حبت اور عورت

(گل صحرائی, Karachi)

میں نے اکثر عورت کو محبت راس ہوتے نہیں دیکھا عورت اپنے والدین کی مانتی ہیں تو بے وفا کہلاتی ہے اگر اپنے محبوب کی مانے تو بے شرم کہلاتی ہے عورت والدین کو سمجھانا چاہتی ہیں تو اس کو باپ کی عزت یاد دلائی جاتی ہیں جب محبوب کو انتظار کرنے کا کہہ تو اس کے محبوب کو بھی زمانے کی فکر ہوتی ہیں
دراصل ہمارے معاشرے میں عورت کے لیے لفظ محبت بنی نہیں ہیں عورت تو درد سہہ نے کے لیے بنی ہیں اس کو سمجھنے کے دعوے کرنے والے بھی اکثر انھیں درد دینے کی فہرست میں شامل ہوتے ہیں شاید بیٹی کے پیدا ہوتے ہی اسے اچھی نصیب کی دعا دیتے ہیں یہ دعا دراصل اپنے انا اور غیرت کو بچانے کے لیے دی جاتی ہیں
عورت کو حق نہیں دے سکتے اسے پیدا بھی نہ کرو خدارا اس کو ہر وقت کٹہرے میں کھڑی نہ کرو عورت بھی انسان ہیں تھک جائے گی موت سے پہلے مرجائے گی اس کے لیے وقت وہی تھم جائے گی اس کے تکلیف کا مداوا نہیں کرسکتے اسے زخم بھی نہ دو اس کو زندہ قتل کرنا بند کرو جان لینے سے کئی ذیادہ تکلیف دہ لمحہ ہوتا ہے جب اسے بار بار زندہ قتل کیا جاتا ہیں
خدارا عورت سے مخلص ہونا سیکھ لو اس سے محبت کرنا سیکھ لو اسے اھمیت دینا سیکھ لو اسکو بےبسی کی انتہاہ تک نہ لے جاو کہ وہ خودکشی کا انتخاب کرنے پہ مجبور ہو جائے

 

Total Views: 248 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: گل صحرائی

Read More Articles by گل صحرائی: 10 Articles with 2284 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
excellent article, keep it up.
By: Sadaf Umair, Lahore on Jul, 31 2020
Reply Reply
0 Like
Language: