دل تتلی بن اُڑا

(Saima Munir, Nankanasahib)

قسط_13

رجب دروازہ نوک کرتے ہوئے۔۔۔۔بھائی میں آجاون۔۔۔
زمرد آنکھیں ملتے ہوئے "آو رجب!
دھڑام سے دروازہ کھولا آہستہ سے بند کرتے ہوئے۔ بھائی مجھے ایک ضروری کام ہے!
زمرد:کہنی تکیے پر رکھتے ہوئے ذرا سا اٹھا"ہاں بولو"
میرا لیپ ٹاپ خراب ہوگیا ہے۔سانس سے سانس نہیں مل رہی تھی" اگر آپ کا لیپ ٹاپ فارغ ہے تو کچھ دیر کے لیے دے دیں۔
ایک لمحے کو زمرد کے چہرے پر ناگواری آئی پھر مسکراتے ہوئے" سامنے ٹیبل پر پڑے لیپ ٹاپ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے"
رجب"لپک کر لیپ ٹاپ اٹھایا۔۔۔۔تھوڑا چلا پھر مڑکر بھائی پاسورڈ؟
زمرد سر کھجا کر دوبارہ واڈروب کی طرف متوجہ ہوا  ۔۔۔چھوٹے سے وقفے کے بعد بولا "ایس یو آر کے ایچ اے بی"
رجب"ہیں۔۔۔۔۔نام ہی لے لیتے۔۔۔ باہر نکل گیا۔
____
سویرا"فون ملا کر بیل بجی پھر بجی پھر۔۔۔۔ نہیں اٹھایا۔پھر دوبارہ ملایا۔۔۔وہی ہوا پھر رکھ کر کچن میں چلی گئی۔ کہاں چلی گئی ہے؟
تنزیلہ: تیار ہوکر کچن میں آئی! سویرا اسے دیکھ کر بلبلا اٹھی"ٹنزیلہ آج پھر کالج سے چھٹی"
تنزیلہ جھنجھلا کر پیچھے ہٹی فریج کھول کر خالی فریج میں جانکتے ہوئے بوتل نکالی: نہیں سویرا آج کالج میں کلرز ڈے ہے" سویرا"اچھا اچھا" سویرا"اسکی تھوڑی کو ہاتھ سے مس کرتے ہوئے "میڑی بہن اپنا بہت سا خیال ڑکھنا" تنزیلہ"چھوڑو بھی میں بچی تو نہیں ہوں! ٹیبل پر بوتل رکھی کرسی پر بیٹھ کر پانی پینے لگی۔ سویرا اسے پیچھے سے تھام کر" میڑی چڑیا ٹمہیں نہیں پٹہ یہ کٹنی ظالم ڈنیا ۔۔۔۔ اتنے مین ڈور بیل بجی سویرا بھاگتے ہوئے دروازے کے پاس پہنچی دوپٹہ ٹھیک کیا دروازہ کھولا تو چہرے کی ساری مسکراہٹ گم ہوگئی۔ اسلام علیکم بیٹی" زاہد نے سلام کیا" سویرا" وعلیکم سلام زاہڈ چچا" پانچ چھ کارٹن سامنے پڑے تھے اٹھا کر اندر رکھنے لگا" سویرا پیچھے ہٹ گئی۔ دروازے کے پاس سامان رکھ کر " معزرت کے ساتھ بیٹی  کل سامان نہیں پہنچا سکا میں" سویرا" نہیں اسکی ضڑوڑٹ نہیں ابھی پچھلے ہفٹے کا سامان بچا ہوا ٹھا" زاہد"بیٹی بس یہ بات عباس صاحب تک نہ پہنچے" سویرا " چچا آپ پڑیشان نہیں ہوں۔۔۔ نہیں بٹائیں گے! دعائیں دیتے ہوئے چلا گیا۔ اتنے میں تنزیلہ آئی بولنے لگی"کتنا بڑا ڈرامہ ہے یہ ۔۔۔ دوروازہ زور سے بند کیا۔"اگر اتنا خوف تھا عباس انکل کا تو کل دے کر جاتا" سویرا اسے سمجھاتے ہوئے سامان اٹھانے لگی!
______

ابھی زمرد واشروم سے نکلا ہی تھا کہ رجب واپس آگیا۔ "کیا ہوا رجب؟
رجب تیزی سے لیپ ٹاپ رکھتے ہوئے"کچھ نہیں بھائی ہوگیا کام"
زمرد آگے بڑھا اور کمرے سے بھاگتے ہوئے رجب کی بازو تھام کر" کہان کی جلدی ہے"
رجب بلکل ڈر گیا جیسے کسی نے اسکی چوری پکڑ لی ہو۔ بھائی میں دوست کے ساتھ باہر جارہا ہوں۔ زمرد نے اسے اپنے ساتھ بٹھا لیا۔ لیپ ٹاپ اوپن کرتے ہوئے کیا کام تھا؟
رجب" منھ کے اوپر ہاتھ پھیر کر وہ بھائی دراصل۔۔۔۔وہ دراصل آپکی تصویر چاہے تھی۔ ہاں ہاں اسے دیکھا کر مسکرانے لگا۔ زمرد"اچھا یہ بات ہے لیپ ٹاپ اٹھا کر ٹیبل پر رکھا اور دانت پیسنے لگا"کل تم میرے کمرے میں کیا کرنے آئے تھے؟
بھائی"میں وہ تصویر"آنکھیں پھیر لیں۔
زمرد"رجب دیکھو تم مجھ سے ڈائریکٹ بات کر سکتے تھے،اب تم جاسکتے ہو!
رجب" گردن جھکا کر چلتے ہوئے "سوری بھائی مگر میں وہ ٹھیک کرنا چاہتا ہوں جو پہلے آپ نے اور اب سارہ خراب کر رہی ہے۔
زمرد" اپنی سیٹ چھوڑتے ہوئے "رجب کیا مطلب"
رجب"کل آپکی اور سارہ کی اور بعد میں سارہ اور سُر کی تمام باتیں سن چکا ہوں" زمرد" رجب بات سنو میری!!
رجب اسکی آواز پر کان دھرے بنا چلا گیا۔
_______

رضیہ ونڈو سے باہر جھانکا اور باہر گلی مین نکل گئی۔ آج میری کامیابی کا دن ہے۔۔۔۔۔۔مسکراتے ہوئے بادلوں سے باہر جانکتے سورج کو دیکھ رہی تھی۔ مگر کیا یہ بلکل غیر اخلاقی نہیں کہ کسی کی ڈائری سے مواد چوری کروں۔ ہو سکتا ہے اسطرح اس کے قاتل کو سزا مل جائے۔۔! ویسے وہ علی کیوں بھڑک رہا تھا۔اسے لگا ہوگا میں پیسے چھپا لوں گی۔۔۔۔۔۔جب اسکا ہاتھ پکڑ اسے گرنے سے بچایا وہ منظر اسکی آنکھوں میں گھومنے لگا۔ ویسے بہترین شخصیت کا مالک۔۔۔۔وہ بے دھیانی میں بول گئی۔ رجی تجھے کیا ہوگیا ہے تف ہے چور کے بارے سوچ رہی ہو۔۔۔ بیوقوف ہو تم۔ واپس کمرے میں آگئی۔ دارو آئی ہاتھ میں فون تھامے یہ لو رجی یہ بج بج کے بند ہوگیا۔ رضیہ ارے یہ تو واقعی بند ہے چارجر پکڑ کر فورا سے کنیکٹ کردیا۔
_____
رجب سیڑھیوں سے اترا سیدھا سرخاب کے کمرے کی طرف چلا گیا۔ دروازے کے پاس پہنچ کر کھڑا ہو گیا۔سارہ"اچھا تم سوچتی رہو گی تو بہت دیر ہوجائیگی۔ یہ لو۔۔۔۔۔کر دو سائن!
سرخاب"لاو پکڑاو مجھے غصہ مت ہو۔۔۔فضول میں اپنا خون خشک کر رہی ہو" سارہ" دیکھو میں تمہیں علی کے ساتھ دیکھنا چاہتی ہوں۔تمہاری محبت، سوچو ذرا تمہارے سامنے ہے بس ہمت کرو"
سارہ"میں چلتی ہوں گلے ملی ، خیال رکھنا اپنا۔۔۔اللہ حافظ!
رجب بھاگ کر باہر چلا گیا۔ سارہ کمرے سے نکلی ادھر ادھر دیکھا چل پڑی۔ گیٹ کے قریب ہی تھی اسکے سامنے فٹبال گرا، گرتے گرتے بچی! غصے سے لال پیلی ہوگئی۔ رجب: سارہ تم جتنی تیز چل رہی ہو انجام اچھا نہیں ہونے والا۔ سارہ"مجھے ذرا جلدی ہے رجب۔ رجب" بڑی کمال مہارتین ہیں آپ نے جھوٹ کہاں سے سیکھا؟ سارہ پر طعش لہجے مین"رجب حد میں رہو" رجب" کیا ہوا مذاق کر رہا ہوں بال اٹھا کر اوپر اچھالی" تمہین دیکھ کر شیطان بھی انسان کی مہارتون پہ حیران ہوتا ہوگا ہے نا؟  اتنا آگے بڑا کہ سارہ پیچھے ہوتے ہوتے کافی پیچھے چلی گئی کہ توازن کھو دیا گرتے گرتے سنبھلی۔سارہ" تمہارا دماغ ہل گیا ہے کیسی باتیں کرہے ہو۔ رجب" میری بات غور سے سنو،میری بہن سے۔۔۔۔اتنے میں صابر آگیا۔۔۔۔عباس اسکے ساتھ ہی داخل ہوا۔ صابر کا گریباں پکڑ کر دفعہ ہو جاو! نمک حرام۔۔۔۔۔۔۔۔اونچی آواز مین ڈانٹنے لگا سارے ملازم جمع ہوگئے۔اتنے میں شیلو اور ذمرد بھی آگیا ۔ سارہ رجب کی باتوں سے بہت گھبرا گئی اور چپکے سے کسک گئی۔

زمرد نے آگے بڑھ کر عباس کو پیچھے ہٹایا۔۔۔۔عباس"بیٹا یہ کل رات گاڑی لے کر پتہ نہیں کہاں گیا۔اب سمجھ آئی کون ہے مخبری کرنے والا۔ شیلو نے چادر منھ پر رکھ کر چیخ ماری دی۔ الہی رحم!
زمرد"ماموں جاں میں نے انہیں بھیجا تھا" عباس"حیرانگی سے کیا کہا بیٹا؟؟
زمرد" کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے ماموں جاں اندر آئیں میں آپکو بتاتا ہوں!
شیلو صابر کے پاس کر "مجھے لگتا صاحب کو کوئی غلط فہمی ہو گئی ہے۔ صابر"چھوٹے صاب نہ ہوتے تو آج میری خیر نہیں تھی۔ شیلو" اب سمجھ آئی بڑے صاحب صبح صبح شبنم کے پاس کیون گئے تھے۔ صابر"اللہ اس گھر کو شاطر لومڑی کے شر سے بچائے۔ شیلو"امین!
_____
رجب ڈور نوک کرتے ہی ناب گمائی اور اندر آگیا۔ سرخاب نے سامنے پڑے کاغذ کے ٹکڑے ڈسٹبین میں پھینک دیے۔ سامنے پری گلاب اور کلیون کی پلیٹ مین انگلیاں پھیر رہی تھی۔اپنی ٹانگ بیڈ کے اوپر رکھ کر فولڈ کر لی۔ میں آج تمہیں تنگ کرنے نہیں آیا۔ سرخاب "مسکرائی تو آنکھ سے آنسو ٹپک گیا۔ ہاتھ سے صاف کرتے ہوئے۔آو رجب میرے پیارے بھائی۔ رجب" مسکرانے کی مذموم کوشش، میں آپکو دیتا ہوں 1 نمبر۔ سرخاب" کیا ہوا آج صبح صبح خیر تو ہے؟
رجب"کیا آپ علی بھائی سے بہت پیار کرتی ہیں؟ سرخاب"کون علی؟ کیسا مذاق ہے؟!
چلیں آپ زمرد بھائی سے نکاح پر خوش تو ہیں؟ سرخاب" کان سے پکڑ چلو نکلو باہر۔ بچوں کو ایسی باتیں زیب نہیں دیتیں۔
رجب"چھوڑیں جا رہا ہوں۔۔۔۔۔بس علی بھائی سے بہت پیار کرتی رہیں اور زمرد بھائی سے شادی کرلیں۔ کیونکہ سارہ جانتی ہے کہ علی بھائی ہی اصل میں زمرد بھائی ہیں۔ سرخاب نے اسکا کان چھوڑا۔ یہ کیا کہہ رہے ہو رجب؟ ششدر رہ گئی۔ رجب"  سُر مین سچ کہہ رہا ہون انہون نے امریکا مین اپنا نام چینج کیا تھا۔ سرخاب جیسے پتھر کی ہوگئی تھی۔ جھنجھلاہٹ سے حوس پر قابو پایا اور بولی"سارہ۔۔۔۔۔سارہ سارہ تف۔۔۔۔تف ہے تم پر!! فرش پر بیٹھ کر  رونے لگی۔ رجب آگے بڑھا سُر۔۔۔ اتنے مین دروازہ کھلا زمرد کو دیکھ کر رجب " بھائی آپ " وہ باہر چلا گیا۔ زمرد آگے بڑھا زمین پر بیٹھی سرخاب کو کندھوں سے پکڑ کر اٹھایا بیڈ پر بٹھا دیا۔" وہ میری بچپن کی دوست تھی۔۔۔وہ ایسی نہیں ہو سکتی۔
کچھ لمحے کمرے میں ہو کا عالم تھا! زمرد"خاموشی سے نظریں جھکا کر اسکے سامنے بیٹھ گیا۔ سرخاب نے اپنے ہاتھ آگے بڑھائے۔۔۔مجھے نہیں سمجھ آرہی مجھے خوش ہونا بھی چاہیے کہ نہیں۔ زمرد نے اسکے ہاتھ تھامے انگوٹھے اوپر پھیرنے لگا۔۔۔۔مجھے معاف کردو!
2

بہت تڑپایا ہے تمہیں۔ سرخاب اسے دیکھتے ہوئے۔۔۔۔میری سوچوں، تصور، خوابوں،تنہائی میں صرف اور صرف تم ہو۔۔۔۔۔۔۔بس  یہ نہیں معلوم تھا کہ تم میری حقیقت بھی ہو۔ زمرد نے اپنے دونوں ہاتھوں کے انگوٹھون سے اسکے آنسو صاف کر دیے۔ان نشیلی آنکھوں مین آنسو نہین دیکھ سکتا۔سرخاب نے اسکے دونوں ہاتھوں کو تھام لیا اور مسکرانے لگی۔ زمرد اسکی طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے۔۔۔۔۔تم کو کھو دینے کا خوف مجھے 15 سال  تڑپاتا رہا۔ جب سے ہمرا نکاح ہوا ہے یہی خوف رہتا تھا کہین تم مجھے ریجیکٹ نہ کردو۔سرخاب "مجھے کبھی اکیلے نہ چھوڑنا۔۔۔۔۔! اثبات میں سر ہلاتے ہوئے زمرد" تمہیں یاد ہے بچپن میں تم گڑیا کی جیلسی میں مجھ سے ہر وقت روٹھی رہتی تھی۔ اور میں تمہیں منانے کے لیے کیا کیا جتن کرتا تھا۔ پاس پڑے پھولوں کو اٹھا کر اسکی طرف کرتے ہوئے۔سرخاب" یہ لال اور سفید پھول تمہین منانے کا آخری حربہ ہوا کرتے تھے۔ کھلکھلا کر ہنسی۔۔۔ اتنے مین دروازہ پر نوک ہوئی  " عباس" سرخاب " سرخاب نے اسکے ہاتھ چھوڑ دیے۔
بابا آجائیں۔۔۔۔عباس اندر آتے ہی حیرانگی سے انہیں دیکھنے لگا۔۔۔۔کچھ دیر بعد بچو آج ناشتے کا کوئی اردہ نہیں ہے کیا؟ سرخاب اٹھ  کھڑی ہوئی جی بابا ہم آنے ہی والے تھے۔
______
رضیہ فون آن کر کے دیکھتے ہی ۔۔۔! سویرا او ہو آج پہلے اسکی طرف چکر لگا لوں۔ وہ بیگ اٹھا کر ابھی دروازے تک پہنچی تھی دارو ناشتے کی ٹرے لیے اندر داخل ہوئی! ٹوسٹ اٹھایا کپ مین ڈبو کر کھا لیا۔۔۔یہ کونسا طریقہ ہے رجی" آدھا ٹوسٹ واپس رکھتے ہوئے بس اب میں چلتی ہو سویرا میرا انتظار کر رہی ہے! دارو" یہ لڑکی اور اسکے کام۔۔۔ ٹرے رکھ کر خود ناشتہ کرنے لگی۔
______
شبیر واشروم سے نکلا" شکر ہے زمرد نے کام کردیا" اتنے میں شاداب کو ایک بند بلڈنگ کی طرف جاتے دیکھا جو تب سے ہی بند تھی جب سے وہ آیا تھا۔ شبیر نے اسکا پیچھا کرنا شروع کر دیا۔ دروازے پر ایک گارڈ کھڑا تھا۔ شبیر نے پاس پہنچ کر درختوں کے پیچھے چھپ گیا۔چھوٹا سا کنکر اٹھایا اور اسکے سر کا نشانہ لے کر زور سے اسے جھڑ دیا۔ آہ گرنے والے پتھر کی طرف گیا پھر اسے اٹھایا اور معائنہ کرنے لگا۔ آکر واپس کھڑا ہوگیا۔ شبیر بہت سے درختوں کے ساتھ ایک بڑی جھاڑی کے پیچھے چھپا اسے دیکھ رہا تھا"یہ تو بہت ہی ڈھیٹ ہے" ایک اور کنکر اٹھایا۔ اتنے میں وہ اپنے سر پر لگی ضرب کی ڈریکشن میں چلنے لگا۔ شبیر تھوڑ ایکٹیو ہوا کہنیوں کے بل لیٹ کر آگے بڑھنے لگا دروازے تک پہنچ گیا۔اسکے پلٹنے سے پہلے اندر داخل ہو گیا۔ کافی چلنے کے بعد اسے سامنے ایک جیل نما دروازہ نظر آیا۔ وہ اندر سے لاک تھا۔ وہ پیچھے مڑا اور ادھر ادھر دیکھنے لگا اچانک اسے ایک سوراخ نظر آیا۔کافی اندھیرا تھا جب وہ آگے گیا تو بولنے کی آوازیں سنی۔۔۔!!! وہ اور بڑھتا گیا تو اسے ایک چھوٹا روشن دان نظر آیا جب وہ اندر جھانکا تو ششدر رہ گیا"یہ لڑکیاں۔۔۔مطلب یہاں سٹور نہیں بلکہ انسانی سمگلنگ ہوتی ہے۔ سر پکڑ کر رونے لگا اے میرے مالک!!! جلدی سے واپس بھاگا۔ ابھی کوریڈور تک پہنچا ہی تھا کہ شاداب اندر سے نکلا " ہاں پھر کب تک مال بھیجواو گے۔ فضلو"300 پیس ہیں بس 20 ٹرکوں سے کام چل جائے گا" شاداب" دیکھنا گڑ بڑ نہ ہو جنید سے میں بات کرلوں گا" فضلو" سر اس بار اسنے اتنا مال مانگا ہے جیسے وہ اب دوبئی ہی شفٹ ہوجائے گا" شاداب" آم کھاو ہمیں پیڑ سے کیا مطلب۔۔! اتنے میں دو سرکاری ملازم اندر داخل ہوئے۔ شاداب بغلگیر ہوتے ہوئے" ارے میرے بھائی کے لیے کھانے کا انتظام کرو! ایک بولا سر نہیں ہم تو آپکے  سٹور میں موجود گندم کی انسپیکشن کے لیے آئے تھے۔ شاداب" کرخت لہجے میں آئیے جناب" وہ شاداب کا ہاتھ پکڑتے ہوئے اپ سے مل لیا سمجھو کام ہوگیا۔ شبیر چھپ کر انہیں دیکھ رہا تھا کاش میں ان حرام خورون کو مزہ چکھا سکتا۔
وہ سب لوگ باہر نکل گئے۔۔۔۔شبیر پریشانی میں ادھر ادھر پھرنے لگا پھر لوہے کی سلاخوں سے بنے دروازے کے پاس آیا تو اسے کھلا پایا۔" اللہ کا شکر ادا کیا اور دعا کی " یااللہ پاک مجھے ان مظلومون کو یہاں سے نکالنے سے پہلے  موت نہ آئے"
______
رضیہ اسپتال پہنچ کر سویرا کا انتظار کر رہی تھی۔ سویرا بڑی سی سفید چادر لپیٹ کر آتے ہی رکشا کو ہاتھ دیا۔ جاکر بیٹھ گئی۔ رضیہ بھی اسکے ساتھ آکر بیٹھ گئی۔ رکشا والے کو راستہ بتاتے بتاتے ایک بڑے سے پلازے کے پاس آکر "ڑکو بھائی صاحب"اسے پیسے دینے لگی۔ رضیہ" اتر کر کیوں لائی ہو یہاں!
سویرا" ڑجی ٹم ڈیکھنا ٹمہاڑی بہن ٹمہاڑے لیے کسے ڈھونڈ چکی ہے۔ رضیہ" اسکی طرف گھوری اور اسکے پیچھے پیچھے سیڑھیاں چڑھنے لگی۔ اپارٹمنٹ نمبر 29 ہاں یہ ہے انگلی کی اور جاکر بیل بجادی۔ رضیہ " یار کوئی نہیں ہے گھر دیکھو تو 10 منٹ سے سر کھپا رہی ہو۔  دروازہ کھلا سامنے ایک لڑکی تھی سہمی ہوئی ڈری ہوئی۔ سویرا" گڑیا کیسی ہو اب؟ رضیہ" نام سنتے ہی:یہ زرینہ آنٹی کی بیٹی "  گڑیا "اممی اممی زمرد بھئیا! وہ گر گئی" رضیہ نے آگے بڑ کر اسے اٹھانے کی کوشش کی سویرا نے پانی لاکر اسکے منھ پر چھینٹے مارے " گڑیا ہوش میں آتے ہی" سویرا باجی وہ وہ۔۔۔۔وہ مجھے لے جائے گا۔ میں نے نہیں جاون گی اسکے پاس۔۔۔نہیں! سویرا اسے حوصلہ دینے لگی تو وہ سو گئی۔ سویرا !ڑجی جاو  ٹم "ایک ایڈریس اسے تھماتے ہوئے" عباس انکل سے کہنا گڑیا مل گئی۔ ایک باٹ یاڈ ڑکھو انکے علاوہ کسی سے کچھ مٹ کہنا۔۔۔۔جلڈی جاو۔
رضیہ جلدی سے نکل گئی۔
_____
عباس ناشتے کی میز سنبھالتے ہوئے۔ سکینہ کیا تم نہین لگتا ہمیں اب سرخاب کی رخصتی کا سوچنا چاہے۔ سکینہ" آپ نے تو میرے منہ کی چھین لی ۔ مین آج ہی روبینہ کو کال کروں گی۔ عباس" مسکراتے ہوئے سکینہ سے چائے پکڑی۔ رجب" بھاگتے ہوئے آیا اور عباس کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گیا۔ زمرد اور سرخاب بھی آگئے۔ وہ ابھی ناشتے کی ٹیبل کے پاس پہنچے ہی تھے کہ زور دار کھٹاک کی آواز آئی ۔ سب اس طرف متوجہ ہوگئے۔ شبنم چیخی" اندھی ہو کیا" شیلو کو دھکا دیے دیا۔ شلو سر پکڑ کر" چھوٹی بیگم صاحبہ معا۔۔۔۔معاف کر۔۔۔۔ وہ نیچے گر گئی۔ سکینہ، سرخاب اور زمرد لپک کر شیلو کے پاس پہنچے۔ شبنم"میری جینز کا ستیاناس مار دیا۔ کم عقل عورت۔ اٹھو اور میرا جوتا صاف کرو۔ شیلو اٹھی سر کو پکڑے آگے بڑھی اور اپنے دوپٹے کا پلو پکڑ کر اسکا جوتا صاف کرنے لگی۔ عباس" شیلو کچن میں جاو" شبنم میری ایک بات دھیان سے سنو" شیلو ملازمہ نہیں ہے۔میں اسے ایک روپیہ بھی تنخواہ نہیں دیتا۔ہمارے گھر کی فرد ہے آئند اس سے اس لہجے میں بات مت کرنا۔شبنم لال پیلی ہوگئی مگر عباس کے غصے سے واقف تھی چپ رہی۔ سکینہ کچن میں چلی گئی۔ سرخاب اور زمرد لان مین چلے گئے۔ جب عباس باہر نکل گیا تو بولی" ہر ہفتے اسکے گھر راشن بیگ جاتے۔اسے پیسے کیا کرنے۔ سکینہ بھابی اسے خالی ہاتھ تھوڑی رہنے دیتیں۔
_____

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Saima Munir

Read More Articles by Saima Munir: 14 Articles with 5085 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
23 Jul, 2020 Views: 314

Comments

آپ کی رائے