ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی

(Ghulam Ullah Kiyani, Islamabad)

ڈاکٹر عافیہ صدیقی امریکہ کی جس جیل میں قید ہیں، وہاں ایک خاتون قیدی کورونا وبا سے دم توڑ بیٹھی جب کہ دیگر 131قیدی وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔ اس کے باوجود ڈاکٹر عافیہ کی حفاظت کے لئے اقدامات نہیں کئے گئے۔ پاکستانی ڈاکٹر کی رہائی کے لئے عمران خان حکومت سرگرم دکھائی دے رہی تھی۔انہوں نے 2018کے عام انتخابات میں جس میں وہ کامیاب ہوئے، ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کا معاملہ انتخابی منشور کا حصہ بنایا۔ وزیراعظم نییہ ایشو امریکی حکام کے ساتھ بھی اٹھایا۔ مگر ڈاکٹر شکیل آفریدی کی امریکہ کو حوالے کرنے کے بدلے داکٹر عافیہ کی رہائی کا معاملہ بھی سرد خانے کی نذر ہوا۔ڈاکٹر عافیہ کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے سندھ ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی تھی جس کی سماعت عدالت کا دو رکنی بینچ کر رہا تھا۔مگر حکومت نے عدالت کی معاونت کے بجائے حیلے بہانوں سے کام لیا۔اپریل 2019کو دفتر خارجہ کے ترجمان نے عدالت کو بتایا کہ ڈاکٹرعافیہ پاکستان واپس نہیں آنا چاہتی، اس لئے حکومت کچھ نہیں کر سکتی۔

آئین پاکستان کے آرٹیکل 4کے تحت وفاق کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں ، چاہے وہ جہاں کہیں بھی ہوں، کی جان اور عزت کی حفاظت کرے۔ مگر ڈاکٹر عافیہ کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وفاق اس سلسلے میں دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کر رہا ہے۔ مگر ڈاکٹر عافیہ نے وزیراعظم عمران خان کے نام اپنی رہائی میں کردار ادا کرنے کے لئے ایک مکتوب بھی ارسال کیا۔ ان کی والدہ نے بھی رہائی کے لئے وزیراعظم کے نام خط لکھا ہے۔ وفاق طبی بنیادوں پر ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لئے امریکہ سے رجوع کر سکتاہے۔ امریکہ بارگیننگ چاہتا تھا۔ وہ شرائط عائد کرتا رہا۔ ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی کے بدلے ڈاکٹر عافیہ کو آزاد کرنے کی اطلاعات بھی عام ہوئیں۔ ڈاکٹر عافیہ کی امریکی حراست میں 17سال ہو گئے ہیں۔وہ ٹیکساس کے ایک قلعہ میں قید ہیں۔ تین بچوں کی ماں ، پاکستانی سائنسدان کو پہلے سزا ہوئی، مقدمہ بعد میں چلا۔ کوئی حکومت رہائی کے لئے کچھ نہ کر سکی۔ امریکہ سے نیوروسائنس میں پی ایچ ڈی ڈاکٹر صدیقی پر کسی کے قتل کا الزام نہیں بلکہ افغانستان پر امریکی فوج پر حملے اور القائدہ سے تعلق کا الزام ہے۔

ڈاکٹر صدیقی مارچ2003سے امریکی قید میں ہیں ۔ان پر 2008میں مقدمہ چلایا گیا۔ 2010میں امریکی عدالت نے 86سال سزائے قید سنائی ۔ آج ایک بار پھر ڈاکٹر صاحبہ کی ہمشیرہ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی وزیراعظم عمران خان کو خط لکھ کر ان کی توجہ اس طرف دلارہی ہیں۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے یہ معاملہ امریکہ کے سینئر سفارتکارپرنسپل ڈپٹی نائب وزیر خارجہ برائے جنوبی و سط ایشیا امور ایلس ویلز سمیت دیگر حکام کے ساتھ اٹھایا۔ اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کے ڈیفنس اتاشی کرنل جوزف نے نشے کی حالت میں ٹریفک سگنل توڑتے ہوئے عتیق بیگ نامی ایک پاکستانی شہری کو کچل کر ہلاک اور اس کے دوست کو شدید زخمی کردیا ۔ 2010ء میں ریمنڈ ڈیوس نامی امریکی جاسوس نے 2 پاکستانی شہریوں کو لاہور میں اپنے پستول سے قتل کردیا اور اس کی مدد کو آنے والی امریکی قونصل خانے کی گاڑی نے مزید ایک شہری کو کچل کرشہید کیا۔ ریمنڈ ڈیوس نے The Contractor کے ٹائٹل کے ساتھ کتاب لکھ کراس بات کا اعتراف کیا کہ وہ امریکی سفارتکار نہیں بلکہ ایک جاسوس تھااور اس نے اپنی کتاب میں تفصیل سے اپنی رہائی کیلئے ہماری اس وقت کی قومی قیادت کے کردار کو توہین آمیز طریقہ سے تفصیل کے ساتھ بیان کیا اور جس سے یہ افسوسناک پہلو بھی سامنے آتا ہے کہ ہمارے حکمرانوں کی نظر میں ملک کے وقار اور پاکستانی شہریوں کی زندگی کی کیاقدر و قیمت ہے۔

آئین کے آرٹیکل 4کے تحت حکومت نے کیا اقدامات کئے۔ فروری 2013 ء میں امریکی سفارتخانے کی ایک گاڑی نے اسلام آباد میں ٹریفک سگنل توڑ کر ایک پاکستانی سرکاری ملازم کو کچل کر شہید اور اس کے دوست کو شدید زخمی کردیامگر کوئی کاروائی نہیں کی گئی کیونکہ قاتل امریکی تھا۔ امریکی کرنل جوزف نے ایک اور پاکستانی کو شہید کردیا ۔ اس موقع پر ایک مرتبہ پھر سیاسی قیادت خاموش رہی ۔ان واقعات کو سامنے رکھیں اور پھر قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کی طویل پرتشدد قید تنہائی کا جائزہ لیں۔ امریکیوں نے پاکستان کے قوانین کی اس قدر سنگین خلاف ورزی کی کہ 5 پاکستانیوں کی جانیں چلی گئیں مگر امریکی قاتل مکمل پروٹوکول کے ساتھ چھوڑ دئیے گئے۔کوئی پاکستانی سفارتکار امریکہ میں ٹریفک سگنل توڑنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا ہے۔ خدانخواستہ اگر کوئی امریکی کسی پاکستانی سفارتکار کی گاڑی سے اس طرح کچل کر مارا جائے کہ ٹریفک کا اشارہ بھی توڑا گیا ہو تو امریکی معاشرہ کا احتجاج اور امریکی میڈیا کے کردار کا اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں ہے۔ مگر ہمارے معاشرے پر سکوت چھایا ہوا ہے۔جو لوگ سفارتی استثناء کی بات کررہے ہیں وہ جواب دیں کیاقاتل کو استثناء حاصل ہوتا ہے؟ عافیہ کوتو مکمل استثناء حاصل تھا، پاکستانی شہری ہونے کے باوجود اسے افغانستان سے امریکہ منتقل کرکے ایک جھوٹا اور من گھڑت مقدمہ چلایا گیا تھا۔ بین الاقوامی قوانین کی رو سے عافیہ پر مقدمہ چل ہی نہیں سکتا تھا۔یہ معاملہ بلا شبہ ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کا نہیں بلکہ یہ عالمی برادری میں ملک کی عزت و وقار کی بحالی کا معاملہ ہے۔ صدرمملکت، وزیراعظم ،چیف جسٹس، آرمی چیف، سیاسی قائدین،اراکین پارلیمنٹ، صحافی برادری اور سول سوسائٹی اس طرف کب متوجہ ہو گی۔ پاکستان کی وزارت خارجہ کے سابق ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل کے مطابق ہوسٹن میں پاکستانی قونصل جنرل عائشہ فاروقی نے ڈاکٹر صدیقی کا خط وزیراعظم کو پیش کیا۔اگر وزیراعظم کی ہدایت پر ڈاکٹر صدیقی کی رہائی کے لئے حکومت سفارتی اقدامات کر رہی تھی۔تو ان کے نتائج کیا ہوئے۔ حکومت سنجیدگی دکھائے اور کسی ڈیل کا حصہ بنے بغیرکردار ادا کرے۔ کورونا وائرس سے امریکہ کی اس جیل میں قیدی لقمہ اجل بن رہے ہیں۔اگر حکومت طبی بنیادوں پر ہی سہی ، اگر کچھ ہمت کرے تو ڈاکٹر عافیہ سمیت سمندر پار قید دیگر بے یار و مددگار پاکستانیوں کی رہائی کے امکانات روشن ہو جائیں گے۔


 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 585 Articles with 229161 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More
20 Jul, 2020 Views: 407

Comments

آپ کی رائے