معذور افراد کی امداد کے لئے مخیر حضرات میدان میں

(Muhammad Mazhar Rasheed, Okara)

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق دنیا میں اس وقت چھ سو ملین سے زائد افراد معذور ہیں ان میں سے اسی فیصد کا تعلق ترقی پزیر ممالک سے ہے وطن عزیز پاکستان میں معذور افراد کے لئے اگرچہ تعلیمی ادارے اور سہولیات کی فراہمی کے لئے حکومتوں نے اقدامات کیے ہیں لیکن ابھی بھی فوری اہم مزیداقدامات اْٹھانا وقت کی ضرورت ہے اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا میں کل آبادی کا تقریباً دس فیصد معذور افراد پر مشتمل ہے جبکہ پاکستان میں یہ شرح سات فیصد ہے،دفاتر اور پبلک مقامات پر سہولیات کی کمی کے ساتھ ساتھ معذور افراد کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کے لئے مناسب سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں موجودہ حکومت جو کرپشن کے خاتمے کا نعرہ لے کر برسر اقتدار آئی ہے کو فوری طور پر معذور افراد کے لئے اہم اقدامات کرنا ہونگے ،گزشتہ روز راقم الحروف کو بحالی معذوراں ضلع اوکاڑہ کا پہلے اجلاس میں شرکت کا موقع ملا جوکہ زیر صدارت ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (فنانس اینڈ پلاننگ ) عزوبہ عظیم کے ڈپٹی کمشنر کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا ،مخیر حضرات نے معذور افراد کی بحالی کی لئے گورنمنٹ سے تعاون کرتے ہوئے دو لاکھ پینسٹھ ہزار روپے کی امداد کا اعلان کیا ،ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر چودھری ابرار حسین نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ معذورو افراد کی بحالی کے پروگرام کے لئے حکومت پنجاب کی جانب سے قائم امدادی فنڈ میں اوکاڑہ کے مخیر حضرات نے بھر پور تعاون کرتے ہوئے امداد کا اعلان کیا ہے جو کہ قابل تعریف ہے اس موقع پرایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (فنانس اینڈ پلاننگ )عزوبہ عظیم نے کہا کہ معذور بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے خصوصی تعلیمی ادارے احسن طریقے سے کام کر رہے ہیں پنجاب بھر میں تقریباً 285 تعلیمی ادارے سماعت و بصارت سے محروم طلبہ ، ذہنی پسماندگی اور جسمانی معذوری کے شکار طلبہ کو تعلیم و تربیت دے رہے ہیں۔ معذور بچوں کو خصوصی تعلیمی اداروں میں محدود کرنے کی بجائے معاشرے کا مفید اور فعال شہری بنانے کے لئے اْن تمام ماحولیاتی اور معاشرتی رکاوٹوں کو ختم کیا جارہا ہے منفرد صلاحیتوں کے حامل طلبہ کو بہتر مواقع فراہم کرنے کے لئے حکومت تمام تر اقدامات کر رہی ہے معذوروں کی پیشہ ورانہ تربیت لیبر مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق ہم آہنگ کرنے اور معذور بچیوں کو آرٹ اینڈ کرافٹ، کھانا پکانے، ڈریس ڈیزائننگ اور بیوٹیشن کی پیشہ ورانہ تربیت دینے سے برسر روزگار کیا جاسکتا ہے ، جبکہ معذور طالب علموں کو کمپیوٹر، انفارمیشن ٹیکنالوجی، موبائل رپیئرنگ اور آن لائن جاب کی پیشہ ورانہ تربیت بیروزگاری سے بچا کر معاشرے میں ترقی کی رفتار کو تیز کر سکتی ہے ایسے اقدامات کو عملی جامعہ پہنانے میں مخیر حضرات کا تعاون انتہائی ضروری ہے، سانچ کے قارئین کرام ! پنجاب میں سب سے پہلے اوکاڑہ کے مخیر حضرات نے امدادی فنڈ میں رقم دینے کا اعلان کیا ہے جوکہ قابل تعریف ہے، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر عزوبہ عظیم پانچ ہزار ، شیخ عبدالغفور بیس ہزار ، محمد ذیشان بھٹی بیس ہزار،مرتضی قادری بیس ہزار ، معصوم احمد رزاقی بیس ہزار ،انجینئر محمد اعظم بھٹی تیس ہزار ، عزیر سلیم پچاس ہزار ، شیخ طاہر نے ایک لاکھ روپے کی گندم دینے کا اعلان کیا ، انجینئر محمد اعظم بھٹی نے رینالہ خورد میں قائم معذور بچوں کے سکول کو وہاں کی ضروریات کے مطابق مزید فنڈ دینے کا بھی اعلان کیا ، عزیر سلیم نے فری ہسپتال ادارہ خدمت عامہ میں معذوروں کے لئے فزیو تھراپی کی سہولت مفت فراہم کرنے کا اعلان کیا ، شیخ عبدالغفور جنرل سیکرٹری پیشنٹ ویلفیئر سوسائٹی نے معذوروں کے لئے آلہ سماعت ، ٹرائی سائیکل ، نابینا افراد کے سفید چھڑی ، ویل چیئر ز اور معذور طلبہ کی تعلیم کے لئے مزید عطیات کا بھی اعلان کیا ، اجلاس میں ضلعی چیئر مین بیت المال اوکاڑہ محمد ذیشان بھٹی نے بیت المال پنجاب کی جانب سے معذور اور مستحق افراد کی امداد کے حوالہ سے آگاہ کیا انہوں نے کہا کہ بیت المال پنجاب وزیر اعظم عمران خان کے ویژن اوروزیر اعلی پنجاب عثمان بزدارکی خصوصی کاوشوں سے مستحق افراد کے مسائل کے حل کویقینی بنانے کے لئے کوشاں ہے پہلی بار انتہائی شفاف طریقہ کار کے تحت مستحقین کو ڈسٹرکٹ بیت المال کمیٹی ضلع اوکاڑہ نے ستاسی (87)مستحق غریب اورمعذورافراد میں 4لاکھ 35ہزارروپے مالیت کے چیک تقسیم کئے ،امدادی چیک دینے کا مقصد مستحقین کو معاشرے کے دیگر طبقات کے ہم پلہ بنانا ہے انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب تمام طبقات کی مساوی فلاح پر یقین رکھتی ہیں تاہم خصوصی افراد کو اولین ترجیح دیتے ہوئے دستیاب وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے ہرممکن اقدامات اْٹھائے جارہے ہیں٭
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 98 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Mazhar Rasheed

Read More Articles by Muhammad Mazhar Rasheed: 45 Articles with 11005 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: