تیسری جنگ عظیم کے محرکات اور چین! (پانچواں حصہ)

(Malik Shafqat Ullah, Jhang)
عوامی جمہوریہ چین موجودہ چین کو کہتے ہیں اور جمہوریہ چین سے مراد تائیوان اور اس سے ملحقہ علاقے ہیں۔ چین جو ایشیا کے مشرق میں واقع ثقافتی اور قدیم تہذیب کا علاقہ ہے۔ چین دنیا کی سب سے پرانی تہذیبوں میں سے ایک ہے جو آج ایک کامیاب ریاست کے روپ میں موجود ہے۔ اس کی ثقافت چھ ہزار سال پرانی ہے۔ جنگ عظیم دوم کے بعد ہونے والی چین کی خانہ جنگی کے اختتام پر چین کو دو ملکوں میں تقسیم کر دیا گیا، ایک کا نام عوامی جمہوریہ چین اور دوسری کانام جمہوریہ چین رکھا گیا ۔ عوامی جمہوریہ چین کے ماتحت مین لینڈ ، ہانگ کانگ اور میکاؤ،جبکہ جمہوریہ چین کا کنٹرول تائیوان اور اس کے ملحقہ علاقوں پر تھا۔چین کی تہذیب دنیا کی ان چند تہذیبوں میں سے ایک ہے جو بیرونی مداخلت سے تقریباََ محفوظ رہیں اور اسی وقت سے اس کی زبان تحریری شکل میں موجود ہے۔ چین کی کامیابی کی تاریخ کوئی چھ ہزار سال قبل تک پہنچتی ہے۔ صدیوں تک چین دنیا کی سب سے زیادہ ترقی یافتہ قوم اور مشرقی ایشیا کا تہذیبی مرکز رہا جس کے اثرات آج تک نمایاں ہیں۔اسی طرح چین کی سرزمین پر بہت سی نئی ایجادات ہوئی ہیں جن میں سے چار چیزیں کاغذ، قطب نما، بارود اور چھاپہ خانہ سب سے زیادہ مشہور ہیں۔چین کو پہلی بار 206-221 کے درمیان اوین بادشاہ نے یکجا کیا تھا۔ قن یاچن ایک چھوٹا سا جنگجو قبیلہ تھا جس نے چین کی تحریری زبان کو یکجا کیا اور چین کے حکمران کو شہنشاہ کا خطاب دیا تھا۔ شاہراہ ریشم کے تاجروں نے اپنے آپکو اسی نام سے کہلانا پسند کیا۔چین نے بھی تانبے، لوہے، بادشاہت اور ٹیکنالوجی کے بالترتیب ادوار دیکھے ہیں۔چین کی پہلی بادشاہت 206 سے 220 عیسوی تک رہی، اختتام کے بعد چین کے قبائل دوبارہ بکھر گئے، اور ان کے درمیان معرکے جاری رہے۔ اس کے بعد 500 عیسوی میں چین کو سوئی قبیلے نے متحد کیا، تانگ اور سونت بادشاہتوں کے ماتحت چین کا سنہری دور رہا ۔ ساتویں صدی سے چودھویں صدی عیسوی تک ٹیکنالوجی ، ادب اور آرٹ کے حوالے سے چین بتدریج دنیا کی سب سے زیادہ ترقی یافتہ اقوام میں شمار ہوتا رہا۔چھٹی صدی کے اختتام اور ساتویں صدی کے قریب نصف تک خاتم النبین حضرت محمد الرسول اﷲ ﷺ کا دور بنتا ہے، اور ان کی چین کے حوالے سے کئی احادیث ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ علم حاصل کرو چاہے تمہیں چین ہی کیوں نہ جانا پڑے!۔ یہ حدیث چین کے اس دور میں سماجی، سیاسی، معاشرتی اور اقتصادی ترقی کی گواہی ہے۔1271عیسوی میں منگول راہ نما قبلائی خان نے یوآن بادشاہت کا آغاز کیا جو سونگ بادشاہت کے زیر اثر بنی۔ ژونگ ژینگ نامی کسان نے 1368ء میں منگولوں کو باہر نکالا اور منگ بادشاہت کی بنیاد رکھی جو 1644ء تک قائم رہی۔ دراصل چین منگولوں کے ہاتھ آ گیا تھا، لیکن برقے ہلاکو تاریخی معرکے میں ہلاکو خان کو بری طرح شکست کا سامنا کرنا پڑا جس کے بعد سے منگولوں کی تنزلی شروع ہوگئی، اور آہستہ آہستہ مفتوحہ علاقے ان کے ہاتھوں سے جاتے رہے۔منچو کی بنائی ہوئی اونگ بادشاہت 1911 تک قائم رہی جسے بعد میں پوئی نے ختم کیا۔ اونگ کی بادشاہت چین کی آخری بادشاہت تھی۔ اٹھارہویں صدی میں چین کو مرکزی ایشیا کی ان اقوام پر واضح ٹیکنالوجیکل برتری حاصل ہو چکی تھی جن سے چین کئی صدیوں سے جنگیں کرتا چلا آرہا تھا۔ لیکن یہ برتری یورپ سے کم تھی، جہاں عثمانی سلطنت ، سلجوق سلطنت کے اختتام اور منگولوں کے خاتمے کے بعد قائم کی گئی تھی۔ انیسوی صدی میں جیسے ہی چین نے بیرونی تجارت اور مشنری سرگرمیوں کیلئے در وا کئے افیون کھلے عام بکنے لگی، برطانیہ کے ساتھ ہونے والی دو افیونی جنگوں نے بادشاہ کے قبضے کو کمزور کر دیا۔ اس کے نتیجے میں تائی پنگ کی خانہ جنگی ہوئی جو 1851 سے لے کر 1862 تک جاری رہی۔ اگرچہ امپیریلزم والی افواج کو اس میں فتح حاصل ہوئی لیکن یہ خانہ جنگی انسانی تاریخ کی سب سے ہولناک جنگوں میں سے ایک تھی۔ اس جنگ میں دو کروڑ سے زائد ہلاکتیں ہوئیں جو جنگ عظیم اول میں ہونے والی ہلاکتوں سے زیادہ ہیں۔یکم جنوری 1912ء کو عوامی جمہوریہ چین قائم ہوئی اور فنگ بادشاہت کا اختتام ہوا۔ نیشنلسٹ پارٹی کے سون یات سن کو صوبائی گورنر بنایا گیا۔ تاہم ایک سابقہ فنگ جنرل یوآن شیکائی جو انقلاب کیلئے ناموزوں سمجھا گیا تھا نے سن کو ایک طرف کر کے خود صدارت سنبھال لی۔یوآن شیکائی کی موت کے بعد سیاسی لحاظ سے چین منقسم ہو چکا تھا۔ 1920ء کے آخر میں نیشنلسٹ پارٹی نے چیانگ کائی شیک کے زیر انتظام ملک کو اپنے زیر انتظام کیا۔سینو جاپانی جنگ (یعنی دوسری جنگ عظیم) جو 1937 سے 1945 تک جاری رہی، نے نیشنلسٹ اور کمیونسٹس کے درمیان عدم اعتمادی کی وجہ سے چینی سول وار شروع کر وادی۔1945 ء میں جاپان کی شکست کے بعد چین بظاہر فاتح لیکن درحقیقت معاشی طور پر خالی تھا۔ آج جمہوریہ چین تائیوان تک پھیلی ہوئی ہے، جبکہ عوامی جمہوریہ چین کے پاس مین لینڈ کا کنٹرول موجود ہے۔ عوامی جمہوریہ چین کو 22 صوبوں پر انتظامی کنڑول ہے اور تائیوان کو اس کا تئیسواں صوبہ سمجھا جاتا ہے، جبکہ تائیوان فی الحال آزادانہ طور پر جمہوریہ چین کی حکومت ہے۔ 22صوبوں کے علاوہ چین کی انتظامی تقسیم میں پانچ خودمختار علاقے اور چار بلدیات بھی شامل ہیں۔ جبکہ ہانگ کانگ اور مکاؤ کا شمار چین کے خصوصی انتظامی علاقوں میں ہوتا ہے۔ حالیہ دنوں میں ہانگ کانگ اور مکاؤ میں انتہائی درجے تک بیرونی مداخلت اور علیحدگی پسند تحریکوں نے امن و سکون برباد کئے رکھا ہے، اور چین آج بھی اس خانہ جنگی کے ساتھ بر سر پیکار ہے۔لیکن ساتھ ہی چین نے اپنی تاریخی خود مختاری اور حاکمیت کو حاصل کرنے کیلئے خود کوبہت جلد مضبوط بنا لیا ہے۔ معاشی و اقتصادی سطح پر چین کی ترقی اسے سپر پاور بنانے کے قریب ہے، یا اگر چین کو سپر پاور مان لیا جائے تو بے جا نہ ہوگا! ایک طرف اس کے ون بیلٹ ون روڈ منصوبے، دوسری طرف جاپانی و امریکی مصنوعات کو دھکیل کر اپنی مصنوعات کا دنیا کے 160سے زائد ممالک میں جگہ بنانا ، تیسری طرف عسکری سطح پر مضبوط ترین بن کر سامنے آنا چین کی بڑی کامیابیوں میں سے ہیں۔لیکن عالمی چوہدراہٹ کی تبدیلی اتنی آسان نہیں ہو سکتی! ظاہر ہے چین نے 2020 میں خود کو سپر پاور بن جانے کا اعلان کیا ہوا ہے، اس کے بعد سے ہی دنیا کے حالات میں بہت حد تک تبدیلی آئی ہے۔وبا پھیلا کر پہلے چین اور اس سمیت دنیا بھر کے سکون کو تباہ کرنے کی مذموم سازش کو چین نے ہرا دیا ہے۔ اس وقت چین میں موجود تمام ان نجی کمپنیوں جو مغربی تھیں کے شئیرز حکومت نے خرید لئے ہیں اور معاشی سطح پر چین پوری دنیا کے برعکس زیادہ مضبوط ہو چکا ہے۔ اس کے حریف نے چین کو ہر طرف سے مات دینے کی کوشش کی ہے ، یہاں تک کے بھارتی فوج کو استعمال کر کے تبت کے مقام پر جنگ شروع کروانے سے بھی بعض نہیں آئے ! لیکن چین نے اپنی بہترین حکمت عملی سے عالمی ہرزہ سرائی کو لگام ڈالی ہے۔ جسکی وجہ سے بھارتی وزیر اعظم کا پول فاش ہو گیا ہے کہ وہ بیرونی طاقتوں کی کٹھ پتلی کے سوا کچھ نہیں۔ خواہ کچھ بھی ہو ! امریکہ، اور اسرائیل چین کے ہاتھوں میں عالمی چوہدراہٹ کبھی نہیں چاہیں گے! ظاہر ہے اس کیلئے وہ ہر حد تک گر سکتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں مزید وبائیں پھیلانے کی توقع کی جا سکتی ہے، جن میں سے اہم ترین، ریبیز، سرطان اور اس جیسی دیگر جان لیوا وباؤں کے پھیلنے کا خطرہ موجودہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جہاں دنیا کی دیگر لیڈر شپ کی جان کو خطرہ ہے اسی طرح چین کی اعلیٰ سطحی لیڈر شپ کی جان کو بھی خطرہ ہے! کیوں کہ استعماری لابی ہر حال میں اہم ممالک میں اپنے مقاصد پر چلنے والوں کی بالادستی کیلئے جی توڑ کوششوں میں مگن ہیں۔برطانیہ میں نئے شہزادے کی حکومت اور اسرائیل میں نئے منتخب ہونے والے صدر سابق جنرل بنجامن کی وجہ سے برطانوی پالیسیاں اب امریکہ اور اسرائیل سے متعلق بدل چکی ہیں۔چین کی عوامی جمہوری حکومت اس وقت پاکستان، روس، برطانیہ اور ان کے اتحادیوں کے ساتھ مضبوط گٹھ جوڑ کر کے انہیں مضبوط کرنے میں مگن ہے۔ لیکن جمہوریہ چین سے دوبارہ خانہ جنگی کی توقع رکھی جا سکتی ہے، امید ہے چین کی حکومت ماضی سے عبرت حاصل کرتے ہوئے اس سانپ کے پھن کو پہلے کچلے گی۔
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Malik Shafqat ullah

Read More Articles by Malik Shafqat ullah : 212 Articles with 91422 views »
Pharmacist, Columnist, National, International And Political Affairs Analyst, Socialist... View More
22 Jul, 2020 Views: 247

Comments

آپ کی رائے