تبدیلی سرکار کے دو سال

(Saeed ullah Saeed, Karachi)
تبدیلی سرکار کے دوسال

تحریر: سعیداللہ سعید

ٹھیک دو سال پہلے آج کا دن سیاسی جماعتوں اور ان کے کارندوں کے لیے ایک مصروف دن تھا۔ سیاسی لیڈران صبح سے ہی اپنے گھوڑے ووٹرز کو پولنگ اسٹیشن تک لانے کے لیے دوڑا رہے تھے۔

ایک دلچسپ صورت حال جس کا میں نے اس وقت مشاہدہ کیا تھا وہ یہ کہ: وہ جماعتیں بھی اپنے کارکنان کو فتح کی امید دلارہے تھے جنہیں معلوم تھا کہ اگر وہ چوتھی پوزیشن لینے سے بچ بھی گئے تو تیسرا پوزیشن لینے سے انہیں کوئی نہیں روک سکتا۔ چونکہ پاکستانی سیاست کا محور محض سیاسی کارکنان کو مطمئن کرنے کے گرد گھومتا ہے، اس لیے لیڈران انہیں جھوٹے وعدے وعیدوں اور خوشخبریوں سے ذرا بھی نہیں چوکتے۔

بعض سیاسی جماعتیں ہم نے وہ بھی دیکھی جو محض پندرہ فیصد محنت کرکے سو فیصد کامیابی سمیٹنے کی آس لگائے بیٹھی تھیں۔ بہر حال اختتامِ گنتی پر جو منظرنامہ سامنے آیا، وہ غیر متوقع ہرگز نہ تھا البتہ کچھ باتیں ایسی ضرور سامنے آئی، جسے انہونی کہنے میں کوئی حرج نہیں۔

انتخابی گہماگہمی کے خاتمے کے بعد جب حکومتی دسترخوان سج گیا، تو ہاتھ دھونے واش بیسن کی طرف کوئی نہیں گیا بلکہ صاحب لوگوں نے لوٹوں سے خوب استفادہ کیا۔ نتیجتاً ہاتھ کا سارا "میل،، لوٹوں کے حصے میں آیا اور بظاہر چمک دمک لیے کونے میں لگا واش بیسن منہ دیکھتا رہ گیا۔

دستر خوان سے اٹھنے کے بعد جب خان صاحب نے ڈرائیونگ سیٹ سنھبال لیا تو اس نے اعلان کردیا کہ بہت جلد غیر ہموار راستوں سے گزار کر گاڑی اچھی اور بہترین سڑک تک پہنچا دوں گا۔ مقررہ تاریخ قریب آنے پر مسافر خوش تھے کہ اب مشکل ختم ہوجائے گی اور ہچکولے کھاتے گاڑی ہموار سڑک پر آنے کے بعد بقیہ سفر آرام سے ہوجائے گی۔

مسافر کافی مسرور تھے کہ اچانک خان صاحب کی صدا فضا میں گونجی کہ بھائیوں ہم سفر کا آغاز اب کریں گے کیونکہ اب تک ہم گاڑی کی سسٹم میں موجود خرابی کو دور کررہے تھے لہذا گھبرانا نہیں۔

جب کافی وقت گزرنے کے بعد منزل کے قریب آنے کی کوئی اثار دکھائی نا دیے تو بعض لوگوں نے سوچا کہ خان کے پاس جاکر پوچھتے ہیں کہ آخر مسئلہ کیا ہے کہ منزل کا اب تک کچھ اتا پتہ نہیں چل رہا۔

قریب جاکر معلوم ہوا کہ خان صاحب کسی اور سے ہدایات لے رہا ہے اور انہی ہدایات کی روشنی میں گاڑی ایک ایسی روڈ پر دوڑانے کی کوشش کررہا ہے جو سخت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ مسافروں میں سے ایک نے ہمت کرکے پوچھ لیا کہ خان صاحب! کہیں ہمارے خلاف کوئی سازش تو نہیں ہورہی، کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ کو ہدایات دینے والوں نے ہمیں غلط راستے پر تو نہیں ڈال دیا؟۔

اوے میں نے کہا نا کہ گھبرانا نہیں۔ مجھے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا۔ جس جس نے بھی اس روڈ کا یہ حشر کیا ہے، میں اسے نہیں چھوڑوں گا۔

اتنے میں دوسرا مسافر گویا ہوا۔ خان صاحب! جو جمع پونجی پاس تھا سارا ختم ہوگیا کہ جس راستے پر آپ ہمیں لے جارہے ہیں، اس پر موجود ہوٹل مالکان اور دکاندار ہمیں دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔

او یار تم فکر ناکر میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا بس ذرا اس کمبخت راستے سے جان تو چھوٹنے دو۔

اتنے میں ایک جہاں دیدہ بزرگ خان صاحب کے پاس آئے اور کہاں کہ کپتان اگر جان کی امان پاوں تو کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔

خان صاحب نے کہا ضرور کہیں بزرگو جو بھی آپ کہنا چاہتے ہیں۔ بزرگ گویا ہوئے: عالی جاہ! گستاخی معاف لیکن فون پر راستہ بتانے والا ہمیں غلط سمت میں لے جارہا ہے۔ مجھے خدشہ ہے کہ کہیں آگے جاکر وہ ہمیں یرغمال نا بنالیں لہذا ایسا کیجیے کہ یہ گاڑی یہی سے واپس موڑیں۔ میرا ان راستوں پر چلنے کا بہت تجربہ ہیں۔ بھلے کچھ مشکل سے ہی سہی لیکن ہم اپنی منزل تک پہنچ جائیں گے۔

خان صاحب نے بزرگ کی بات غور سے سنی اور کہا کہ گھبرانا نہیں کچھ نہیں ہوگا۔

اب گاڑی میں بیٹھی سواریوں کو یقین ہوچکا ہے کہ کپتان راستہ بھٹک چکے ہیں لیکن کپتان اور اس کے پاس بیٹھے چند لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ درست سمت میں جارہے ہیں۔

بہرحال جلد اس بات کا پتہ چل جائے گا کہ کپتان کا دعوی درست تھا یا سواریوں کی خدشات۔ ہماری دعا یہی ہے کہ اللہ جلد انہیں اس مشکل سے نکال دیں کہ کہیں ایسا نا ہو کہ جنگل میں فیول ختم ہوجائے اور درندے سب کو چیر پھاڑ کر کھا جائے
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Saeed ullah Saeed

Read More Articles by Saeed ullah Saeed: 109 Articles with 69059 views »
سعیداللہ سعید کا تعلق ضلع بٹگرام کے گاوں سکرگاہ بالا سے ہے۔ موصوف اردو کالم نگار ہے اور پشتو میں شاعری بھی کرتے ہیں۔ مختلف قومی اخبارات اور نیوز ویب س.. View More
25 Jul, 2020 Views: 372

Comments

آپ کی رائے