مذہبی میڈیا کی ضرورت نہیں!!!

(Muddasir Ahmed, India)

پچھلے کچھ دنوں سے ملک بھر میں زور دار بحث چل رہی ہے کہ اب تو ہندوستان میں مسلم میڈیا ہائوز کا قیام ہونا ہی چاہیے،ہندوستان میں جو فی الوقت میڈیا موجو دہے وہ مسلمانوںکی ترجمانی کرنے والوںمیں سے نہیں ہے اور نہ ہی مسلمانوںکے حق میں کام کرتا ہے،اس کے علاوہ ملک میں یہ فرقہ پرست میڈیا حکومت لانے میں کارگرہے۔یقیناً یہ بحث بے حد ضروری تھی اور ملک میں میڈیا ہائوز بنانا بھی ضروری ہے۔لیکن یہ میڈیا ہائوز کس نہج پر بنایا جائیگا یہ اہم سوال ہے۔کیونکہ جب بھی مسلم میڈیا ہائوز کی بات کی جاتی ہے تو یہ تاثر لایاجاتا ہے کہ اُس میڈیا ہائوزمیں جو دن کی شروعات ہو وہ تلاوت قرآن پاک سے کی جائے یا پھر حمد باری تعالیٰ سے،اسی طرح سے دن میں کچھ وقت دین کی بات کرنے کیلئے مختص کیاجائے۔اگر ایسی سوچ لیکر ٹی وی چینل بنانے کی بات کی جاتی ہے تو یقیناً ایسا چینل بنانے سے نہ بنا نا بہتر ہے،کیونکہ پہلے ہی ہمارے پا س ایسے کئی چینل ہیں جودین کی تبلیغ اور اسلام کی اشاعت کیلئے کمر بستہ ہیں،ہمارے پاس ایسے ہزاروں اخبارات،رسالے اور مجلے بھی موجودہیں جو دعوت دین کا کام کرتے آرہے ہیں،ایسے میں مزید میڈیا ہائوزکی ضرورت نہیں۔ہمیں اہلسنت والجماعت کے ٹی وی چینل کی بھی ضرورت نہیں،ہمیں تبلیغ جماعت کی تعلیمات عام کرنے کیلئے بھی ٹی وی چینل کی ضرورت نہیں،اہلحدیث وجماعت اسلامی کے پروگراموںکی نشریات کیلئے بھی میڈیا ہائوز کی ضرورت نہیں۔اگر آج کے دورمیں میڈیاہائوز بناناہو تو ہمیں ملک کے موجودہ مین اسٹریم میڈیاکے مقابلے میں میڈیا ہائوزبنانے کی ضرورت ہے جو اینٹھ کا جواب پتھر سے دے سکے،یا پھر کم ازکم اینٹھ کا جواب اینٹھ سے ہی دے سکے۔ہندوستان میں اگر واقعی مسلمانوں کو میڈیا ہائوز بنانے کیلئے آگے آنا ہے تو اس کیلئے بھی چاہیے کہ وہ سب سے پہلے یہ طئے کریں کہ جو میڈیا ہائوز بنایاجائے اس میں نہ مذہبی مداخلت ہونہ ہی سیاسی مداخلت،نہ علماء کے بیانات ہوں نہ ہی سیاستدانوںکے پلاٹ فارم کے طو رپراسے استعمال کیاجائے۔بلکہ جو حالات گودی میڈیانےبدتر بنائے ہیںاسے بہتر بنانے کیلئےاستعمال کیاجاسکے۔آج ہندوستان میں99 فیصدمیڈیا کسی خاص سیاسی پارٹی شخصیت اور آئیڈیالوجی کی ترجمانی کررہاہے۔اس آئیڈیالوجی کو ختم کرنے کیلئے میڈیا ہائوز بنایاجائے نہ کہ مسلمانوںکی تشہیر کیلئے اس کااستعمال کیاجائے۔بھارت میں ایک بڑا طبقہ جو اہل علم کہلاتا ہے وہ مسلمانوںکے درمیان باربار یہ کہتا رہاہے کہ اب مسلمانوں کو میڈیا ہائوزبنانے کی ضرورت ہے،ان اہل علم حضرات کے عقیدت مند اورحامیوں کا گروہ ان بیانات کو اس قدر عقیدت کے ساتھ سوشیل میڈیا میں شئیر کرتا ہے مانوکہ اس شیئر اور لائک کے درمیان ہی میڈیا ہائوز بن جائیگا۔ان حالات میں مسلمانوںکی ذمہ داری ہے کہ وہ میڈیا ہائوزبنانے کیلئے عملی طو رپر کام کریںنہ کہ لفظی بحث و مباحثوں پر یقین کریں۔سوچئے کہ جس طرح سے مسلمان مسجداور مدرسے کو عمل میں لانے کیلئے سنجیدگی سے مظاہرہ کرتا ہے اور اسے باعث سے ثواب مانتا ہے تو اسی طرح سے میڈیا کو جہاد کا ہتھیار بنا لے تو یہ ہتھیار مزید استفادہ پہنچانے والابن جائیگا۔اس لئے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ مسلم میڈیا بنائیں،لیکن مذہبی میڈیابنانے کیلئے پیش رفت نہ کریں۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 177 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muddasir Ahmed

Read More Articles by Muddasir Ahmed: 111 Articles with 30177 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: