خدا ر ا کوئی پاکستان کے وزیراعظم کو سمجھائے!

(Afzal Razvi, Adelaide-Australia)
خدا ر ا کوئی پاکستان کے وزیراعظم کو سمجھائے!
میرے ایک جاننے والے جنہیں میں صاحب فہم وِ فراست تصور کرتا ہوں، انہوں نے کل مجھے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ٹویٹ ارسال کی اور فرمایا،”علامہ اقبال نے کیا خوب نظم کہی ہے اور ساتھ ہی وزیرِ اعظم پاکستان کی ٹویٹ کردہ وہ نظم اور اس پر ان کی سیاسی جماعت اور اس کے پڑھے لکھے سپورٹروں کے خیالاتِ عالیہ کی بھرمار بھی ارسال فرما دی۔ وزیرِ اعظم نے لکھا تھا،”This poem by Iqbal reflects how I try to lead my life. I urge our youth to understand and absorb the poem of the great Iqbal and I guarantee them that it will release their great God-given potential that we all possess as His greatest creation Ashraf ul Mukhluqat.''
میں اس نظم کو تو یہاں اس لیے درج نہیں کر رہاکہ مجھے اس کے شاعر کا علم نہیں لیکن حکیم لامت حضرت علامہ اقبال ؒ کے فکر وفن اور فلسفہ سے واقفیت رکھنے والے جانتے ہیں کہ جب ان کا کلام کہیں شائع کیا جاتا ہے تو وہ صرف اور صرف کلیاتِ اقبال اردو اور فارسی سے لیا جاسکتا ہے کیونکہ ان کا تمام تر کلام مدون ہے ماسوا کچھ نظموں اور غزلوں کے جو کلیاتِ باقیاتِ اقبال میں جمع کی گئی ہیں۔
علامہ اقبالؒ کے ابتدائی زمانے یعنی دورِ طالبعلمی میں بھی اس طرح کی نظم نہیں ملتی اگرچہ نظم کا مضمون برا نہیں ہے؛لیکن اتنے اہم قومی عہدے پر براجمان شخصیت کی طرف سے مذکورہ نظم کا حوالہ دے دینا اور بلا سوچے سمجھے اسے علامہ اقبالؒ کی تصویر کے ساتھ شائع کرکے نوجوانوں کو یہ کہنا کہ میں اپنی نوجوان نسل کو تاکید کرتا ہوں کہ وہ عظیم شاعر اقبالؒ کی اس نظم کو سمجھیں اور اس پر عمل پیرا ہوں۔نا صرف تعجب خیز ہے بلکہ معنی خیز ہے۔ انہوں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ میں بجائے خود اس عظیم شاعر کی خوب صورت نظم پر عمل پیرا ہو کر جس طرح اپنی زندگی کو ڈھالنا چاہتا ہوں آپ بھی ایسا ہی کریں۔
سوال یہ نہیں کہ وزیرِ اعظم صاحب کی نیت کیا ہے، سوال یہ ہے کہ وزیراعظم ہاؤس اور اس عہدے پر متمکن شخص پورے پاکستان کا نمائندہ تصور کیا جاتا ہے لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ پچھلے دوسالوں میں اس کا مظاہر ہ دیکھنے میں نہیں آیا۔ یہ کو ئی پہلا موقع نہیں کہ موصوف نے کوئی ایسی بات کی ہو جو بے حوالہ ہو۔وہ خود ہی نہیں ان کے ارد گرد موجود لوگ ادب اور ادب ِ عالیہ سے نابلد لوگ ہیں۔
ارے! کوئی تو ہو جو وزیرِ اعظم صاحب کو سمجھائے کہ جناب آپ کا عہدہ اس بات کا متقاضی ہے کہ کوئی بھی بات کرنے سے پہلے اسے کنفرم کرلیں اس کی تحقیق اگر خود نہیں کرسکتے تو بہت سے موجود ہوں گے جو اس سلسلے میں یدِ طولیٰ رکھتے ہوں گے۔ مقتدرہ قومی زبان سے کسی کو مستعار لے لیجیے، کسی یونیورسٹی کے شعبہ اقبالیات سے کسی کو ہائیر کر لیجیے یا پھر آپ کے پاس جو وقت ہے اسے کلیاتِ اقبال اردو پڑھنے میں صرف کیجیے بجائے ”ارطغرل“ دیکھنے کے اورخدا را! قوم کو اسے دیکھنے کی ترغیب مت دیجیے کہ یہ ڈرامہ ہے حقیقت نہیں۔ڈرامے اور حقیقی تاریخ میں فرق ہوتا ہے۔اور اگر ارطغرل ہی کا کردار دیکھنا ہے تو پھر اسے علامہ ابن خلدون کی تاریخ میں دیکھیے۔ وزیرِ اعظم صاحب آپ کی باتوں اور تقریروں سے عام آدمی جو فکر وخیال اخذ کرتا ہے وہ یہ ہے کہ وزیراعظم صاحب نے اگرلکھا ہے تو درست ہی لکھا ہو گا۔ چنانچہ گزشتہ دو دن سے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اس بات کو ماننے سے انکاری ہے کہ یہ نظم حکیم الامت علامہ اقبالؒ کی نہیں؛اس لیے جناب ِ عالی گزارش یہ ہے کہ اس سلسلے میں احتیاط کی ضرورت ہے، بے وجہ نوجوانوں کو ایک دوسرے کے مدِ مقابل لانے سے اجتناب کر نا چاہیے۔
Total Views: 219 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Afzal Razvi

Read More Articles by Afzal Razvi: 97 Articles with 33679 views »
Educationist-Works in the Department for Education South AUSTRALIA and lives in Adelaide.
Author of Dar Barg e Lala o Gul (a research work on Allama
.. View More

Comments

آپ کی رائے
Language: