ایسا ملک جہاں ہر سال ایک نیا لندن تعمیر ہوتا ہے


چین آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے۔ معاشی ترقی کے میدان میں بھی اس نے اپنی برتری ثابت کی ہے۔

بڑی آبادی کی رہائش کے لیے اور معاشی سرگرمیوں کو آسانی سے چلانے کے لیے اسی تناسب میں اسے عمارتوں کی بھی ضرورت ہے اور چین اس شعبے میں بڑے پیمانے پر کام بھی کر رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والی دہائی میں دنیا بھر میں تعمیر ہونے والی مجموعی عمارتوں میں سے نصف عمارتیں صرف چین میں تعمیر ہوں گی۔

چین میں پہلے ہی ہر سال دو ارب مربع میٹر فلور سپیس تیار ہوتا ہے۔ اگر یہ عمارتیں ایک منزلہ ہوں تو ان کا کل رقبہ پورے لندن کے رقبے کے برابر ہو گا۔

اس کے ساتھ ہی کاربن کے اخراج کے لحاظ سے یہ ایک بہت بڑا رقبہ ہے۔

معاشی سرگرمیوں میں اضافہ کے ساتھ ہی چین نے عمارت کی تعمیر میں بھی اضافہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ان عمارتوں میں توانائی کے استعمال میں بھی اضافہ ہوا ہے جس نے ماحولیات کے لیے ایک چیلنج پیدا کر دیا ہے۔

سنہ 2001 سے 2016 کے درمیان چین کے تعمیراتی شعبے میں ایک ارب ٹن کوئلے کے برابر توانائی استعمال ہوئی ہے۔

عمارت کی تعمیر میں خام مال کی فراہمی سے لے کر تعمیرات میں استعمال ہونے والی توانائی چین کے کل کاربن اخراج کا پانچواں حصہ ہے۔

اتنے وسیع پیمانے پر کاربن کا اخراج انسانوں اور ماحول دونوں کے لیے خطرے کی ایک گھنٹی ہے۔ چین کے عوام نے بھی اس خطرے کو محسوس کیا ہے اور اس کی قیمت بھی ادا کی ہے۔

شاید اسی لیے عمارتوں کی تعمیر کے ایسے نئے طریقوں پر کام ہورہا ہے جس سے کاربن کے اخراج کو کم کیا جا سکے۔ اس کے لیے اب تک کا سب سے موثر طریقہ یہ ہے کہ پودوں سے عمارتوں کو ڈھک دیا جائے۔
 


یہ تجربہ سب سے پہلے اٹلی میں ہوا
اس طرح کا تجربہ سب سے پہلے اٹلی کے شہر میلان میں ایک اطالوی معمار اسٹیفانو بوری نے کیا تھا۔ اور اب بوری کی ٹیم چین میں بھی یہی تجربہ کرنے جارہی ہے۔

چین کے نانجنگ شہر میں ایسے دو سبز ٹاور پر کام جاری ہے جو مکمل طور پر ہریالی سے ڈھکے ہوں گے۔ یہ ٹاور سنہ 2020 کے آخر تک مکمل ہونے تھے لیکن کورونا کی وبا کی وجہ سے کام وقت پر مکمل نہیں ہو سکے گا۔

عمارت کے اضافی حصے میں ڈھائی ہزار اقسام کی جھاڑیاں، ایک ہزار سے زیادہ درخت اور دیگر پودے لگائے جائیں گے۔ فی الحال عمارت کی سامنے والی دیواروں پر پودے لگانے کے لیے نرسریوں میں 600 قسم کے مقامی درخت تیار کیے جارہے ہیں۔

جب تک وہ عمارت میں لگائے جائیں گے اس وقت تک ان کی لمبائی چھ سے نو میٹر تک ہو جائے گی۔

ان درختوں کو لگانے سے پہلے ان کی صلاحیت کی جانچ ہوگی اور انھیں ونڈ ٹنل (ہوائی سرنگ) سے گزارا جائے گا۔ اس کے مطابق ہی درختوں کو عمارت کی مختلف منزلوں پر لگایا جائے گا۔

چین کے کئی صوبوں میں اونچی عمارتوں کے لیے ہریالی کو لازمی قرار دیا گيا ہے۔ مثال کے طور پر ژیجیانگ صوبے میں سکائی گارڈن بالکنیز بنائی گئی ہیں۔ لیکن انھیں پلاٹ کے کل رقبے کی بنیاد پر استثنیٰ حاصل ہے۔

یعنی جب پلاٹ کے رقبے کی پیمائش کی جاتی ہے تو اس میں یہ سبز بالکونی شامل نہیں ہوتی یعنی یہ ایک قسم کا بونس ہے۔
 


منصوبہ بندی کی ضرورت
کسی عمارت کو سر سبز بنانے کے لیے بہت زیادہ منصوبہ بندی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور بڑھتے ہوئے کاربن کے اخراج پر قابو پانے کا فی الحال واحد طریقہ ہریالی ہے۔

اگر عمارتوں کے باہر سبزی اور ہریالی کا رجحان شروع ہوجائے تو چین میں تعمیراتی صنعت سے کاربن کے اخراج کو کافی حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔

اسی کے ساتھ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ عمارت کی تعمیر کے لیے استعمال ہونے والے مادے کو بھی بہتر بنانا ہوگا۔ مثال کے طور پر ابھی سیمنٹ ہی دنیا کے کل کاربن کے آٹھ فیصد اخراج کا ذمہ دار ہے۔

اگر تعمیراتی مادے کی ری سائیکلنگ ہوجائے تو کاربن کے اخراج کو کافی حد تک کم ہو سکتا ہے۔ اس سمت میں چین کی ونسن کمپنی نے کام شروع کردیا ہے۔ اس کام کے لیے یہ کمپنی تھری ڈی ٹیکنالوجی کا سہارا لے رہی ہے۔

نئی عمارت کی تعمیر کے لیے بے کار اشیا کو پیس کر استعمال کرنے سے بہتر ہے کہ پہلے سے موجود چیزوں کو استعمال کیا جائے۔

گرین آرکیٹیکچر ڈیزائن اینڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر لیو ہینگ کچھ اسی قسم کا کام کر رہے ہیں۔ انھوں نے ایک پرانی فیکٹری کے بیکار پڑے حصے کو پرانے کانچ اور سیمنٹ کے ٹکڑوں کی مدد سے ایک نئی شکل دے کر اپنے لیے تیار کرلیا۔

انھوں نے راہداری کے چاروں طرف پردے کی ایسی دیواریں بنائیں جو باہر کی گرم ہوا کو اندر آنے نہیں دیتے اور اندر کا درجہ حرارت کنٹرول رہتا ہے۔ لیو کا کہنا ہے کہ تھری ڈی پرنٹنگ اس کام میں بہت کارآمد ثابت ہوسکتی ہے۔ اس سے اجرت اور میٹیریل دونوں کی بچت ہوگی۔
 


چین میں ایسی عمارتوں کی تعمیر پر بھی کام کیا جارہا ہے جننھیں بغیر کسی میکانکی ذرائع کے ٹھنڈا یا گرم رکھا جاسکے۔ اس کا سب سے پہلے سنہ 2005 میں بیجنگ کی پیکنگ یونیورسٹی کی عمارت کی تعمیر میں استعمال ہوا تھا۔

اس عمارت کی راہداریوں کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ وہ سردیوں میں گرم رہتی ہیں اور گرمیوں میں ٹھنڈی ہوتی ہیں نیز قدرتی روشنی بھی وافر مقدار میں ہوتی ہے اور بجلی کی کھپت نہ ہونے کے برابر ہے۔

کلاس روم میں بجلی کا نظام بھی اس طرح تیار کیا گیا ہے کہ کسی کی موجودگی میں ہی لائٹس جلتی ہے۔

فن تعمیر کے شعبے کے لوگوں کو امید ہے کہ جس طرح عمارتوں کے لیے نئے ڈیزائن بنائے جارہے ہیں وہ بہت مستحکم ہیں اور چینی حکومت ان کی حوصلہ افزائی کرے گی۔ سنہ 2018 تک چین میں دس ہزار سے زیادہ گرین پروجیکٹس کو منظوری دی جا چکی ہے۔

سنہ 2017 میں چین نے فیصلہ کیا تھا کہ 2020 تک تعمیر ہونے والی 50 فیصد عمارتیں سبز عمارتیں ہوں گی۔

چین میں شہری ترقی کی شرح تیز ہے۔ لہذا یہاں تبدیلی کی رفتار بھی تیز ہوگی۔ اگر دنیا کی کل عمارتوں میں سے نصف عمارتیں رواں دہائی میں چین میں تعمیر ہونی ہیں تو یہ نئے طریقے بڑی تبدیلی کا موجب ہوں گے۔

اگر چین اپنے یہاں 50 فیصد مکان بھی سرسبزی سے معمور کر لیتا ہے تو دنیا کے مجموعی کاربن اخراج میں بڑی کمی واقع ہو گی۔
 


Partner Content: BBC Urdu

Most Viewed (Last 30 Days | All Time)

Comments

آپ کی رائے
Language: