اے یار من

(ماہ گل عابد, میرپور خاص سندھ)

وہ دونوں شام کے وقت سبز لان کے بیچوں بیچ بنی سیڑھیوں پر بیٹھے ہوئے تھے۔
اویس نے ماہی کو اپنے برابر میں بٹھا رکھا تھا۔
ایک ہاتھ اسکی کمر کے گرد لپیٹے اور دوسرے ہاتھ سے چائے کے سپ لیتے وہ اسکی آنکھوں میں دیکھے جا رہا تھا۔
سبزے کی ٹھنڈک کے بیچ سفید رنگ پہ محبت کی حدت ایک عجیب مگر مسحور کن منظر پیش کر رہی تھی۔ ہلکی ہلکی برستی بارش کی پھوار سے دونوں بھیگتے موسم کو انجوائے کرتے باتیں کررہے تھے۔“
خود پر پڑتی مسلسل اویس کی نظروں نے اُسے آنکھیں اٹھانے پر مجبور کر دیا گلابی آنکھیں سے پھوٹتی روشنی اویس کو جکڑے ہوئے تھیں ایسا لگ رہا تھا کہ اب کبھی بھی وہ ان آنکھوں کے حصار سے خود کو نکال نا پائے گا کیونکہ اسے عشق تھا ماہی سے اسکے چہرے پر پھیلتے قوس قزح کے ست رنگوں سے اسکے معصوم سے گلابی چہرے پر ڈھیروں رنگ پھیل چکے تھے۔“
” کاش یہ وقت یہیں تھم جائے
اور بس یونہی میں تمہیں دیکھتا رہوں“
اویس نے اپنی پرکشش آواز میں شعر سنایا تو ماہی شرم سے چہرہ جھکا گئی۔“
ہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔ ماہی جب تم یوں شرماتی ہوں تو ایک معصوم سی بچی لگتی ہو۔ اویس نے ہنستے ہوئے کہا۔“
یہ شرم و حیا تمہارے چہرے پر دیکھنے کے لیے ہمیشہ میرا دل کرتا ہے ایسے ہی تمہیں تنگ کرتا رہوں۔“
اچھا چلو بتاؤ اب کیا سوچ رہی ہو۔“ اویس نے اسکی گھبراہٹ کم کرتے ہوئے بات بدل دی کیونکہ وہ ایسی ہی تھی چھوٹی چھوٹی باتوں پر شرم سے سرخ ہوجاتی تھی۔“
کچھ نہیں کیا سوچنا
“ ماہی نے آہستہ سے جواب دیا۔“
یہ تو مجھے پتا ہے تم کچھ تو سوچ رہی ہو چلو بتاؤ۔“ اویس کو اسکا چہرہ دیکھتے اندازہ ہو گیا تھا کیوں کہ جب بھی کوئی بات ہوتی ماہی یونہی گھبرا جاتی تھی اور بات بولنے کے چکر میں سارا دن بوکھلائی ہی رہتی تھی۔“
میں کیوں بتاؤں میں تو ناراض ہوں ناں آپ سے۔“ ماہی نے منہ پُھلاتے ہوئے کہا اور چہرہ دوسری طرف موڑ لیا۔“
لو جی یہ اچھا ہے اتنی دیر سے میرے پاس بیٹھی ہوئی ہو اور مجھ سے اتنی ڈھیر ساری باتیں کر کے اب ناراض ہو گئی۔“ اویس نے حیرت سے ماہی کے چہرے کی طرف دیکھا جو کچھ دیر پہلے تک تو شرم سے لال ہورہا تھا اور اب پھر سے بس لڑنے کا موقع دیکھا نہیں تو اپنے جلالی روپ میں آ گئی۔“
اللہ۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!! اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!!
کیا کروں میں اس لڑکی کا کچھ پتا نہیں چلتا کب کس بات پہ ناراض ہوجاتی ہے۔“ اویس نے اپنے ماتھے پر ہاتھ مارتے ہوئے خود کو کوسا۔“
مجھے آئسکریم کھلانے نہیں لے کر گئے، شاپنگ پر بھی نہیں لے کر گئے، بائیک سکھانے کا کہا تھا وہ بھی نہیں سکھائی جبکہ وعدہ کیا تھا،
پر نہیں آپ صبح سے غائب ہوگئے شام میں آکر مجھ سے چائے بنواتے یہاں بٹھا لیا، پتا ہے پھر کہ ماہی اسطرح ناراض نہیں ہوگی ہمیشہ میرا ایسے ہی فائدہ اٹھایا ہے
اونہہ۔“
ماہی نے اُسکی چالاکی پکڑتے ہوئے بتایا تو اویس ماہی کی عقلندی پر ہنس پڑا۔
اب ہنس کیوں رہے ہیں۔
ماہی اویس کے ہنسنے پر چڑتے ہوئے بولی۔“
اویس جو کب سے اسکے شکوے سنتے پہلے حیرت سے پھر چہرے پر مسکراہٹ لیے سن رہا تھا ایک دم سے اسکی بات سن کر ہنس پڑا جو ہمیشہ سے ایسی بچوں جیسی باتیں اور حرکتیں کرتی تھی کہ اویس جیسے انسان کو مسکرانے پر مجبور کر دیتی تھی۔“
اویس نے ماہی کو کندھوں سے پکڑتے خود کے قریب کیا اور اسکے دونوں ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھوں میں پکڑے جو لڑتے لڑتے کھسک کر تھوڑا دور ہو گئی تھی۔“
ماہی بات سنو میری کٹ کیٹ۔“
اویس نے ماہی کا چہرہ اپنی طرف جو ناراضگی سے اب اداسی سے آنکھیں ایکدم بھر چکی تھیں۔“
یار ایک تو تم رویا نا کرو، پتا ہے
مجھے تمہارے رونے سے الجھن ہوتی ہے نہیں دیکھ سکتا میں تمہیں روتا ہوا۔ تمہیں پتا ہے میں تم سے کتنا پیار کرتا ہوں پھر بھی نا بھئی ہمیشہ میری الٹی باتیں ماننی ہیں سیدھی بات تو کوئی ماننی ہی نہیں ہے اس لڑکی نے۔“ اویس ںے اسکے چہرے پر بدلتے رنگ دیکھتے ہوئے کہا جو اشتیاق سے اسکی طرف دیکھ رہی تھی۔“
یار تھوڑا بزی ہوگیا تھا ناں میں کام میں اب تم مجھے معاف نہیں کرو گی کیا۔“ اویس نے معصوم سی شکل بناتے کہا۔“
نا ! بالکل نہیں میں معاف کرنے والی آپ ہمیشہ ایسے ہی کرتے ہیں وعدہ کرکے پھر سے مُکر جاتے ہیں۔“ آج ماہی نے بھی اسکی نا ماننے کی قسم کھا رکھی تھی۔“
اچھا پھر بتاؤ اب کیسے مانو گی تم۔“
چلیں پھر جلدی سے کان پکڑیں اور اٹھک بیھٹک کریں۔“
کیاااااا۔۔۔۔۔“ اویس ماہی کی بات سنتے چیخ پڑا جو اب خونخوار نظروں سے دیکھ رہی تھی۔“
اچھا اچھا اب ایسے مت دیکھو کر رہا ہوں۔“ اویس نے کہتے ساتھ ہی ماہی کے کان پکڑے اور اسے کھڑا کرتے اٹھک بیھٹک شروع کر دی۔“
یہ یہ کیا کر رہے ہیں آپ“ میں نے آپکو کہا ہے ، نا کہ آپ اپنے ساتھ مجھے بھی کروانے لگے۔“ماہی نے بوکھلاتے ہوئے کہا جس کا دو تین بار کرتے ہی اوپر نیچے بیھٹتے سانس پُھول چکی تھی “
تم بھی تو میری ہی ہو پھر کیوں نا ساتھ میں کریں۔“ اویس نے اسکے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے شرارت سے کہا۔“
اونہہ۔“ مطلب غلطی بھی خود کریں اور سزا دونوں ساتھ میں ،
یہ اچھا نہیں کر رہے میں بتارہی ہوں میں نے کسی دن پکے والا ناراض ہوجانا ہے پھر بیٹھے مناتے رہئے گا۔“ماہی نے اسے دھمکاتے ہوئے کہا۔“
ہاہاہاہاہاہاہاہا !!!! چڑیل ناں دھمکایا تمہاری یہ دھمکی مجھ پر اثرانداز نہیں ہونے والی کیونکہ مجھے پتا ہے تم مجھ سے کبھی بھی ناراض نہیں ہوسکتی۔“ اویس نے اسکی سرخ پڑتی ناک کو ہلکے سے دباتے ہوئے کہا۔“
ماہی نے پاس پڑا پانی کا گلاس اٹھاتے اویس کے اوپر پھینکا اور خود بھاگ کر دور کھڑی ہنسنے لگی۔“
ماہی۔۔۔“ قتل ہوجانا ہے تم نے میرے ہاتھوں
یہ کیا کیا ہے۔“ اویس نے غصے سے دیکھتے ہوئے کہا۔“
یہ آپکی سزا ہے اپنا وعدہ پورا نا کرنے پر اور پھر سزا سنتے مجھے بھی ساتھ میں گھیسٹ لیتے ہیں آپ۔۔“ ماہی نے ہنستے ہوئے شرارتی لہجے میں کہا۔“
رکو تم اب بچ کے دکھاؤ مجھ سے۔“ اویس بھی ماہی کے پیچھے اسے پکڑنے کھڑا ہوا تو ماہی کھلکھلاتے ہوئے چیختے بھاگ نکلی اور پھر پورے لان میں ان دونوں کی ہنسی کی گونج یونہی بکھیر گئی۔“
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 398 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: ماہ گل عابد

Read More Articles by ماہ گل عابد: 6 Articles with 2789 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: