5Gٹیکنالوجی کا شاندار انقلاب

(Shahid Afraz Khan, Beijing, China)
چین کی جانب سے کہا گیا کہ رواں برس ملک بھر میں چھ لاکھ سے زائد 5G بیس اسٹیشنز تعمیر کیے جائیں گے اور ملک کے دیہی اور شہری علاقوں کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کیا جائے گا۔تاحال چین میں ٹیلی کام کمپنیوں کی جانب سے ملک بھر میں اڑھائی لاکھ سے زائد 5G بیس اسٹیشنز تعمیر کیے گئے ہیں جبکہ ملک میں 5G صارفین کی تعداد بھی ساڑھے تین کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔چین میں مئی تک 5Gموبائل فون کی ترسیل چھ کروڑ سے بڑھ چکی ہے جبکہ رواں برس کے اواخر تک یہ تعداد اٹھارہ کروڑ سے تجاوز کر جائے گی۔ یہ بات قابل زکر ہے کہ چین میں صنعت ،ٹرانسپورٹ اور طبی شعبے سمیت چار سو سے زائد ایپلی کیشنز میں 5G کا استعمال جاری ہے جبکہ ملک میں ایک سو تیس اقسام کے 5G موبائل فونز کی اجازت دے دی گئی ہے۔

5Gٹیکنالوجی کا شاندار انقلاب

گزرتے وقت کے ساتھ خود کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنا بھی ہماری زندگیوں کا لازمی جزو بن چکا ہے۔ٹیلی مواصلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں جدت کاری کی اہمیت موجودہ وبائی صورتحال میں زیادہ شدت کے ساتھ محسوس کی گئی ہے۔دنیا نے دیکھا کہ چین میں وبائی صورتحال سے نمٹنے میں 5G ،بگ ڈیٹا ،آرٹیفیشل انٹیلی جنس ،روبوٹکس،ڈرون ٹیکنالوجی اور دیگر تکنیکی زرائع کا انتہائی احسن انداز سے استعمال کیا گیا ہے جس کے خاطر خواہ عمدہ نتائج برآمد ہوئے ہیں۔

ابھی حال ہی میں چین کی جانب سے کہا گیا کہ رواں برس ملک بھر میں چھ لاکھ سے زائد 5G بیس اسٹیشنز تعمیر کیے جائیں گے اور ملک کے دیہی اور شہری علاقوں کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کیا جائے گا۔تاحال چین میں ٹیلی کام کمپنیوں کی جانب سے ملک بھر میں اڑھائی لاکھ سے زائد 5G بیس اسٹیشنز تعمیر کیے گئے ہیں جبکہ ملک میں 5G صارفین کی تعداد بھی ساڑھے تین کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔چین میں مئی تک 5Gموبائل فون کی ترسیل چھ کروڑ سے بڑھ چکی ہے جبکہ رواں برس کے اواخر تک یہ تعداد اٹھارہ کروڑ سے تجاوز کر جائے گی۔ یہ بات قابل زکر ہے کہ چین میں صنعت ،ٹرانسپورٹ اور طبی شعبے سمیت چار سو سے زائد ایپلی کیشنز میں 5G کا استعمال جاری ہے جبکہ ملک میں ایک سو تیس اقسام کے 5G موبائل فونز کی اجازت دے دی گئی ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ 5G ٹیکنالوجی ہماری زندگیوں میں کیا تبدیلی لائے گی۔اس حوالے سے چین کے معروف اخبار پیپلز ڈیلی نے ماہرین سے بات چیت کی اور اس سوال کا جواب کچھ یوں ملا کہ مختلف شعبہ جات میں 5G کی بدولت انقلابی تبدیلیاں رونما ہوں گی مثلاً ہم میں سے ہر کسی کی کھیل کے مختلف مقابلوں میں دلچسپی ہوتی ہے۔5G ٹیکنالوجی سے یہ ممکن ہو سکے گا کہ دنیا کے مختلف میدانوں میں کھیلے جانے والے مقابلے براہ راست مختلف زاویوں سے دیکھے جا سکیں گے۔ان زاویوں میں " برڈز آئی ویو " "ملٹی سکرین اینگلز" " فری اینگل" اور "پلیئرز اینگل" شامل ہیں۔ماہرین کہتے ہیں کہ" فری اینگل" کی بدولت 360 کے زاویے پر سکرین کو موڑتے ہوئے ایک باسکٹ بال کورٹ کا پورا نظارہ کیا جا سکتا ہے۔اس ٹیکنالوجی سے لائیو اسٹریمنگ کی بدولت ایک ہی وقت میں مختلف کھیلوں کے مقابلے دیکھے جا سکتے ہیں کیونکہ اکثر میدانوں میں ملٹی کیمرا لائیو اسٹریمنگ کی گنجائش محدود ہوتی ہے۔

5G ٹیکنالوجی کا ایک فائدہ ان لوگوں کو بھی ہو گا جو گائیکی کا شوق رکھتے ہیں ۔ کنسرٹس کے دوران مداح اپنے پسندیدہ فنکاروں کے ہمراہ ایک انتہائی تخلیقی اور دلچسپ انداز سے خود بھی گا سکیں گے۔ہولو گرافک پروجیکشن کو استعمال میں لاتے ہوئے آپ کی حقیقی تصویر کو سکرین پر لایا جا سکے گا۔شائقین اپنے ہیروز کے ساتھ 10 سے 40 ملی سیکنڈز کے درمیانی وقفے سے5G ٹیکنالوجی کی بدولت گانا گا سکیں گے جس سے ایک فائدہ یہ بھی ہو گا کہ موسیقی کے شعبے میں ملکی و بین الاقوامی سطح کا تعاون فروغ پا سکے گا۔

ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ 5G ٹیکنالوجی ہمیں ڈاکٹروں کے کلینکس کے چکر لگانے سے بھی نجات دلانے میں اہم کردار ادا کرے گی کیونکہ5G اسمارٹ ہیلتھ کیئر نظام سے گھر بیٹھے امراض کی تشخیص ہو سکے گی حتیٰ کہ مریضوں کی جراحی بھی ممکن ہو سکے گی۔اسپتالوں میں اعلیٰ معیار کے 5G ریڈیو نیٹ ورکس سے ڈاون لوڈ کی اوسط اسپیڈ 450 Mbps تک ہو جائے گی۔

5G ٹیکنالوجی اور مصنوعی زہانت کی مدد سے کسی بھی ملک میں " اسمارٹ ٹیکس" نظام تشکیل دیا جا سکے گا۔ ماہرین اس کی افادیت یہ بتاتے ہیں کہ4G کے مقابلے میں 5G کی بینڈ وتھ کہیں زیادہ ہوگی ، دو نیٹ ورکس کے درمیان فاصلہ طے کرنے کا دورانیہ بھی انتہائی مختصر ہو گا جبکہ ڈیٹا کی ترسیل کی رفتار بھی انتہائی تیز ہو گی جو ٹیکس سمیت آن لائن درخواستوں سے وابستہ نظام کے لیے انتہائی سودمند ہے۔اس طرح شہریوں کے لیے آن لائن معلومات جمع کروانے کے عمل میں وقت کی بچت ہو گی اور کام بھی جلد ہو جائے گا۔

5G ٹیکنالوجی کا ایک اور مفید استعمال اسمارٹ شہروں کی تعمیر کی صورت میں بھی سامنے آئے گا ۔اسمارٹ شہروں میں ایک اضافی خوبی یہ بھی دیکھنے میں آئے گی کہ غیر معمولی واقعات کی پیش گوئی ممکن ہو سکے گی۔ماہرین کے مطابق شہروں میں 5G سے آراستہ"اسمارٹ برین" وسیع پیمانے پر ڈیٹا حاصل کرتے ہوئے اس کا تجزیہ کر سکے گا۔تجزیے کی روشنی میں کسی بھی غیر معمولی واقعے یا امکانات سے متعلق قبل ازوقت معلومات حاصل کی جا سکیں گی۔اسی طرح جرائم پر قابو پانے کے حوالے سے بھی 5G ٹیکنالوجی موثر آلہ ثابت ہو گی۔شہریوں کے معمولات زندگی بھی اسمارٹ نظام کی بدولت بہتر ہو جائیں گے مثلاً کسی گھر یا علاقے میں بجلی ،گیس وغیرہ کے استعمال میں اگر اچانک اضافہ ہوا ہے یا کمی ہوئی ہے تو سسٹم فوری اس تبدیلی کو رپورٹ کرے گا۔یہ بات قابل زکر ہے کہ چین کے دو شہروں چھونگ چھنگ اور تھیان جن میں اس وقت" اسمارٹ سٹی سسٹم" فعال ہے۔

5G ٹیکنالوجی محنت طلب اور کٹھن پیشوں سے وابستہ افراد کے لیے بھی آسانیاں لائے گی اور اُن کی زندگیوں کے تحفظ میں مدد مل سکے گی۔آئل ڈرلنگ ،فائر فائٹنگ ،کان کنی جیسے پیشوں سے وابستہ افراد کسی بھی ہنگامی صورتحال میں 70 ملی سیکنڈ سے بھی کم وقت میں پیغام پہنچا سکیں گے جس سے بروقت اقدامات ممکن ہو سکیں گے۔

5G "ففتھ جنریشن" کی نیٹ ورک ٹیکنالوجی ہے اور یہ امید کی جا رہی ہے کہ اس ٹیکنالوجی کی بدولت جہاں انٹرنیٹ کی رفتار پہلے سے کئی گنا بڑھ جائے گی وہاں 4G کے مقابلے میں دیگر آپریشنز میں بھی دس گنا تیزی آ جائے گی۔ 5G انفارمیشن اور ٹیلی مواصلات کے شعبوں بشمول آرٹیفشل انٹیلی جنس ،روبوٹکس ،خودکار گاڑیوں اور دیگر کئی شعبہ جات میں انقلابی تبدیلیاں لائے گی اور عام افراد کے لیے آسانیاں پیدا ہوں گی۔



 

Total Views: 532 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shahid Afraz Khan

Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 64 Articles with 11733 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
آپ نے جو فائدے فائیو جی ٹیکنالوجی کے بتائیں ہیں وہ درست ہیں، لیکن آجکل ایک یہ ریسرچ سامنے آئی ہے کے کرونا وائرس اصل میں وائرس نہیں ہے بلکہ یہ فائیو جی ٹیکنالوجی کی وجہ سے پھیل رہا ہے اور ڈبلیو ایچ او کے پاس کرونا کا علاج پہلے سے ہی تھا لیکن انہوں نے چائنا کو جان بوجھ کر نہیں دیا۔ مہربانی فرما کر اس پر بھی ایک آرٹیکل تحریر کریںں۔ کیا یہ سچ ہے یا نہیں؟
By: zainab Arshad, Mandi bahaulddin on Jun, 11 2020
Reply Reply
0 Like
Language: