علم و تحقیق کی بارگاہ میں

(Fateh Mohd Nadwi, )

 بسم اﷲ الر حمٰن الر حیم
علم و تحقیق کی بارگاہ میں
امیر المومنین فی الحدیث امام شیخ یونس جونپوریؒ
فتح محمدندوی
ایسے بھی مسافر ہیں خود جن کے لئے صدیوں
راہیں بھی ترستی ہیں منزل بھی ترستی ہیں
دنیا میں بہت سی ایسی عظیم شخصیتیں گزری ہیں جنہوں نے اپنے کارناموں سے دنیا کی تاریخ اور اس کے جغرافیہ کو بدل کر رکھ د یا۔ بڑی بڑی پر شکوہ عمارتیں ان کی نشان منزلت اور شاہان عظمت پر گواہ بھی ہیں اور سند بھی ، لیکن زمانے نے ان میں سے اکثر پر فراموشی کا پردہ ڈال دیا ، بلکہ ان کی شان و شوکت ، جاہ و جلال اور پر تعیش زندگی کے نشانات درس عبرت بن گئے ۔ تاہم علم وکتا ب سے وابستہ افراد کا ستارہ کبھی غروب نہیں ہوتابلکہ ان کی قدرو منزلت آسمان علم پر روشنی اور نور کا پیکر بن کر ایک جہان کو علم و حکمت کی سوغات اور غذا فراہم کرتی رہتی ہیں ۔ حضرت مولانا شیخ یونس جونپوریؒ ایسے ہی زندہ دل علم و کتاب سے وابستہ جماعت کے قافلہ سالاروں میں سے ہیں جن کی جوہر شناسی اور سنگ تراشی کے انمٹ نقوش اہل بصیرت اور تشنہ کامان علم کی روح کو سکون خاطر عطاکررہے ہیں۔ حضرت شیخ اپنی صلاح اور صالحیت ، اور اپنے غیر معمولی عہد ساز کارناموں کی بنا پر لو گوں کے دلوں میں پوری توانائی کے ساتھ آج بھی زندہ ہیں بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کا ان سے احترام ، اعتبار اور محبوبیت میں اضافہ ہوتا رہتا ہے ۔ حضرت مولانا شیخ یونس ؒ کے انتقال کو تقریباً تین سال ہوگئے لیکن میرے قلب و جگر میں ان کے عشق و محبت کی جو گرمی تھی اس میں ایک حرکت پید ا ہوئی اور یادوں کے صیغے میں وہ پورا منظر گردش کرنے لگا جو حضرت شیخ سے ہمارے تعلق خاطر اور انسیت کا ایک مضبوط اور مستحکم نشان تھا۔
گہنا گیا وہ چاند مگر اس کے نور سے
دیوار و در وطن کے ہیں تاباں اسی طرح
( شوکت تھانوی)

بہرحال تین سال قبل حضرت مولانا شیخ یونس قدس سرہ کی وفات سے علم و عرفان ، اصلاح و ارشاد، حکمت و دانائی نکتہ سنجی اور نکتہ رسی اور بحث و تحقیق کی جو کائنات اور بزم قائم تھی وہ اجڑ گئی تھی ۔ویسے درس و تدریس ،علم و حکمت ،اور تعلیم و تربیت کا سلسلہ تو آپ کے بعد بھی قائم ہے اور قائم رہے گا ۔ لیکن آپ جن صفات اور خصوصیات کے حامل تھے جو بھر م اور اعتبار ان مذکورہ اوصاف کو آپ کے دم سے قائم تھا اس پر اب گرہن لگ چکا ہے بلکہ اب زمانے کو آئندہ ایسا شخص شاید نصیب نہ ہو۔کیوں کہ اب وہ کون ہوگا جس کی زبان سے علم و حکمت اور نکتہ آفریں افکار و خیالات کی وہ بارشیں ہوں گی جن سے حافظ ابن حجر عسقلانیؒ،حضرت امام ابن تیمیہؒ ، حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلویؒ، حضرت شاہ ولی اﷲ دہلویؒ حضرت علامہ انورشاہ کشمیریؒ‘ وغیرہ کے زمانے کی یاد تازہ ہوجاتی تھی ،اصلاح و تربیت کے میدان میں حضرت تھانویؒ کی مجلسوں کا گمان ہوتا تھا،علمی انہماک اور حدیث کے معنی شناسی اور مراد میں فقیہ النفس مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کے مسند حدیث کی یادوں کا خوبصورت زمانہ لوٹ کر آجاتا تھا ، بلا شبہ یہ ایک شخص تھا لیکن اس کے وجود کی تعمیر میں ایک عہد ایک زمانہ ایک ادارہ ایک انجمن اور ایک کارواں شامل تھا غرض آپ کی ہمہ گیر اور ہشت پہل شخصیت جادہ علم و فضل سے لیکر اصلاح و تربیت کا ایک ایسا حسین گلدستہ تھی جس میں آپ کی شخصیت کا ہر عنوان منفرد اور جدا تھا ۔

حضرت مولانا شیخ یونس صاحبؒ کی آخر وہ کیا انفرادیت اور امتیازی شان تھی جس کی بنیاد پر ہندوستان میں صدیوں پر محیط علم حدیث کے میدان میں ان کو عبقر یت اور انفرادیت کا تمغہ حاصل ہوا،پوری دنیامیں ان کی اس حیثیت کو تسلیم کیا گیا کہ علم حدیث کے باب میں شیخ یونس کا کوئی ثانی اور مثال نہیں تھا۔ بلاشبہ کہ یہ تمام خصوصیات اور امتیازات جو ان کو نصیب ہوئے یہ سب فضل الٰہی تھا اور ہے لیکن اس بات سے بھی انکار ناممکن ہے کہ کبھی کبھی انسان کو جو مرتبہ عطاہوتا ہے اس میں عمل پہم اور جہد مسلسل کا بڑ اہم رول شامل ہوتا ہے۔ حضرت شیخ نے علم حدیث کی خدمت میں اپنی پوری زندگی نہ صرف صرف کی بلکہ حیات مستعار کا کوئی لمحہ آپ نے اس خدمت کے لئے فروگزاشت نہیں ہونے دیا۔

نقد و احتساب اور بحث و تحقیق کے صفحات پر حضرت شیخ نے علم و کمالات، نئی نئی تحقیق اور جستجو کی بازیافت میں جو نقوش ثبت کئے ہیں وہ بے مثال بھی ہیں اور لازوال بھی بلکہ وہ آپ کے جمالیاتی شعور کی پختگی اور توانائی کے ثبوت کے طور پر بھی ہمیشہ باقی رہیں گے۔ ایک محقق کے طور پر آپ نے جن جواہر ریزوں کی در یافت کا کام سرانجام دیا ہے اور گلشن ناآفریدہ کی تلاش میں آپ کا سفر زندگی کے آخری ایام تک جاری و ساری رہا ہے، اس سے آپ زما نے کے بعد کے باوجو د صدیوں کے عظیم اس قافلہ قدس میں شامل ہوگئے جن کو حافظ ابن حجر امام ابن تیمیہ امام شاہ ولی اﷲ دہلوی اور علامہ انورشاہ کشمیری کے نام سے دنیا جانتی اور پہنچانتی ہے ۔
کرے گی داور محشر کو شرم سار ایک روز
کتاب صوفی و ملاکی ساد ہ اوراقی
( اقبال مرحوم)

حضرت شیخ کے یہاں علم وکتاب سے مضبوط وابستگی اور مطالعہ کا جو انہماک اور تلاش و تحقیق کا جو عمل ملتا ہے اس میں بعض لوگوں نے یہ کہا ہے بلکہ لکھا ہے کہ حضرت شیخ نے تمام روایتی طریقو ں سے الگ اپنی راہ بنائی ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت نے اپنی علمی موشگافیوں کے لئے ایک منفر د طریقہ ضرور اختیار کیا تھا۔ لیکن آپ کا وہ منفرد انداز اپنے پیشرو اسلاف سے الگ نہیں تھا بلکہ اسی کی وسعت اور تجد ید تھی جو ہر زمانے کے مجتہد اور محقق کا عمل ہوتا ہے۔ غرض آپ کے یہاں بھی یہ اسی وسعت کی تمہید ہے اور اس تمہید اور تجدید کا دیباچہ یہ ہے کہ یافت سے زیادہ دریافت کا رجحان اور عمل ، قیاس سے زیادہ دلائل اور ثبوتوں پر یقین، کسی نقطے پر انجماد سے زیادہ وسعت نظر کی گہرائی اور اعلیٰ سے اعلیٰ کی طرف سفر، محدود جزیروں میں سیر کی بجائے غیر آباد جزیروں کی تلاش ۔ سمند ر کی تہو ں میں غواصی اور گہر ہائے بے بہا کی جستجو آپ کی تحقیق کے سراپہ کا خوبصورت عنوان اور علامت ہیں ۔ اسی ضمن میں میں یہاں ایک اہم بات پیش کروں گاکہ حضرت شیخ یونس کے علمی اور تخلیقی ورثے پرخانوادہ ولی اﷲ کے اثرات مکمل طور سے دیکھے اور محسوس کیے جاسکتے ہیں بلکہ آپ اس خاندان کے سچے جانشین تھے۔ علم حدیث کے حوالے سے حضرت شاہ ولی اﷲ دہلویؒ کا طریقہ کار یہ تھا کہ آپ کے یہاں اولاً نصوص کی بنیاد پر مسائل کو ترجیح حاصل تھی اور آپ کے ترجیح مسائل میں تلاش اور جستجو کے بعد حنفی مسلک زیادہ غالب اور راجح تھا ،دوسرے ان کے یہاں اسلام اور خاص طور سے حد یث کو ایک مکمل نظام حیات کے طورپڑھا یا جاتا تھا ۔اس میں مزید ایک خاص بات یہ تھی کہ حدیث کس طرح موجودہ زمانے کی رہنمائی کے لئے ہماری مدد کرسکتی ہے اور کس طرح دنیا اور انسانیت کے موجودہ مسائل کو حدیث کی روشنی میں حل کیا جاسکتا ہے ۔

ایک اقتباس یہاں حضرت شاہ ولی اﷲ دہلویؒ کا اجتہاد کی اہمیت اور افادیت حوالے سے بڑا اہم ہوگا ۔’’حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ اجتہاد ہر زمانے میں فرض کفایہ رہا ہے۔یہاں اجتہاد سے مراد مستقل اجتہاد نہیں ہے جیسے امام شافعی کا اجتہاد تھا کہ وہ رجال راویوں کی جرح و تعدیل یا لغت یا ان جیسے دوسرے علوم کی معرفت میں کسی دوسر کے محتاج نہ تھے اور اسی طرح مجتہدانہ روایت میں بھی کسی غیر کی رہنمائی و ارشاد کے حاجتمند نہ تھے، وہ ادلہ تفصیلیہ کے ذریعہ اور مجتہدانہ تفریع وترتیب کے واسطے سے بھی احکام شرعیہ کی معرفت رکھتے تھے اگر چہ وہ صاحب مذہب کی رہنمائی میں بھی تھے ۔یہاں میری مراد یہ ہے کہ پیش آنے والے مسائل کی تعداد ان گنت ہے اور ان میں احکام الٰہی کی معرفت واجب ہے اور جو کچھ مدون و مستور ہوچکا ہے وہ ناکافی ہے اور اس میں بہت اختلاف پایا جاتا ہے کہ دلائل کی طرف رجوع کئے بغیر اختلاف کا حل نہیں نکل سکتا ہے اور مجتہد تک پہو نچنے نے کے تمام راستے بھی بند ہوچکے ہیں لہٰذا اجتہاد کے قواعد پر اس کو پیش کئے بغیر معاملہ درست نہیں ہوسکتا‘‘۔(شاہ ولی ﷲؒ کی خدمات حدیث ص ۵۰ )

حضرت مولانا شیخ یونسؒ کی شخصیت کے ہیولے میں ولی ا ﷲی عکس اور اثر بہت زیادہ غالب ہے بلکہ ایسا گمان ہوتا ہے ولی اﷲی خر من کمال کے خوشہ چیں ہو نے کے ساتھ ساتھ ولی اﷲی علمی خانقاہ سے علم و عرفان کے جو چشمے ابلے ہیں ان سے بالواسطہ ہی سہی آپ نے خوب سیرابی حاصل کی ہے اور اپنے دامن مراد کو بھرا ہے ۔ حضرت شاہ صاحب سے آپ کی فکر و نظر کی اس مشابہت، ہم آہنگی او ر مضبوط ذہنی رشتہ نے آپ کی شخصیت کو زندگی کے آخری ایام تک راہ اعتدال پر قائم رکھا ۔ پھر جس طر ح اور جس طریقہ کار پر حضرت شاہ ولی اﷲ ؒ نے نصوص کی بنیاد پر مسائل کو تر جیح دی ہے ا سی طرح حضرت شیخ نے مسائل کو نصو ص پر پر کھا ،پیمانہ کیا اور خوب اچھی طرح پیمانہ کیا۔ پھر وسیع مطا لعہ کی بنیاد پر کسی فیصلے پر پہنچ نے کے بعد اس رائے پر مضبوطی سے جم گئے ۔ آپ کسی بھی مسئلے کی تحقیق و جستجو میں سب سے پہلے آئمہ متقدمین کی طرف رجو ع کر تے تھے بلکہ آئمہ متقدمین ہی آپ کی تحقیق کا حرف آخر ہوتے ۔ پھر آپ اپنے علم و مطالعہ کے تنوع اور فکر و نظر کی گہرائی اور گیرائی اور ساتھ ہی اپنے اجتہادی ذوق ، روحانی انکشا ف اورغیبی تائید کی مدد سے کوئی رائے قائم کرتے ۔جس طرح حضرت شاہ ولی اﷲؒ کو راہ اعتدال کی بنیاد پر دنیاکے تمام مکتب فکر کے عام و خاص لوگ محبوب رکھتے ہیں اور آج تک حضرت شاہ صاحب کی محبوبیت اور اعتبار باقی ہے اور زمانے گزرنے کے بعد بھی امت کے تمام مکتب خیال میں وہ محبت کی علامت اور نشانی کے طور ایک مثال کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ اسی طرح حضرت شیخ یونس دنیا بھر کے علماء اور اکابر میں چاہے ان کا تعلق اہل حدیث سے ہو،دیوبندیت سے ہو یا بریلوی حضرات سے سب کے نزیک حضرت شیخ یونس کی شخصیت محبت اور محبوبیت کا خوبصورت عنوان ہے۔

کچھ لوگوں نے حضرت شیخ کے بارے میں یہ کہا ہے کہ آپ بخاری شریف کی فہم میں کسی کے مقلد نہیں تھے، ہمارے خیال سے ایسا نہیں ہے۔ حضرت شیخ یونس مقلد ضرور تھے لیکن حضرت شاہ ولی اﷲ دہلویؒ کی طرح مزاج میں حد درجہ اعتدال تھا، تشدد نہیں تھا ۔ آ پ خود اپنے شا گردوں اور متعلقین سے کہا کرتے تھے کہ میں تمہاری طرح غالی حنفی نہیں ہوں ، پھر آپ علم و کمال کے اس مرتبہ اور مقام پر فائز تھے جہاں مسالک اور مذاہب کی بحثیں اور حدیں کم زور نظرآتی ہیں، لیکن یہ بھی یاد رہے کہ یہ مرتبہ اور یہ اجتہاد کا حق ہر کس و ناکس کونہیں ملتا کہ جو چاہے اس میں رائے زنی کرے اس کے لئے بڑ ی جا نکاہی کرنی پڑتی ہے بلکہ جگر کو لہو بنا نا پڑتا ہے۔

ان کے ادراکی اور جمالیاتی شعور کو جو توانائی اور فہم عطا ہوئی ہے وہ سب اپنے اسلاف کی صراحی علم کا نصیبہ ہے اور وہ اپنے اکابر کی جادہ عظمت کے امین اور پاسباں ہیں اور ساتھ ہی ان کے وجدان کو جو لطائف میسر ہوئے اور معرفت حدیث کا جو غیر معمولی فہم ان کو خدا کی طرف سے عطاء ہوا اس میں جہاں ان کی جہد مسلسل اور فضل الہٰی شامل تھا وہیں آپ کے اساتذہ کے وسائل فیضان کا کردار ہر صورت میں دکھائی دیتا ہے ۔ بلکہ ان کے سوز دل پر حضرت مولانا اسعداﷲ قد س سرہ سابق نا ظم مظاہر العلوم سہارنپور اور حضرت مولانا شیخ زکریا کاندھلویؒ نے جو مسیحائی کے چھینٹے مارے تھے اس سے ان کا حریم دل ایسا روشن ہوا کہ اس روشنی سے آپ نے ایک عالم کو اپنے علم کے نور سے نہ صرف منور کیا بلکہ علوم نبوت کی رو شنی اور خوشبو کو آپ نے پورے عالم میں پھیلا دیا ۔ ایک واقعہ حضرت شیخ یونس نے سنایا کہ ایک مرتبہ میں بیمار ہو گیا تو میں نے حضرت مولا نا اسعد اﷲ صاحب کے پاس خبر پہنچائی کہ میں بیمار ہوں ، حضرت نے فرمایا کہ میں تم سے غافل نہیں ہوں۔ حضرت مولانا شیخ یونس ؒ نے فرمایا کہ یہ کیا چیز تھی میں نہیں جانتا میرے سارے وجود میں کوئی چیز اندر چلی گئی۔ اس کے بعد بقول حضرت شیخ کہ میرے قلب کی حالت بدل گئی اور سانس سے آنکھ سے منہ سے نفی و اثبات جاری ہو گیا۔

ہاں اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ حضرت شیخ کے یہاں زاویہ نظر میں جدت اور اظہار و خیال کے بیان میں ندرت اور فکر و نظر میں نیا آہنگ ضرور تھالیکن ا ٓپ کے یہاں قلب و نظر کی ا س وسعت اور ذہنی تنوع کے باوجود اپنے اساتذہ اور سلف کا بے حد احترام تھا۔

آپ کی طبیعت کے مکمل جو ہر، اس کا فیضان ، اس کی جولانیا ں اور اس کے فکر و نظر کی وسعت تدریس کے دورانیے میں بھر پور شباب پر ہوتی تھی بلکہ اس وقت انمول جواہر ریزے آپ کی زبان سے بارش کے قطروں کی طرح تہ بتہ نازل ہوتے تھے، آپ کے کام و دہن سے نکلے ہوئے ہر ہر جملے میں بلاکی دانائی فہم حدیث اور حدیث کے الفاظ کے معنی کی تشریح اور تفہیم اس طرح آشکارہوتی کہ عقل محو حیرت ہوجاتی ۔ اپنے وجدان اور پختہ شعور کی مدد اور بھر پور توانائی سے اظہار خیالات کے احسا سات میں ذہن او رآموزش کے دریچوں کو تازگی اور ایسی نئی پروان عطاکرتے جس سے جمالیاتی حس اور جمالیاتی ذوق کومعنی شناسی کا ادراک اور فہم ہونے لگتا، مزید آپ کی اس علمی بلندی اور زرو ر علم پر آپ کی طبیعت کا اعتدال اور توازن آپ کی شخصیت کے حسن ، وقار اور اعتبار کو دوبالا کردیتا ہے ۔ آپ کے یہاں آئمہ متقدین اور متاخرین بلکہ بعد کے لوگ حتی کہ اپنے معاصرین کی عزت اور بے حد احترام تھا، ویسے تو آپ کے مرتب ذہن اور بلاکے حا فظے میں نہ جانے کتنے محدثین اور فقہا کے نام محفوظ تھے لیکن کچھ خاص محدثین اور شخصیات کا ذکر ووقتا فوقتا آپ کے یہاں زیادہ رہتا تھا۔ مثلاً حافظ ابن حجر عسقلانی ،امام ابن تیمہ ؒ ، امام ابن عبد البر مالکی ،علامہ بدر الدین عینی ؒ ، ابن حزم الاندلسی ظاہری ،فقہا احناف میں سے علامہ کمال الدین ابن ہمام، شمس الائمہ امام سرخسی، علامہ انور شاہ کشمیری شیخ ا لاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی ؒ ، حضرت شیخ زکریا کاندھلوی ؒ۔ علامہ اقبال ؒ علامہ سید سلیمان ندوی۔ ان کے علاوہ ایسی بہت سی شخصیات کا ذکر آپ یہاں خوب ہوتا تھابلکہ ان کے فضل و کمال کا خوب دل کھول کر اعتراف کرتے جو ہمارے یہاں معتوب کے درجے میں تھے جیسے علامہ شبلی ؒ ،سرسید احمد خاں ؒ وغیرہ۔

حضرت مولا نا شیخ یونس جونپوری ؒ کا جو مقام او ر امتیازی پہلو پوری دنیا کے اہل علم نے بالاتفاق تسلیم کیا ہے۔ آپ کی اس فضیلت اور برتری میں کئی باتیں آپ کے حوالے سے بڑی اہم ہیں دراصل حضرت شیخ نے ان چیزوں پر اکتفا نہیں کیا جو پہلے سے ایک روایت کے طور پر چلی آرہی تھیں اور وہی روایت اہل علم و کمال کی تشنگی کا بہم سامان تھی، اس روایت کو حضرت نے اپنے گہرے علم و مطالعہ اور عقل و شعور کی کشادگی اور وسعت نظر کے تنوع سے توڑا۔ آپ نے ہمیشہ ایک خاص منہج اور طریقہ سے اوپر اٹھ کر ہمیشہ نئے نئے تجربات کئے نئے نئے منطقوں اور غیر آباد جزیروں میں دشت نوردی کی۔ آپ کی اس روش اور طریقے نے جہاں علم حدیث کی ہمہ گیریت واضح کی وہیں آپ کی محدثانہ شان میں اضافہ کا سبب ہوا اور ساتھ ہی دنیا نے یہ بھی جان لیا کہ علم حدیث او ر علوم قرآن کو کسی ایک منجمد نقطے پر روکا نہیں جاسکتا اور نہ ہی علم کو کسی حدود کے د ا ئرے میں قید کیا جا سکتا ہے جتنا اس میں شناوری کی جائے گی اتنے ہی قیمتی اور آبدار موتی دامن مراد میں بھر جائیں گے ۔لیکن ایک شرط ہے جس کو میں پھر دہرارہاہوں کہ علم کے اسرار و رموز سے مکمل آگاہی اور واقفیت بغیر فکر و نظر کی وسعت اور کشادگی کے کسی پر آشکار نہیں ہوتی ۔نظر میں وسعت اور خیال میں تنوع علم کی گتھیوں کو سلجانے کے لئے اور علم کے رموز سے باخبر ہونے کے لئے شرط اول ہے۔

حضرت شیخ کی انفرادیت اور عرفان صرف علم حدیث تک محدود نہیں ہے کہ آپ نے علم حدیث ہی میں اپنا ایک بلند اور منفر د مقام بنا یا ہے ، یہ تو مسلم ہے لیکن حضرت شیخ کا ایک بڑا کمال یہ بھی ہے کہ اہل مدارس اور خصو صاً اہل علم کو ان کی زندگی سے بہت سے تعمیری اور فکری پہلو مل جائیں گے ۔آپ نے ہمیں علم وکتاب سے مضبوط وابستگی کا سبق دیا ،مسالک اور مذاہب میں ہم آہنگی اور وحدت کے اصول بتائے ، مطالعہ کے ایک محدود اور تنگ دائرے سے نکال کر فکرو نظرمیں وسعت اور تنوع کا سلیقہ عطاکیا ۔ قیاسیات کے بجائے ٹھوس علم کے ساتھ استدال کو مسائل کی ترجیح کی حدیں متعین کی ، اختلاف رائے اور ادب اختلاف کا شعور اور فہم بھی عملی طور سمجھایا ۔اور ساتھ ہی اختلاف رائے کو قبول کرنے کا حوصلہ اور جذبہ بھی پیدا کیا۔

جا دہ حق اور عظمت و عبقریت کی منزلیں توآپ کے بعد بھی روشن اور تابناک رہیں گی ۔ بلکہ یہ سلسلہ قیامت تک جاری و ساری رہے گا کوئی رنگ ہائے رفتہ کی تصویر اپنے پیکر میں پھر کسی علم و کمال کے آفتاب کے ورود مسعود کی خوش خبری سنائی گی اور پھر یہ دیار مظہر و خلیل( حضرت مولا نا مظہر نانوتویؒ حضرت خلیل احمد سہارن پوری ؒ) علم و فن کی بزم آرائیوں سے منو ر ہوگا ۔خدا کرے علم کے اس تاج محل ( مظاہر العلوم ) پر کبھی زوال نہ آئے ۔ بقول اقبال
ہے ہزاروں قافلوں سے آشنا یہ رہ گزر
چشم کوہ نور نے دیکھے ہیں کتنے تاجور

حضرت مولا نا شیخ یونسؒ کے فضل وکمال پر یہ جو کچھ لکھا گیا ہے یہ سب اﷲ تعالیٰ کے احسان اور اکرام کا معاملہ ہے اور حضرت شیخ کی برکت کا نتیجہ ہے ۔ کیوں کہ مجھے حضرت شیخ سے باضابطہ شرف تلمذ حا صل نہیں ہوا ہے ، کبھی کبھی حصول نیاز کی خاطر آں مخدوم کی علمی بارگاہ میں حاضری کی سعادت ہوجاتی تھی۔ اس مضمون کو لکھنے کے لئے بہت سے اصحاب علم و کمال سے تبادلہ خیال اور گفتگو ہوئی ان سبھی کا میں دل سے ممنون کرم ہوں ۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 207 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Fateh Mohd Nadwi

Read More Articles by Fateh Mohd Nadwi: 23 Articles with 12318 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: