قیمت 1050پاکستانی قیمت 1650روپے
(۴)گہیوں ع1.75کلوسعودی قیمت 7ریال ہندوستانی قیمت 50پاکستانی قیمت 90روپے
صدقہ فطرکے وجوب کی دووجوہات ہیں پہلی کہ اگرروزہ میں کوئی کمی کوتاہی رہ گئی ہے تودورہوجائے دوسرایہ کہ غریبوں کوبھی عیدکی خوشیاں نصیب ہوسکیں ۔صدقہ فطرکے فضائل ومسائل (۱)سرکاردوعالم ﷺ نے ایک شخص سے کہا جاؤ گلی کوچوں میں اعلان کردو صدقہ فطرواجب ہے(جامعہ ترمذی)(۲)جب تک صدقہ فطرادانہیں کیاجاتا تب تک روزہ آسمان اور زمین کے درمیاں معلق(یعنی لٹکا)رہتا ہے(کنزالعمال)حضرت سیدناابن عباس راضی اﷲ عنہا فرماتے ہیں کہ حضورنبی کریم نے اس لیے صدقہ فطر کا حکم دیا کیونکہ فضول اور بے ہودہ کلام سے روزہ کی طہارت یعنی(صفائی)ہوجائے اورمساکین کی خورش یعنی خوراک ہوجائے(سنن ابی داؤد)صدقہ فطران تمام مردوعورت جو صاحب نصاب یعنی ان کا اپنا گھرکھانے پینے کا سامان سواری (جانور،موٹرسائیکل یا گاڑی)کاریگروں کے اورزار خدمت کیلئے لونڈی ،پہننے کیلئے کپڑے ،علم کا شوق رکھنے والوں کیلئے کتابیں (عالمگیری)کسی کے پاس ساڑھے سات تولے سونا یا ساڑھے باون تولے چاندی کی مالیت یا رقم ہو اس کو صاحب نصاب کہا جاتاہے صدقہ فطر کیلئے مقدارنصاب تو وہی ہے جو زکوۃ کیلئے ہے فرق صر ف اتنا ہے کہ سال کے گزرنے اور مال کے بڑھنے کی شرط نہیں۔اسی طرح جو چیزیں ضرورت سے زیادہ ہیں مثلاً گھریلو سامان جو روزانہ ضرورت میں نہیں آتا تو انکی قیمت صدقہ فطر کو پہنچتی ہو تو اس وجہ سے صدقہ واجب ہوجاتا ہے زکوۃ اور صدقہ فطرکے نصاب میں یہ فرق کیفیت کے اعتبار سے ہے (وقارالفتاویٰ)صدقہ فطرواجب ہونے کیلے عاقل وبالغ ہونا شرط نہیں بچہ یا پاگل کا بھی صدقہ اس کا سرپرست اداکرے گا (دارلمختار)مالک نصاب مرداپنی طرف سے اپنے بچوں چاہے وہ صبح کوبھی پیدا کیوں نہ ہوا ہو نا بالغ اور پاگل کا صدقہ ادا کرے گا اگر وہ خود صاحب نصاب ہیں توان کی جائیداد میں سے صدقہ دے گا (عالمگیری)۔ حضورنبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایاصدقہ فطرروزہ دارکی بے کاربات فحش گوئی سے روزہ کو پاک کرنے کیلئے اورمساکین کوکھانا کھلانے کیلئے مقررکیاگیاہے (ابوداؤد اورابن ماجہ ) نبی پاک ﷺ کے اقوال اورعمل کی روشنی میں علماکرام نے عیدالفطرکے صدقہ کیلئے جووزن تحریر کیے ہیں ہرشخص کوچاہیے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق نماز عیدسے قبل صدقہ اداکردے صدقہ رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں دیاجاسکتاہے اورعیدنماز سے پہلے اداکردیناچاہیے اکثرعلماکرام کی رائے ہے کہ اناج کے علاوہ قیمت بھی غرباکودی جاسکتی ہے جیساکہ خلیجی ممالک میں مقیم حضرات اپنے ملک میں غریب بڑوسیوں یارشتہ داروں کو بھی بھیج سکتے ہیں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ali Jan

Read More Articles by Ali Jan: 243 Articles with 73677 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
25 May, 2020 Views: 248

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ