دل تتلی بن اُڑا - قسط نمبر6

(Saima Munir, Nankanasahib)

ویرانے میں سڑک کی داہنی طرف ایک ٹرک رکا۔۔۔۔۔موٹا سانولے رنگ کا آدمی ٹرک سے اترا۔ ارد گرد کا جائزہ لیا سامنے سے آتی سفید کار کو دیکھ کر سگریٹ لگانے لگا۔ گاڑی گزر گئی۔ بائیں جانب ایک تنگ پگڈنڈی پر چلنے لگا کچھ دیر بعد وہ نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ ٹرک کے اندر بیٹھی لڑکی بائیں طرف سے تین چار فٹ اونچائی پر بنے میخ کے درز سے اسے دیکھ رہی تھی۔ جونہی وہ منظر سے غائب ہوا تو اس نے پچھلی جانب لگی اناج سے بھری بوریوں کی دیوار کو حسرت سے دیکھا۔۔۔۔جو تقریبا ٹرک کی اونچی اونچی دیواروں کے برابر تھی؛ نفی میں سر ہلایا۔ اگلے ہی لمحے ٹرک کے اندرونی طرف لگے سریا نما راڈ کا سہارا لے کر اوپر چڑھی اور گرتے پڑتے نیچے اترنے لگی۔ ننگے پاوں، بکھرے بال، چہرے پر تشدد کے نشانات اور خوف و ہراس سے لبریز آنکھیں۔ جنہیں گھما گھما کر چہار سو دیکھنے لگی۔ہاتھوں کی ہتھیلیوں سے آنکھیں ملیں اور سڑک کے اسی پار کھڈا نما کھیت میں چھلانگ لگا دی۔ کھیت میں پانی کھڑا ہونے کی وجہ سے دلدل نما کیچڑ بن چکا تھا۔ وہ سر سے لے کر پاوں تک کیچڑ میں لتھڑ چکی تھی اسکی آنکھیں بند ہو رہی تھی۔۔۔۔ اٹھ کر چلنا چاہا مگر زمین پر گر گئی۔ اتنے میں اسے کسی کے قدموں کی دھمک سنائی دی۔ کچھ دیر بعد ٹرک کا گیٹ کھلا اور زور سے بند ہوا وہ نیم بے ہوشی کی حالت میں تھی۔ ٹرک سٹارٹ ہوا اور چل پڑا اتنے میں اسنے آدھ کھلی آنکھ سے آسمان پر اڑتے چیل کوے دیکھے جو عین اسکے سر کے اوپر گول گول چکر لگا رہے تھے۔کوشش کے برعکس اسکی آنکھ بند ہو گئی۔
_______
رضیہ اخباروں کے تراشے سمیٹ کر بیٹھ گئی۔ دارو کمرے میں آئی اسکی طرف دیکھ کر منہ موڑ لیا۔
دارو: تجھے کیا ہوا؟رضیہ "ہیں آج طعنے نہیں دو گی؟
دارو"مجھے پتہ ہے کل پھر اعتراض لگ گیا؟
رضیہ چیخی"نہیں تو"
دارو"کیا؟ منظور ہو گئ اس کی آنکھوں میں چمک تھی بانچھیں کھل گئیں۔
رضیہ اسکے چہرے کی مسکراہٹ، افسردگی میں نہیں بدلنا چاہتی تھی۔ جی__ جی ہاں ___اسکے گلے لگ کر مبارک ہو, دارو تمہاری دعائیں قبول ہوگئیں, اسکی پلکیں نم تھیں انگلیوں کے پوروں سے خشک کرلیں
<-------->
زمرد بار بار فون اٹھا کر نمبر ڈائل کرتا مگر "ڈائلڈ نمبر پاورڈ آف" کی صدا آجاتی ۔ فون بیڈ پر پھینک دیا۔ شیلو کافی لے کر آئی۔وہ کافی پکڑ کر ادھر ادھر گھومنے لگا چوسکی لیتا کپ ٹیبل پر رکھتا پھر اٹھا کر چوسکی لیتا ادھر ادھر چلنے لگتا کبھی رک کر فون کی طرف دیکھتا۔ یہ سلسلہ کافی دیر جاری رہا پھر وہ کاوچ پر بیٹھ گیا اور وہیں سو گیا۔آنکھ کھلی تو وال کلاک پر نظر پڑی پانچ بج گئے لپک کر فون اٹھایا "پھر بند او نو" کمرے سے باہر نکل گیا۔ سرخاب پھولوں کے پاس کھڑی تھی۔ زمرد نے بالکونی سے اسے لان میں دیکھا تو وہ بھی نیچے لان میں چلا آیا ۔ جب اسکے قریب پہنچا تو وہ چہار سو سے بے نیاز وہاں خاموشی سے کھڑی تھی۔
زمرد: کیا ان گلوں کی رعنائی میں گم ہو کر زندگی کی الجھنیں سلجھ جائیں گی؟ اس نے پھولوں پر ہاتھ پھیرا تو بہت سی پتیاں ٹوٹ کر کیاری میں بکھر گئیں ۔ انکی قدر انسانوں سے بھی زیادہ ہے کیا۔۔۔۔ طنزیہ جملہ کسا
سرخاب:کچھ مسافروں کو الجھے راستوں میں گیری منزل کی تمنا تو ہوتی ہے مگر تگ و دو کی ہمت تک نہیں رکھتے۔
زمرد اسکی طرف رغبت و حیرانی سے دیکھنے لگا۔
اسے اپنی کہی بات کی سنگینی کا احساس ہوا تو زمین پر بیٹھ گئی۔ تو فورا سے بات بدل دی۔ انکی خوشبو قدر دانوں کو بھی معطر کر جاتی اور بے قدروں کو بھی۔ گھاس پر پڑی پتی کو انگوٹھے اور شہادت کی انگلی سے پکڑا اپنی ہتھیلی پر رکھ کر مٹھی بند کر لی۔ زمرد کی طرف متوجہ ہوئی جو کہ اسی کی طرف نظریں ٹکائے کھڑا تھا۔ یقین نہیں آیا؟ اپنے ہاتھ کو سونگھ لو۔ مسکرا کر اس کی طرف دیکھا اور اٹھ کر اندر کی طرف چل دی۔ زمرد:اصل بات کو بڑی مہارت و خوبصورتی سے لفظوں کا غلاف چڑھا دیا۔ اسنے مٹھی بند کی ہاتھ ناک کے قریب لایا۔ سرخاب نے پیچھے مڑ کر دیکھا اور اندر چلی گئی۔ زمرد نے ہاتھ کھولا لمبی سانس بھری میرا من تو پہلے ہی محبت کی خوشبو سے معطر ہے۔ سر چھٹک کر مسکرایہ کچھ فاصلے پر چار کرسیاں اور ایک میز پڑا تھا وہاں جا کر بیٹھ گیا۔
<------->
رضیہ: تیزی سے چپس کھاتے ہوئے ٹیبل پر پاوں رکھ کر زور زور سے ہلا رہی تھی۔ اس لڑکے کو کیسے ڈھونڈوں؟ علی وہ چیخی ہاں اس دن ایئرپورٹ پر سیکیورٹی والے اسے علی کہہ رہے تھے۔ ہاں ایئرپورٹ پر__ بانچھیں کھل گئیں مگر اسکی فلائٹ کینسل ہو گئی تھی۔ سر پر ہاتھ مارا____ آیا تو لاہور ہے۔ پر کتنے بجے کی فلائٹ؟ منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔
اتنے میں ریمائنڈر کا الارم بجا فون پکڑا تو سکرین پر لکھا تھا" فرسٹ ایونٹ فار ڈونیشن "او ہو مارچ ہے!
اس بار یتیم خانے میں فنکشن کے لیے اضافی پیسے دینے ہونگے۔
خرچہ کم دھندے افزوں۔۔۔۔!
اتنے میں فون کی گھنٹی بجی ہاتھ میں موبائل تھا وہ ڈر گئی۔ سکرین پر نظر پڑتے ہی اف! سنبل کی کال____ فون پک کرتے ہی اسلام علیکم!کیسی ہو سنبل؟
سنبل:سہمی ہوئی آواز میں وعلیکم سلام! ہاں ٹھیک ہوں۔
رضیہ"لگ تو نہیں رہی تمہاری آواز کیوں کانپ رہی ہے؟
سنبل"رجی وہ رجی وہ اسامہ۔۔۔۔؟
رجی:زور سے قہقہہ لگایا۔ او ہو___چپس کھائی___مجھے پتہ ہے اسامہ آگیا ہے!تم تو ایسے ڈر رہی ہو جیسے میں نہیں بلکہ تم اسے اسسٹ کرتی ہو
سنبل"رجی رحیم یار خان سے آتے ہوئے راستے میں انہیں کسی نے قتل کر دیا۔
رضیہ:اٹھ کر کھڑی ہوگئی_____منہ ڈھیلا کر کے ہنستے ہوئے۔ مانا کہ وہ مجھے بلکل نہیں پسند کھڑوس باس ہے، مگر ایسا مذاق____ نہیں یار ناٹ فیئر!
سنبل: اسکے گھر پہنچو مغرب کے بعد جنازہ ہے۔
رجی:ابھی صبح میری بات ہوئی بہت خوش تھا___فون بند ہوگیا یکدم ہل سی گئی پھر بیٹھ گئی۔یااللہ پاک یہ کیا ہو گیا۔ گھنگریالے بالوں پر ماتھے سے لے کر کھوپڑی تک انگلیاں پھریں ۔
<------->
زمرد کمرے میں آیا اور فون اٹھا کر کال ملائی ___شکر ہے فون لگ گیا۔
آواز آئی" ہیلو____ کون؟
زمرد سوالیہ انداز میں تم مسٹر دو نمبر؟
شبیر: اپنا تعارف ۔۔۔میرا نہیں!
زمرد:فون کان سے ہٹا کر مٹھی بیڈ پر ماتے ہوئے۔۔۔۔۔"علی" مجھے آپ سے۔۔۔
وہ اتنا بولا ہی تھا کہ آواز آئی زمرد بھائی راوی کے پل پےکھڑا ہوں آجاو____معلومات مفصل مگر ملاقات مختصر ہوگی۔
زمرد:فون بند ہوتے ہی عجیب انسان ہے___خیر ملنے میں کیا حرج ہے۔ وہ تیزی سے گھر سے نکل کھڑا ہوا۔
____
سویرا: ٹنزیلہ بیل بج ڑہی ڈیکھو کون ہے!

تنزیلہ ارد گرد سے بے خبر وائرلیس ہینڈ فری کانوں کو لگا کر میوزک سن رہی تھی۔
سویرا دوپٹے سے ہاتھ صاف کرتے ہوئے کچن سے نکلی۔۔۔۔۔کمرے کی طرف دیکھتے ہوئے مجھے پٹہ ڈڑوازہ بنڈ کڑ کے ڈانس ہو ڑہا ہوگا، ابھی ڈیکھٹی ہوں ٹمہیں۔۔۔۔بڑبڑاتے ہوئے جا کر دروازہ کھولا! سامنے ایک شخص کھڑا تھا۔ دروازہ کھلتے ہی بولا اسلام علیکم!
سویرا:اسے گھورتے ہوئے۔۔۔۔۔۔وعلیکم سلام! کیا مسئلہ ہے؟
ماشااللہ پورب کی شہزادی اوپر سے کوئل سی آواز!
سویرا:آپ کون؟وہ بولا فلیٹ نمبر 119_____
اتنا ہی کہہ پایا تھا کہ سویرا بات کاٹتے ہوئے۔ "اممی ابو نہیں ہیں آپ جائیں" دائیں جانب انگلی کرتے ہوئے "یہ 120 لکھا ہوا ہے پڑھ لیں"سویرا نے غصے سے دروازہ بند کرنا چاہا مگر اس نے ہاتھ سے دروازہ کھولے رکھا۔سوری مس میرا نام قاسم!میں تو اسں بچے کو گھر چھوڑنے آیا تھا مگر___وہ اتنا بولا ہی کہ بچہ آگے بڑھا پھوپھو کہتے ہوئے سویرا سے لپٹ گیا۔اسکے سر پر پٹی تھی او ہو ٹیپو یہ کیا___ کہہ کر بیٹھی اسے گلے لگا لیا۔ قاسم:بازار میں بائیک سے ٹکرا گیا تھا کافی خون بہا ہے۔جب آنکھیں لڑکیوں کو ڈھونڈنے لگی ہوں___ بائیک چلاو گے ایسا ہی ہوگا۔ ایکسکیوزمی مس! سویرا اٹھ کر کھڑی ہوئی آپ ان______یہاں سے____وہ چپ ہوگئی۔
میڈم آپ رک کیوں گئیں بولئے کہہ دیجئے اندھے تھے، دفعہ ہوجاو۔۔۔۔۔بلا بلا! بچہ فورا سے بولا پھوپھو وہ گندے بائیک والے انکل بھاگ گئے تھے۔ یہ انکل اچھے والے ہیں مجھے اپنی گاڑی میں بیٹھا کر پٹی کروانے ڈاکٹر کے لے کر گئے۔۔۔۔ہاتھ میں پکڑا ہوا ٹبہ سامنے کرتے ہوئے یہ دیکھیں انہوں نے مجھے چاکلیٹس بھی دلائی ہیں۔
سویرا نے بال کان کے پیچھے کئے آہستگی سے بولی معاف کیجئے گا میں سمجھی آپ سے لگی۔ ایک تو نیکی کرو دوسرا خوبصورت لوگوں سے ڈانٹ بھی سنو۔۔۔۔۔مسکراتے ہوئے۔ منہ موڑا ادھر ادھر دیکھا "مجھے لگتا آپ کے ہاں چائے وائے کا نہیں پوچھا جاتا چلو خیر پھر کبھی سہی" چل پڑا
سویرا آگے بڑھی۔۔۔۔۔۔کچھ کہتے کہتے رک گئی اور واپس اندر آگئی دروازہ بند کر لیا۔ ٹیپو اڈھڑ بیٹھو میں کھانے کو کچھ لاٹی ہوں۔ نہیں چاکلیٹس مل گئیں اب رہنے دیں___یہی کھا لی ہیں پیٹ بھر گیا اب۔پھوپھو آپ بھی لے لیں ڈبہ ٹیبل پر رکھ دیا۔ جلدی سے مما کو فون بھی کردیں۔
سویرا:نہیں شکڑیہ ٹم کھا لو___فون کیوں آو میں ٹمہیں خوڈ گھڑ چھوڑ کڑ آوں۔
ٹیپو:ممی دروازہ نہیں کھول رہیں۔ اسی لیے انکل مجھے ادھر چھوڑ کر گئے۔
سویرا:او ہو____ ممی کو فون کرٹی ہوں ڑکو! بھابی کو اتنا کہا بچوں کا دھیان کیا کڑیں منہ میں بڑبڑائی___ فون ملا کر کان کو لگایا پھر اسکی طرف دیکھا ہونٹ پچکائے!
ٹیپو:کیا ہوا؟
سویرا: مصڑوف جا ڑہا۔۔!
ٹیپو:اف! زور سے ہاتھ سر پر مارا۔۔بیساکھی کے سہارے اٹھ کر بالکونی سے باہر دیکھنے لگا۔
سویرا اسکے پیچھے گئی۔۔۔۔۔ہوا کیا ہے؟
ٹیپو: ممی کو ہم سے ذرا پیار نہیں۔۔۔۔انہیں تو بس فون ہی پیارا لگتا ہے۔
سویرا : ٹوبہ ہے ویسے ٹیپو ہوسکٹا وہ ضڑوڑی کال سن ڑہی ہوں۔ غلط باٹ کسی کے باڑے منفی خیالاٹ نہیں ڑکھٹے وہ ٹو پھڑ ٹمہاڑی ماں ہیں۔
ٹیپو:اچھا سوری پھوپھو____!دوسری طرف چہرہ گما کر آپ کیسے سمجھ سکتیں ۔
سویرا: چلو آو ٹمہیں کاڑٹون لگا کر ڈوں کچھ دیڑ ٹک دوباڑہ ٹڑائی کڑوں گی۔
ٹیپو خوشی سے جھوما اور لاوئج میں چلا گیا

_______
رضیہ: رکشے سے اتر کر ایک تنگ گلی میں داخل ہوئی بہت لوگ تھے۔ تھوڑا آگے بڑھی تو ہر طرف سسکیوں و آہ و زاریوں کی صدائیں تھیں۔ وہ بوجھل قدموں سے آگے بڑھتی رہی۔ لوگوں کو راستے سے ہٹاتے ہوئے ایک چھوٹے دروازے سے گھر میں داخل ہوئی تو اسکی نظر ایک معصوم بچے پر پڑی جو مشکل سے بیٹھ سکتا تھا۔ "زید"وہ ایک دم کانپ گئی ایک نظر بچے کو دیکھتی دوسری نظر جنازے پر پڑھ جاتی۔ اسکی آنکھیں ٹپکنے لگیں۔دوڑ کر آگے بڑھی جنازے کے ساتھ لپٹی صلہ کے پاس بیٹھ گئی۔ جو بار بار بے ہوش ہو جاتی۔ عورتیں اسے ہوش میں لانے کے لیے منہ پر ٹھنڈے پانی سے چھینٹیں مارتیں ۔ اسے حوصلہ دیا کندھے تھپکائے اٹھ کر پیچھے کھڑی ہوگئی ہجوم کی دھکم پیل سے وہ پیچھے چلی گئی۔خیالوں میں ڈوب گئی۔ رجی تم یہ رپورٹ نہ دو ابھی! تم نہیں جانتی ہو جن کے خلاف تم نے رپورٹ تیار کی وہ صرف مہرے ہیں ۔
رضیہ: سر کیا مطلب_____مجھے لگتا آپکو اب میری محنت دیکھ کر لالچ ہو رہا ہے۔
اسامہ:رجی ۔۔۔رجی اچھا ایسا کرو جاو کراچی سے واپس جاتے ہی یہ رپورٹ چھپاو۔ میں پرسوں تک آتا ہوں رحیم یار خان سے اگلی دھماکے دار قسط لے کر۔یہ ڈاکومنٹ تمہیں دیکھ کر اندازہ ہوگا یہ اکبر کتنا بڑا سانپ ہے۔
رضیہ: اچھا میں فون رکھتی ہوں۔ بورڈنگ کروانی ہے ____پھر اچانک سے اسے تسکین اور خان والی میٹنگ یاد آئی۔ "اکبر خان وہ لڑکا بہت پہنچا ہوا ہے" وہ کانپ کر پیچھے ہٹی بولی 'اکبر خان کون' کہیں یہ پھر اسامہ کو اس اکبر نے تو نہیں۔۔۔۔۔۔رضیہ کو اکبر خان کا وہ جملہ یاد آیا
"تو اسے جلدی منزل مقصود تک پہنچا دیتے ہیں"
اس نے اردگر کے لوگوں کی طرف دیکھ کر ماتھے سے پسینہ صاف کیا۔
انسپکٹر یکدم اسکے سامنے آیا تو وہ آنکھیں جھکا کر دوسری طرف متوجہ ہوگئی۔
انسپکٹر : مس رجی اسامہ الطاف کی اسسٹنٹ آپ ہی ہیں ۔
رضیہ:اپنے داہنے ہاتھ سے بیگ کی بیلٹ پکڑ کر اسکی کی طرف دیکھنے لگی۔ یس سر۔۔۔!
انسپکٹر: اسے گھورتے ہوئے۔۔۔اپنا کارڈ اس کی طرف بڑھایا اگر ہوسکے تو کل مجھے سے ملنے آئیں۔
رضیہ:ایکسکیوز می یہ کونسا طریقہ ہے؟
اس چیز کی پابند نہیں ہوں۔
انسپکٹر:مس رجی میں اسامہ قتل کیس کا انویسٹیگیشن آفیسر ہوں اگر چاہوں تو بحق کار سرکار آپکی طلبی کرسکتا ہوں۔ مگر آپکو آفیشلی ڈیل کر کے اس بار شاداب اور اکبر کو ایک اور موقع نہیں دینا چاہتا۔
رضیہ پہلے تو خوف زدہ ہوگئی۔۔۔۔۔لیکن پھر مشکل سے ہاتھ آگے بڑھایا اور کارڈ پکڑا اس پر لکھا تھا انسپکٹر داود،ایک نظر اسکی طرف دیکھا اثبات میں سر ہلا کر بولی'اوکے" کارڈ پرس میں ڈالا تو اسکی نظر معصوم بچے پر پڑی جو ہاتھ میں تھامے کھلونے سے کھیلتا تو کبھی اپنے اردگرد لوگوں کی طرف دیکھ کر ہنستا جو اس پر ترس کھا کر اسکا دل بہلانے کی کوشش کر رہے تھے۔ اتنے میں جنازہ اٹھانے کو چار لوگ آئے اسامہ کے دوست نے آگے بڑھ کر صلہ سے اجازت طلب کی تو وہ چلانے لگی اسکے پاوں پڑ گئی شوکت بھائی خدا کے لیے اسامہ کو مت لے کر جائیں۔اسکے سوا ہمارا کوئی نہیں____کوئی نہیں۔ شوکت پچھے ہٹا اور اسکے سر پر ہاتھ رکھا لگ رہا تھا حوصلہ دینے کے لیے کچھ بولنا چاہا مگر کچھ نہ کہہ سکا جلدی سے منہ موڑ کر جنازہ اٹھا لیا۔بائیں ہاتھ سے ٹپکتی آنکھوں سے آنسو صاف کیے۔ رضیہ نے صلہ کے پاس جانا چاہا مگر رش کی وجہ سے کوشش کے باوجود صلہ تک نہ پہنچ سکی۔ گم سم وہاں سے باہر کی طرف چل دی
<------>
زمرد نے بریج پر پہنچ کر کال کی پہلی ہی بیل پر فون پک کیا۔ تھوڑا پیچھے آو اور دائیں ہاتھ آجانا کچھ فاصلے پر تمہارا منتظر کھڑا ہوں۔ گاڑی واپس موڑی سٹیرنگ پر زور سے ہاتھ مارا اور چل پڑا۔ تھوڑا فاصلہ طے کرنے پر سامنے ایک جھونپڑی پر اسکی نظر پڑی۔ سورج کی کرنیں گہری زردی کی طرح آسمان پر پھیل چکی تھیں جیسے ابھی اندھیرا چھانے والا ہو وہ گاڑی سے نکلا ادھر ادھر دیکھنے کے بعد جھونپڑی کی طرف بڑھا۔
ایک شخص باہرنکلا اونچا قد کشادہ کندھے سیدھی اکڑی ہوئی گردن جیسے کوئی آفیسر سلوٹ مارتے ہوئے اکڑاتا ہے۔ زمرد پاس پہنچا تو فورا سلام کے لیے اسے نے ہاتھ بڑھایا جیسے کوئی بے تاب انسان پہل میں اجلت کرے۔ زمرد نے مسکرا کر ہاتھ ملایا۔ کیا میں صحیح جگہ ہوں؟
اپنی جیب سے ایک تصویر نکال کر زمرد کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے۔ آپ کیا کہلانا پسند کریں گے زمرد یا علی؟ زمرد نے چونک کر کہا ظاہر ہے زمرد
اس نے جھونپڑی کے اندر اشارہ کرتے ہوئے زمرد پلیز آئیے تشریف رکھئیے۔
شکریہ! ادھر ادھر نظر دوڑائی جھونپڑی اندر سے کافی صاف ستھری لگ رہی تھی ۔وہ بیٹھا تو سامنے کی طرف کوئل کی تصویر اور بھیڑیے کی اسکے سامنے دوسری طرف آویزاں تھی۔ بیٹھتے ہی "کیا ہم کام کی بات کر سکتے؟
شبیر کی زندگی میں دو ہی اصول ہیں۔ جھوٹ بولنا نہ بولنے دینا،دوسرا____مظلوم کی مدد ہر صورت فرض ہے۔
زمرد: مجھے نہیں معلوم تمہیں میرے بارے میں کتنا پتہ ہے۔ مگر میں اپنا ماضی خود سے بھی ڈسکس نہیں کر سکتا_____وہ اٹھ کر کھڑا ہوگیا۔
مجھے اپنی چھوٹی بہن گڑیا کا معلوم کرنا ہے کیا وہ واقعی مرگئی ہے___اسکے چہرے پر اضطراب تھا۔منہ دوسری طرف پھیرا اور بولا شاداب کی جاسوسی،ہمارے گھر تک اسکی رسائی ختم کروانے کے لیے ٹھوس ثبوت ڈھونڈنے ہونگے___شبیر کے ہاتھ میں کاغذات تھماتے ہوئے یہ رہا اسکا پروفائل اس میں موجود خالی جگہ تمہین خود پر کرنی ہے۔اپنے کورٹ کی جیب سے چیک بک نکال کر سائن کیے یہ لو اپنی مرضی سے اماوءنٹ لکھ لینا۔
شبیر : چھوٹی بہن______سن کر ژھیرانی ہوئی میری اطلاعات کے مطابق تم اکیلے وارث ہو۔ چیک زمرد کی طرف واپس دھکیل دیا
<----->
 

Total Views: 235 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Saima Munir

Read More Articles by Saima Munir: 14 Articles with 3300 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: