کچھ چیزیں تجربے سے ہی آتی ہیں!

(Sami Chahdury, Karachi)
 
یہ بات گو مزید دلائل اور مباحثے کی متقاضی ہے مگر عمومی رائے یہی ہے کہ ٹیلنٹ، ذہانت اور صلاحیت بھلے کسی بھی درجے کے ہوں، تجربے کو بہرحال ان پہ فوقیت حاصل ہے۔
 
ایک نوجوان کھلاڑی اپنے پہلے ہی سپیل میں اپنا پورا زور جھونک دے گا اور اگر نتائج اس کی توقع بھر نہ ہوئے تو دوسرے اور تیسرے سپیل میں وہ طاقت ہی نہیں لا پائے گا جو پہلے سپیل میں تھی۔
 
شاطر باکسر عموماً لڑائی کے پہلے دو تہائی حصے میں حملے سے کئی گنا زیادہ دھیان اپنے دفاع پہ دیتا ہے۔ حملے کے لیے وہ صحیح وقت کا انتظار کرتا ہے، وہ وقت جب مخالف اپنی زیادہ تر توانائی خرچ کر چکا ہو اور اعصاب تھکاوٹ کی جانب مائل ہوں۔
 
پہلے دو تہائی حصے میں فقط دفاع پہ دھیان اور اہم ترین مرحلے کے لیے توانائی بچا کر رکھنے کی اہمیت صرف تجربے سے ہی سیکھی جا سکتی ہے وگرنہ عمومی انسانی ذہن کا مزاج پہلے حملے کو ہی تابڑ توڑ بنانے کا ہوتا ہے تا کہ مخالف جوابی وار کا موقع ہی نہ بچے۔
 
وکٹ ایسی ہے کہ آؤٹ آف فارم بلے باز بھی چار گیندیں کھیل لے تو فارم لوٹ آئے۔ اب ایسی وکٹ پہ بولر کیا کر سکتا ہے۔ جہاں نہ سوئنگ ہے، نہ سیم ہے، نہ ہی کوئی غیر متوقع باؤنس ہے، وہاں بولر دعاؤں کے سوا کیا کر سکتا ہے؟
 
بولر کتنا ہی تیکھا کیوں نہ ہو، کیسا ہی غیر روایتی ایکشن کیوں نہ ہو، کیسی ہی برق رفتاری کیوں نہ ہو، اگر سامنے بلے باز مورگن جیسا ہو، کوئی بھی لائن، کوئی بھی لینتھ محفوظ آپشن نہیں رہتی۔
 
ہاں ایک طریقہ ہے کہ ایسی سیدھی وکٹ پہ بلے باز کو بازو کھولنے کا موقع نہ دیا جائے اور جہاں مروّجہ دانش کہتی ہے کہ آف سٹمپ کے ٹاپ کو ہدف بنانا ہے، ایسی وکٹ پہ اس کے برعکس مڈل سٹمپ کے مڈل کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جائے۔
 
مڈل سٹمپ کے مڈل کو نشانہ بنانا کچھ ایسی دقیق ریاضیاتی مشق ہے کہ نیٹ سیشنز میں گھنٹوں پریکٹس کر کے پختہ کی جائے تو بات بنے۔ یا پھر یہ سیکھ دہائی بھر کے تجربے سے مل سکتی ہے۔
 
اگر بولر مسلسل اسی لائن اور لینتھ پہ گیند پھینکتا رہے گا تو بلے باز کو اپنا سٹروک یا شاٹ بنانے کے لئے اپنے سٹانس کو توڑنا پڑے گا۔ بالفاظِ دگر ایسی گیندوں پہ رنز بنانے کے لئے بلے باز کو اپنی وکٹیں کھلی چھوڑنا پڑیں گی۔
 
اب اگر بولر مشاق ہے، جہاندیدہ ہے تو پھر شماریاتی امکانیت کے اعتبار سے ہی بلے باز اپنی پانچ ایسی کوششوں میں سے کسی ایک میں ضرور ناکام ہو گا اور یہاں وہ لمحہ پیدا ہو گا جب کوئی ایک گیند بلے کو غچہ دے کر بلے باز کے دفاع کا بند توڑ دے گی۔
 
 
ایان مورگن کے رن آؤٹ نے پاکستان کو پوری طرح چارج کر دیا۔ اتنے بڑے ہدف کے تعاقب میں یہ وکٹ بہت قیمت رکھتی تھی۔ مورگن کے بعد صرف دو ایسے بلے باز بچے تھے جو میچ پاکستان سے چھین سکتے تھے۔
 
سیم بلنگز اور معین علی، دونوں کے لیے یہ آخری موقع تھا کہ اپنے سلیکٹرز کو متاثر کریں اور آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں اپنی جگہ بنا پائیں۔ اور دونوں نے جگہ بنانے کی بھرپور کوشش کی۔
 
معین علی کو تو سرفراز نے ایک اور زندگی بھی دے ڈالی لیکن وہ فتح پاکستان کے منہ سے چھین نہ سکے۔
 
وہاب ریاض جب اپنے تیسرے اوور کے لئے آئے تو بلنگز پورے طمطراق سے گراؤنڈ کے چاروں اطراف میں کھیل رہے تھے۔ دیگر بولرز کے برعکس وہاب ریاض نے سٹمپس کے قریب جا کر بولنگ کی اور مڈل سٹمپ لائن کو نہیں چھوڑا۔
 
بلنگز ہی نہیں، معین علی کو بھی انہوں نے بازو کھولنے کا موقع نہیں دیا۔ اور جب معین علی کریز کا استعمال کرنے لگے تو وہاب ریاض نے پوری درستگی کے ساتھ ان کا پیچھا کرتے ہوئے بھی یہ یقینی بنایا کہ گیند ان کے بلے سے دور رہے۔
 
اسی درستگی نے بالکل آخری لمحوں میں مورگن اور کولنگ ووڈ کے چہروں سے مسکراہٹیں چھین لیں ورنہ اگر یہیں وہاب کا تجربہ میسر نہ ہوتا تو مورگن شاید ابھی بھی مسکرا رہے ہوتے۔
 
Partner Content: BBC Urdu
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: سمیع چوہدری

Read More Articles by سمیع چوہدری: 8 Articles with 4034 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 Sep, 2020 Views: 340

Comments

آپ کی رائے