یہ ننھی سی گڑیاں اور انکی خوشیاں

(Hayat Hassan, Karachi)

وقت اور زندگی بڑا ہی ظلم کرتی ہے اِن لڑکیوں پر بابا کی ننھی پریوں پر،کاش کہ ایسا ہوسکتا کہ گزرتے وقت کو روک سکتے تو یقینًا دنیا کی ہر لڑکی اپنے بچپن میں ہی وقت کو روک لیتی کیونکہ جیسے جیسے وقت گزرتا جاتا ہے اِن پر نئے نئےظلم نئ نئ بندشیوں کے ڈھیر لگنا شروع ہو جاتے ہیں ۔ گھر میں جب لڑکی پیدا ہوتی ہے تو اُسے رحمت کہا جاتا ہے خاص کر کہ جب وہ گھر کی پہلی اولاد ہو تو وہ اپنے تمام گھر والوں کی جان بن جاتی ہے ۔

اسکے دم سے گھر میں رونق بنی رہتی ہے ۔اپنے بابا کے دل کی دھڑکن ہوتی ہے۔بابا اُسے بابا کی پری بابا کی جان بابا کی شہزادی جیسے ناموں سے بھُلاتے ہیں۔اُسے اتنا پیار دیا جاتا ہے کی وہ خود کو آسمان میں اُڑنے والے پرندوں کے مانند سمجھنے لگتی ہے۔اُسکی ہر فرمائش پوری کی جاتی ہے ۔یہ سب دیکھ کر وہ خود کو آسمان میں اُڑتا محسوس کرتی ہے۔ بلکل آزاد پرندوں کی طرح اُسے لگتا ہے کہ اُسکے بابا اُسکی خوشی کے لیے سب کچھ کرینگے۔مگر گزرتے وقت کے ساتھ سب کچھ بدلتا جاتا ہے ۔پھر جیسے جیسے عمر بڑھنے لگتی ہے دنیا کی کڑوی اور تلخ حقیقت اُس پہ آشکار ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ جو لڑکی آزاد پرندے کی مانند ہوا کرتی تھی اُسے کہا جاتا ہے کہ گھر سے باہر نہ نکلا کرے، گھر کو اسکے لیے ایک پنجرے کی مانند بنا دیا جاتا ہے ۔ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ پنجرہ چاہے سونے کا ہی کیوں نہ ہو کام تو اسکا قید کرنا ہی ہوتا ہے۔ ہر انسان کو زندگی صرف ایک بار ہی ملتی ہے پھر اسے جینے کا حق ہر انسان کے پاس کیوں نہیں ، خاص کر کہ لڑکیوں کے پاس ، کیا لڑکیاں انسان نہیں ؟اُسے عورت کی۔۔۔۔۔سے ہٹا کر صرف ایک انسان سمجھ کر زرا سی دیر کے سوچا جاۓ تو کیا یہ سب جا ئز ہے؟

ہاں بے شک میں اس بات سے اتفاق رکھتی ہوں کی لڑکیوں پر جو بندیشے لگتی ہیں وہ اُسکی حفاظت کے لیے ہوتی ہیں مگر بندش تو ہی ہوتی ہے چاہے حفاظت کی غرص سے ہو یا کسی اور غرص سے،
بچپن سے ہی لڑکیوں کو سکھایا جاتا ہے "سر جُھکا کے چلنا ،کسے اجنبی سے بات مت کرنا،ہر کسی کی عزت کرنا ،باپ بھائیوں کی عزت کا خیال رکھنا،ایسے اٹھنا ،ایسے بیٹھنا ، ایسے سونا ،ایسے چلنا، کپڑے ایسے پہنا وغیرہ وغیرہ
یہ صرف اتنے نہیں ہیں اگر میں گننے بیٹھ جائو تو شاید پوری رات گزر جائے ۔
افسوس صد افسوس،
یہ باتیں اگر بچپن میں لڑکیوں کے ساتھ ساتھ لڑکوں کو بھی اچھی طرح سمجھا دیا جائے تو کیا ہی بات ہے۔ میرا خیال ہے کہ اگر معاشرے کے مرد اچھے ہوئے تو اُس معاشرے پہ سختی کرنے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔
میرا مطلب ہرگز ہرگز یہ نہیں ہے کہ عورت ساری حدیں پار کر کے نامناسب طریقے سے خود کو معاشرے کے سامنے لائے، مگر اُسے اتنا تو حق دینا چاہئے کہ وہ اپنی باتیں اپنے باپ بھائیوں سے کہ سکے۔ اپنا دُکھ درد اُن سے با نٹھ سکیں۔
باپ بھائی تو محبت کے رشتے ہیں نا اُن سے بھی ڈر کے کیسا جینا؟
بھائی کو تو بہن کا مُحافظ کہا جاتا ہے۔تو بھائی کو بھی یہ احساس ہونا چاہیے کہ وہ اپنی بہن کی حفاظت کرے۔ قید کر کے نہیں اُسکا سہارا بن کے جہاں جہاں وہ گرے بھائی اسکو اُٹھائے اُسے دنیا کی ٹھوکروں سے بچائے۔
دنیا کی ہر بہن اپنے بھائی سے بے انتہا محبت کرتی ہے۔ مگر بتا نہیں پاتی نا جتا پاتی ہے ۔کیونکہ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں بھائیوں کو بچپن سے یہ سکھایا جاتا ہے کہ وہ بہن کا محافظ ہے ایسا محافظ جو بہن کو گھر میں قید کرسکتا ہے مار سکتا ہے سُنا سکتا ہے بھلے ہی وہ اپنی بہن سے محبت کرتا ہو مگر بتا اور جتا نہیں سکتا کیونکہ اُسکے مرد ہونے کا جو رتبہ ہے کہئ وہ کم نہ ہو۔ وہ اپنی بہن کو ڈرا کے اور دبا کے ہی رکھے تاکہ دنیا کے سامنے اُسکی ناک نہ کٹے۔
مگر بہنیں تو صبر کرنے کے لیے بننی ہیں،ان سب کے باوجود وہ اپنے بھائی سے پیار کرتی ہیں ۔جب دُکھی ہوتی ہیں تو بھائی کے کندھے پہ سر رکھ کے رونا چاہتی ہیں ۔ہر دُعا میں اُنکی لمبی عمر اور سلامتی مانگتی ہیں۔
خیر یہ لڑکیاں ہوتی ہی ایسی ہیں ہر ظلم سہنے والی ،صبر کرنے والی اپنوں پر مر مٹنے والی۔
ہر بیٹی کی پہلی محبت اُسکا باپ ہوتا ہے۔بڑھتی عمر کے ساتھ وہ ایک شہزادے کا خواب ضرور دیکھتی ہےمگر اُسی زندگی کا شہنشہاہ اُسکے خیالوں کا بادشاہ اُسکا بابا ہی رہتا ہے۔اُسکے بابا کی جگہ اُسکی زندگی اُسکے خیالوں اور اُسکے دل میں ہمیشہ بہت بلند ہوتا ہے۔ ہر بیٹی کے لیے اُسکے باپ جیسا دنیا میں کوئی ہو ہی نہیں سکتا ۔بچپن میں بڑے مزے سے وہ بابا کے گلے لگ کے ڈھیروں فرمائیشیں کرتی ھیں۔اپنا ہر دکھ درد جھٹ سے بتاتی ہے۔جب تھوڈی سی بڑی ہوجاتی ہے تو یہ سب بہت پیچھے رہ جاتا ہے۔بچپن میں جس بیٹی کی رضا کے بغیر اُسکے جوتے تک گھر میں نہیں آتے تھے۔بڑی ہونے پہ اُسکی زندگی کے بڑے سے بڑے فصیلے پہ اُسکی رائے لینا تک مناسب نہیں سمجھا جاتا ہے۔اُسے بڑوں کے ہر فصیلے کو تسلیم کرنے کو کہا جاتا ہے۔وہ یہ سب تسلیم کر بھی لے تو اُسے کوئی شاباشی نہیں ملتی اور ہاں اگر وہ انکار کرے تو اُسے غیرت کے نام پہ قتل کرنے سے پہلے دو سیکنڈ کے لیے بھی نہیں سوچتے ۔
کیسی دنیا ہے یہ میں حیران اس بات پہ ہوں کہ جن جن وجوہات پہ عورت کو بے دردی سے قتل لیا جاتا ہے ایسی ہی کسی غلطی پر کیا کبھی بھی کہی بھی کوئی مرد قتل ہوا ہے؟
جہاں سزاوجزا کی بات ہو وہاں تو دنوں کو برابری ملی چاہئیے نا۔ نہ کہ عورت کمزور ہے کہ کرقتل کر دیا جائے۔اور مرد غلطی کر کے بھی پوری دنیا میں عزت کے ساتھ گومتا رہے اُسے کوئی پوچھنے والا تک نہیں۔
میں اس بات سے بلکل اتفاق رکھتی ہوں کہ خداوندیعالمین نے مرد کو جسمانی لحاظ سے مضبوظ بنایا تاکہ وہ عورت کو تحفظ دےسکے ۔اُسکا خیال رکھ سکےکیونکہ وہ عورت ہی ہےجو مرد کو دنیا میں لائی۔نو ماہ کے شدیدتکلیف دہ سفر کے بعد وہ ایک بچے کو پیدا کرتی ہے۔دو سال تک اُسے اپنے چھاتی سے دودھ پلاتی ہے۔اپنا نیند ،چین سکون سب بھول کر اُسکی پرورش کرتی ہے۔پھر وہی بچہ جب جوان اور توانا مرد بنتا ہے تو اُسی عورت کو اپنے پائوں کی جوتی سمجھتا ہے۔
اُسے یہ کیوں یاد نہیں رہتا ہے کہ "اُس سچ بولنے والے اللہ نے جنت ماں کے قدموں میں رکھا ہے جوکہ عورت ہے۔
ہمارے یہاں کا ایک مشہور قول ہے جو کہ ہر مرد کو لازمی یاد ہوتا ہے چاہئے اُسے کلمہ یاد ہو نہ ہو
"عورت کے بولنے پر کبھی نماز بھی نہیں پڑھنی چاہیئے"
جو مرد دنیامیں عورت کی بات پر نماز نہیں پڑھنا چاھتا ہے وہی مرد پوری زندگی اُس جنت کی طلب میں نماز ،روزہ،زکوات اور حج سمت تمام فرائض و نوافل ادا کرتا ہےجو عورت کے قدموں تلے ہے۔
مگر آج بھی ہمارے معاشرے میں ایسے مرد موجود ہیں جن کو دیکھ کر محافظ کا سہی مطلب سمجھ آتا ہے۔باپ کیا ہوتا ہے؟ بھائی کیا ہوتا ہے اُنکو دیکھ کے رشتوں کا مطلب سمجھ آتا ہےشاید انہی لوگوں کی بدولت آج بھی دنیا میں اسلام کو عورت کے لئے محفوظ اور عزت والا مذہب مانا جاتا ہے۔
کسی نے کیا خوب کہا ہے
عورت کبھی حواؑ کبھی مریم ؑ کبھی زھرہ
عورت نے ہی ہر دور میں قوموں کو سنوارا



 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Hayat Hassan
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 May, 2020 Views: 196

Comments

آپ کی رائے