لکی مروت کے درویش۔۔

(Umer Farooq, )

انڈس ہائی وے پرسفرکسی عذاب سے کم نہیں کیونکہ کرک کے مختلف پہاڑی علاقوں میں تیل و گیس کی پیداوار ہے جس کی وجہ سے ہائی وے پر چوبیس گھنٹے بھاری لمبی گاڑیوں کنٹینروں ، عام نقل و حمل اور سواریوں کی ٹرانسپورٹ زیادہ ہو ہے آئے روزحادثات معمول ہیں اس کے ساتھ ساتھ سندھ ،پنچاب اورخیبرپختونخواہ کوآپس میں ملانے والی1264 کلومیٹر طویل یہ سڑک نہایت اہمیت کی حامل ہے سابق سیاسی رہنماء محمد اسلم خان خٹک نے اس ہائی وے کے حوالے سے چاردہائیاں قبل ایک جلسہ میں کہا تھا کہ اے لوگو! تمہارے علاقے سے ایک سیاہ اژدھا (تور خامار)گزرنے والا ہے ۔ اس اژدھا کے منہ میں زہر بھی ہے اور قیمتی موتی بھی ۔ کوشش کریں کہ اس کے زہر سے تریاق بنائیں اور موتی کو حاصل کرلیں ،
جوں ہی ہم جنڈسے آگے نکلے توگاڑی کو زوردارجھٹکالگاتوپتہ چلاکہ سڑک کوکشادہ کرنے کاکام شروع ہوچکاہے مسلم لیگ ن کی حکومت نے اس سڑک کودورویہ کرنے کے منصوبے کی منظوری دی تھی مگراس کے بعد پی ٹی آئی کی حکومت آگئی،بادل نخواستہ تبدیلی سرکارنے سڑک پر کام توشروع کروادیاہے لیکن جس رفتارسے کام چل رہاہے کہیں یہ منصوبہ بھی دوسرابی آرٹی نہ بن جائے ،گرتے پڑتے رات بھرسفرکرکے ہم اذان فجرکے وقت دارالعلوم کرک پہنچے جہاں مولاناکرامت الرحمن نے ہمارے قیام وطعام کابندوبست کیاہواتھا ۔

ہماری منزل لکی مروت تھی جمعیت علماء اسلام جموں وکشمیرکے سیکرٹری جنرل مولاناامتیازعباسی کی سربراہی میں مولاناندیم آزاد،قاسم امتیازاوراستادفیاض کے ہمراہ جے یوآئی لکی کے جوائنٹ سیکرٹری اورباغ وبہاراں شخصیت کے مالک مولاناعبدالوکیل کے صاحبزادے کی شادی میں شرکت کے لیے ہم ڈرتے ڈرتے یہاں واردہوئے تھے کیوں کہ کوروناکے موسم میں دعوت ولیمہ میں شرکت کایہ پہلااتفاق تھا لیکن یہاں کے لوگوں کودیکھ کرہم اس نتیجے پرپہنچے کہ کوروناان کوقریب سے بھی نہیں گزراکاروبارزندگی معمول کے مطابق چل رہاتھا ،کوروناکاکسی کوخوف اورڈرنہیں تھا بلکہ لکی کے عوام کوروناوائرس کوماننے کوہی تیارنہیں ۔

دریائے گمبیلہ کے کنارے حاجی عصمت اﷲ کاخوبصورت حجرہ ہماری آرام گاہ تھا حاجی عصمت اﷲ بھی ایک دلچسپ آدمی ہیں لکی مروت پریس کلب کے سابق صدررہے بلکہ لکی پریس کلب بنانے میں اہم کرداراداکیاپھرصحافت کوخیرآبادکہااورکاروبارسے وابستہ ہوگئے آج کل سبزی منڈی یونین کے صدرہیں صبح فضائل اعمال کی تعلیم اوراجتماعی دعاکے بعد سبزی منڈی میں بھاؤتاوشروع کرتے ہیں کسی دورمیں جمعیت علماء اسلام کے سرگرم کارکن رہے آج کل پچھلی صفوں میں بیٹھتے ہیں معروف خطیب مولاناعبدالمجیدندیم شاہ مرحوم سے ان کاخصوصی تعلق رہا حاجی عصمت اﷲ کی پرتکلف مہان نوازی اورتواضع کوہم کبھی نہیں بھول سکتے ۔

رقبے کے اعتبارسے ضلع بنوں سے بڑے لکی مروت کویکم جولائی 1992کوضلع کادرجہ دیاگیا اس کی سرحدیں ایک طرف بنوں اور دوسری جانب پنجاب سے ملتی ہیں، سوکھی پہاڑیوں کے بیچ پھیلا لکی مروت ایک زندہ و تابندہ و مردم خیزشہر ہے۔ اس علاقے کی ایک خوبصورت روایت یہ بھی ہے کہ عمرہ اورحج کے سفرسے واپس آنے والوں کا ذبردست استقبال کیاجاتاہے اوردیواروں پرجگہ جگہ سفرحج مبارک ،دیدارگنبدخضری مبارک،عمرہ مبارک وغیرہ کے نعرے لکھے ہوئے نظرآتے ہیں جنوبی پنچاب کی طرح کے پی کے جنوبی اضلاع میں بھی ترقی کی رفتارسست ہے مگریہاں کے لوگ محنتی اورجفاکش ہیں ترقی کے اس دوڑمیں وہ کسی سے کم نہیں مقامی صحافی ذبیرخان نے بتایاکہ امسال یونیورسٹی آف لکی مروت کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے جوکہ دلوخیل علاقے میں واقعے ہے،ہمارے دوست مولاناعبدالرزاق کاتعلق بھی دلوخیل سے ہے ان کے والدحاجی عبدالجبارمرحوم مولانافضل الرحمن کے دیرینہ ساتھی تھے ۔

ولیمہ سے فارغ ہونے کے بعد درہ پیزوکی درسگاہ دیکھنے کاپروگرام بنا مدرسہ حلیمیہ نصف صدی سے علم کی شمعیں روشن کررہاہے ،مدرسہ کے بانی ومہتمم مولانا سید محمد محسن شاہ شہیدکا تعلق پنیالہ ڈیرہ اسماعیل خان کی خانقاہ یاسین زئی کے عظیم روحانی مرکز اور خاندان سے ہے اور جامعہ حلیمیہ بھی در اصل خانقاہ یاسین زئی کے علوم و فیوض کا مظہر ہے،جے یوآئی کے مولانافضل الرحمن کے خاندان کااس خانقاہ سے روحانی تعلق ہے یہی وجہ ہے کہ خانوادہ مفتی محمود بے پناہ سیاسی زندگی کے دور عروج میں بھی ذاکر و شاغل اور شب زندہ دار ہے جس کی بڑی وجہ اس عظیم روحانی خاندان اور مرکز کے ساتھ ان کی وابستگی بھی ہو سکتی ہے۔

درہ پیزوہم جب پہنچے تواونچے اونچے پہاڑنظرآئے ان پہاڑوں کوشیخ بدین کے نام سے پکاراجاتاہے یہ ایک پرفضا مقام ہے ، شیخ بدین 4700فٹ کی بلندی پر واقع ہے جو ایبٹ آباد اور بحرین )سوات )کی بلندی کے برابر ہے، اس لیے شیخ بدین کا موسم خوش گوار رہتا ہے،کے پی کے کے جنوبی اضلاع کے لیے یہ واحدتفریح گاہ ہے مگرسہولیات کے فقدان کی وجہ سے عوام کی توجہ اس طرف نہیں جاتی ،شیخ بدین کے مزیدفضائل سننے کے بعداسے دیکھنے کاشوق پیداہوامگروقت کی قلت آڑے آگئی اس دوران ہماری گاڑی جامعہ حلیمیہ میں داخل ہوئی توایک پرانی چارپائی پربراجمان درویش صفت ایم این اے مولانامحمدانورہمارے استقبال کے لیے کھڑے ہوگئے یوں اس چارپائی پرمولاناانورکی تصویربنانے کی حسرت پوری نہ ہوسکی ۔
 
مولانامحمدانورنے اپنے کمرے میں اپنے ہاتھوں سے جائے نمازبچھاکرہمارے لیے عصرکی نمازکااہتمام کیا نمازکے بعد انہو ں نے مدرسے کادورہ کرواتے ہوئے بتایاکہ ہرسال دوہزارکے قریب طلباء یہاں تعلیم حاصل کرتے ہیں مدرسے کے کمروں کی حالت دیکھ کرعلم دین حاصل کرنے والے طلباء پررشک آیانامساعدحالات میں جوطلباء یہاں تعلیم حاصل کرتے ہیں یقینا وہ دادوتحسین کے مستحق ہیں ،مولانامحمدانورگزشتہ 42سال سے اسی مدرسہ میں تدریس کررہے ہیں ،مدرسہ کامعاینہ کرنے کے بعد انہو ں نے اپنے نہایت سادہ حجرہ میں ہماری تواضع کااہتمام کیاتھا جہاں میری صحافتی حس پھڑکی توان سے تلخ وشیریں سوالات کیے جس کاانہو ں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ۔

مولاناانورکو2018کے الیکشن میں پہلی مرتبہ جے یوآئی کاٹکٹ ملااورتقریبا ایک لاکھ کے قریب ووٹ لے کرکامیاب ہوئے میں نے پوچھا کہ الیکشن پرآپ کے کتنے پیسے خرچ ہوئے تومولانابولے ایک روپیہ بھی نہیں ۔مولاناعبدالوکیل نے انہیں چھیڑتے ہوئے کہاکہ یہ پوچھیں کہ کتنے پیسے جمع ہوئے ؟،میں نے کہاکہ اب آپ دوتنخواہیں لیتے ہیں اتنے پیسوں کاکیاکرتے ہیں ؟ممبراسمبلی نے مسکراتے ہوئے جواب دیاکہ پہلے جب میں شہرکی طرف جاتاتھا توواپسی پرمیری جیب میں چھ سات ہزارروپے ہوتے تھے اب باہرجاتاہوں توجیب سے دے کرخالی ہاتھ واپس لوٹتاہوں ،مولانانہایت سادہ دل ہیں جائزسفارش بھی کرناگوارہ نہیں کرتے ،ایک دن پولیس نے ان کی گاڑی اٹھاکرتھانے میں بندکردی تواپنے ڈرائیورپرغصہ ہوئے کہ گاڑی غلط جگہ پرپارک کیوں کی ؟بہرحال انہیں مقامی جماعت اورساتھیوں سے تال میل بڑھاناہوگا تاکہ عوامی کام بھی ہوسکیں ممبرقومی اسمبلی بننے کے بعد بھی ان طبیعت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی وہ ابھی بھی اپنے آپ کومعلم بلکہ طالب علم کہنے پرفخرمحسوس کرتے ہیں ۔

یہ وہ درویش صفت علماء ہیں کہ جن کی وجہ سے خاص طورپرکے پی کے کے جنوبی اضلاع میں جمعیت علماء اسلام کاراج ہے اور مولانافضل الرحمن کاسکہ چلتاہے ،ان درویشوں کے آگے سرمایہ داراوربڑے بڑے خوانین بھی سرنگوں ہیں اﷲ نے انہیں علم وعمل کی دولت سے نوازاہے مغرب کی اذان کے ساتھ یہ خوبصورت محفل ختم ہوئی ،رات بسرکرنے کے بعد ہم انڈس ہائی وے کی بجائے عیسی خیل اورکالاباغ ڈیم کے راستے واپس ہوئے لکی مروت سے جوں ہی درہ تنگ کراس کیاتواچانک گاڑی پرسکون اندازمیں چلنے لگی شیشے سے باہردیکھا توپنچاب ہائی وے کا بورڈ آویزاں تھا جس پرشکریہ شہبازشریف کے الفاظ منہ سے نکلے اورپرسکون اندازمیں سفرکااختتام ہوا۔
رات تووقت کی پابندہے ڈھل جائے گی
دیکھنایہ ہے چراغوں کاسفرکتناہے ۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 89 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Umer Farooq

Read More Articles by Umer Farooq: 71 Articles with 14624 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: