دہشت گرد کلبھوشن کو پھانسی ہوگی ۔؟

(Umer Farooq, )
کلبھوشن صرف جاسوس ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی دہشت گردہے مگرہمارے دفترخارجہ سمیت میڈیااوردیگرجماعتیں کلبھوشن کوصرف جاسوس قراردے کراس سے نرمی کابرتاؤ کررہی ہیں حالانکہ کلبھوشن نے ریاست پاکستان کے خلاف کسی قسم کی نرمی نہیں برتی ،چاہ بہارمیں بیٹھ کراس نے کراچی اوربلوچستان میں دہشت گردی کے نیٹ ورک تشکیل دیئے ،اس دہشت گردنے اعتراف کیاکہ وہ انڈین نیوی میں حاضر سروس کمانڈر رینک کا افسر ہے اور 2013 سے خفیہ ایجنسی 'را' کیلئے کام کررہا ہے جبکہ پاکستان میں فرقہ وارانہ فسادات کروانے، بلوچستان اور کراچی کو پاکستان سے علیحدہ کرنا اس کا اہم مشن تھا۔

افسوس سے کہناپڑتاہے کہ بھارتی دہشت گردکے معاملے پرہماری سیاسی جماعتوں نے سیاست شروع کررکھی ہے پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو اوران سے قبل رضاربانی نے کہاکہ حکومت نے دوماہ قبل کلبھوشن کوریلیف دینے کے لیے ایک خفیہ آرڈیننس جاری کیاہے ،بلاول بھٹونے تویہاں تک کہاہے کہ، اگراس قسم کا آرڈیننس ہم لے آتے توہمارا جینا حرام کردیتے۔دفاعِ پاکستان کونسل اسلام آباد میں دھرنا دے دیتی،دوسری طرف حکومت بھی گومگوکاشکارہے کھل کربتانہیں رہی اس آرڈیننس کامقصدکیاہے ؟
جہاں تک دفاع پاکستان کونسل اوردیگرمذہبی جماعتوں کاتعلق ہے تویہ حقیقت ہے کہ کلبھوشن سمیت دیگرایشوز پرکبھی دفاع پاکستان کونسل متحرک ہوتی تھی یہ اتحادبھی مولاناسمیع الحقؒ کےؒ قتل کے ساتھ ہی قبرمیں دفن ہوگیاہے ،جبکہ باقی مذہبی جماعتیں بھی اپنے مسائل کاشکارہیں ایک عالمی دہشت گردکوپھانسی کے پھندے پرلٹکانے کے لیے کہیں سے بھی آوازبلندنہیں ہورہی حالانکہ ابتداء میں کلبھوشن کوپھانسی کے مطالبات سامنے آئے تھے ،جہاں تک حکومت کی خارجہ پالیسی کاتعلق ہے توہمارادفترخارجہ ابھی تک کلبھوشن کودہشت گردکہنے سے بھی کتراتاہے ۔

سابق حکومت کومودی کے یارکے طعنے دینے والوں کی حالت یہ ہے کہ وہ اپنی زبانوں پرکلبھوشن کانام لینے سے بھی گھبراتے ہیں حالانکہ حکومت میں آنے سے قبل پی ٹی آئی کی طرف سے کلبھوشن کے متعلق جوشوروغوغاتھا تواس سے اندازہ ہورہاتھا کہ عمران خان برسراقتدارآتے ہی سب سے پہلے بھارتی دہشت گرد کوپھانسی کے پھندے پرلٹکائیں گے مگردوسال سے زائدعرصہ ہوچکاہے حکومت ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے اگرچہ حکومت کے پاس بین الاقوامی قوانین کے آڑے آنے کاجوازہے مگرکلبھوشن کے معاملے پرخاموشی بہت سے سوالات کوجنم دیتی ہے ۔

ایسے میں عوام کو خدشہ ہے کہ کہیں بھارتی دباؤ قبول کرکے کلبھوشن یادیو کو بھی اسکے حوالے نہ کردیا جائے۔ جیسا کہ پاکستان پر حملہ آور ہونیوالے بھارتی جہاز کے پائلٹ ابھی نندن کو واپس بھارت بھجوایا گیاتھا۔ اگر بھارت ہمارے خیرسگالی کے ہر جذبے کا جواب ہماری سالمیت کیخلاف سازشیں پروان چڑھا کر دیتا ہے تو ہماری جانب سے بھی اصولی طور پر ایسے کو تیسا والا جواب ہی آنا چاہیے۔ کلبھوشن ایک سفاک دہشت گرد ہونے کے ناطے مزید کسی رعایت کا مستحق نہیں اس لئے اسکے ساتھ کوئی نرمی نہ کی جائے اور قانونی تقاضے پورے کرکے اسے کیفر کردار کو پہنچانے کا اہتمام کیا جائے۔

دوسری طرف میڈیاکا حال یہ ہے کہ ہمارامیڈیاابھی تک امن کی آشاسے نہیں نکلاہے سیفمااوربھارت نوازلبرل طبقہ کلبھوشن کودہشت گردگرداننے میں رکاوٹ بن رہاہے ، بھارت سے دوستی کی پینگیں بڑھانے کے مشورے دیے جارہے ہیں جاسوسوں کے متعلق عالمی قوانین پرعمل پیراہونے کے بھاشن دیے جارہے ہیں حالانکہ کلبھوشن صرف جاسوس نہیں دہشت گرد ہے دہشت گردوں کاسہولت کارہے ایک ملک کودولخت کرنے کی سازشیں کرنے کامجرم ہے سینکڑوں پاکستانیوں کاقاتل ہے ،ہمارے ملک کاامن تباہ کرنے والادرندہ ہے ،بھارت کاحاضرسروس افسرجوپاکستان میں کھلم کھلاپاکستان کے اندرآکردہشت گردوں کومنظم کرتارہاایسے شخص کے متعلق میڈیاکی خاموشی افسوسناک ہی نہیں بلکہ مجرمانہ ہے ۔

ؒؒؒؒؒؒؒؒؒؒؒؒؒؒؒاس کے مقابلے میں انڈیاکے میڈیاکودیکھاجائے تووہ ایک کبوترکوپکڑکرکئی دن تک پاکستان کے خلاف جھوٹاپروپیگنڈہ کرتاہے حالانکہ اس اقدام پرعالمی سطح پربھارت کی جگ ہنسائی بھی ہوتی ہے مگربھارتی میڈیاکبوترکودہشت گرد اورجاسوس قراردے کراپنے عوام کوگمراہ کرتاہے ،حافظ سعیداورمسعود ازہرکے نام پرہڑبونگ مچاتاہے ،پاکستان کے خلاف دہشت گردی کاجھوٹاپروپیگنڈہ کرتاہے ان کے جرنیل ٹی وی پربیٹھ کرپاکستان کے خلاف ہرزرہ سرائی کرتے ہیں مگروہاں کی میڈیامیں کوئی امن کی آشاکانام نہیں لیتا،

کلبھوشن کی بوئی فصل اس وقت بھی ہم کاٹ رہے ہیں حالیہ کراچی سٹاک ایکسچینج حملہ ہویابلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات ہویہ ان منصوبوں کاحصہ ہیں جواس بھارتی دہشت گردنے بنائے تھے ،آئے روزکراچی میں ایسے ملزمان سامنے آرہے ہیں کہ جن کے راسے رابطے تھے حیران کن امریہ ہے کہ اس میں سرکاری ملازمین بھی شامل ہیں ایسے مجرم کے خلاف خاموشی ملک دشمنی ہے،کلبھوشن کی گرفتاری کے بعد سے اب تک سیکورٹی ادارے بیسیوں بھارتی جاسوسوں کو گرفتار کر چکے ہیں، حال ہی میں پاکستان نے چار بھارتی شہریوں کو دہشت گردی کی فہرست میں شامل کیا تھااور اقوام متحدہ کو آگاہ کیا ۔ پاکستان نے2019 میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل 1267 کی سینکشن لسٹ کے تحت وینومادھاڈونگارا ، اجے مستری ، گوبندا پٹنائک ، اور انگارا اپا جی نامی چار بھارتی شہریوں کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔ یہ بھارتی شہری ٹی ٹی پی ، جماعت الاحرار اور دیگر دہشت گرد گروہوں کو مالی ، تکنیکی اور مادی مدد فراہم کرکے پاکستان کے اندر دہشت گردی کی مالی اعانت ، سرپرستی اور منظم کر رہے تھے۔

کلبھوشن کی دہشت گردی کے خلاف 21 ستمبر 2016 کو ملٹری کورٹ میں کارروائی کا آغاز کیا گیا۔ 24 ستمبر کو شہادتیں ریکارڈ کی گئیں جس کے بعد تین سے زائد سماعتیں ہوئی جس میں چوتھی سماعت 12 فروری 2017 کوہوئی۔10 اپریل 2017 کو ملٹری کورٹ نے کلبھوشن جادھو کے پاکستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے جرم میں سزائے موت کا حکم دیا جس کی توثیق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کی۔اب حکومت نے20مئی کو جوآرڈیننس جاری کیاہے اس آرڈیننس کے تحت کوئی غیر ملکی شہری، یا مشن کا کوئی شخص ملٹری کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی یا دوبارہ غور کی درخواست آرڈیننس کے اجرا کے 60 دن کے اندر ہائی کورٹ میں دائر کر سکتا ہے مگرکلبھوشن نے نظرثانی اپیل کرنے سے انکارکردیاہے ۔

یاد رہے کہ 17 جولائی 2019 کو عالمی عدالت انصاف نے پاکستان سے گرفتار ہونے والے بھارتی جاسوس کلبھوشن جادھو کی بریت کی بھارتی درخواست مسترد کردی تھی۔عالمی عدالت انصاف نے کلبھوشن کی رہائی اور بھارت واپسی کی بھارتی درخواست بھی مسترد کی تھی جبکہ کلبھوشن کی پاکستان کی فوجی عدالت سے سزا ختم کرنے کی بھارتی درخواست بھی رد کردی گئی تھی۔دوروزقبل جب کلبھوشن تک قونصلررسائی دی گئی توبھارتی سفارتکاردہشت گرد سے چندلمحے ملاقات کے بعدبھاگ نکلے کلبھوشن انہیں پکارتارہامگرانہو ں نے اس کی نہیں سنی ،اب تیسری رسائی دی گئی ہے امکان ہے کہ بھارتی سفارتکاروں کی جانب سے کلبھوشن سے ملاقات میں ان کی سزا کیخلاف اپیل پٹیشن پر دستخط کروائے جائیں گے۔

حکومت کی پالیسیاں کشمیری مسلمانوں کے زخموں پرنمک پاشی کررہی ہیں جس دن اہل پاکستان اورکشمیری اپنے شہداء کے ساتھ اظہاریکجہتی کررہے تھے اسی دن حکومت نے عالمی دباؤپربھارت کو افغانستان سے مصنوعات کی برآمدات کے لیے واہگہ بارڈرکوکھول دیایاد رہے کہ کورونا وائرس کی عالمی وبا پھوٹنے کے بعد پاکستان نے رواں سال مارچ میں افغانستان اور ایران سمیت ہمسایہ ممالک کے ساتھ اپنی سرحدوں کو بند کر دیا تھا جس کی وجہ سے پاک افغان سرحد پر دو طرفہ تجارت اور واہگہ کے راستے بھارت جانے والی افغان برآمدات بھی رک گئی تھیں۔ہمیں دیکھناہوگا کہ یہ عالمی دباؤہم سے کہیں دہشت گردکلبھوشن کوبھی چھڑاکرنہ لے جائے ؟

 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Umer Farooq

Read More Articles by Umer Farooq: 104 Articles with 26442 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Jul, 2020 Views: 121

Comments

آپ کی رائے