انسانی جسم کے بارے میں ایسے حقائق جو ہمیشہ آپ کے ساتھ رہیں گے

 
صبح کا وقت کتنا پیارا لگتا ہے۔ نماز فجر کے بعد جب تھوڑی تھوڑی روشنی ہونے لگتی ہے تو بہت سہانا وقت ہوتا ہے بلکہ ہم میں سے کچھ لوگ صبح میں ورزش بھی کرتے ہوں گے تاکہ تندرست و توانا رہیں۔ کبھی آپ نے اپنے جسمانی ساخت پر غور کیا۔ جس جسم کو آپ توانا رکھنا چاہتے ہیں ﷲ عزوجل نے اس میں کیا کیا چیزیں رکھی ہیں؟ اگر ہم اس پر غور کریں تو حیران رہ جائیں ۔ تو آئیے آج ہم آپ کے لیے ایسی دلچسپ معلومات لائے ہیں کہ آپ بھی حیران رہ جائیں گے۔
 
انسانی آنکھ کی ریزولیشن 576 میگا پکسل ہوتی ہے جو کہ موجودہ کسی بھی کیمرے کی ریزولیشن سے کئی زیادہ ہے-
 
ایک بالغ انسان صرف ایک قدم اٹھانے کے لیے 200 پٹھے استعمال کرتا ہے-
 
قرنیہ جسم کا وہ واحد حصہ ہے جس میں براہ راست خون کی رگیں موجود نہیں ہوتیں اس لیے اسے براہ راست ہوا سے آکسیجن کی خاصی مقدار حاصل ہوجاتی ہے-
 
 
معدے کا تیزاب اس حد طاقتور ہوتا ہے کہ دھات کو تحلیل کر سکتا ہے-
 
حمل کے دوران خواتین کے دماغ دراصل سکڑ جاتے ہیں، لہٰذا "حمل دماغ" مکمل طور پر ایک حقیقی چیز ہے۔
 
ہڈیوں اور دیگر اعضاء کے برعکس ، ہمارے دانت جسم کا واحد حصہ ہیں جو خود کو ٹھیک اور مرمت نہیں کرسکتے ہیں۔
 
انسانی ہڈیاں انتہائی مضبوط ہیں اور یہ اسٹیل یا کنکریٹ سے زیادہ مضبوط ہیں۔ ایک کیوبک انچ ہڈی میں 19،000 پونڈ (8،618 کلو گرام) یا اس سے زیادہ کا وزن برداشت کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔
 
 
ہماری جلد کی پوری سطح ہر ماہ خود کو پوری طرح سے نیا تخلیق کرتی ہے، لہٰذا انسان زندگی بھر میں ایک ہزار مختلف "جلد" تبدیل کرتا ہے۔
 
قدرتی طور پر سنہرے بالوں والے لوگوں کے بال زیادہ ہوتے ہیں۔ ان کے سروں پر لگ بھگ ڈیڑھ لاکھ بال ہوتے ہیں جبکہ سیاہ بالوں والے لوگوں کے پاس صرف ایک لاکھ 20 ہزار کے لگ بھگ ہوتے ہیں۔
 
آنکھ کے پپوٹے کے نچلے حصے میں ایک چھوٹا سا سوراخ ہوتا ہے اور اسے lacrimal punctum کہا جاتا ہے اور یہ آنسوؤں کو ناک کی جانب بہاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رونے کے بعد ناک بہتی ہے۔
 
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)

Comments

آپ کی رائے
Language: