عیادت کیسے کی جائے۔؟

(Azhar Hussain Bhatti, Lahore)

صحیح بخاری کی روایت ہے کہ بیمار کی عیادت کیا کرو۔

ہمارے معاشرے کا یہ بڑا المیہ ہے کہ ہمیں صحیح معنوں میں عیادت کرنے کا فن بھی نہیں آتا۔

جیسے ہی پتہ چلتا ہے کہ فلاں شخص بیمار ہے تو پوری کی پوری فیملیز اپنے بچوں سمیت جا دھمکتی ہیں وہاں جیسے عیادت کرنے نہیں بلکہ بچوں کو عید پہ نانی گھر لے جایا جا رہا ہو۔

ڈاکٹر نےجتنا رَش اور شور سے منع کیا ہوتا ہے یہ فیملیز اُتنا ہی زیادہ رَش اور شور کا سماں باندھ دیتیں ہیں۔

اُلٹا وہ گھر اِن فیملیز کے کھانے پینے میں مصروف رہنے لگ جاتا ہے مگر پھر بھی کچھ لوگ ناراض ہو کر چلے جاتے ہیں کہ ہمیں کسی نے جوس تک نہیں پوچھا۔

مریض کو آرام اور سکون کا ایک پل بھی میسر نہیں آتا۔

پھر جو مریض کے پاس بیٹھتے ہیں وہ ایسی ایسی باتیں کرتے ہیں کہ مریض بہتر بھی ہو رہا ہو تو مزید بد دل ہو جاتا ہے۔

جیسا کہ ہمارے محلے میں فلاں کو یہی بیماری تھی وہ چودہ دن بعد ہی مر گیا تھا۔
جہاں درد ہوتا ہے عیادت کو آنے والا اُسی جگہ پہ دَبا دَبا کے پوچھتا ہے کہ یہاں درد ہے اور دَبا دَبا کے درد میں اور اضافہ کر دیتا ہے۔

اور ہر نئے آنے والے کو بیچارہ مریض شروع سے لے کر آخر تک ساری روداد بیان کرتا رہتا ہے کہ یہ سب کیسے ہوا ؟ وہ اب کیسا محسوس کر رہا ہے وغیرہ وغیرہ۔۔۔

عیادت کو آئے ہوؤں کے عجیب سوالوں اور اُن کے ساتھ آنے والوں بچوں کے شور شرابے سے مریض مزید بیمار اور چِڑچِڑا سا ہو جاتا ہے۔

ہونا تو یہ چاہیے کہ عیادت کے لیے خاندان کا صرف ایک یا زیادہ سے زیادہ دو افراد ہی جائیں اور اپنے ساتھ تازہ پھولوں کا گلدستہ یا کچھ پھل وغیرہ لے جائیں۔

مریض کے پاس تھوڑی دیر کے لیے بیٹھیں اور اُسے حوصلہ دیں، رحم اور صبرو شکر کی باتیں بتائیں۔

عیادت کے دوران اِس طرح کی باتیں کریں کہ مریض اُمید سے بھر جائے اور خُود کو وہ تازہ دم اور ہشاش بشاش محسوس کرنے لگ جائے۔

مریض سے اپنے لیے بھی دُعا کروائیں کیونکہ اللہ مریض کی دُعا رَد نہیں کرتا۔

اگر مریض کے گھر والے غریب ہیں تو کچھ پیسوں کی شکل میں اُن کی مدد کر دیں یا گھر کی ضروریات کا سامان لا کے اُن کو دے دیں۔

عیادت کو ایسے جائیں کہ مریض یا اُس کے گھر والوں پہ بوجھ نہ بنیں بلکہ اُن کا حوصلہ بنیں۔ اُن کی مدد کریں اور دُعا کریں کہ اللہ مریض کو جلدی صحتیاب کرے اور اُس کے گھر والوں کو اپنی حفظ وامان میں رکھے۔

خُوش رہیں ، خُوش رکھیں اور خُوشیاں بانٹیں۔

جزاک اللہ
واسلام
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Azhar Hussain Bhatti

Read More Articles by Azhar Hussain Bhatti: 9 Articles with 2494 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 Jun, 2020 Views: 152

Comments

آپ کی رائے