ژیرونا کی عیدی

(Dr Salim Khan, India)

للن سنگھ نے کلن مشرا سے کہا یار آج مجھے اپنے سدھیر چودھری پر بہت غصہ آیا ۔
ارےتیرے کی ! یہ کیسے ہوگیا ۔ وہ تو تمہارا چہیتا صحافی ، سوری صحافی تو نہیں مگر اینکر ہے ۔
یہ اینکر کیا ہوتا ہے کلن بھیا ۔ میں نہیں سمجھا ۔
ارے اینکر یعنی لنگر اور کیا ۰۰۰۰۰ردیف قافیہ بھی یکساں ہے۔
لیکن کلن مشرا لنگر تو پانی کے جہاز میں ہوتا ہے ۔ ٹی وی کے پروگرام میں اس کا کیا کام ؟
ٹیلیویژن کا پروگرام بھی جہاز کی طرح ہوتا ہے ۔ اس میں ہونے والی بحث کی لہریں اسے بہا کرساتھ نہ لے جائیں اس لیے لنگر کی ضرورت ہوتی ہے۔
اوہو ! اب سمجھا یعنی اس کا کام لوگوں کو بہکنے سے روکنا ہے۔
جی ہاں للن مگر سدھیر چودھری جیسے اینکر خود بھی بہکتے ہیں اور دوسروں کو بھی بہکانے کا کام کرتے ہیں ۔ خیر تم اس سے ناراض کیوں ہوگئے؟
اس کو اپنے چینل پر عید کی مبارکباد دیتے ہوئے دیکھ کر میرا خون کھول گیا ۔
ارے سدھیر تو کیا اس کے باپ کو یہ کرنا پڑتا ۔ اگر وزیر اعظم کا پیغام پڑھ کر نہیں سناتا تو چینل کے اشتہار بند ہوجاتے اور اس کی چھٹی ہوجاتی۔
اچھا تو یہ بات ہے ۔ وہ تو امیت شاہ کے بارے میں بھی مبارکباد اور امن وشانتی جیسی نہ جانے کیا کیا باتیں بتا رہا تھا ۔
ارے بھائی اگر سدھیر نے شاہ جی کے بارے میںکچھ ایسا ویسا کہہ دیا تو سیدھاتہاڑ جیل کے اسی کمرے میں بھجوا دیا جائے گا جہاں وہ کبھی مقید تھے۔
لیکن ہمارے لوگوں کو کیا یہ ہوگیا ہے کہ جن لوگوں نے ملک بھر میں کورونا پھیلایا انہیں کو یہ مبارکباد دے رہے ہیں ۔ کمال ہوگیا؟
یہ تم کو کس نے بتایا کہ مسلمانوں نے ملک بھر میں کورونا کو پھیلایا ہے؟
اسی سدھیر چودھری نے اور کس نے لیکن اب سمجھ میں آگیا کہ کا اس بیچارے کا چہرہ اس قدر اترا ہوا کیوں تھا؟ تم دیکھتے تو پتہ چلتا ؟ ؟
کلن بولا بھائی میں اس کامنحوس چہرہ کیوں دیکھتا ۔ میری شامت آئی ہے کیا؟ چینل بدلتے ہوئے اس شکل نظر آجائے میری تو نیند اڑ جاتی ہے۔
کیوں؟ اس میں شامت کی کیا بات ہے ۔ مجھے تو اس کا پروگرام دیکھے بغیر نیند نہیں آتی ۔ وہی تو ہے سچا دیش بھکت ۔
بھائی ایسا ہے کہ تم تو اس کے عادی ہوگئے ہو۔ جیسے کسی چرسی کو دم مارے بغیر سکون نہیں ہوتا وہی تمہارا حال ہے ۔
فضول بکواس نہ کرو کلن ورنہ ۰۰۰۰۰۰
ورنہ کیا کروگے ؟ میرے خلاف بھی کورونا جہاد چھیڑ دو گے کیا ؟
ارے بھائی کورونا جہاد تو تبلیغیوں نے چھیڑ رکھا ہے ۔ سنا تم نے اپنے ژی چینل کا آدھے سے زیادہ عملہ کورونا سے متاثر پایاگیا ہے۔
مجھے پتہ ہے لیکن کیا اس کے لیے تبلیغی جماعت کے لوگ ذمہ دار ہیں ؟
جی ہاں اور نہیں تو کیا ؟ میں نے اپنے محلے کے جمن میاں سے پوچھا تو انہوں نے بھی تائید میں کہا ’’ اوپر والے کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے‘‘ ۔
اچھا تو تم اس کا کیا مطلب سمجھے ؟
یہی کہ تبلیغی جماعت والوں نے ژی ٹی وی کے لوگوں پر کوئی جادو ٹونا کردیا ۔
غلط سمجھے اس لیے کہ ژی چینل نے تمہارا دماغ خراب کردیا ہے ۔ میرا مطلب ہے کھوپڑی میں گوبر بھر دیا ہے ۔
یار کلن آج تو تم کچھ زیادہ ہی غصہ ہورہے ہو ۔ ایسی حالت تو سدھیر چودھری کا ڈی این اے دیکھنے کے بعد ہوتی ہے۔
جی ہاں سارا قصور اس کے ڈی این اے میں ہے لیکن افسوس کے اب وہ زہر تم جیسے لوگوں میں داخل ہوکر پورے سماج میں پھیل رہا ہے۔
یار تم تو تبلیغی والی زبان بول رہے ہو ۔ کیا تمہیں ژی کے نامہ نگاروں سے کوئی ہمدردی نہیں ہے۔
للن بھیا میں ان کی ہمدردی میں ہی کھول رہا ہوں ۔ ان لوگوں کی اس بدحالی کے لیے سدھیر اور شریواستو ہی تو ذمہ دار ہیں ۔
کیا بات کرتے ہیں کلن مشرا ؟ وہ اپنے ہی لوگوں کے دشمن کیسے ہوسکتے ہیں؟
ارے بھائی جو دوسروں کے لیے سفاک ہو وہ اپنوں کی خاطر رحمدل کیسے ہوسکتا ہے؟ اس کا سب سے بڑا ثبوت ژی چینل ہے۔
اچھا کلن بھیا ! وہ کیسے؟
دیکھو ژی کے دفتر میں کام کرنے والے51 میں سے 28 لوگ کورونا سے متاثر پائے گئے ۔
اچھا تو کیا لاک ڈاون کے بعد صرف ایک تہائی عملہ کو دفتر میں آنے کی جو اجازت تھی ژی انتظامیہ نے اس کی خلاف ورزی کی؟
جی ہاں للن ۔ ان لوگوں نے گھر سے کام کرنے اجازت نہیں دی ؟ زبردستی سب کو میدان میں دوڑاتے اور دفتر بلاتے رہے ۔
یہ نہیں ہوسکتا ۔ اگر یہ سچ ہے تو سدھیر پر عمداً قتل کا مقدمہ درج ہوجائے گا ۔
جی ہاں سدھیر چودھری نے خود یہ تسلیم کیا ہے کہ اس کے نامہ نگار میدان عمل میں رہے ہیں لیکن سرکاری داماد ہونے کے سبب وہ بچا ہواہے ۔
لیکن کلن بھیا اس بیچارے کو کیسے پتہ چلے کہ کوئی کورونا سے متاثر ہوچکا ہے ؟
کیوں ؟ کورونا کی علامات کا اشتہار دکھا دکھا کر روپیہ کمانے والا چودھری خود نہیں دیکھتا کہ اگر کسی کو بخار یا کھانسی آئے تو اس کا خطرہ ہے؟
ارے بھائی ٹھیک ہے لیکن کس کو بخار آرہا ہے اس کا اسے علم کیسے ہوگا؟
بتانے پر ہوگا اور کیسے؟ جو پہلا مریض سامنے آیا ۔ وہ نائٹ شفٹ میں کام کرتا تھا اور اس نے اس کی کئی بار شکایت کی تھی۔
تو کیا ژی انتظامیہ نے اس کی بات پر کان نہیں دھر ا؟ یہ کیسے ممکن ہے؟؟
بالکل ممکن ہے۔ سدھیر نے اس کو بھی اپنے جیسا جھوٹا سمجھا اور دھمکی دی کہ بہانے بازی نہیں چلے گی ۔ کام کرے ورنہ ملازمت چلی جائے گی۔
تب تو وہ مسلمان رہا ہوگا ؟ اس لیے کہ کسی ہندو کے ساتھ اپنا سدھیر چودھری ایسا سلوک ہرگز نہیں کرسکتا۔
دیکھو بھائی پہلے تو کوئی مسلمان اس چینل میں جائے کیوں ؟ اور جائے بھی تو ژی والے اس کو رکھے کیوں ؟؟
للن نے کہا نہیں بھائی ایسی بات ، جب کوئی کام کا آدمی مل جاتا ہے تو اس کا دھرم نہیں دیکھا جاتا۔
اچھا چلو مان لیا کہ مسلمان تھا تب بھی کیا مسلمان انسان نہیں ہوتا ؟ اور اگر وہ آپ کے دفتر میں ملازم ہوتو اس کی ذمہ داری نہیں بنتی؟
ہاں ہاں کیوں نہیں بنتی ہے؟ اس ملازم کو علاج کےلیے دفتر والوں نے ہی بھیجا ہوگا ؟
جی نہیں وہ بیچارہ خود کوئی سفارش نکال کر اسپتال پہنچا اوراس کی حالت اس قدر خراب ہوچکی تھی کہ فوراً داخل کرنا پڑا ۔
تب تو یقیناً مسلمان رہا ہوگا کیونکہ ایسا ظالمانہ سلوک ہمارا سدھیر چودھری کسی ہندو کے ساتھ ہر گز نہیں سکتا ؟
اچھا چلو مان لیا کہ وہ مسلمان تھا لیکن اس کے بعد 27 مزید کورونا کے معاملات سامنے آئے تو کیا وہ سب بھی مسلمان تھے ؟
نہیں یہ ناممکن ۔ وہ سب یقیناً ہندو رہے ہوں گے اور ان کے علاج معالجہ کا خرچ ژی والوں نے برداشت کیا ہوگا ؟
دیکھو پہلے مریض نے اپنے خرچ پرٹسٹ کرایا اور بعد والوں کا مجبوراً دباو میں آکر ٹسٹ تو کرایا لیکن ایک اپنی والدہ کے بارے میں پوچھا تو انکار کردیا گیا۔
یار کلن قسم سے میں نہیں مان سکتا کہ سدھیر چودھری جیسا دیش بھکت یہ کرسکتا ہے؟
دیکھو للن تمہارے انکار سے حقیقت تو نہیں بدل جاتی ؟ جو سچ ہے وہ میڈیا میں آچکا ہے چاہو تو نیوز لانڈری نامی ویب پورٹل پر جاکر دیکھ لو۔
کلن بھائی جس بات پر تبلیغی جماعت کا مرکز بند ہوگیا وہی الزام ژی والوں پر ہو تو اس پر بھی قفل لگ جانا چاہیے مگر وہ تو چالو ہے۔
ارے بھائی سدھیر چودھری جیسے تمہارا چہیتا ہے ویسے ہی سرکار کی بھی آنکھوں کا تارا ہے اس لیے اس کو کون آنکھ دکھا سکتا ہے؟
تو کیا اپنا جانباز چودھری اسی کورونا زدہ دفتر میں ڈٹا ہوا ہے؟
جی نہیں ۔ خود چند لوگوں کے ساتھ دوسرے محفوظ دفتر میں منتقل ہوگیا ہے باقی لوگ وہیں ہیں ۔
یار یہ تو بہت بری بات ہے اب مجھے اس چینل کو دیکھنے کے بارے میں سوچنا پڑے گا ؟ لیکن میری سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ آفت اسی پر کیوں آئی؟
ارے بھائی جمن میاں کے جملے پر غور کرو تو بات سمجھ میں آجائے گی ۔ اس دنیا میں جو دوسروں کے لیے کنواں کھودتا ہے خود اسی میں جاگرتا ہے۔
ٹھیک ہے اب ژی کو گولی مارو یہ بتاو کہ اس کورونا کا کیا کریں یہ تو بہت تیزی سے پھیلنے لگا ہے ؟
اس کا جواب تو پردھان جی دے چکے ہیں ۔ ہمیں اب اس کے ساتھ جینا سیکھنا پڑے گا ۔
تو کیا وہ کورونا کو ہرانے والی بات ختم ہوگئی ؟ لیکن چودھری تو اسی سر ُمیں سرُملا کر تبلیغیوں میرا مطلب ہے مسلمانوں کو ہرانے کی بات کرتا تھا ۔
للن ٹھاکر وہ دونوں غلط تھے ؟ چار ٹھوکر کھانے کے بعد پردھان جی نے جوبات تسلیم کی وہی تمہارے چودھری کو کرنا ہوگا ۔
اچھا تو کیا ہم کورونا کی طرح ان 20 فیصد مسلمانوں کو بھی نہیں ہراسکتے ؟
بالکل نہیں ہراسکتے ۔اور ہرائیں بھی کیوں؟؟ ان چودھری جیسے لوگوں کی وجہ سے تم لوگوں نے اپنے ایک دوست کو دشمن سمجھ لیا ہے ۔
تو کیا ہم ان سے دوستی کرلیں ؟ یہ کیسے ممکن ہے؟؟
کیوں نہیں ممکن ؟ تم لوگوں نے اتنی دشمنی کی پھر بھی انہوں نے اپنے خون کا عطیہ ہمیں دیا ؟ ان کے لیے اگر یہ ممکن ہے توہمارے لیے کیوں نہیں؟
جی ہاں کلن لیکن یہ خبر ہمیں ژی پر دکھائی ہی نہیں گئی ۔ وہاں تو وہی تھوک اور پتہ نہیں کیا کیا دکھایا جاتا رہا لیکن اب میں اس چینل پر تھوکتا ہوں ۔
للن ٹھاکر یہ کافی نہیں ہے ۔ انبدمعاشوں نے جو نفرت کا ژیرونا وائرس پھیلایا ہے اس کا تریاق ڈھونڈنا بھی ضروری ہے ۔
جی ہاں کلن میں سب سے پہلے تو اس ہندو دشمن پاکھنڈی سانپ کا سرمیں اپنے گھر میں کچل دوں گا ۔ یعنی آج سے اس کا داخلہ بندہی سمجھو ۔
کلن بولا جی ہاں للن انگریزی کہاوت ہے ۔Charity begins at home یعنی خیر کی ابتداء اپنے گھر سے ہونی چاہیے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 1242 Articles with 457695 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 May, 2020 Views: 231

Comments

آپ کی رائے