مسٹر بارسلونالیونل میسی

(Kulsoom Jahan, Karachi)
عظیم کھلاڑی میسی نے 19سال بعد اپنے فٹبال کلب بارسلونا کوچھوڑنے کا فیصلہ کیاتھا ۔انہوںنے انتظامیہ کو فیکس بھیجا جس میں اپنے معاہدے میں شامل شق کا حوالہ دیتے ہوئے کلب سے فوری رخصت کا مطالبہ کیا تھا۔بارسلونا کے ساتھ میسی کا اگلے سال تک کا معاہدہ ہے اور اس میں ایک اور شق کے مطابق اگر کوئی اور کلب میسی کو خریدنا چاہتا ہے تو اس کے لیے انہیں 70 کروڑ یوروز ادا کرنے ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ میسی نے قانونی جنگ سے بچنے اور کلب چھوڑنے کا ارادہ ایک سال کیلئے تبدیل کرلیا۔

دنیائے فٹبال کے بے تاج بادشاہ لیونل میسی بارسلونا کی2019-20 چیمپئنز لیگ میںبائرن میونخ کیخلاف 8-2 سے شرمناک شکست کے بعد سخت مایوس ہوئے اور کلب چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ بعدازاں انہوں نے قانونی جنگ سے بچنے کیلئے اپنا فیصلہ واپس لیا۔خیال رہے کہ رواں سیزن میں میسی کا کلب بارسلونا لالیگا ٹائٹل بھی جیتنے میں ناکام رہا۔

بارسلونا لیونل میسی کے کیریئر کا واحد کلب ہے جس سے وہ مسلسل 19سال سے منسلک ہیں۔ مسٹر بارسلونا،میسی 24 جون 1987 کو ارجنٹینا کے شہرروساریومیں پیدا ہوئے ۔ ان کے والد جارج میسی اسٹیل فیکٹری میں منیجراور فٹبالر تھے۔ میسی کے بارے میں اگر یہ کہا جائے کہ وہ فٹبال کے پیدائشی کھلاڑی ہیں تو غلط نہ ہوگا۔ جب میسی چار برس کے تھے توان کی دادی ،سیلیا نے ان کے اندر ایک اسٹار فٹبالر بننےکی صلاحیت دیکھی۔ میسی کی دادی وہ واحد خاتون تھیں جو میسی کو کامیاب فٹبالر بنتا دیکھنا چاہتی تھیں۔ اس چھوٹے سے بچے کو پہلی بارمقامی کلب گرینڈولی میں فٹبال ٹریننگ لے جایا گیا جہاں ان کی دادی نے میسی کا خوب حوصلہ بڑھایا اوریوں وہ 1994 میںروسیو کلب نیوویلز اولڈبوائزسے وابستہ ہوئے۔
10سال کی عمر میں میسی کو گہرے صدمے سے دوچار ہونا پڑا۔ ان کی دادی سیلیا دنیائے فانی سے کوچ کرگئیں اور وہ جسمانی نشوونما اور ہارمونز کے مسائل سے دوچار ہوئے۔ ان کا قد ان کے ہم عمر بچوں کے مقابلے میں بہت کم تھا لیکن میسی کی اس بیماری کا علاج کرانا ان کے والدین کی بس کی بات نہیں تھی۔ روسیو کلب نیوویلز اولڈ بوائز کے حکام نے تین برس تک میسی کے علاج کے اخراجات برداشت کئے بعدازاں حکام نے میڈیکل اخراجات پورے کرنے سے منع کردیا۔

بارسلونا کے ٹیکنکل ڈائریکٹر چارلی ریکس ایچ نے میسی کے حوالے سے یہ باتیں سن رکھی تھیں کہ ارجنٹینا میں اس 13 سالہ بچے کا کھیلنے کا اسٹائل ’’لیجنڈ کھلاڑی ڈیاگو میراڈونا‘‘سے ملتا جلتا ہے۔ اس ڈائریکٹر نے کوئی وقت ضائع کئے بغیر ان کے والدین کو آفر کی کہ اگر اس لڑکے نے ٹرائل پاس کرلیا تو کلب ان کا علاج اوررہائش کا انتظام کرے گا۔2000میں میسی، اپنے والد کے ہمراہ بارسلونا آئے ۔ میسی نے نہ صرف اپنی ٹرائل میں کامیاب ہوئےبلکہ ٹیکنکل ڈائریکٹران کی کارکردگی سے متاثر ہوئے۔ انہوں نے2001میں ہسپانوی فٹبال کلب بارسلونا یوتھ ٹیم کو جوائن کیا،جہاں ان کا علاج معالجے کے ساتھ ساتھ ان کی تربیت بھی کی گئی۔ یہ وقت ان کے لئے نہایت مشکل تھا۔ وہ دن میں پریکٹس کرتے اور رات میں ان کو ہارمونز گروتھ کے انجکشن لگائے جاتے۔ تین برس تک کا علاج جاری رہا اور 16سال کی عمر میں قدرتی طور پر ان کا قد بڑھنا شروع ہوا۔

2003میں میسی بارسلونا کے ’’سی ٹیم‘‘ میں شامل ہوئے اور دس میچز کھیل کر 5 بار گیند کو جال کی راہ دکھائی اور کلب حکام کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے اور 2004میں ان کو بارسلونا کی ’’بی ٹیم‘‘ میں ترقی دی گئی۔ انہوں نے ایک سال تک اپنی بہترین کارکردگی کا تسلسل برقرار رکھا۔ 2005میں انہوں نے18 سال کی عمر میں بطور ’’سنیئر ٹیم پلیئر‘‘ بارسلونا کلب سے معاہدے پر دستخط کئے۔ وہ 485میچز میں بارسلونا کی نمائندگی کرتے ہوئے 444گول داغ چکے ہیں۔ وہ بارسلونا کلب کے ساتھ 4 مرتبہ چیمپئنز لیگ ٹورنامنٹ جیت چکے ہیں یہی نہیں بلکہ دنیا کے بہترین کھلاڑی ہونے کا اعزاز بھی میسی کو اسی کلب میں شمولیت کے دوران ملا۔وہ ہسپانوی کلب بارسلونا کو 10بار اسپینش لالیگا چیمپئن شپ، پانچ بارکوپاڈی ریل، چار بار یوئیفا چیمپئنز لیگ ،تین بار یوئیفا سپر کپ اورتین بار فیفا کلب ورلڈ کپ جتواچکے ہیں ۔ میسی چار بارفیفا ورلڈ کپ میں شرکت کرچکے ہیں۔ انہوں نے 2006 میں ورلڈ کپ میں ارجنٹائن ٹیم کی طرف ڈیبیو کرتے ہوئے پہلا گول سربیا کے خلاف داغا۔ان کی ٹیم کا سفر کوارٹر فائنل سے آگے نہ بڑھ سکا۔ کوارٹر فائنل میں جرمنی اور ارجیٹینا کے درمیان مقررہ وقت میچ ایک،ایک گول سے برابر رہااور میچ کا فیصلہ پینالٹی ککس پر ہوا۔ جرمنی نے 4-2گول سے کامیابی حاصل کی۔ 2010فیفا ورلڈ کپ میں ارجنٹینا کوارٹر فائنل میں جرمنی کے ہاتھوں0-4سے شکست کھا کر ایونٹ سے باہر ہوئی۔ میسی کو 2014عالمی کپ میں قومی ٹیم کی قیادت سونپی گئی۔ انہوں نے راؤنڈ میچز میں بوسنیا و ہرزیگووینا، ایران اور نائیجریا کےخلاف ارجنٹینا کو کامیابی کے شاہراہ پر گامزن کیا لیکن فیصلہ کن معرکے میں ٹیم کوجرمنی کے ہاتھوں 0-1سےناکامی سے نہ بچاسکے۔ان کو 2014 ورلڈ کپ کے بہترین فٹبالر قرار دیا گیا۔ انہوں نے 2016 کوپا امریکا کپ کے فائنل میں چلی کے خلاف میچ میں شکست کے بعد ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا۔ وہ چلی کے خلاف میچ میں پینالٹی ککس ضائع کرنے پربھی دلبرداشتہ ہوگئے تھے تاہم انہوں نےدو ماہ بعد اپنے اپنا فیصلہ واپس لے لیااورانہوں نے 2018ورلڈ کپ کے بعد انٹرنیشنل فٹبال سے کنارہ کشی اختیار کرنے کا اعلان کیا ۔ وہ 2009 میں پلیئر آف دی ایئر اور 2010، 2011 اور 2012 میں مسلسل تین دفعہ’’ بیلن ڈی اور ‘‘ایوارڈ جیت چکے ہیں۔ میسی کو’’ نیومیراڈونا‘‘کا خطاب دیا گیالیکن وہ لیجنڈ کھلاڑی میراڈونا کی طرح قومی ٹیم کو عالمی اعزاز نہ دلاسکے۔وہ 138میچز میں 70گول کرچکے ہیں۔

عظیم کھلاڑی میسی نے 19سال بعد اپنے فٹبال کلب بارسلونا کوچھوڑنے کا فیصلہ کیاتھا ۔انہوںنے انتظامیہ کو فیکس بھیجا جس میں اپنے معاہدے میں شامل شق کا حوالہ دیتے ہوئے کلب سے فوری رخصت کا مطالبہ کیا تھا۔بارسلونا کے ساتھ میسی کا اگلے سال تک کا معاہدہ ہے اور اس میں ایک اور شق کے مطابق اگر کوئی اور کلب میسی کو خریدنا چاہتا ہے تو اس کے لیے انہیں 70 کروڑ یوروز ادا کرنے ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ میسی نے قانونی جنگ سے بچنے اور کلب چھوڑنے کا ارادہ ایک سال کیلئے تبدیل کرلیا۔
واضح رہے کہ 33 سالہ نامور فٹبالر لیونل میسی اور کلب حکام کے تعلقات رواں سا ل ہی خراب ہونا شروع ہوئے جس کے بعد ان کے بارسلونا کو خیرباد کہنے کے حوالے سے قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں اورگزشتہ ماہ چیمپئنز لیگ کے کوارٹر فائنل میں شکست کے بعد میسی دلبرداشتہ ہوئے تھے۔ خیال رہے کہ مسٹر بارسلونا کے کلب چھوڑنے کے اعلان کے بعد انگلش کلب مانچسٹر سٹی،فرانسیسی کلب پیرس سینٹ جرمین، اور اطالوی کلب یوونٹس نے میسی کو خریدنے پردلچسپی ظاہر کی اور امید ظاہر کی جارہی تھی کہ وہ یوونٹس کلب کو جوائن کرینگے۔ میسی اورپرتگالی فٹبالر رونالڈوایک دوسرے کےسخت حریف سمجھے جاتے ہیں ۔ اگر میسی اطالوی کلب کا حصہ بنتے تو پہلا موقع ہوتا کہ لیونل میسی اور کرسٹیانو رونالڈوحریف ٹیموں کے بجائے ایک ہی کلب کی نمائندگی کرتے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Kulsoom Jahan

Read More Articles by Kulsoom Jahan: 6 Articles with 1829 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 Sep, 2020 Views: 350

Comments

آپ کی رائے