پاکستان کا ایسا مقام جو خاص پتھر سے بچوں کی لکنت کے خاتمے اور ذہانت میں اضافے کے لیے مشہور ہے


ہر ماں باپ کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اس کا بچہ صحت مند اور پر اعتماد ہو اس کے اندر کسی قسم کی کوئی ایسی کمزوری نہ ہو جو کہ اس کی شخصیت کو کمزور کرے اور اس کے لیے وہ ہر حد تک جانے کے لیے تیار رہتے ہیں- بچوں کی زبان میں لکنت کے حوالے سے ڈاکٹروں کا یہ کہنا ہے کہ یہ ایک طبی مسئلہ ہے جس کا علاج بعض اوقات ایک چھوٹا سا آپریشن اور اس کے بعد اسپیچ تھراپی کی مشقوں کے ذریعے کیا جاتا ہے جو کہ ایک طویل اور صبر آزما علاج ہوتا ہے-

مگر پاکستان کے صوبے کے پی کے میں پشاور کے اندر ایک جگہ ایسی بھی ہے جہاں پر اس بیماری کا علاج نہ صرف بغیر آپریشن کے کیا جاتا ہے بلکہ انتہائی قلیل وقت میں بغیر پیسوں کے کیا جاتا ہے-

تفصیلات کے مطابق پشاور کے مضافات میں اخوند درویزہ بابا کے نام سے ایک مزار ہے جہاں پر بڑی تعداد میں لوگ آتے ہیں اور ان کا یہ ماننا ہے کہ اس مزار پر آنے سے کمزور ذہن والے بچے بھی پڑھائی میں تیز ہو جاتے ہیں- اور اگر ان کی زبان میں کسی بھی قسم کی لکنت موجود ہو تو وہ بھی کچھ بار زبان پر ضرب لگانے سے دور ہو جاتی ہے-

علاقائی لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ اس مزار کی یہ کرامت ہے کہ یہاں کے پتھر سے جب بچے کی زبان پر ضرب لگائی جاتی ہے تو اس سے نہ صرف اس بچے کی زبان کی لکنت ختم ہو جاتی ہے بلکہ اس کا ذہن بھی کھل جاتا ہے- اور اس کو پڑھائی میں یا سبق یاد کرنے میں جو دشواریاں ہوتی ہیں وہ بھی دور ہو جاتی ہیں اور بچہ پڑھائی میں ذہین ہو جاتا ہے-
 


اس حوالے سے م‍قامی رہائشی رسول خان کا یہ کہنا ہے کہ دس گیارہ سال کی عمر میں اس کو اس مزار پر لایا گیا تھا اس کو بھی پڑھائی میں دشواری ہوتی تھی مگر جب اس کی زبان پر اس پتھر سے ضرب لگائی گئی تو وہ پڑھائی میں تیز ہو گیا اور اس نے ختم قرآن بھی آسانی سے کر لیا-

اس مزار کی شہرت سن کر بڑی تعداد میں لوگ اپنے بچوں کو لے کر دور دور سے یہاں آتے ہیں-

Most Viewed (Last 30 Days | All Time)

Comments

آپ کی رائے
Language: