مجسمے اچھے ، تاریخ میں سچے، دنیا کے چند بہترین مجسموں پر ایک نظر!

 
’’مجسمے‘‘ کسی بھی ملک کے تعمیراتی شعبے کی قابلیت کے عکاس ہوتے ہیں ، ماضی میں بنائے جانے والے کئی مجسموں کو صرف ایک ہی چٹان تراش کر تیار کیا گیا، جنہیں دیکھ کر انسانی آنکھ دنگ رہ جاتی ہیں کہ کس طرح ہنرمند ہاتھوں نے صرف ایک پتھر کو نہایت ہی خوبصورتی سے تراش کر دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کروالی ۔ چونکہ مجسموں کی وجہ سے بھی دنیا کے کئی ممالک پہچانے جاتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ اس کی اہمیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے کئی ممالک نے فن ِتعمیر کے شاہکار مجسموں کو پتھر اور مختلف دھاتوں کی مدد سے تیار کروایا اور وہ دنیا بھر میں مشہور بھی ہوئے- تاہم کئی مجسمے ایسے بھی ہیں جو بطور تحفہ کسی ملک کو دئیے گئے ہیں۔
 
سیاح ہوں یا ماہر آثار قدیمہ،دونوں ہی دنیا بھر میں موجود مجسموں کو دیکھنے اور ان پر تحقیق کرنے کیلئے کوشاں نظر آتے ہیں- سیاح ان مجسموں کو دیکھنے دور دور سے آتے ہیں اور ان کے ساتھ تصاویر ضرور کھینچواتے ہیں تاکہ یہ تصاویر انہیں یاد دلواتی رہیں کہ کبھی انہوں نے اس جگہ کا دورہ کیا تھا اور اُس مشہور مجسمے کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔
 
مجسموں کی بات کی جائے تو وہ تو اپنی جگہ خاص ہوتے ہی ہیں، تاہم وہ جس جگہ بنائے جاتے ہیں وہ جگہ بھی اکثر تاریخی اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ اسلئے جب بھی کسی مجسمے کو دیکھنے جائیں تو اس مجسمے اور اُس جگہ کی تاریخی اہمیت کا اندازہ لگانے کیلئے اس سے متعلق انٹرنیٹ پر دستیاب معلومات ضرور پڑھ لیں تاکہ اس جگہ کی سیر کرنے سے پہلے ہی اس سے متعلق آپ کو پتہ ہو ۔ ایسی تاریخی جگہوں پر ایک تختی بھی لگی ہوتی ہے جس پر بھی اس مجسمے اور جگہ سے متعلق معلومات موجود ہوتی ہیں ، ان تختیوں کو بھی ضرور پڑھا جائے۔
 
مجسمہ آزادی، امریکہ:
امریکا میں موجود مجسمہ آزادی (Statue of Liberty) دنیا کے بہترین مجسموں میں شامل ہے ، یہ مجسمہ فرانس کی جانب سے امریکہ کو1886میں تحفے میں دیا گیا تھا، اس کے بعد سے یہ آزادی اور جمہوریت کی ایک پہچان بن چکا ہے- اس مجسمے کو جب ابتدا میں لگایا گیا تھا تو اس کے ہاتھ میں تانبے سے بنی ٹارچ موجود تھی، جسے بعد میں تبدیل کرکے اس کی جگہ 24قیراط سونے کی ٹارچ لگا دی گئی، جو کہ اب دور سے ہی دیکھنے والے کو نظر آجاتی ہے۔ مجسمہ آزادی کا وزن 225 ٹن ہے ،یہ 305 فٹ 6 انچ لمبا ہے ، وہ لوگ جو مجسمہ آزادی کی سیر کرنا چاہتے ہیں انہیں بیٹری پارک نیو یارک سے ایک کشتی میں سفر کر کے وہاں پہنچنا ہوگا، یا اگر وہ چاہیں تو براہ راست ہی لبرٹی اسٹیٹ پارک چلے جائیں اور اس مجسمے کو دیکھ لیں۔
 
مجسمہ نجات دہندہ، برازیل:
یہ مجسمہ ریوڈی جنیرو کی ایک پہاڑی پر نصب کیا گیا ہے ، یہ پہاڑی وہاں کے مشہور ‘‘تیجوکا فورسیٹ نیشنل پارک‘‘ میں موجود ہے ، اس مجسمے کو وہاں کے لوگ’’ مجسمہ نجات دہندہ، یا مسیح ‘‘کے مجسمہ کا نام دیتے ہیں- یہی وجہ ہے کہ یہ وہاں کے لوگوں کیلئے ایک مذہبی نشان کا درجہ بھی رکھتا ہے جس کی وجہ سے اس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔اس کی تعمیر1922میں شروع کی گئی تھی تاہم اسے 1931میں مکمل کیا گیا، یہ 30میٹر لمبا اور 635 میٹرک ٹن وزنی ہے ۔ اس مجسمے کو آج برازیل کا مشہور ترین مجسمہ مانا جاتا ہے اور یہ سیاحوں کے پسندیدہ مقامات میں سے ایک ہے- یہاں ہر سال سینکڑوں افراد آتے ہیں۔ اس مجسمے تک پہنچنے کیلئے لوگوں کو ’’کوسمے ویل ہو‘‘ سے ایک ٹرین پکڑنی ہوگی، یہ ٹرین انہیں اس مجسمے تک پہنچا دے گی، مجسمے کی پہاڑی سے ریو ڈی جنیرو شہر کا خوبصورت نظارہ کیا جاسکتا ہے جو کہ یقیناً سیاحوں کیلئے دلچسپی کا باعث ہوگا۔
 
موائے، چلی:
موائے، ایسٹر جزیرے پر موجود یہ مجسمے دیکھنے والوں کیلئے دلچسپی کا باعث بنتے ہیں ، ان مجسموں کو پارک کے درمیان میں لائن سے کھڑا کیا گیا ہے ، مجسمے پرانی تہذیب کی بھرپور عکاسی کرتے ہیں ، ان مجسموں کو نصب کرنے کی اصل تاریخ کا اندازہ کسی کو نہیں ، تاہم کہا جاتا ہے کہ انہیں 11 سو سے 1500عیسوی کے دوران نصب کیا گیا تھا، ان مجسموں کو دیکھنے کی خواہش ہے تو آپ کو ’’سینتیاگو‘‘ سے راپا نوئی جہاز کا سفر کر کے آنا پڑے گا اور پھر آپ ان مجسموں کو قریب سے دیکھنے اور ان کے سامنے کھڑے ہوکر ان کا نظارہ کرسکیں گے۔
 
مفکر، پیرس:
پیرس میں نصب اس مجسمے کو ’’مفکر(The Thinker) ‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، اسے تانبے سے تیار کیا گیا ہے - اس مجسمے کو یہاں کے مشہور ڈیزائنر ’’آگسٹس روڈن‘‘ نے تیار کیا تھا، اس مجسمے کو بغور دیکھا جائے تو ایک انسان اپنے ہاتھ کو ٹھوڑی کی طرف اس انداز میں رکھے ہوئے ہے، جیسا کہ وہ کچھ سوچ رہا ہے۔ اسے میوزیم اور گارڈن کے بیچ میں نصب کیا گیا ہے ، یہی وجہ ہے کہ یہاں لوگوں کی بڑی تعداد آتی دکھائی دیتی ہے۔ یہ مجسمہ پیرس شہر کے درمیان میں ہے اس لئے یہاں بہ آسانی لوگ آجاتے ہیں اور خاندان کے ساتھ پورا دن گزارتے ہیں ۔
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
18 Aug, 2020 Views: 2464

Comments

آپ کی رائے