”ماں بولی“نہ بھولیں

(ABDULLAH Butt, )

پاکستان میں اس وقت70 سے زیادہ زبانیں بولی جاتی ہیں۔ جن میں سرِ فہرست اردو، پنجابی، بلوچی، پشتو،سراٸیکی، گجراتی، راجستھانی، ترک، کاٹھیاواڑی، ہندکو،براہوی، مکرانی، بروشکی، سیالکوٹی، کشمیری، گوجری، پھلوا، سوامی کے علاوہ برمی ،بنگلا زیادہ بولی اور سمجھی جاتی ہیں

مادری زبان ہمیں وراثت سے ملتی ہے۔ہم جس ماحول میں آنکھ کھولتے ہیں اور جو زبان ہمارے گھروں میں بولی جاتی ہیں و ہ ہم پے اک گہرا اثر ڈالتی ہیں۔پھر ہمیں وہی زبان بولنے کی عادت ہو جاتی ہے اور نا چاہتے ہوۓ بھی اکثر ہماری زبان سے اپنی مادری زبان میں ہی جواب نکلتا ہے۔اس کے بر عکس کوٸی اور زبان ہمیں سیکھنا پڑتی ہے قواعدوضوابط سے آگاہ ہونا پڑتا ہے۔سکول ،کالج اور یونیورسٹی میں ہم مختلف زبانیں سیکھنے کے بعد بھی مادری زبان کبھی نہیں بھولتے۔

ماہرین لسانیات کہتے ہیں کہ ”اگر کوٸی شخص یاداشت کھو دے اور اُسے دین و دنیا کا ہوش نہ رہے تب بھی اگر بات کرے گا تو اپنی مادری زبان میں بات کرے گا“

مادری زبان چونکہ بچپن سی ہی ہر فرد دوسرے کو بولتا سن ریا ہوتا ہے تو اس زبان سے ایک خاص انس اور محبت کا رشتہ بن جاتا ہے۔پھر مادری زبان ہونے کی وجہ سے اس میں باقی زبانوں کی نسبت ایک خاص اپناٸیت ہوتی ہے۔انسان چاہے جتنی بھی زبانیں سیکھ لے خوشی وغمی کا اظہار مادری زبان میں کرتا ہے ۔مادری لب و لہجے سے انسان کے قبیلے اور برادری کا اندازہ ہوتا ہے۔ دنیا کے باقی ممالک کی طرح پاکستان میں بھی مختلف زبانیں بولی اور سمجھی جاتی ہیں۔ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں اردو 8 فی صد، پنجابی 46 فی صد، سراٸیکی 10 فی صد، سندھی12 فی صد، پشتو 8فی صد ، بلوچی 3 فی صد اور باقی زبانیں بولنے والے 8 فی صد ہیں۔

دنیا میں چینی زبان بولنے والے سب سے زیادہ ہیں کیونکہ انہوں نے اپنی مادری زبان کو بہت فروغ دیا اور چین کی ترقی کا ایک اہم راز بھی یہی ہے۔چین کے اک انقلابی لیڑر”ماٶزے تنگ“ بہت اچھی انگلش جانتے تھے۔لیکن انہوں نے انگلش میں کبھی بات نہیں کی شاید وہ سمجھتے تھے کہ اپنی زبان سے محبت ہی ترقی کی ضامن ہے

ایک بار ان سے ایک مغربی صحافی نے پوچھا کہ آپ انگلش کیوں نہیں بولتے تو انہوں نے برجستہ جواب دیا” میں دنیا کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ چین گونگا نہیں“

بھارت کی آبادی دنیا میں دوسرے نمبر پر ہےاس لیے ہندی بولنے والے دوسرے نمبر پر ہیں۔انگریزی کا نمبر4 ہے۔پنجابی11ویں اور اُردو بولنے والے دنیامیں 10ویں نمبر پر ہیں۔کچھ زبانیں ناپید ہوچکی ہیں اور جن زبانوں کو فروغ ملا وہ قو می زبان بھی بنیں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: ABDULLAH Butt

Read More Articles by ABDULLAH Butt: 10 Articles with 2921 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Jul, 2020 Views: 116

Comments

آپ کی رائے