نیو گنی کے ’پیراڈائز آئی لینڈ‘ پر نباتات کی سب سے زیادہ اقسام

 
ماہرینِ نباتیات کا کہنا ہے کہ دنیا میں کسی بھی جزیرے کے مقابلے میں نیو گنی میں پودوں کی اقسام سب سے زیادہ ہیں۔
 
حال ہی میں دنیا کے سب سے بڑے استوائی جزیرے میں پودوں کی اقسام کا اندراج کیا گیا جس سے معلوم ہوا ہے کہ یہاں پھولوں کی اقسام کا ایک خزانہ موجود ہے۔
 
نیو گنی پودوں کی 13 ہزار اقسام پائی جاتی ہیں، جن میں سے دو تہائی دنیا میں اور کہیں نہیں اُگتے۔ ان میں انتہائی چھوٹے اورکڈ پھولوں سے لے کر بڑے بڑے فرن درخت شامل ہیں۔
 
یہ تحقیق سائنسی جریدے نیچر میں حال ہی میں شائع کی گئی ہے اور اس کا مقصد ’سائنس کے آخری اہم ترین سوالوں میں سے ایک کو محفوظ کرنا ہے۔‘
 
رائل بوٹانکل گارڈنز کے ڈاکٹر ٹم اٹرج کا کہنا ہے کہ ’پودوں کی نئی اقسام کی شناخت کرنا اور انھیں خصوصی نام دینا انھیں محفوظ کرنے کی جانب پہلا قدم ہے۔ اگر ہم نے انھیں کھو دیا تو ایسا نہیں کہ انھیں دوبارہ اگایا جا سکتا ہے کیونکہ یہ اس جزیرے کے علاوہ کہیں پائے ہی نہیں جاتے۔ ہم پر یہ خاص ذمہ داری ہے کہ ہم ان نایاب پودوں کو محفوظ کریں۔‘
 
نیو گنی میں دنیا کے محفوظ ترین ایکو سسٹم موجود ہیں جن میں ساحلی مین گروو، ٹروپیکل رین فورسٹ اور ایلپائن گراس لینڈز موجود ہیں۔
 
 
نیو گنی کے پھولوں میں کیا خاص بات ہے؟
یونیورسٹی آف زیورخ کے ڈاکٹر راڈریگو کمارا لیرٹ کا کہنا ہے کہ ’نیو گنی ایک جنت نما جزیرہ ہے جہاں نباتات کی کئی اقسام پائی جاتی ہیں اور اسے دنیا بھر میں نباتیات کی کئی اقسام کا مرکز مانا جاتا ہے۔‘
 
’مگر پھر بھی اس جزیرے کے پودوں کے بارے میں معلومات کئی برسوں سے بکھری ہوئی ہیں جس کی وجہ سے اس حوالے سے تحقیق محدود رہی ہے۔‘
 
ماہرینِ نباتیات 17ویں صدی سے یہاں پودوں کے نمونے جمع کر رہے ہیں اور انھیں دنیا کے مختلف مقامات پر رکھا گیا ہے مگر اب ہی جا کر ماہرین ان ساری معلومات کو یکجا کر کے اس جزیرے پر موجود پودوں کی مکمل فہرست تیار کر سکے ہیں جیسا کہ دیگر مقامات مثلاً ایمازون میں کیا گیا ہے۔
 
اس تحقیق سے کیا پتا چلا ہے؟
ماضی میں جزیرے پر موجود پودوں کی اقسام کی تعداد کے بارے میں تخمینے 9000 سے 25000 کے درمیان رہے ہیں۔ اب ماہرین نے سات لاکھ سے زیادہ نمونوں کی مدد سے 23000 سے زیادہ اقسام کی شناخت کی ہے۔
 
ان میں سے 68 فیصد صرف اسی جزیرے پر پائے جاتے ہیں۔
 
نیو گنی میں کس طرح کے پودے پائے جاتے ہیں؟
پاپا نیو گنی میں 20 فیصد اور انڈؤنیشیائی نیو گنی میں 17 فیصد پھول اورچڈز قسم کے ہیں۔
 
نئی اقسام میں سے درختوں کی اقسام 29 فیصد ہیں۔ اس کے مقابلے میں ایمازون میں 2.6 گنا زیادہ درخت ہیں مگر 6.4 گنا زیادہ بڑا علاقہ ہے۔ نیو گنی میں بہت سے نایاب روڈوڈنڈرونز اور بیگونیا بھی موجود ہیں جو پہلے کبھی بیان نہیں کیے گئے ہیں۔
 
 
ان معلومات کو پودوں کی حفاظت کے لیے کیسے استعمال کیا جائے گا؟
پودوں کی نئی فہرست کے ذریعے اس چیز کی منصوبہ بندی کی جائے گی کہ ان پودوں کو کس طرح محفوظ کرنا ہے۔
 
انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر جو کہ خطرے میں ہونے والی اقسام کی فہرست بناتی ہے، ان کو شامل کرنے کے لیے پودوں کے نام اور جغرافیائی خصوصیات مانگتی ہے۔
 
ابھی نیو گنی کے لیے مزید نباتاتی تحقیق درکار ہے اور ان پودوں کی ڈی این اے تحقیق بھی ابھی ہونا ہے۔
 
1970 سے اب تک 2812 اقسام کے بارے میں معلومات شائع ہو چکی ہیں جو کہ نیو گنی میں دریافت کی گئی تھیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ آئندہ 50 برسوں میں یہ تعداد 4000 تک پہنچ جائے گی۔
 
لندن میں نیچرل ہسٹری میوزیم کی ڈاکٹر سینڈرا نیپ کا کہنا ہے کہ ابھی دریاست کرنے کو بہت کچھ ہے۔ حالیہ تحقیق کے بارے میں انھوں نے کہا کہ یہ بنیاد ہے اس بات کی کہ آئندہ چند برسوں میں کتنی دریافتیں سامنے آنی ہیں۔
 
 
Partner Content: BBC Urdu
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
10 Aug, 2020 Views: 493

Comments

آپ کی رائے