دل تتلی بن اُڑا - قسط نمبر 8

(Saima Munir, Nankanasahib)

رضیہ اسکی طرف دیکھتی رہی وہ گاڑی میں بیٹھا اور چلا گیا۔اسے خیال آیا جب اسامہ اسے فون پر کہہ رہا تھا آج شام "یوم پاکستان" کا ڈنر میری طرف سے اس نے آنکھیں بند کرکے کھولیں لعاب حلق سے اتار کر بولی"اسامہ ڈنر کا انتظام کر لو" لمبی سانس بھری پھر آنکھیں بند کیں منہ میں کلمہ طیبہ پڑھنے لگی۔ اسکے ہونٹوں پر کپکپاہٹ اور آواز میں لرزش تھی۔
گولی چلی تو اسکی آنکھیں کھل گئیں۔اپنے آپکو دونوں ہاتھوں سے ٹٹولا پھر بوکھلاہٹ میں ارد گرد دیکھا،کراہنے کی آواز سنی زمین پر نظر پڑی تو سلیمان لہو لہان زمین پر اوندھے منہ پڑا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ایک کے بعد ایک لائٹ ٹوٹنے لگی۔ گولی چلتی اور روشنی گل ہوجاتی۔ زور سے چیخی اتنے میں کراس فائرنگ اسٹارٹ ہوگی۔۔۔۔۔ بیٹھ گئی۔ گولیوں کی تڑتڑاہٹ میں وہ دبک کر میز کے پیچھے چھپ گئی جس پر ریشمی سرخ رنگ کا ٹکرا زمین تک لٹک رہا تھا۔ کافی دیر بعد فائرنگ رکی تو اگلے لمحے بوٹوں کی زور دار آواز سنائی دی۔ کافی اندھیرا چھا چکا تھا اسنے وہاں سے کسکسنے کا ارادہ کر لیا۔ وہ بیٹھ بیٹھ کر آہستہ آہستہ گیٹ کی طرف بڑھنے لگی اچانک سے آواز آئی سلیمان لائٹس آن کرواو۔ جونہی یہ آواز رضیہ کے کانوں میں پڑی وہ خوف زدہ ہو کر بھاگ نکلی۔ آواز آئی کون ہے؟ رشید دیکھ گیٹ کی طرف کون بھاگ رہا ہے۔ رضیہ نے آو دیکھا نہ تاو بس بھاگتی رہی اور گیٹ سے باہر نکل گئی۔۔۔۔۔رشید بھی اس تک پہنچ گیا۔ دونوں کے درمیان فاصلہ تین چار قدموں کا ہی تھا باہر نکلتے ہی بولا لڑکی رک جا ورنہ گولی مار دوں گا۔ رضیہ کی سانس پھولی ہوئی تھی۔اس نے رک کر لمبی سانس بھری___اس بار نہیں بچوں گی۔رشید نے پستول نکال کر لوڈ کیا____ٹھا کی آواز آئی رشید زمین پر گر گیا_____رضیہ زور سے چیخی قریب ہی چھوٹی تنگ سی اندھیری گلی کی طرف بھاگ گئی۔ رشید کے دو ساتھی اندر سے آئے "رشید کون تھا؟ اندھیرا چھا رہا تھا۔تمام چیزیں سائے کی طرح نظر آ رہی تھیں جب رشید نہ بولا تو ان میں سے ایک نے جیب سے ماچس نکال کر جلائی اسکی روشنی رشید پر پڑی تو وہ پریشانی کی حالت میں ماچس کی جلتی سٹک کو بھول گیا جب آگ کی تپش اسکی انگلیوں پر پری تو چونک کر اٹھا انگوٹھے اور انگلی کی گرفت ڈھیلی کر دی۔ ننھا سا انگارہ زمین پر گرنے سے پہلے ہی گل ہو گیا۔ چلو ڈھونڈتے ہیں کون تھا ادھر۔ رضیہ جو سارا منظر دیکھ رہی تھی یہ سب دیکھ کر اسکی چیخ نکل گئی دونوں ہاتھ منہ پر رکھ کر بولی" زندگی تو بچا رہی ہے یا ترسا رہی ہے"
ایک بولا تم نے آواز سنی؟دوسرا ہاں کسی عورت کی چیخ لگتی ہے۔ چل پہلے اسے دیکھتے ہیں ۔ اسے لگا جیسے کوئی اسکا تعقب کر رہا ہو وہ رک کر دیوار کے ساتھ لگ گئی۔ آہستہ آہستہ آگے بڑھنے لگی مگر گلی آگے سے بند تھی۔ اسکی سانسیں گھٹ رہی تھیں ۔ اچانک سے اسے قدموں کی آہٹ سنائی دی جیسے جیسے آہٹ تیز ہوتی جارہی تھی رضیہ کی سانس لینے کی رفتار بھی بڑھنے لگی۔۔۔۔
______
دروازہ کھٹکا۔۔۔۔ایک بار دو بار تین بار۔۔۔۔۔ سویرا بالکونی سے بھاگتے ہوئے آئی۔ پوچھا کون؟ باہر سے آواز آئی بیٹی دروازہ کھول!! جلدی سے دروازہ کھولا گلے ملی آو دارو خالہ" ہاتھ میں پکڑا تھیلا اسے تھماتے ہوئے۔۔بہت گرمی ہے مجھے دو گھونٹ پانی لادے۔ سویرا" ابھی لاٹی ہوں خالہ"کچن میں چلی گئی۔ دارو" ارے وہ چھوٹی کہاں ہے؟ تیرا ابا نظر نہیں آیا مجھے، گاڑی تو باہر کھڑی ہے۔ سویرا" پانی دارو کو پکڑاتے ہوئے۔ ابو سوگئے ٹھے اور ٹنزیلہ سہیلی کی بہن کی شاڈی پر گئی ہے۔
دارو دو گھونٹ حلق سے اتارے پھر بیل کس نے بند کی؟ سویرا" وہ خالہ بچے آج صبح سے ٹنگ کر رہے ٹھے میں نے ٹھک ہار کے آف ہی کر دی۔
دارو: باقی ماندہ پانی پیا۔۔۔۔۔۔۔لو بیٹی!
سالن نکال لے اور میری بیٹی جاو جلدی سے روٹی ڈال دو۔۔۔۔۔۔!
سویرا"اچھا خالہ ابھی لائی۔۔۔!
دارو:جا میری بیٹی۔۔۔۔۔پچھلے ہفتے آ نہیں سکی۔
سویرا کچن کی طرف ہولی۔ دارو"ہاسٹل کی پاپڑی نما چپاتی میری انتڑیوں میں چھپبتی ہے۔
اتنے میں صابر آنکھیں ملتے ہوئے۔ سلام کیا اور ساتھ ہی بولا:" دارو بہن تم کیسے راستہ بھول گئی۔ دارو:سلام کا جواب دیا"صابر بھائی میں یہاں تم سے دو ٹوک بات کرنے آئی ہوں" صابر:ادھر ادھر دیکھ کر بھاگتے ہوئے دارو کے پاس آگیا " بہن کیا ہوا۔۔۔۔سب ٹھیک تو ہے۔۔۔ رضیہ کیسی ہے؟
دارو" نے گلاس میز پر رکھا اور کھڑی ہوگئی۔ مجھے لگتا ہے تمہاری نیت خراب ہے۔۔۔۔اب تجھ پر اور اعتبار نہیں کر سکتی۔ صابر" دیکھو دارو بہن شیلو کو اگر بھنک بھی پڑ گئی تو وہ طوفان برپا کردے گی" پریشانی کے عالم میں بال نوچنے لگا
دارو "اب بس۔۔۔۔۔ایک بیٹی کو ماں سے دور رکھنے کا اور حوصلہ نہیں ہے" رضیہ کا تم پر اس گھر پر اتنا ہی حق ہے جتنا تنزیلہ اور سویرا کا شیلو۔۔۔۔!
صابر:ہاتھ جوڑتےہوئے"وہ میں اسے کہہ چکا ہوں رضیہ اس دنیا میں نہیں ہے"
دارو کاپنتے ہوئے ہاتھوں سے اسکا گریبان پکڑ کر" خود غرض انسان تمہاری بیٹیوں کی زندگی سنوارنے کے لیے رضیہ کو شیلو سے دور کیا۔۔۔۔صابر کو جھنجھوڑنے لگی؛ اگر میں رضیہ کے بارے تب جھوٹ نہ بولتی تو وہ کبھی تم سے شادی نہ کرتی۔۔۔کبھی نہیں ۔۔۔۔کبھی نہیں! دارو چلی گئی۔ سویر ساری باتیں سن چکی تھی۔ ہاتھ میں پکڑی ٹرے لے کر واپس کچن میں چلی گئی"ڑجی ہماڑی بہن۔۔! ٹرے شیلف پر رکھ دی
۔۔۔۔۔۔

جونہی اچانک ایک سایہ عین رضیہ کے برابر آیا تو وہ چیخی مگر اس سے پہلے کہ زور سے چیختی اسکے منہ پر کسی نے ہاتھ رکھ لیا وہ سہم گئی۔۔۔۔۔
"میرا نام شبیر ہے" میں یہاں کام سے آیا تھا مگر تمہاری جان خطرے میں دیکھی تو مدد کرے بنا رہ نہیں پایا۔ اس کے منہ سے آہستہ آہستہ ہاتھ ہٹاتے ہوئے۔۔۔۔۔۔پلیز! اب چیخنا مت۔ رضیہ"تم کون ہو اور مجھے کیوں بچا رہے ہو؟ شبیر:شش شش۔۔۔۔۔آہستہ بولو میں انسانیت کے ناطے تمہاری مدد کی ہے۔۔۔!!
وہ خاموشی سے گھپ اندھیرے میں انسان کے سایہ نما کالے بت کو دیکھتی رہی۔ شبیر:سنو یہ دیوار سات فٹ اونچی ہے میرے کندھوں پر پاوں رکھ کر اس پر چڑھو۔ رضیہ بنا کسی سہارے کے اوپر چڑھ گئی۔ شبیر: بہت خوب۔۔۔۔اوپر چڑھ کر دھیان سے یہاں کتا بھی ہے ہمیں کچھ سیکنڈز کے اندر اندر یہاں سے کود کر وہ اگلی دیوار پر چڑھنا ہے۔ رضیہ: کیا کتا؟ نہیں مجھے بہت ڈر لگتا ہے۔
شبیر: شش۔۔۔۔ہونٹوں پر اگلی رکھی۔
رضیہ نے صاف انکار کر دیا اور واپس کودنا چاہا تو پیچھے سے گاڑی کی ہیڈ لائٹس کی روشنی سے پیدل چلتے انسانوں کے سایے نظر آئے۔ شبیر نے اسکا بازو پکڑا اور اندر چھلانگ لگا دی رضیہ کے پاوں میں موچ آ گئی۔ رضیہ درد برداشت نہ کر سکی اسکی چیخ نکلنے لگی تو فورا سے اسے کتے کا خیال آیا دونوں ہاتھوں سے منہ بند کیا پھر پاوں پکڑ کر بیٹھ گئی گھر میں تقریبا تمام لائٹس آن تھی چھلانگ کی آواز سن کر کتا بھونکا مگر نظر نہیں آیا۔ شبیر نے رضیہ کو بازو سے پکڑ کر کھڑا کیا اور سامنے والی دیوار کے پاس لے گیا۔ اسنے دیوار پر چڑھنے کی کوشش کی مگر پاوں کی تکلیف نے ہمت نہ کرنے دی۔اتنے میں کتا کمرے سے نکلا اور ان کی طرف دوڑا۔ رضیہ "اف اللہ اب یہ نہیں چھوڑے گا" شبیر نے جمپ لگایا اور دیوار پر چڑھ گیا۔ رضیہ نے کوشش کی مگر وہ نہیں چڑھ پائی اس سے پہلے کتا رضیہ کی ٹانگ پکڑتا شبیر نے اسے پلک جپکتے ہی بازو سے پکڑ کر اوپر کھینچ لیا۔۔ کتے نے دیوار کے اس طرف اچھل اچھل کر بھونکنا شروع کر دیا۔ اندر سے ایک بڑھیا بولی "ٹونی۔۔۔۔۔ ٹونی کون ہے۔شبیر نے دیوار سے کود کر رضیہ کو کندھوں کے سہارے اتارا۔۔۔۔وہ زمین پر بیٹھ گئی" کتا بہت زیادہ شور مچانے لگا۔ شبیر "اب یہ پکڑوائے گا"
رضیہ"میں نہیں چل سکتی بہت درد ہے" شبیر "دیکھو میں تمہیں ایسے مرنے نہیں دوں گا! رضیہ"کیوں؟ وہ اسے کھا جانے والی نظروں سے گھوری" کہیں تم مجھے پٹا تو نہیں رہے"
شبیر: ہاتھ آگے کرتے ہوئے اب چلو۔۔فی حال تمہاری مجبوری ہے۔ ویسے دانشمند رپورٹر ہو۔۔۔!
رضیہ" حیرت ہے!؟ سر سے لے کر پاوں تک سر سری سی نگاہ ڈالی اور اسکے ہاتھ کو تھام کر اٹھی، کندھے کا سہارا لے کر اسکے ساتھ چلنے لگی۔ تم یہیں کے ہو کیا؟ شبیر" نہیں"
رضیہ:اچھا ویسے میں حیران ہوں تمہیں کیسے پتہ چلا کہ یہاں بڑھیا کا گھر ہے اور اسکا ایک عدد خونخوار کتا بھی ہے؟
شبیر :ان کے گھر کے ساتھ سکول بھی ہے۔
رضیہ:او اچھا تو تم بچپن میں اسی سکول سے بھاگنے کی پریکٹس کرتے رہے ہو۔ وہ قہقہہ لگا کر بچگانہ انداز سے ہنسی۔ کچھ دوری پر موجود مین بازار سے گاڑی کے ہیڈ لائٹس کی روشنی چمکی۔ رضیہ چیخی سنو یہ تو محنت پور ہے۔ شبیر گاڑی دیکھ کر " او نو۔۔۔اب کیا ہوگا!
رضیہ :یہ تو میرا علاقہ ہے۔
شبیر نے اسکا ہاتھ پکڑا اور تمام گھروں سے پیچھے ہٹ کر بنے گھر کے دروزے کے پاس اسے بیٹھا دیا۔ دروازے کے دائیں بائیں اطراف 4 فٹ کی دیوار بنی تھی۔
رضیہ "تمہیں سنا نہیں میں کہہ رہی ہوں میں یہیں کی ہوں۔ وہ اٹھنے کی کوشش میں دروازے سے ٹکرا گئی۔
شبیر "بات سنو اسوقت تم ایک مغوی لڑکی ہو۔۔۔۔بس! یہاں چپ کر کے بیٹھو۔۔۔۔۔اچانک پیچھے سے بھی تیز روشنی بازار میں چمکی وہ جب دائیں طرف مڑا تو ایک گاڑی ادھر سے آرہی تھی۔ اسنے پیچھے منہ موڑا سٹریٹ لائٹ کی روشنی سے رضیہ کی ناک اور ایک آنکھ نظر دکھائی دی اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر انگلی اٹھائی۔۔۔۔میری بات غور سے سنو میں ان کا دھیان بٹاوں گا۔ تم نے یہاں سے کسک جانا ہے۔ رضیہ:میرا پاوں۔۔۔ نہیں چل پاوں گی۔شبیر:اچھا پھر ادھر سے ہلنا مت____بس نام کا ہے تمہارا علاقہ۔۔۔۔۔۔وہ اٹھنے لگا تو دروازہ کھل گیا۔۔۔ایک بڑھیا نے رضیہ کا بازو پکڑ کر اسے اندر کھینچ لیا بولی بیٹا اندر آجاو شبیر نے اندر جاکر دروازہ بند کرلیا۔اسنے ان دونوں کو آگے آنے کا کہا۔ گھر میں داخل ہوتے ہی جب روشنی پڑی تو رضیہ بولی۔۔۔۔زرینہ آنٹی آپ؟؟ زرینہ"ارے بیٹی تم!؟ اس نے رضیہ کو سینے سے لگایا۔ شبیر کی طرف دیکھتے ہوئے یہ تمہارا۔۔۔۔۔! اسے پہلے کہ زرینہ کچھ بولتی رضیہ بولی "گھر والا ہے نہ منگیتر۔۔۔۔۔بس محسن ہے"
شبیر"آپ دونوں تو جانتی ہو ایک دوسری کو مجھے اب چلنا چاہیے۔اللہ حافظ ماں جی۔۔۔۔۔!
زرینہ"بیٹا باہر خطرہ ہے"
شبیر"رک نہیں سکتا ماں جی اس لڑکی کی وجہ سے چھپنا پڑا، بہت ضروری کام کرنا ہے" زرینہ پر زور اصرار سے انہیں اندر لے گئی۔
زرینہ رضیہ کے پاوں کو پکڑ کر زمین پر
بیٹھی زرو سے مڑوڑا تو اسکی چیخ نکل گئی اسکے سر پر ہاتھ پھیر کر بیٹی موچ نکل گئی۔پٹی باندھتے ہوئے کل تک دوڑنے لگو گی۔
زرینہ چائے لائی شبیر چائے پی کر اٹھ کھڑا ہوا۔ زرینہ شبیر کی طرف دیکھتے ہوئے"تم لوگوں کے آنے سے کسی اپنے کی خوشبو محسوس کر رہی ہوں"
شبیر"جو باہر کی طرف رخ کر کے کھڑا تھا جلدی سے پیچھے مڑا اسکی نظر سیدھی ٹیبل پر پڑی۔۔۔۔۔شبیر چونکتے ہوئے گڑیا!؟ وہ بڑبڑایا اجلت میں چل کر میز کے پاس گیا۔ گڑیا کی تصویر دیکھ کر دنگ سا رہ گیا۔
زرینہ کی نظر چائے کی ٹرے اٹھاتے ہوئے شبیر پر پڑی تو ٹرے رکھ کر اسکی طرف گئی۔ کیا دیکھ رہے ہو؟
شبیر: جھٹ سے تصویر میز پر رکھ کر ہاتھ ملتے ہوئے بولا اماں آپ بچپن میں بہت خوبصورت تھیں۔
زرینہ کی آنکھوں سے نکلے آنسوں چہرے پر پڑی جھریوں کے اوپر سے اٹک اٹک کر گرنے لگے۔شبیر" اماں معافی چاہتا ہوں لگتا ہے زیادہ بول دیا"زرینہ نے ہتھیلی سے آنسوں پونجھے پاس ہی پڑی کرسی پر بیٹھ گئی۔ شبیر اسکے قدموں میں بیٹھ گیا وہ اسکو ایسے دیکھ رہا تھا جیسے کوئی کیمرہ مین کسی منظر کو کیمرے میں فلما رہا ہو۔کندھے پر تھپکی دی شبیر کے چہرے کو دیکھتے ہوئے بولی"پوچھنا چاہتے ہو نا کہ یہ کون ہے؟ شبیر زبان سے تو کچھ نہ کہہ سکا مگر اثبات میں سر ہلایا۔
بیٹی ہے میری۔۔۔۔بلکہ تھی۔ خالی آنکھوں سے اسکی طرف دیکھا۔۔۔۔شبیر اماں مجھے معاف کردیں مجھے نہیں پتہ تھا۔ اتنے میں دروازے پر زور دار دستک ہوئی۔ وہ تینوں اٹھکر کھڑے ہوگئے۔ زرینہ:مجھے لگتا ہے انہیں شک ہو گیا تم دونوں یہیں کہیں چھپے ہوں گے۔میں دروازہ کھول دوں ورنہ انکا شک پختہ ہو جائے گا۔
رضیہ اٹھ کر آگے بڑھی زرینہ آنٹی آپ نہیں جائیں۔۔۔۔۔۔میں چھت سے بھاگ جاوں گی۔
زرینہ: یہ مہمان نوازی کے اصولوں کے منافی ہے ویسے بھی بیٹی میں نے تمہیں پناہ دی ہے۔۔۔۔اور تمہارا پاؤں بھی تو درد کر رہا ہے۔ نہیں تم ذرا آرام سے بیٹھو۔
رضیہ نے چلنا شروع کیا یہ دیکھئیے اب سہی ہوگیا میں چل سکتی ہوں۔دروازہ پھر زور سے کھٹکا۔۔۔۔! شبیر اماں آپ اسے روکیں میں دیکھتا ہوں۔اپنی جیب سے عطر نکال کر اچھی طرح سے لگا کر دروازے کی طرف چل دیا۔زرینہ:بیٹا وہ تو ٹھیک مگر تمہارا جانا بھی خطرے سے خالی نہیں۔ شبیر دروازے کے پاس جاکر کھولتے کھولتے رک گیا۔ زرینہ آگے بڑھی آواز دی کون ہے؟ آواز آئی ہم یہ ساتھ والی گلی سے ہیں۔ زرینہ:کیا ہے؟
آواز آئی اماں جلدی دروازہ کھولو۔
شبیر پھرتی سے پیچھے ہٹ گیا زرینہ نے واپس مڑ کر اسکے چھپنے کی تسلی پر دروازہ کھول دیا۔ دو آدمی کھڑے تھے ایک آگے بڑھنے لگا تو دوسرے نے اسے ہاتھ پکڑ کر روک لیا۔دھیمے لہجہ میں بولا:سلام قبول کیجئے اماں جاں!
زرینہ:وعلیکم سلام! کیا مسئلہ ہے۔
اسکا بایاں ہاتھ پیچھے کر کے دروازہ کھولا اور گھر میں جانکتے ہوئے۔اماں ایک چورنی پھر رہی ہے۔ پناہ مانگ کر معصوم لوگوں کو بےوقوف بنا رہی"یہ میرا نمبر لے لو" بورے رنگ کا کارڈ اسے تھما دیا "اگر کوئی عورت مطلب لڑکی نظر آئے تو فورا مجھے اطلاع دینا۔
زرینہ جو کہ چپ چاپ اسکی باتیں سن رہی تھی۔سر ہلایا______پھر وہ چلے گئے۔دروازہ بند کر کے ہاتھ صاف کرتے ہوئے آئے بڑے پولیس والے۔زرینہ واپس مڑی شبیر اسکے پیچھے کھڑا تھا۔
____
یہ تم نے کیا کیا 'نبیل' تلاشی نہیں لینی تھی کیا؟ نبیل:بکواس بند کرو تیمور اماں نے مجھے ہی نہیں پورے محنت پور کے بچوں کو قرآن پڑھایا ہے۔ تیمور: بانچھیں بیچتے ہوئے اسکے ساتھ ساتھ چلنے لگا
____€
شبیر نے جب رضیہ کے کمرے میں ہونے کی تسلی کی۔ اپنی جیب سے کچھ کاغذات نکالے اور زرینہ کی طرف بڑھائے اماں یہ میری امانت سنبھال لو۔زرینہ نے مسکراتے چہرے سے وہ کاغذات تھامے کیوں نہیں بیٹا۔۔۔۔اتنا بولی تھی کہ اسکی نظر شبیر کے سروس کارڈ پر پڑی۔۔۔۔۔بیٹا تم سرکاری۔۔۔شبیر نے ہاتھ باندھ کر اس راز کو راز رکھنے کی استدعا کی اور کچھ دیر بعد وہ بھی چلا گیا۔
گھر سے نکلا تو ہوائی فائرنگ ہونے لگی۔ زرینہ خوف کے مارنے کانپنے لگی۔ اب کیا ہوگا۔ رضیہ:یہ تو معمول کی بات ہے۔
زرینہ:پتہ نہیں کیوں کوئی نہیں روکتا ان کو۔
رضیہ:لونڈیا اپنے مالک کو کیسے روک سکتی ہے!! "
زرینہ:دونوں ہاتھ اٹھا کر یااللہ اس بچے کی حفاظت فرمانا۔
۔۔۔۔۔۔

سیوریج لائن کے ہول کا ڈھکن غائب تھا شبیر نے وہاں بیٹھ کر پستول نکالا اور بازو پر گولی مار لی۔پستول کھلے ہول میں پھینک دیا۔ بازور سے نکلنے والا خون بھی ہول میں گرنے لگا اس نے آستین پھاڑ کر اس سے زخم باندھا اور شاداب کے ڈیرے کی طرف چل دیا کچھ دور پہنچا تھا کہ تین آدمیوں نے اسے روکا اور کہا ہاتھ اوپر کرو۔۔۔کون ہو تم؟۔ہاتھ اوپر کیے سلیمان بھائی سلیمان۔۔۔۔اور زمین پر گر گیا۔ ایک بیٹھا اور بولا یہ تو بے ہوش ہوگیا ہے۔ وہ اسے کر لےگئے۔ شاداب بہت غصے میں تھا۔ سر لڑکا ملا ہے مگر زخمی ہے۔ کون ہے یہ؟ ہاتھ باندھے کھڑا ایک ملازم بتانے لگا تو فضلو آگیا شاداب نے اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔ فضلو" سر 5 لاشوں میں سے ایک سلیمان کی ہے"شاداب نے ٹیبل پرپڑے پانی سے بھرے جگ اور گلاس کو نیچے پھینک دیا۔ بولا" دلدار کو فون لگا" پاس کھڑے آدمی نے فون ملا کر دیا۔ شاداب "ہیلو" دلدار "جناب میری اطلاع کے مطابق کوئی گینگ ملوث نہیں وہ آپ کا بڑا مخالف گروپ "وہی مرچی گروپ" وہ بھی صوبے میں نہیں ہے"شاداب" دلدار مجھے کل کا سورج طلوع ہونے سے پہلے سراغ چاہیے!
دلدار" اوکے جناب"

شادب پھر سے ملازم کی طرف متوجہ ہوا۔وہ بولا "سر ہمیں نہیں معلوم" شاداب "ڈاکٹر سے کہو اسے دیکھے جونہی ہوش میں آئے تو مجھے بتانا"
اتنے میں پولیس آگئی۔آفیسر نے تمام لاشوں کو دیکھا۔ بولا ناصر قانونی کاروئی مکمل کرکے انہیں ہسپتال منتقل کرواو۔ شاداب سے سلام لیا اور ایس ایس پی کھڑا ہوگیا۔
شاداب نے ہاتھ بلند کیا اور کہا جنید تم جاو کل آنا۔ ایس ایس پی "جو حکم سرکار" ہاتھ باندھتے ہوئے واپس چلا گیا۔
شاداب چیختے ہوئے فضلو "اس لڑکے کے علاوہ سب زخمیوں کو ہسپتال بھیج دے۔ شاداب "منگل خان کہاں ہے" فضلو"سر وہ آج صبح ہی چھٹی پر گیا ہے"
شاداب فضلو کی طرف دیکھتے ہوئے "دلدار کو اسکا بتاو"
ڈاکٹر آیا "لڑکے کو ہوش آگئی ہے" شاداب "اجلت میں اٹھا اور اندر چلا گیا شبیر نے قدموں کی چاپ سنی تو منہ میں کچھ پڑھنے لگا۔ شاداب نے جاتے ہی اسے ٹھوکر جڑدی وہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔ بازو پکڑ لی اور اونگا۔
کون ہو یہاں کیوں آئے ہو؟
شبیر "مسافر ہوں منزل کی تلاش میں بھٹک رہا ہوں۔ سلیمان بھائی نے بلایا تھا۔رستے میں ایک شخص سے انکا پتہ پوچھ بیٹھا تو اس نے گولی ہی مار دی۔گزارشانہ لہجہ کرتے ہوئے سر مجھے سلیمان بھائی سے ملاوادیں۔ آپکی بہت مہربانی ہوگی۔شاداب "ملاواتے ہیں ابھی تم آرام کرو۔ اٹھ کر باہر چلا گیا۔ ڈاکٹر گولی کہاں ہے؟ ڈاکٹر نے پلاسٹک بیگ میں بند گولی اوپر اٹھائی۔ شاداب"ھمھم "فضلو جب تک ڈاکٹر سلیمان کو لگی گولی کا معائنہ نہیں کرلیتے اس لڑکے پر نظر رکھنا۔ اور ہاں کیا ملا تلاشی میں؟
فضلو۔۔۔شناختی کارڈ اور فون جس میں ایک ماں کا نمبر سیو ہے اور دو خواتین کے بس۔
شاداب "اب دفعہ ہوجاو!
-------
زمرد:گھر پہنچا تو سیدھا اپنے روم کی طرف بھاگا۔
سرخاب بالکونی میں کھڑی تھی اسکے بازو پر خون دیکھا تو تڑپ اٹھی۔ اور اسکے کمرے میں چلی گئی۔اسکا بازو پکڑ کر کیا ہوا؟ زمرد پہلے بنا کچھ بولے اسکی طرف دیکھ کر مسکرانے لگا اور بولا؛اتنی تڑپ؟سرخاب:نظرین پھیرتے ہوئے تم زمرد کے دوست ہو اس لیے فکر ہوگئی۔ زمرد" اگر میں تمہارا زمرد ہوتا تو تب کتنا تڑپتی؟" فون کی بیل بجی زمرد نے فون اتھایا تو بے دھیانی میں اسکی انگلی اوپن اسپیکر کے آپشن پر لگ گئی۔ آواز آئی:ہیلو! مسٹر علی۔۔۔ اس نے فورا سے لاوڈ اسپییکر آف کیا سرخاب پر نظر جمائے بولا "یس"
سرخاب:جھٹکے سے اسکا بازو چھوڑ کر دوقدم پیچھے ہٹی اور بھاگ کر کمرے سے باہر نکل گئی "اف:مجھے کیا ہوگیا تھا" میرا دل کہتا یا شاید چاہتا ہے تم زمرد ہو۔ میں کیوں نہیں سمجھ رہی حقیقت اسکے برعکس ہے۔ وہ سیڑھیوں سے اترنے لگی۔
شبنم چھپ کر اسے دیکھ رہی تھی۔ فون کان کو لگایا اور کمرے میں چلی گئی۔
سرخاب کی نظر سامنے دروازے پر پڑی تو زور سے چلائی ثاقب چاچو۔۔!! دوڑ کر اس کے گلے لگ گی۔ ثاقب نے اپنے بازو کے حصار میں لیتے ہوئے کیسی ہے میری گڑیا؟ سرخاب: بلکل ٹھیک!
ثاقب:گڈ اور ممی کہاں ہیں؟
سرخاب: مما،بابا کمرے میں
ثاقب کمرے کی طرف بڑھا تو سرخاب آہستگی سے کان میں بولی چاچو پہلے اوپر درشن کروا آئیں ورنہ آپ کی شامت آجائے گی۔
ثاقب:رکا سرخاب کا کان پکڑ کر بولا بیٹا"آپکا چاچو شیر بن گیا ہے 'شیر' "مکا بنا کر بازو کندھے کی طرف کرتے ہوئے" اب کسی سے نہیں ڈرتا" مٹھی کھولی تو سرخاب نے زور سے ہاتھ مارا اور دونوں عباس کے کمرے کی طرف چلے گئے۔


 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 103 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Saima Munir

Read More Articles by Saima Munir: 14 Articles with 2651 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: