حکمت آمیز باتیں۔ چھتیسواں حصہ

(Zulfiqar Ali Bukhari, Islamabad)
یہ میری اپنے آفشیل فیس بک پیچ https://www.facebook.com/ZulfiqarAliBukhari پر کہی گئی باتوں کا مجموعہ ہے، آپ میری بات سے اختلاف کا حق رکھتے ہیں۔

جس کے منہ میں جو آئے بولتا ہے اور جس نے جو کرنا ہو کر کے دکھاتا ہے۔
غلط ہیں یا درست ہیں۔
مگر مسئلہ یہ ہے کہ لوگوں کو کیا مسئلہ ہے؟

آزاد پیدا ہونے والے جب ذہنی طور پر غلام ہو جاتے ہیں تو پھر وہ غلام ابن غلام نسل کی پرورش کرتے ہیں۔جب بھی ایسا ہوتا ہے تو پھر کچھ بھی دنیا میں دیکھنے کو ملتا ہے۔

تنقید اُسی پر ہوتی ہے جو قابل ہوتا ہے اور کچھ الگ سا کر کے دکھاتا ہے یا پھر وہ اپنی صلاحیت کو یوں استعمال کرتا ہے کہ دوسرے قابلیت رکھ کر بھی ویسا کام کرنے کے اہل نہیں ہوپاتے ہیں۔

والدین کے ساتھ کتنا ہی برا سلوک کیوں نہ کرلیا جائے وہ معاف کر دیتے ہیں، والدین جیسا کوئی بھی دوسرا انسان ہمارے لئے اچھا نہیں سوچ سکتا ہے اور نہ ہی ہمیں معاف کر سکتا ہے، لہذا کچھ ایسا کریں کہ والدین کو آپ پر فخر ہو نہ کہ آپ دنیا میں انکے ساتھ برا کرکے ذلیل وخوار ہوں اور آخرت میں کئے کی سزا بھی بھگتیں۔

خوف و ہراسگی پھیلانا بھی کسی طور دہشت گردی سے کم نہیں ہے۔

عورت حسین احساسات و جذبات کا مجموعہ ہے، اُسے بدصورت کہنا انسانیت کی تذلیل ہے۔

سب کامیاب ہونا چاہتے ہیں مگر کوئی کوئی ایسا ہوتا ہے جو اپنے ساتھ دوسرے کو کامیابی تک لے جاتا ہے۔

لکھاری کی پہچان اُسکی تحریر ہی ہوتی ہے، وہ اپنی ذات میں کیا ہے، کیا سوچ رکھتا ہے وہ اُسے بیان کر دیتی ہے۔

نصابی کتب سے ہٹ کر بھی بچوں کو کتب پڑھنے کی جانب راغب کریں۔

بدقسمتی سے ہم آج کسی کو سراہنے کی بجائے اس کی ذات پات پر پہلے بات کرتے ہیں تاکہ نوبت تعریف تک نہ آئے۔

اچھے استاد کی نشانی یہ بھی ہے کہ وہ اپنے شاگرد کو کبھی سوال کرنے سے نہیں روکتا ہے۔

دل سے پڑھانے والے دل کے راستے دماغ تک پہنچ کر اُسے ایسا کھولتے ہیں کہ انسان کی قسمت بدل جاتی ہے۔


آج ہم میں سے اکثر لوگ اس لئے ذہنی مریض بن رہے ہیں کہ ہم یہ تو کہتے ہیں کہ ہمارے ساتھ یہ ہوگیا ہے، وہ ہو گیا ہے، یہ نہیں ہوا ہے، وہ نہیں کر پا رہے ہیں؟
ان سب باتوں کے جواب ہم تنہائی میں بیٹھ سوچنا نہیں چاہتے ہیں کہ ایسا آخر ہوا ہی کیوں ہے؟ کہاں غلطی ہو رہی ہے یا ہوئی ہے؟
جب غلطی کا احساس ہو جائے تو اصلاح کی گنجائش پیدا ہوتی ہے جب تک ایسا نہیں ہوگا تب تک ہم یوں ہی اُلجھتے اُلجھتے اُلجھ جائیں گے۔

بچوں کے خراب ہونے کی بڑی وجہ والدین کا منفی رویہ اور لاپروائی ہوتی ہے اگر بچوں کو مثبت طرز فکر اورمحبت کے ساتھ توجہ سے سمجھانے کی کوشش کی جائے تو بڑی حد تک اُن کا کردار مثالی بن سکتا ہے۔اولاد آزمائش کا سبب بھی بنتی ہے مگرکہیں کہیں کوتاہی بھی اپنا کردار سرانجام دیتی ہے۔

محبوب کی عزت و وقارباقی نہ رہے تو محبت محض نام کی ہی رہ جاتی ہے۔

دوسروں کو دھمکیوں سے نہیں محبت سے قائل کرنا سیکھیں۔

جب تک مشکلات سے لڑنا نہیں آئے گا تب تک کامیابی حاصل نہیں ہوگی۔

جب دلوں میں بات کچھ ہو ،زبان پر کچھ ہو تو رشتے بنتے نہیں ہیں، نہ وہ زیادہ دیر چلتے ہیں وہ کسی بھی وقت آخری سانس لے سکتے ہیں۔

سوال پوچھنا جرم نہیں ہےمگر یہاں جواب دینے والے بہت ہیں مگر سوال کرنے والے کم ہیں، جب تک اچھائی اور برائی میں تمیز کروانے کے لئے سوال نہیں ہوگا تبدیلی ممکن نہیں ہو پائے گی۔

دوستوں کو اتنا زندگی کا حصہ بنانا چاہیے کہ وہ دشمن بن کر زیادہ نقسان کو سبب نہ بنیں۔

اعتماد بہت مشکل سے کسی پر ہوتا ہے لہذا کسی کا اعتبار کسی بھی وجہ سے مت توڑیں، اعتماد اپنے ساتھ کسی بھی تعلق میں جڑے دوسرے شخص کے بارے میں کسی کو بھی کسی بھی حوالے سے معلومات نہ دینا بھی ہوتا ہے کہ دوسرے شخص کی ہر بات امانت ہوتی ہے، امانت میں خیانت ہو تو رشتے کبھی قائم نہیں رہتے ہیں۔


اپنے آپ کو یاد دلاتے رہیں کہ:
آپ جس تجربے سے گزر رہے ہیں اس سے اور لوگ بھی گزر چکے ہیں۔
ایک نہ ایک روز آپ آپ کا ڈپریشن ختم ہو جائے گا چاہے ابھی آپ کو ایسا نہ لگتا ہو۔

اگر آپ کولگتا ہے کہ آپ کو اپنے ڈپریشن کی وجہ معلوم ہے تو اس کو لکھنے اور اس پہ غور کرنے سے کہ اسے کیسے حل کیا جائے ڈپریشن کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

دل میں باتیں رکھنے والے جلدی ذہنی امراض کا شکار ہو جاتے ہیں۔

ہمارے ہاں محبوب ترین عمل دوسروں پر باتیں کرنا اورکسی کواُوپر آنے سے روکنا ہے۔
مزیدار نقطہ یہ ہے کہ دوسروں کو گراتے گراتے ہم خود بھی گر جاتے ہیں۔
غور کیجئے گا۔
آپ کو کئی انکشافات ہونگے۔

کسی سے حسد اسی صورت میں قابل فخر ہو سکتا ہے کہ جیسا کوئی ہے ویسا ہی ہم بننے کی کوشش کریں۔

جلن سے کچھ بھی تو حاصل نہیں ہوتا ہے محض جلتے رہنے سے کیا ملتا ہے، اگراسی وقت کو کڑھنے کی بجائے تعمیری سوچ رکھتے ہوئے کچھ اچھا کرنے پر لگایا جائے تودوسروں کی بجائے ہم ایک مثال بن جائیں۔

مسکراہٹ کو صدقہ کہا جاتا ہے مگر بسااوقات یہی ہنسی تلخ حالات کو بھی ہنس کر مقابلہ کرنے کی طاقت بھی عطا کرتی ہے یا کسی کی خاطر طوفان رکھ کر مسکرانے پر اُکساتی ہے۔

جب تک نیت صاف رہتی ہے آپ ہر مسئلے سے بچے رہتے ہیں اسی طرح سے جب تک دماغ پر سکون رہتا ہے آپ ذہنی دباو کا شکار نہیں ہوتے ہیں، اس لئے خود کو ہر پریشانی سے دور رکھیں۔

جب نوجوانوں کو مواقع ہی نہیں دیئے جائیں گے تو پھر وہ ناموری کیسے حاصل کریں گے، سر پھرے لوگ اکثر منزل تک پہنچ ہی جاتے ہیں۔

بچوں کی شادی پسند سے ہونے کی بات چلے تو پھر آن کو جائیداد سے عاق یا مار دیئے جانے کی دھمکی دی جاتی ہے کیا یہی دین کی تعلیمات درس دیتی ہیں؟

سب کو سب کچھ اگر مل جائے تو پھر حساب کتاب کیسے ہوگا،یہ کبھی ہم نے سوچا ہے؟

ہم آج ذہنی اذیت کا شکار اس لئے بھی ہیں کہ کوئی ہم کو سننے والا نہیں بلکہ سنانے والا ہے؟

آپ کی صاف نیت آپ کو ہر مسئلے سے بچا سکتی ہے لہذا ہمیشہ صاف ستھری سوچ کے ساتھ زندگی کو بسر کریں۔

نفسیاتی مسائل تب آپ کو ہوتے ہیں جب آپ اپنے دل کی بات کو چھپائے رکھ کر وہ کام کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو آپ کرنا نہیں چا رہے ہوں یا پھر اپنا مقاصد کا حصول ممکن نہ ہو سکے، بہترین پرسکون اور خوش گوار زندگی کے لئے اپنے سکون سے زیادہ کسی بات کو اہمیت نہ دیں وگرنہ آپ ذہنی اذیت کا شکار ہو جائیں گے۔

کسی غیر سے محبت کی دین اجازت نہیں دیتا ہے جب آپ ایسا غیر اخلاقی کام کریں گے تو پھر سکون کہاں زندگی مٰہں حاصل ہوگا، یہی بات یاد رکھ لیں تو خوش رہنے لگ جائیں گے۔

جو پہلی بار گھر سے نکلوا کر مل سکتا ہے وہ عزت پر دھبا بھی لگوا کر بدنام بھی کر سکتا ہے یہ بات یاد رکھنی چاہیے۔

بات کہہ دینے کے بعد بھی اکثر ذہن انتشار کا شکار رہتاہے اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ آپ کچھ کہہ کر اندر سے شرمسار ہیں۔

اللہ نے جو کچھ آپ کے لئے رکھا ہے وہی آپ کو مل سکتا ہے تو جو مل رہا ہو اُس پر صبر کرنا چاہیے وگرنہ یہ بھی چھن گیا تو آپ خالی ہاتھ رہ جائیں گے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Zulfiqar Ali Bukhari

Read More Articles by Zulfiqar Ali Bukhari: 292 Articles with 243413 views »
I'm an original, creative Thinker, Teacher, Writer, Motivator and Human Rights Activist.

I’m only a student of knowledge, NOT a scholar. And I do N
.. View More
12 Aug, 2020 Views: 378

Comments

آپ کی رائے