گندگی، پاک ملک کو ناپاک ہونے سے بچائیں۔

(Syed Fawad Ali Shah, )

اگرآپ جنت میں پیدا ہوئے ہوں اور وہیں پر پلے بھڑے ہوں جہاں آپ کو ہر چیز کی تمیز کا خیال ہو تو پھراُس کے بعد آپ کو جنت سے اُٹھاکر ایک ایسی جگہ پر منتقل کر دیا جائے جہاں گندگی اور غلاظت ہر جگہ بکھری پڑی ہوتو آپ کے لیئے جینا مشکل ہو جائے گا ۔ کچھ ایسا ہی ہمارے ملک پاکستان میں ہوتا چلا آرہا ہے کہ ہماری عوام نے جگہ جگہ گندگی کے پہاڑ لگا دیئے ہیں ۔ ہر جگہ پلاسٹک کے تھیلے، کاغذ کے ٹکڑے اور دیگر گند گی بکھری پڑی رہتی ہے۔ حکومت یا کسی سوشل تنظیم کی جانب سے اگر گندگی پھینکنے کے لیئے کوڑے دان لگا بھی دیئے جائیں تو بھی ہماری عوام اُس کوڑے دان میں کوڑا نہیں پھینکے گی۔ پاکستان میں تعینات کنیڈا کی خاتون ہائی کمشنر Wendy Gilmour نے گزشتہ روز اپنے ٹوئیٹر پر اسلام آباد کے تفریخی مقامات کی چند تصاویر شیئر کیں جن میں اُنہوں نے لوگوں کی جانب سے جگہ جگہ پھینکے گئے کوڑے کے ڈھیروں کی نشاندہی کی ہے۔ جو ہمارے لیئے ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ ہم ایسے ملک میں رہتے ہیں جس کا مطلب پاک یعنی کہ صاف ہے مگر اُسے ہم نے گندہ کر دیا ہے۔ اگر کوئی مہمان آپ کے گھر آئے اور یہ کہے کہ آپ کا کچن ، کمرہ یا ٹوائلٹ گندہ پڑا ہے تو آپ پر کیا گزرے گی ؟ کنیڈہ کی ہائی کمشنر نے یہ تصاویر شیئر کرکے ہمیں بتایا کہ ہم کتنے لاپراہ لوگ ہیں کہ اپنے ملک یا گھر کو صاف تک نہیں رکھ سکتے۔ خاتون ہائی کمشنر نے اپنی ساری عمر میں ایسے گندگی کے ڈھیر نہیں دیکھے ہوں گے مگر پاکستان میں جب اُن کا سامنا گندگی کے اُن ڈھیروں سے پڑا تو وہ حیران ہوئی ہو گئی ۔ کیونکہ یہی پاکستانی عوام جو اپنے گھر کو صاف نہیں رکھتی اگر کسی دوسرے ملک چلی جائے تو اُن کو مجبوراً اپنا علاقہ صاف رکھنا پڑتا ہے کیونکہ اُ ن کو معلوم ہوتا ہے کہ اگر صفائی نہ کی تو ہمیں سزا دی جائے گی ۔ مگر اپنے پاک ملک میں جگہ جگہ گندگی پھیلا کر اُسے ناپاک کیا جا رہا ہے ۔ اس سے پہلے جرمنی کے سفارت کار Dr Jens Jokisch نے اپنے چھوٹے بیٹے کے ہمراہ جھاڑو ہاتھ میں لے کر اسلام آباد کے ایک مقام کی صفائی کی جس پر وہاں کے رہائشیوں یا سنٹرل ڈویلپمنٹ اتھارٹی سی ڈی اے والوں کو غیرت نہیں آئی کہ وہ اگلے دن سے وہ علاقہ صاف کریں۔جرمن سفارتکار Dr Jens Jokisch جب اگلے روز اُسی علاقے سے گزرا تو وہاں پھر سے اُنہیں گندگی پڑی ملی جس پر اُن کے منہ سے اُف نکلی اور پھر وہ سمجھ گئے کہ یہ قوم سمجھنے والی نہیں۔ سنگاپور میں اگر آپ سڑک پر تھوک پھینک دیں تو آپ کو بھاری جرمانہ یا جیل کی قید کاٹنا ہوگی جس کی وجہ سے سنگاپور کی سڑکیں اور گلیاں اتنی صاف ہیں کہ اُن میں آپ اپنا چہرہ تک دیکھ سکتے ہیں۔ جراثیم اور وباؤں کا ایسے ممالک میں سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اب پاکستانی عوام یہ سوچتی ہے کہ ہمیں کسی اچھے ملک کا ویزہ کیوں نہیں ملتا جس کی وجہ واضع ہے کہ ہم نے دوسرے ممالک میں خو د کو اتنا بدنام کر رکھا ہے کہ کوئی ملک ہم کو انٹری دینے کو تیار ہی نہیں۔ دوسرے ملک سے غیر ملکی سفارت کار پاکستان آکر پاکستان کی سیاحت اور ثقافت کو پروموٹ کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں مگر پاکستان کی اپنی عوام اپنے ملک کو ترقی کرتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتی ۔ ہمارا مذہب اسلام بھی یہی کہتا ہے کہ صفائی نصف ایمان ہے مگر ہماری عوام ایسے جملے ایک کان سے سن کر دوسر ے کان سے نکال دیتے ہیں۔ پاکستانی حکومت کو چاہیئے کہ وہ ایسا قانون پاس کرے کہ گندگی پھیلانے والے افراد کو چھ ماہ جیل یا بھاری جرمانہ ادا کرنا پڑے گا اور یہ اختیارات پولیس کو سونپے جائیں کہ وہ جگہ جگہ کوڑا پھینکنے والے افراد کو گرفتار کرکے اُنہیں سزا دلوائیں تو تب جاکر ہمارے ملک سے گندگی کا خاتمہ ممکن ہوسکتا ہے جس سے بیماریاں بھی کم ہوں گی۔ ایسی سزاؤں کے خوف سے کوئی شہری گندگی راستے میں پھنکنے سے پہلے ہزار بار سوچے گا کہ کئی اُس کو جیل کی ہوا نہ کھانی پڑ جائے ۔ ایسا تب ممکن ہے کہ جگہ جگہ سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے ایسے افراد کی نشاندہی کی جائے جو راستوں میں کوڑا کرکٹ پھیلانے کے عادی ہیں۔

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 131 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Syed Fawad Ali Shah

Read More Articles by Syed Fawad Ali Shah: 73 Articles with 33828 views »
i am a humble person... View More

Comments

آپ کی رائے
Language: