لوڈ شیڈنگ کا دوہرا عذاب---

(Amna Khan, Karachi)

شہرِ قائد کی عوام باقی ملک کے لوگوں کی طرح یوں تو مہنگائیاور بے روزگاری کی چکی میں پس ہی رہی ہے، ساتھ ہی کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی کی من مانیوں کا بھی شکار ہے، اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ نے عوام کا جینا محال کیا ہوا ہے لائٹ جانے کا کوئی وقت مقرر نہیں ہے اس سے تنگ آئے عوام نے اپنی سہولت کے لئے گیس جنریٹر کا استعمال شروع کر دیا ہے جس کی وجہ سے اب یہ صورتِ حال ہے کہ اگر کسی علاقے کی لائٹ چلی جاتی ہے تو اس علاقے کے لوگ ایک ساتھ گیس پر چلنے والے جنریٹر چلا لیتے ہیں جس کا زیادہ خرچ نہیں ہے، لیکن خود کو ایک اور اذیت میں مبتلا کر دیتے ہیں اس دوران گھریلو صارفین کہ لئے گیس غائب ہو جاتی ہے، اور جب تک لائٹ نہ آئے، لوگوں کے جنریٹر بند نہ ہوں تب تک لوگ کھانا پکانے سے بھی محروم ہو جاتے ہیں، کیا گھریلو صارفین پر قوانین لاگو نہیں ہوتے کہ جب کوئی بھی شخص چاہے اپنا الو سیدھا کرے اور دوسرے زحمت میں مبتلا ہو جائیں جو پہلے ہی ان کی طرح لوڈ شیڈنگ کا عذاب بھگت رہے ہیں، اس سے پہلے بھی قدرتی گیس سے گاڑیاں چلائی گئیں تو کیا ہوا آخر کو ان کے لئے گیص کا ناغہ کرنا پڑا، ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہی ہے کہ ہم صرف اپنا سکون دیکھتے ہیں اور اپنے آقا کی اس حدیث کو بھول جاتے ہیں کہ “ تم میں سے اس وقت تک کسی شخص کا ایمان مکمل نہیں ہوتا جب تک اس کا پڑوسی اس کے شر سے محفوظ نہ ہو“ ہم تو تمام شہر کے لئے ذہنی اذیت کا باعث بن رہے ہیں، حکومت کو بھی اس جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ وہ قوانین پر عمل درآمد کرواتے ہوئے فی الفور اس مسئلے کا سد باب کرے تاکہ جو لوگ پہلے ہے لائٹ نہ ہونے کا عذاب بھگت رہے ہیں وہ دوسرے عذاب میں مبتلاء نہ ہوں۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Amna Khan

Read More Articles by Amna Khan: 3 Articles with 433 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
29 Jul, 2020 Views: 147

Comments

آپ کی رائے