بے زباں

(Rida Bashir, Zafarwal)
ایک پڑھی لکھی بے زباں لڑکی

 وقت کا پہہیہ تیزی سے گھوما۔دن ہفتوں میں ہفتے مہینوں میں اور مہیںے سالوں میں بدلے۔شمسں و قمر اپنے اوقات مقررہ پر آتے جاتے رہے اور بھی بہت کچھ بدلا۔

ٹی۔وی کی جگہ ایل۔ای۔ڈی نے لے لی۔جدید سے جدید ترین حیران کر دینے والی مشینری آئی لکین ایک جگہ آ کر میرے دماغ کی سوئی حرکت کرنا بند کر دیتی ہے۔کیا ہم سب وہ کر رہے ہیں جسکا حکم اسلام اور خداوند نے دیا۔بیٹی جسے اللہ نے رحمت بنا کر بھیجا۔اسے کتنا زحمت بنا دیا گیا ۔مانا عورت کا مقام گھر کی چار دیواری ہے لیکن یقین مانئے گھر سے باہر کام کرنے والی عورتیں بدکردار نہیں ہوتیں کہ انہیں اپنے کردار کی صفائیاں پیشں کرنے کے لئے قرآن اٹھانے کی ضرورت پںشں آ جائے۔اور ایسا مرد جو آ پسے کردار کی صفائیاں بات بات پر مانگے اس سے کمزور سہارا کوئی نہیں۔اور ایسے سہارے سے بہتر عورت کوئی جانور پال لے جو آپ سے آپکے کردار کی صفائیاں نہ مانگے ۔وقت سے بڑا بے رحم کوئی نہیں اور وقت سے بڑا مرہم کوئی نہیں ۔نہ یہ کسی کے لئے رکا نہ رکے گا۔دریا کی موجوں اور بے لگام گھوڑے کی طرح بسں دوڑتا چلا جاتا ہے ۔میں اگر ناضی کے دلان میں سوچوں کے دریچوں سے آ گے سیڑھوں سے اوپر بند کمرے سے آتی ہوئی روشنی کی طرف جاوں تو یقین ما نیئے یہ روشنی اسلام کی ہے۔اسلام سے ذیادہ جدید مزہب کوئی نہیں۔اسلام حق حقوق دیتا ہے تو ہم انسان کیا اور ہماری حیثیت کیا ۔اسلام کو قرآن وسنت کو اپنے مفادکے لئے استعمال کرنے والوں جاو تمہیں اللہ پوچھے ۔خدارا مت پڑھاو اپنی بیٹیوں کو پتہ کیوں؟ کیونکہ ان میں سمجھنےاور سوچنے کی حسں آ جائے گی اور محسوس کرنے لگ جائیگی۔پڑھا لکھا کر اتنے احسان کر کے جو گنتی میں بھی نہ آئے تو کسی ایک ایسے شخصں کے حوالے کر دینا جسں کی ذات اور سوچ گٹڑ کے جیسی گندی اور بدبودار ہو وہاں سے شروع ہو کر اپنی ہی ذات کی `میں` پر ختم ہو تو ویاں بیٹیاں آباد نہیں ہوتیں وہاں بیٹیاں نفسیاتی مریضں بنتی ہیں اور بن چکی ہیں ۔ڈپریشن میں گھری آنے والے کل کو سوچتی ہوئیں نفسیاتی مریضائیں ۔والدین تو بساکھیاں ہیں سہارے ہیں جب یہی سہارے کمزور پڑ جائے نا تو یہیں نازوں سے پلی منہ کے بل گر جایا کرتی ہیں۔میں خود ایک ایسے معاشرے کا حصہ ہوں جہاں اپنی بات کو سمجھانا نا فرمانی کے زمرے میں شمار کیا جاتا ہے ۔ایک بہت پڑھی لکھی فیملی کا حصہ ہوں یہ بات فخر نہیں بہت سی لڑکیوں کے لئے کیونکہ ان کے گھر والوں کی سوچوں کے زاویے بھی انہی لوگوں سے جا ملتے ہیں جہاں کہا جاتا ہے کہ اب ہم تجھے رخصت کر رہے ہیں سسرال سے نکلے تو تمہارا جنازہ ہی نکلے تم نہیں""

۔میرا مذہب ایسا تو نییں تھا نہ میرے نبی نے ایسا کحچھ فرمایا ۔پھر کہوں گی کہ دین میں خود سے باتوں کا اضافہ کر نیوالوں جاو تمہیں اللہ ہوچھے
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 69 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rida Bashir

Read More Articles by Rida Bashir: 11 Articles with 1841 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: