مقصوداحمد چغتائی کے پرُخلوص جذبے کو سلام

(haseeb Ejaz Aashir, Lahore)
مقصوداحمد چغتائی کے پرُخلوص جذبے کو سلام
حسیب اعجاز عاشرؔ
گھراورسکول میں تعلیم و تربیت تک محدودرہ کر صحت مند معاشرے کی تشکیل کے خواب کو تعبیر دینا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں نصابی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ غیرنصابی سرگرمیوں این سی سی اور دیگر کھیلوں سمیت اسکاؤنٹنگ کو اہمیت دی جاتی رہی۔مگر اب وقت کے برق رفتار پہیہ نے صورتحال یکسر بدل کر رکھ دی ہے ایک طرف چند گراؤنڈز،پلاٹس جہاں کسی حد تک کھیلوں کی رونقیں آباد تھیں سب ہاؤسنگ سوسائٹیزکی نظر ہوگئیں،دوسری طرف تعلیمی اداروں میں این سی سی اور سکاؤنٹنگ جیسی سرگرمیاں بھی کسی سرد خانوں کی نظر ہوچکی ہیں۔مگر مجال ہے کہ حکمرانوں کے کانوں پر جوں بھی رینگتی ہو۔رہی سہی کثر جدت پسندی کی دوڑ نے پوری کر دی، نسل نو کے ہاتھوں میں تھامے موبائل اُنکے پاؤں کی بیٹریاں بن گئے جو نوجوانوں کو گھروں سے نکلنے نہیں دیتے۔ پھربھی ایسی گھٹن اور فکرانگیز صورتحال میں ایک دیا آج بھی روشن ہے جو اندھیر نگر میں کسی امید کی کرن کی مانند راستوں کو منور کئے ہوئے ہے۔ اُس روشن دیے کو دنیا”چلتا پھرتا انسائیکلو پیڈیا“ کے نام سے جانتی ہے لیکن یہ نام اُن کی صلاحیتوں،قابلیت،ہمت،جذبے اورہنرمندیوں کو پرکھنے اور جانچنے کیلئے مکمل تعارف نہیں۔اُن کی شخصیت کے ایک نہیں کئی پہلو ہیں اور ہرپہلو کے اتنی جہتیں ہیں کہ ایک مضمون میں مفصل بیان کرنا ناممکن ہے۔ اِس لئے میں مقصوداحمد چغتائی کو جہد مسلسل کا نام دوں گا۔پیشے سے بنکر ہیں بلکہ کامیاب بنکراور روزنامہ دی نیشن اور نوائے وقت سمیت پاکستان کے موخر اخبارات میں کالم نویسی بھی کرتے رہے ہیں۔کئی کتابوں کے مصنف بھی ہیں اور،کئی ادبی تنظمیوں کے ساتھ وابستہ بھی۔
مقصوداحمد چغتائی کی عملی زندگی کا سب سے اہم پہلو جس کے حوالے سے میں انہیں پیاسے خشک ہونٹوں پر ایک ٹھنڈی پانی کی بوند تصور کرتا ہوں وہ ہے سیر و سیاحت اور اسکاؤنٹنگ۔صرف پاکستان کا قریا قریانگر نگر نہیں گھومے بلکہ ایران، ترکی، بلغاریہ،رومانیہ،ہنگری، فرانس، جرمنی، انگلینڈ، ڈنمارک، سویڈن،ناروے،بلجیئم، ہالینڈ،کینیڈا، سوئزرلینڈ، چین، امریکہ سمیت کئی ممالک کی سیربھی کرچکے، اِس طرح مجموعی طور پراندرونِ و بیرونِ ملک تقریباً 18000کلومیٹر ہائیکنگ کر چکے ہیں،یہ اپنی زندگی کا نصب العین Ambitionn are like head-lights of a motor car always traveling a head, تصور کرتے ہیں۔ تنظیم الفجر پاکستان کے سیکرٹری ٹورازم کی ذمہ داریاں بھی انہیں کے کاندھوں پر ہے،جبکہ العجم بوائے اسکاؤٹس ویلفیئر ایسوسی ایشن فارڈس ایبلز کے سیکریٹری امورخارجہ بھی ہیں،جسے یہ بڑے بااحسن انداز اور خوش اسلوبی سے نبھا رہے ہیں،ڈویژنل بوائے اسکاؤٹس ایسوسی ایشن لاہور سے بھی وابستہ ہیں اور پنجاب بوائے اسکاؤٹس کونسل کے لائف ممبر بھی ہیں۔ اِن کی جہاں گردی کی گونج سارے جہاں میں ہے، یہی وجہ ہے کہ انہیں ان کی قابل تعریف خدمات کے اعتراف میں کئی نیشنل اور انٹرنیشنل ایوارڈز سے نوازا جا چکا ہے۔ حال ہی میں نوبل ایوارڈ بھی اِن کے دامن میں آیا جو اُن کے کام سے لگن کا منہ بولتا ثبوت ہے۔بنکنگ کے حوالے سے ان کی تصانیف ایک الگ شاہکار ہیں جبکہ سیروسیاحت پر معروف تصانیف میں ”گوہرمقصودسفرنامہ یورپ“، ”گرین کارڈ کے دیس میں“، ”جہاں گردی“، ”امریکن ویزاحاصل کریں“، ”ایڈونچرٹریول ہینڈبک“، ”پاکستان ٹریول ہینڈ بک۔انگلش“، ”کینڈین ویزا حاصل کریں“، ”باب پاکستان اور اسکاؤٹس کا کردار“، ”پاکستان کی سیر“ شامل ہیں۔
مقصوداحمد چغتائی کی مذکورہ کتب کے مطالعہ کا خلاصہ چند فقروں میں سمیٹنا چاہوں تو یہ اہل فکر کے لئے حوصلہ افزاء بات ہے کہ اُنہیں جتنا لگاؤ سیروسیاحت سے ہے اُس سے کہیں زیادہ جنون نسل نو میں اِس غیرنصابی شوق کو پروان چڑھانے کاتاکہ آج کے نوجوانوں کو کل کے لئے تیار کرسکیں۔کیونکہ وہ اپنے تجربات و مشاہدات کی روشنی میں واقف ہیں کہ اسکاوٹنگ فقط کوئی سیر سپاٹا نہیں بلکہ”اپنی ذات و کردار کی تعمیر کا نام ہے“جوحقیقتاً روحانی،ذہنی،سماجی اور جسمانی تربیت کا ایک پرکشش و دلفریب امتزاج ہے جو نیشنل اور انٹرنیشنل سطح پر نوجوانوں کے اہم اور موثرکردار سمیت بہتر معاشرتی رویوں کے باعث اصلاح معاشرے میں کارگر ثابت ہوسکتے ہیں۔ مقصود احمد چغتائی اِ ن تصانیف میں اسکاؤٹس کیمپ میں ہائیکنگ، کوکنگ، ٹریکنگ، خیمہ لگانا سمیت دیگر سرگرمیوں کو فرو غ دینے کیلئے قلم سے بھی اپنے حصہ کی ذمہ داریوں کو خوبصورت انداز میں آگے بڑھا رہے ہیں۔وہ خواہاں ہیں کہ وطن کے نوجوانوں میں معاشرے کی تعمیر اور ملک کی ترقی میں مددگار بننے کی لگن پیدا ہو اوراِس لگن میں جنون بھی تاکہ یہ جذبہ و جنون ایثار و قربانی کیساتھ کسی بھی آفت یاپھر کسی بھی اجتماعی پریشانی میں آگے بڑھ کر ملک و قوم کے درد کا مداوا بن سکے۔یہ کہنے میں کوئی دو رائے نہیں کہ مقصود احمد چغتائی حب الوطنی کا حق ادا کر رہے ہیں۔میں اِن کے پرخلوص جذبے کو سلام پیش کرتا ہوں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Haseeb Ejaz Aashir

Read More Articles by Haseeb Ejaz Aashir: 110 Articles with 49637 views »
https://www.linkedin.com/in/haseebejazaashir.. View More
05 Jun, 2020 Views: 129

Comments

آپ کی رائے