خطے میں مکمل تنہائی کے بعد دہشت گرد بھارت پاکستان میں دہشت گردی کرنا چاہتا ہے

(Syed Maqsood ali Hashmi, )

سب سے پہلے تو پاکستان میں جتنے بھی غدار نسل لوگ ہیں انکو سزاے موت دینی چاہئے تاکہ ہندو دہشت گرد پاکستان میں جن گندی نسل کو فنڈنگ کر رہا ہے اس نیٹ ورک کو ختم کرنا ہوگا
مافیا کیجانب سے کالا باغ ڈیم کے بعد بھاشا ڈیم کو متنازعہ بنانے کی کوششیں شروع ، سوشل میڈیا پروپیگنڈہ کے پیچھے جئے سندھ ، قومی محاذ ، سندھو دیش آرمی ، پی ٹی ایم ، پی پی ، ن دیگر جماعتیں بی ایل اے کیساتھ ملکر بھارتی را کیجانب سے ملنے والی فنڈنگ سے بھاشا ڈیم کیخلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ ۔ ۔

عمران کے دورہ چلاس کے بعد بھاشا ڈیم پر کنسٹرکشن کا با ضابطہ اعلان ہو چکا ۔ چلاس کی جیو سٹریٹیجک پوزیشن بہت اہم ہے ، قراقرم ہائی وے ، مشرقی لداخ تک جانے والا روٹ ، یہی روٹ سکردو ، بابو سر ٹاپ کو ملاتا ہے ۔

سی پیک کے بعد بھارت کی نظریں بھاشا پر جم گئی ہیں ، اسکی خواہش ہے یہ منصوبہ پایہ تکمیل تک نا پہنچے ۔ ۔ ۔ بھاشا ڈیم سے 4800 میگا واٹ سستی بجلی ملے گی ، پانی ذراعت اور پینے کے کام آےُ گا ۔ تربیلا ڈیم کی لائف بڑھ جاۓ گی ، سیلابی پانیوں سے سندھ کو بچایا جا سکتا ہے ۔

را نئے نئے ناموں سے نیٹ ورک قائم کر رہی ہے ، ورلڈ سندھی کانگریس نامی جماعت کا پاکستان میں کوئی وجود نہیں ، امریکہ ، کینیڈا ، یو کے سے آپریٹ کی جا رہی ہے ، الطاف حسین کو سندھو دیش کا سربراہ بنایا جا رہا ہے ، اندروں خانہ سب دہشت گرد ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو چکے ہیں ۔ ۔ ۔
پانچ جون کو عزیر بلوچ کی جے آئ ٹی منظر عام پر آنے کے بعد سب کھرے آصف زرداری ، فریال تالپور ، بلاول و دیگر لیڈر شپ تک جا رہے تھے ، انکو لگا یہ اب فارغ ہونے جا رہے ہیں ، 4 اگست کو آصف زرداری پر فرد جرم عائد ہوگی ، اسی لئے اسٹیبلشمنٹ کو پیغام دیا جا رہا ہے ، ہم سے دور رہو ، ابھی دہشت گردی کی بڑی کارروائیاں ہو سکتی ہیں ۔

روس ، چین لانگ ٹرم پلاننگ کر رہے ہیں ، روسی صدر نے خود کو 2036 تک کیلئے صدر منتخب کروا لیا ہے ، چین 25 ، 25 سال کے معاہدے کر رہا ہے ۔ پاکستان کو بھی فوری دشمنان وطن کو ڈھیل دینے کی بجاۓ ، کھلم کھلا کارروائی کرنی ہوگی ، جتنی ڈھیل دی جائے گی ، بیرونی ایجنسیز سے لوکل جماعتوں کے رابطے مضبوط ہونگے ۔ ایک نئے نظام کی بنیاد رکھنے کا یہی سب سے مناسب وقت ہے ، تاکہ وطن و عوام کو استحکام حاصل ہو ۔

بھارت کو چاہ بہار کیساتھ چاہ بہار ریلوے پروجیکٹ ، نارتھ ساؤتھ ٹرانسپورٹ کوریڈور ( NSTC ) سے بھی فارغ کر دیا گیا ہے ۔
چاہ بہار ریلوے پروجیکٹ سی پیک کا متبادل روٹ بھارت کی جانب سے قرار دیا جا رہا تھا ، یہ چاہ بہار سے زاہدان ، زارانج ( افغانستان ) ، ڈیلو رام پھر سینٹرل ایشیا ، یورپ تک جانا تھا ۔ ۔ ۔ اس جعلی منصوبے کے ذریعے ایران ، افغانستان کو ساتھ ملا کر بھارت دونوں ممالک کی سر زمین پاکستان کیخلاف استعمال کرتا رہا ۔ ۔ ۔ ایک ٹکا ڈویلپمنٹ پر خرچ نہیں کیا ، میڈیا کے ذریعے ہائپ بنائے رکھی ۔ ۔ ۔ ایران ، افغانستان کو سمجھا دیا گیا ہے آپ کے چار سال ضائع کر دئیے ہیں بھارت نے ۔ ۔ ۔
اب بندر عباس کا جزیرہ بھی چینی فوج کے حوالے کیا جا چکا ہے ، بھارت ، امریکہ خطے سے مکمل باہر ۔

انٹرنیشنل نارتھ ساؤتھ ٹرانسپورٹ کوریڈور ۔ ۔ ۔ سات ہزار کلو میٹر لمبا کوریڈور ، یورو ایشین منصوبے کا اہم کردار ، اس میں بھارت کیساتھ روس دلچسپی لے رہا تھا ۔
انڈیا ، ایران ، آذر بائیجان ، روس ، سینٹرل ایشیا سے یورپ تک جانا تھا ۔ ۔ ۔ بھارت امریکی پابندیوں کے خوف سے ، اسرائیلی ٹرانس عریبین کوریڈور میں دلچسپی کیوجہ سے بھاگ گیا ، روس ، بھارتی نیت سمجھ کر پہلے الگ ہو گیا تھا ، ایران ٹریپ ہوتا رہا ، بھارت کے ہاتھوں ۔ ۔ ۔

اب یہ ٹرانس عریبین کوریڈور TAC کیا ہے ؟ 2019 میں اسرائیل نے اعلان کیا تھا جی سی سی ممالک کیساتھ ملکر TAC کوریڈور بنایا جائے ، جو میڈیٹیرین سی ، یورپ تک تجارتی راہداری قائم کرے ۔ ۔ ۔یا سمندری راستے کے ذریعے اسرائیل ، یورپ تک تجارتی راہداری بنائی جائے ، TAC میں روس ، ایران شامل نہیں تھے ، اسے امریکی تائید حاصل تھی ، بھارت بھاگ کر اس میں شامل ہوا ، مگر اب TAC کا مستقبل تاریک ہو چکا ہے ، جی سی سی میں چین آ کر بیٹھ گیا ، جی سی سی ممالک کیساتھ سٹریٹیجک معاہدے کر رہا ہے ۔ ۔ ۔ بھارت کی چھٹی ۔
نارتھ سی پیک روٹ میں پاکستان کیساتھ روس شامل ہو رہا ہے ، جو گلگت بلتس تان سے چین ، چین سے روس تک جاۓ گا ۔ خطے میں بھارت مکمل تنہائی کا شکار ۔
بھارتی بہادر افواج فنگر فور پر اپنا مین ملٹری بیس چھوڑ کر فرار ، بھارتی میڈیا حلق پھاڑ کر چیخ رہا ہے ، مودی ڈوول ، بپن راوت ، بھارتی افواج ، را کو عوام و میڈیاکیجانب سے بھرپور گالیوں کا سامنا ، شدید ترین ذلت و رسوایئ۔ ۔ کے بعد بھی ہندو دہشت گرد زندہ ابھی تک زندہ کیوں ہے اسکو شرم سے چلو بھر پانی میں ڈوب کر مر جا نا چاہئےچاہئے

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Syed Maqsood ali Hashmi

Read More Articles by Syed Maqsood ali Hashmi: 135 Articles with 49658 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
20 Jul, 2020 Views: 208

Comments

آپ کی رائے