والدیمیر پوٹن: سامان سوبرس کا ہے پل کی خبر نہیں

(Dr Salim Khan, India)

خبر کو بننے کے لیے اس کا تھوڑا سا غیر معمولی ہونا لازمی ہے۔ عصرِ حاضر میں احتجاج اور مظاہرے ہوتے ہی رہتے ہیں اس لیے خبر نہیں بنتے لیکن اگر وہ روس میں ہوجائے تو بہت بڑی خبر بن جاتا ہے۔ کیونکہ وہاں مخالفت ممنوع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کے مشرقی شہر خوبارووسک میں جب ہزاروں لوگوں نے مقامی گورنر کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کیا تو ساری دنیا کی توجہ کا مرکز بن گیا۔اپنے جنگلات کے لیے مشہورخوبارووسک صوبہ چین کی سرحد کے قریب واقع ہے۔وہاں کے پرامن لوگ ماہی گیری کرتے ہیں ۔ یہ مظاہرے صوبے کے مقبول گورنر سرگی فرگل کو قتل کے الزام میں تفتیش کی خاطر اچانک گرفتار کیے جانے کے خلاف ہورہے ہیں اور پچھلے دس دنوں سے جاری ہیں۔ ان مظاہروں میں’پوٹن چور ہے‘ والا نعرہ ’ چوکیدار چور ہے‘ کی یاد دلاتا ہے۔خوبارووسک کے مظاہرین زیر حراست گورنر کی اسی طرح تعریف کرتے ہیں جیسے دہلی والے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کی بڑائی بیان کرتے ہیں۔ سرگی فرگل نے بھی گزشتہ دو سالوں میں عوامی فلاح بہبود بہت سارے کام کیے مثلاً ہوائی جہاز کا کرایہ کم کرنا اورطلبا کے لیے مفت کھانا فراہم کرنا وغیرہ ۔ اس دوران سرکاری دفاتر کی کارکردگی کو بھی بہتر بنا یا گیا اس سے گورنر کی مقبولت میں زبردست اضافہ ہوا ۔

سن 2018 کے اندر پوٹن کی سیاسی جماعت یونائیٹڈ رشیاپارٹی کو شکست فاش سے دوچار کرکے سیرگئی فُرگل گورنری کا منصب سنبھالا تھا ۔ کریملن کے حلقوں کو یہ شکست ہضم نہیں ہوئی ۔ اس لیے صوبائی دارالحکومت کوخوبارووسک سے ولاڈی ووسٹک منتقل کر دیا گیا۔ اس فیصلے نے مقامی باشندوں کو ناراض توکیا مگرانہوں نے اس کو برداشت کر لیالیکن جب گورنر سیرگئی فُرگل پر پندرہ سال قبل دوتاجروں کو قتل کرنے کاالزام لگا کر گرفتار کیا گیا تو ان کا پیمانۂ صبر لبریز ہوگیا اور سڑکوں پر نکل آئے۔ ان کے خیال میں یہ من گھڑت الزام سیاسی انتقام سے سوا کچھ نہیں ہے۔50 سالہ گورنر کا تعلق نیشنلسٹ لبرل ڈیموکریٹک پارٹی سے ہے۔ 7 مشرقی صوبوں میں اس سیاسی جماعت کی حکومت ہے۔ ویسے عموماً یہ پارٹی سرکاری پالیسی کی مخالفت نہیں کرتیاس کے باوجود امیت شاہ کے نقش قدم پر چلنے والے پوٹن نے لبرل ڈیموکریٹک پارٹی سے چھٹکارا پانے کے لیے یہ حماقت کردی اور اس بار راجستھان کی طرح اس کا اندازہ چوک گیا ۔صدر پوٹن اب محتاط ہوگئے ہیں انہیں اندیشہ ہے کہ کہیں یہ آگ ملک کے دیگر علاقوں تک نہ پھیل جائے ۔ صدر والدیمیر ہوٹن جیسے لوگوں پر اس قدر طاقت کے باوجود افضل الہ بادی کا یہ شعر معمولی ترمیم کے بعد صادق آتا ہے؎
میرے آنگن میں ہے وحشت کا بسیرا پوٹن
مجھ کو گھر کے در و دیوار سے ڈر لگتا ہے

ماضی میں ایک جاسوس کے طورپر کام کرنے والے گمنام ولادیمیر پوٹن نے دو دہائیاں قبل روسی صدر کا عہدہ سنبھالا تھا۔ اس وقت کسی وہم وگمان میں یہ بات نہیں تھی ایک دن اس کا شمار روس کے طاقت ور ترین صدور میںہوگا۔ یہ حسن اتفاق ہے ایک زمانے کا سپر پاور روس سن 1998 میں دیوالیہ ہوگیا ۔1999کے پہلے دن روس کے صدر بورس یلسناستعفیٰ دے کرخفیہ ایجنسی ایف ایس بی کے سابق اہلکار پوٹن کو اپنا جانشین بنادیا ۔اس روز اپنے خطاب میں پوٹن نے کہا تھا، ''نئے سال کے موقع پر خواب تعبیر ہونے جا رہے ہیں۔ روسی قوم ایک نئی صدی میں داخلے کے لیے تیار ہو جائے‘‘۔پوٹن نے اقتدار سنبھالنے کے بعد وعدہ کیا تھا کہ وہ عوام کے معیارِ زندگیکو بہتربنائیں گے۔ اس وقت روس کے سامنے پرتگال ایک رول ماڈل تھا اس لیے اس سے برابری کاعہد کیا گیا تھا۔ پرتگالی عوام کے برابر کی فی کس جی ڈی پیکرنے کا وعدہ 15 سال بعد سن 2013ء میںپورا ہوگیا۔ صدارتی منصب پر فائز ہونے سے قبل ایک مضمون میں پوٹن نے لکھا تھا، ''یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ روس اہم عالمی طاقت نہیں رہا۔‘‘انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ روس کو ایک بار پھر عالمی اسٹیج پر واپس لایا جائے گا اور اسے بھی پوٹن نے پورا کر دیا۔ امریکا اور مغربی دنیا کی سخت پابندیوں اور جی8 سے نکالے جانے کے باوجود، روس نے اپنی حیثیت منوالی۔ صدر پوٹن نے روس کو ایک مضبوط ریاست بناکرعسکری اور صنعتی شعبوں کو نئے خطوط پر استوار کرنے کی سعی کی جس کے نتیجے میں آج کا روس سن 2000 کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط ہوگیا ہے۔

پوٹن کا سیاسی سفر خاصہ دلچسپ ہے ۔ 1999 سے 2000 تک وہ قائم مقام صدر رہے اس کے بعد باقائدہ صدر بنے اور سن 2004 کے الیکشن میں پھر سے منتخب ہوئے۔اس کے بعدچونکہ دوبارہ منتخب ہونے کی اجازت آئین میں نہیں تھی اس لیے 2008 سے 2012 تک وہ روس کے وزیراعظم بن گئے۔ اس دوران صدارت کی ذمہ داری اپنے دست راست دمتری میدیدوف کے سپرد کردی ۔ اس کے بعد 2012 اور 2018 میں بھی صدر منتخب ہوگئے۔ 2008 کے بعد انہوں نے صدارت کے عہدے کی میعاد 4 سے بڑھا کر 6 سال کردی تھی ۔ اب انہوں نئی آئینی اصلاحات نافذ کرکے اپنے راستے کی رکاوٹ مستقل طور پر دور کردیا اور سن 2036 تک اقتدار میں رہنے کی راہ ہموار کرلی ۔اپنی مدت کا ر کی توسیع کے لیے منعقد کیے جانے والے استصواب میں کامیابی کے لیے پوٹن نے قومی جذبات بھڑکانے کی خاطردوسری عالمی جنگ میں جان قربان کرنے والےدو کروڑ ستر لاکھ شہریوں اور فوجیوں کی قربانی کو یاد کیا۔ انہوں روسی قوم کے لیے اسے ایک ''مقدس یاداشت‘‘ قرار دیا۔

روس میں ہرسال ۹ مئی کوان کی یاد میں ''وکٹری ڈے پریڈ‘‘ کی تقریبات کا انعقاد ہوتاہے ۔ امسال کورونا کے سبب اس کو۴۰ دنوں کے لیے ملتوی کرناپڑا۔ اس کے باوجود25 جون2020کوفوجی پریڈ کا انعقاد ایک غیرذمہ دارانہ حرکت قرار دیا گیا کیونکہ اس وقتکورونا بے قابوتھا اورروس کے اندر اوسطاً روزانہ 8 ہزار افراد کورونا وائرس کے چنگل میں پھنس رہےتھے۔کورونا کے معاملے میں عالمی سطح پرامریکہ ، برازیل اور ہندوستان کے بعد روس چوتھے مقام پر ہے۔ دستوری ترمیمات پر استصواب سے صرف ایک دن پہلے اس تقریب کو منعقد کرنا صدر ولادیمیر پوٹنکا سیاسی ماسٹر اسٹروک تھا ۔قوم پرستی کے الاو پر اقتدار کی روٹیاں سینکنا موجودہ جمہوریت میں عام ہوگیا ۔ الیکشن جیتنے کے لیے اسرائیل میں غزہ پر حملہ ہوجاتاہے۔ پاکستان پر ہندوستان ائیر اسٹرائیک کردیتاہے۔ امریکی حکمراں دنیا ایران ، عراق یا ایران سے جنگ چھیڑ دیتے ہیں۔روس کے اندر کیے جانے والے جائزے صدر پوٹنکی مقبولیت میں کمی کا اشارہ کررہے تھے اس لیے اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لیے انہیں یہ حربہ استعمال کرنا پڑا اور وہ مودی جی کی مانند وہ مطلوبہ مقصد کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

آئینی ترامیم منظور ہو جانے کے بعد اب پوٹن مزید 16 سال اقتدار میں رہ سکیں گے۔ موجودہ سیاست میں ایسا سربراہِ مملکت کہاں ہے کہ جو کہہ دے کہ اب بس ہوگیا مجھے اجازت دیجیے ۔ اس کی سب سے بڑی مثال اسرائیل کا وزیر اعظم نتن یاہو ہے جس نے یکے بعد تین انتخابات کروائے ۔ ملک کو انارکی کا شکار کردیا مگر اپنی کرسی سے جونک کی مانند چپکا رہا اور پھر سے ڈھائی ڈھائی سال کے فارمولے پر پہلے خود اقتدار سنبھال لیا ۔ ویسے اب بھی اس بات کا امکان کم ہے کہ وہ اپنے عہد کی پاسداری کرے گا۔ صدرپوٹن نے مودی کی طرح اپنے سارے مخالفین کا صفایہ کردیا ہے۔ روس کی عوام کو اب ان کا کوئی سیاسی حریف سجھائی ہی نہیں دیتا اس لیے اگر آئندہ انتخابات میں بھی اسی طرح کامیاب ہوتے رہے تو اُس وقت تک ان کی عمر 83 سال ہوجائےگی۔ عصر حاضر کے سیاستداں نہ تو مرنا چاہتے ہیں اورنہ اقتدار کو چھوڑنا چاہتے ہیں ۔ان کے بس میں ہوتو وصیت کرکے جائیں کہ انہیں کرسی سمیت قبر میں اتار اجائے۔ یہ لوگ ناگزیر مجبوری کے بغیر اقتدار نہیں چھوڑتے۔ اقتدار کے لیے اٹھا پٹخ کرنے والے ولادیمیر پوٹن اور نریندر مودی جیسے حکمراں نہ جانے کیوں یہ بھول جاتے ہیں کہ ؎
اجل نے نہ کسرا ہی چھوڑا نہ دارا،اسی سے سکندر سا فاتح بھی ہارا
ہر اک چھوڑ کیا کیا حسرت سدھارا،پڑا رہ گیا سب یہیں ٹھاٹھ سارا
جگہ جی لگانےکی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے، تماشہ نہیں ہے
)۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰جاری)
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 145 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 1007 Articles with 339780 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: