ناول وطن یا کفن گیارہویں قسط

(Shafaq kazmi, Karachi)

ناول وطن یا کفن قسط نمبر 11۔ ۔۔۔مصنفہ شفق کاظمی

رائیٹر کی اجازت کے بغیر نام ہٹانا منع ہے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

#فیصل جہاز کو کنٹرول کرتے ہوئے۔۔۔بہت مشکل سے ایئر بیس تک لانے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔۔۔

Sir, there he is.. #Faisal is coming.

کنٹرول روم کہ عملے کے ایک بندے کی نظر افق پہ پڑی فیصل کا جہاز آتے دیکھ کہ اس نے بیس کمانڈر کو اطلاع دی۔۔۔۔

یا اللّه تیرا شکر ہے۔۔۔بیس #کمانڈر نے شکر کا سانس لیا۔۔
سب تیزی سے باہر کی جانب دوڑتے ہوئے گئے۔۔سب کے چہروں پہ اطمینان چھا گیا۔۔

#ایمبولینس، آگ بجھانے والی گاڑی بھی رن وے پر پہنچ چکی تھی۔۔

فیصل بمشکل جہاز کو لینڈ کر کے تیزی سے کاکپٹ سے باہر نکلتا ہے۔

فیصل کے کولیگز اس کو گلے لگا کے ملتے ہیں اور اس کو بحفاظت واپس آنے پر مبارکباد دیتے ہیں۔

I am proud of you my son. you handled the situation so well

بیس کمانڈر نے فیصل کے کندھے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔۔

تھینک یو سر۔..فیصل نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔

لیکن فیصل تم نے اتنا بڑا خطرہ کیوں لیا ؟۔ تمھاری جان قیمتی ہے، تم اس ملک و قوم کا اثاثہ ہو۔

سر اگر میں یہ خطرہ نہیں لیتا تو نا جانے کتنے لوگ جان کی بازی ہار جاتے اور ۔۔سر میری جان سے زیادہ ان لوگوں کی جان قیمتی ہے، جن کی حفاظت کا میں نے عہد کیا ہوا ہے۔۔

شاباش بیٹا۔ہمیں تم پہ فخر ہے۔۔۔اللّه تمہیں لمبی زندگی دے اور ہمیشہ حق اور سچ کی راہ پہ لڑنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔۔۔

آمین ثمّ آمین

۔......................
موسم بہت خوبصورت تھا ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی
سب کالج کی لڑکیاں گراؤنڈ میں بیٹھیں گپیں مار رہیں تھیں اور امرحہ کتاب ہاتھ میں پکڑے اِدھر اُدھر ٹہل رہی تھی۔۔

کیا ہوا امرحہ کس کو ڈھونڈھ رہی ہو۔میں کب سے دیکھ رہی ہوں تمہیں تم اِدھر اُدھر اکیلی ٹہل رہی ہو۔۔

کچھ نہیں یار تطہیر ۔۔میں حرم کو ڈھونڈھ رہی تھی تم نے دیکھا ہے وہ کہاں ہے۔۔۔

#حرم کو ۔۔۔۔ہاں میں نے دیکھا ہے۔۔پر میں نہیں بتاؤں گی۔۔

ہاہاہا تجھ میں کب سے لڈن جعفری کی روح آگئی۔۔۔امرحہ نے تطہیر کے کان کھینچتے ہوئے کہا۔۔۔

ہاہاہا توبہ کرو یار #امرحہ۔۔۔اچھا چاکلیٹ دو پھر بتاؤں گی۔۔۔

اگر میں آئی ایس آئی میں گئ تو تمہیں پتہ ہے تطہیر سب سے پہلے کس کو اریسٹ کروں گی ؟؟ امرحہ نے اپنی ہنسی ضبط کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔

کس کو اریسٹ کرو گی۔۔۔تطہیر نے حیرت سے امرحہ کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔

تمہیں۔۔۔رشوت لینے کے جرم میں.۔۔۔۔امرحہ نے فلک شگاف قہقہہ لگاتے ہوئے کہا۔۔۔

دفع ہو نہیں چاہئے مجھے تمہاری دس روپے کی چاکلیٹ۔۔جاؤ حرم لائبریری میں ہے ۔۔۔تطہیر نے منہ بناتے ہوئے کہا۔۔۔

ہائے ماں صدقے میرا بچہ یہ لے پچاس روپے کی چاکلیٹ ہے۔۔۔۔۔امرحہ نے ہنستے ہوئے تطہیر کے ہاتھ میں چاکلیٹ پکڑائی ۔۔۔مجھے حرم سے کام ہے بعد میں آتی ہوں تمہارے پاس۔۔۔یہ کہہ کر امرحہ نے لائبریری کی طرف دوڑ لگائی۔۔۔۔

حرم لائبریری میں اپنی کتابیں بکھیرے بیٹھی تھی۔۔۔۔

حرم سنو یار۔۔۔امرحہ نے حرم کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا۔۔

حرم آسائمنٹ بنانے کے چکر میں ,پوری طرح اپنے کام میں گھسی هوئ تھی بنا امرحہ کو دیکھے بولی۔۔ہاں بولو سن رہی ہوں

واہ محترمہ میں پاگلوں کی طرح پچھلے آدھے گھنٹے سے تمہیں ڈھونڈھ رہی ہوں اور تم میری طرف دیکھے بغیر مجھ سے بات کر رہی ہو۔۔۔امرحہ نے غصہ سے بکھری ہوئ کتابیں
سمیٹتے ہوئے کہا۔۔۔

امرحہ کیا کر رہی ہو۔۔۔میں فزکس کا آسائمنٹ بنا رہی ہوں مجھے آج لازمی سبمٹ کروانا ہے ورنہ مِس سب کے سامنے بے عزتی کریں گی۔۔۔۔

آج فزکس کی ٹیچر نہیں آئیں۔۔ڈونٹ وری گھر جا کر آرام سے کر لینا۔۔۔

حرم جو پچھلے چند سیکنڈ تک خود کو کتابوں میں الجھائے بیٹھی تھی۔۔۔امرحہ کی بات سنتے ہی اس میں خوشی کی لہر دوڑی حرم نے جلدی جلدی امرحہ کے ساتھ مل کر سب سمیٹتے ہوئے خود کی جان
چھڑوائی۔ویسے ایسا کیسے ہوگیا کے فزکس کی ٹیچر نہیں آئیں۔۔۔

اب یہ کیوں ہوا کیسے ہوا اس کو دفعہ کر۔۔۔اور آجا گراؤنڈ میں چلیں موسم بہت سہانا ہے۔۔۔امرحہ نے ہنستے ہوئے کہا۔۔

دیکھ امرحہ فزکس کی ٹیچر نہیں آئی لیکن میں لکھ کے کہتی ہوں ٹیچر نے کسی اور ٹیچر کو کہا ہوگا کہ بچوں کو آسائمنٹ دیا ہوا ہے لے لینا۔۔۔حرم نے لائبریری سے نکلتے ہوئے کہا

حرم تم ایسے ہی فکر مند ہو رہی ہو۔۔۔مِس جب ٹیسٹ دیتی ہیں تب ایسا کرتی ہیں۔۔۔یہ تو آسائمنٹ ہے۔۔۔یہ خود وہ کل چیک کریں گی۔۔چھوڑو اب یہ سب باتیں موسم دیکھو کتنا اچھا لگ رہا ہے ایسے لگ رہا ہے جیسے بارش ہونے والی ہے

بارش ہاہاہا وہ بھی کراچی میں بس کر دے امرحہ ہم کراچی والے تو بارش سے ترسے ہوئے لوگ ہیں۔۔یہاں بارش نہیں ہوتی۔۔۔ابھی تھوڑی دیر بعد دیکھنا کیسے موسم چینج ہوگا۔۔۔۔

ویسے بات تو ٹھیک ہے۔اچھا سنو حرم ۔۔تمہارے پاس اس آرمی والے کا نمبر ہے۔۔تمہاری اس سے دوستی کیسے ہوئ تھی۔۔۔

دوستی تو فیس بک پہ ہوئ تھی اور نمبر ہاں میرے پاس ہوگا اس کا نمبر میں نے ڈائری میں لکھا تھا۔۔۔کیوں خیریت ؟ حرم نے پریشان ہوتے ہوئے کہا

تم اس کا نمبر مجھے دینا میں ڈیٹیلز نکال لوں گی۔۔۔ہم اس کے نمبر کی مدد سے اس تک پہنچ جائیں گے۔۔۔پھر جا کر پتہ چلے گا وہ آرمی میں ہے یا نہیں۔۔۔۔دوسری بات فیس بک پہ کسی پر بھی بھروسہ نہیں کرتے کچھ بھی ہوجائے۔۔۔۔یہ ففتھ جنریشن وار ہے یہاں لوگ خود کو آرمی اور آئی ایس آئی کا کہہ کر نا جانے کتنی لڑکیوں کو بلیک میل کر چکے ہیں۔۔۔۔جب کہ جو سچ میں آرمی کا بندہ ہوگا اس کو تمہاری ذاتی زندگی سے کوئی لینا دینا نہیں ہوگا۔۔۔اور نا ہی وہ اپنی ذاتی تسکین کے لئے آرمی کا نام لے سکتا ہے یہ جرم ہے آرمی کے یہاں۔۔۔اس بندے کی نوکری خطرے میں جا سکتی ہے۔۔۔۔باقی تو اس تک پہنچ کر ہو معلوم ہوگا۔۔۔۔تم مجھے نمبر دے دینا۔۔۔۔

ہممم۔۔۔۔تمہیں ڈیٹیلز نکالنی آتی ہیں امرحہ۔۔۔۔؟

ہاں میرے پاس ایپلیکیشن ہے جس کی مدد سے ہم سب معلوم کر سکتے ہیں۔۔۔۔

واہ یار !!! اچھا میں تجھے گھر جا کر نمبر دوں گی۔۔۔۔

تم دونو یہاں بیٹھی ہو مس ہانیہ کلاس میں بلا رہی ہیں۔۔۔کہہ رہی ہیں فزکس کا آسائمنٹ جلدی سے سبمٹ کرواؤ۔۔۔اور پلیز باقی لڑکیوں کو بھی بول دینا میں پرنسپل کے آفس جا رہی ہوں مجھے واؤچر جمع کروانا ہے۔۔۔۔تطہیر آندھی کی طرح آئ دونوں پہ بم گراتے ہوئے طوفان کی طرح بھاگ گئ۔۔۔۔

مِس ہانیہ کو کیوں۔۔۔فزکس کی مِس میرب تو نہیں آئیں۔۔۔۔ امرحہ نے سر پیٹتے ہوئے کہا۔۔۔

امرحہ میں نے بکواس کی تھی تجھے کہ مِس میرب نے کسی اور ٹیچر کو لازمی کہا ہوگا تم نے میری ایک نہیں سنی۔۔۔۔اللّه پوچھے گا تم سے۔۔تمہاری وجہ سے میرا بھی نہیں ہوا آسائمنٹ۔۔۔

اچھا اب بددعائیں تو نہیں دو۔۔۔۔امرحہ نے منہ بناتے ہوئے کہا

بددعائیں نہیں دوں تو دعائیں دوں تمہیں۔۔۔شکریہ محترمہ آج تمہاری وجہ سے مجھے ذلیل ہونے کا موقع ملا ہے۔۔۔۔

اچھا یار ٹھیک ہے۔۔۔اب جلی کٹی باتیں تو نہیں سناؤ۔۔۔میں کرتی ہوں کچھ۔۔۔اٹھو ۔۔۔۔

کہاں اٹھو میں نہیں جا رہی کہیں بھی۔۔۔۔حرم نے منہ بناتے ہوئے کہا۔۔۔۔

جو بم ہم پہ تطہیر کی بچی گرا کر گئی ہے اس کو اٹھاؤ اور باقی لڑکیوں پر جا کر بلاسٹ کرو۔۔۔ہاہاہا۔۔۔امرحہ نے فلک شگاف قہقہہ لگاتے ہوئے کہا۔۔۔

حد ہوگئی ہے ۔۔۔۔تم تو ایسے ہنس رہی ہو جیسے تم نے آسائمنٹ کرلیا ہو۔۔۔۔

ہاں میں نے تو کرلیا تھا رات کو ہی سارا۔۔۔۔امرحہ نے ہنسی ضبط کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔

لڑکیوں سنو سنو سنو۔۔۔۔!مِس ہانیہ کلاس میں بلا رہی ہیں سب فزکس کا آسائمنٹ سبمنٹ کروا دو ان کو۔۔۔۔
امرحہ کی بات سنتے ہی سب کے چہرے زرد پڑ گئے۔۔۔۔

ہم نہیں جا رہے کلاس میں ہم کل مس میرب کو ہی سبمٹ کروائیں گے۔۔

ٹھیک ہے جیسی تم سب کی مرضی۔۔۔ میں تو جا رہی ہوں سبمٹ کروانے۔۔۔۔

کوئی ضرورت نہیں ہے امرحہ کلاس میں جانے کی ہم نہیں کروا رہے تو تم بھی نہیں کرواؤ گی سمجھی۔۔۔حرم نے امرحہ کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا۔۔۔۔

بچوں تم سب کلاس میں نہیں آئے میں کب سے ویٹ کر رہی تھی وہاں تم لوگوں کا۔۔۔۔آسائمنٹ سبمٹ کرواؤ سب مجھے جلدی سے۔۔۔۔مس ہانیہ بھی گراؤنڈ میں سب کے پاس آگئی تھیں۔۔۔

مس میں آ رہی تھی سبمٹ کروانے کے لئے۔۔۔ امرحہ نے مسکرہتے ہوۓ کہا۔۔۔۔

گڈ اور باقی سب۔۔۔۔مس ہانیہ نے سب کی جانب دیکھتے ہوۓ کہا۔۔۔۔

مس کسی نے بھی آسائمنٹ نہیں کیا۔۔۔۔امرحہ نے ہنستے ہوۓ کہا۔۔۔۔سب امرحہ کی جانب کھا جانے والی نظروں سے دیکھنے لگے۔۔۔۔کیوں کہ امرحہ نے کل رات سب کو واٹس ایپ پہ میسج کر کے بتا دیا تھا کے کل مس میرب نہیں آئیں گی۔۔۔۔وہ تو شکر ہے حرم کا موبائل خراب تھا اس نے میسج نہیں دیکھا ورنہ حرم تو امرحہ کا قتل ہی کردیتی۔۔۔۔

مس کل رات امرحہ نے میسج کرکے کہا تھا کہ مس میرب نہیں آئیں گی تبھی ہم سب نے آسائمنٹ نہیں کیا۔۔۔

تمہیں کیسے پتہ چلا امرحہ کہ آج مس میرب نہیں آئیں گی۔۔۔۔۔مس ہانیہ نے حیرت سے امرحہ کی جانب دیکھتے ہوۓ پوچھا۔۔۔۔

مس وہ کل میں نے آپ کی اور مس میرب کی باتیں سن لی تھیں۔۔وہ چھٹی کے وقت آپ کو بتا رہی تھیں کہ کل میں نہیں آؤں گی۔۔۔

شاباش ویری گڈ اور تم نے اعلان کر دیا کہ مس نہیں آئیں گی خود آسائمنٹ کر لیا باقیوں کو نہیں کرنے دیا ۔۔۔۔۔مس ہانیہ نے امرحہ کے بازو پر ہلکا سہ تھپڑ مارتے ہوئے کہا۔۔۔۔

تم نے سب کو میسج کیا تھا شکر ہے میں نے نہیں پڑھا ورنہ میں تمہارا قیمہ بنا دیتی آج۔۔۔۔حرم کے منہ سے بے ساختہ نکلا وہ بھول گئی تھی کہ اس نے خود آسائمنٹ نہیں کیا۔۔۔۔

تو حرم بیٹا آپ مجھے اپنا آسائمنٹ سبمٹ کروا دیں اور امرحہ محترمہ آپ بھی۔۔۔۔۔

مس حرم نے بھی آسائمنٹ نہیں کیا ہاہاہاہا۔۔۔۔۔امرحہ نے ہنستے ہوئے کہا۔۔۔۔

حرم آپ نے کیوں نہیں کیا آسائمنٹ۔۔۔۔۔

مس اس کی بلی کا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا وہ کار کے نیچے آگئی تھی یہ اس کا سوگ منا رہی تھی ۔۔۔ہاہاہا۔۔۔۔امرحہ نے پھر سے ہنستے ہوئے کہا

امرحہ بیٹا سدھر جاؤ تم۔۔۔۔بچوں کل لازمی مجھے آسائمنٹ سبمٹ کروا دینا۔۔۔۔صبح صبح مس میرب کے کالج آنے سے پہلے۔۔۔میں بعد میں ان کو دے دوں گی۔۔۔۔لیکن جس نے دیر سے سبمٹ کروایا تو اس کا ذمیدار وہ خود ہوگا۔۔۔۔مس ہانیہ یہ کہہ کر اسٹاف روم کی جانب چلی گئیں۔۔۔۔۔

اوکے بچوں کل یاد سے سبمٹ کروا دینا۔۔۔۔امرحہ نے سب کو تنگ کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔

سب امرحہ کو غصے سے گھورنے لگے۔۔۔۔

اچھا بس بھی کرو غصہ۔۔۔۔دیکھو کتنا خوبصورت موسم ہے۔۔۔مزے کرو یار۔۔۔۔

(جاری ہے )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shafaq kazmi

Read More Articles by Shafaq kazmi: 84 Articles with 40254 views »
Follow me on Instagram
Shafaq_Kazmi
Fb page
Shafaq kazmi-The writer
.. View More
01 Jun, 2020 Views: 216

Comments

آپ کی رائے