نیشنل گیمز یا انتظامی ناکامی کا آئینہ؟ افغان کھلاڑی، خاموش ادارے اور پامال ہوتا پاکستانی حق
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
کراچی میں منعقد ہونے والے نیشنل گیمز کو کھیلوں کا سب سے بڑا قومی ایونٹ کہا جاتا ہے، مگر اس بار یہ مقابلے اپنی کارکردگی، ریکارڈ یا نئے ٹیلنٹ کے بجائے سنگین سوالات، انتظامی کمزوریوں اور مشکوک فیصلوں کی وجہ سے یاد رکھے جائیں گے۔ افغان کھلاڑیوں کی مختلف صوبوں کی جانب سے شرکت نے صرف ایک تنازع کو جنم نہیں دیا بلکہ پورے کھیلوں کے نظام کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے۔ یہ معاملہ محض چند کھلاڑیوں تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس نے فیڈریشنز، ایسوسی ایشنز، صوبائی اولمپک ایسوسی ایشنز اور پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کی مجموعی ساکھ پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
سب سے بنیادی سوال یہ ہے کہ نیشنل گیمز کس لیے ہوتے ہیں؟ اس کا سیدھا جواب ہے کہ یہ مقابلے پاکستانی کھلاڑیوں کے لیے ہوتے ہیں، تاکہ انہیں قومی سطح پر خود کو منوانے، سلیکشن میں آنے اور آگے بڑھنے کا موقع ملے۔ لیکن جب انہی مقابلوں میں غیر ملکی کھلاڑی، وہ بھی بغیر کسی واضح پالیسی اور شفاف طریقہ کار کے، پاکستانی کھلاڑیوں کی جگہ کھیلتے نظر آئیں تو پھر یہ ایونٹ اپنی اصل روح کھو دیتا ہے۔کراچی کے نیشنل گیمز میں افغان کھلاڑیوں کی شرکت نے ایک نیا اور خطرناک دروازہ کھول دیا ہے۔ خیبرپختونخواہ اور بلوچستان کے مختلف کھیلوں میں افغان کھلاڑی پاکستانی ٹیموں کی نمائندگی کرتے دکھائی دیے۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ کسی خفیہ طریقے سے نہیں ہوا بلکہ اس میں متعلقہ ایسوسی ایشنز کے افراد کی شمولیت اور رضامندی بھی شامل تھی۔ یعنی یہ معاملہ لاعلمی کا نہیں بلکہ ملی بھگت کا تاثر دیتا ہے۔
یہ تنازع اتنا سنجیدہ ہے کہ بلوچستان ہائی کورٹ میں اس حوالے سے کیس زیر سماعت ہے۔ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا اس بات کا ثبوت ہے کہ معاملہ محض افواہوں یا سوشل میڈیا کی باتوں تک محدود نہیں رہا۔ اس کے باوجود، متعلقہ اداروں کی جانب سے کوئی واضح، مضبوط اور بروقت ردعمل سامنے نہیں آیا۔ یہ خاموشی خود ایک سوال بن چکی ہے۔ابھی تک کم از کم دو مختلف کھیلوں کے حوالے سے مستند اطلاعات سامنے آ چکی ہیں۔ بلوچستان میں اس معاملے پر کم از کم یہ مثبت پہلو ضرور نظر آتا ہے کہ کچھ حلقے اس کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔ وہاں یہ بحث موجود ہے کہ غیر ملکی کھلاڑیوں کو صوبائی یا قومی ٹیم میں شامل کرنا درست ہے یا نہیں۔ لیکن خیبرپختونخواہ میں صورتحال کہیں زیادہ تشویشناک ہے، جہاں مسئلے کو تسلیم تو کیا گیا مگر اس کے بعد عملی طور پر کچھ نہیں کیا گیا۔
ایک کھیل میں بلوچستان کی جانب سے افغان کھلاڑیوں کے کھیلنے کی باقاعدہ ویڈیوز موجود ہیں۔ یہ وہی کھلاڑی ہیں جو افغانستان کے جھنڈے کے ساتھ اپنے ملک کی نمائندگی کرتے رہے ہیں، اور انہی کھلاڑیوں نے نیشنل گیمز میں پاکستان کی طرف سے میدان میں اتر کر مقابلہ کیا۔ یہ صرف ایک اخلاقی مسئلہ نہیں بلکہ قانونی اور آئینی سوال بھی ہے۔ کیا نیشنل گیمز کے قواعد اس بات کی اجازت دیتے ہیں؟ اگر نہیں، تو ذمہ دار کون ہے؟یہاں اصل مسئلہ افغان کھلاڑیوں کی ذات نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ان کی شمولیت کی قیمت پاکستانی کھلاڑیوں نے ادا کی۔ وہ نوجوان جو برسوں محنت کرتے ہیں، ٹریننگ کیمپوں میں پسینہ بہاتے ہیں، ضلعی اور صوبائی مقابلے جیتتے ہیں، انہیں ایک دن یہ بتایا جاتا ہے کہ ان کی جگہ کسی اور کو موقع دے دیا گیا ہے۔ یہ کھلی ناانصافی ہے، اور اس کا براہ راست اثر کھلاڑیوں کے اعتماد، حوصلے اور مستقبل پر پڑتا ہے۔
اس پورے معاملے میں فیڈریشنز اور ایسوسی ایشنز کا کردار سب سے زیادہ مشکوک ہے۔ کیا وہ واقعی اس بات سے بے خبر تھیں کہ کون ان کی ٹیم کی نمائندگی کر رہا ہے؟ اگر نہیں، تو پھر انہوں نے آنکھیں کیوں بند رکھیں؟ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن اور چاروں صوبوں کی اولمپک ایسوسی ایشنز کا کام صرف ایونٹس کا انعقاد نہیں بلکہ شفافیت اور اصولوں کا نفاذ بھی ہے۔ جب نیشنل گیمز جیسے ایونٹ میں یہ سب ہوتا رہے تو اداروں کی کارکردگی پر سوال اٹھنا فطری ہے۔خیبرپختونخواہ سے اس معاملے پر ابھی تک کوئی باقاعدہ مراسلہ احتجاج سامنے نہیں آیا۔ جس کھیل میں افغان کھلاڑیوں کی شرکت کی تصدیق ہوئی، اس کے متعلقہ صدر نے مان لیا کہ غیر ملکی کھلاڑی کھیلے ہیں۔ لیکن اس اعتراف کے بعد جب یہ پوچھا گیا کہ اس ناانصافی کے خلاف کیا قدم اٹھایا گیا، تو جواب کی جگہ خاموشی نے لے لی۔ یہ خاموشی محض ذاتی نہیں بلکہ ادارہ جاتی خاموشی ہے، جو پورے نظام کو بے نقاب کرتی ہے۔
معاملہ یہاں ختم نہیں ہوتا۔ خیبرپختونخواہ سے ایک اور کھیل میں افغان کھلاڑی کے ایک سرکاری ڈیپارٹمنٹ میں شامل ہونے اور وہاں جانے کی ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں۔ صوبائی سپورٹس ڈائریکٹریٹ کے کوچ نے تصدیق کی کہ وہ ریلوے میں ہیں۔ لیکن ریلوے حکام اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ کسی افغانی کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔ البتہ وہ اس بات پر افسوس کا اظہار ضرور کرتے ہیں کہ ریلوے کی ٹیم کی کٹس ایک غیر متعلقہ کھلاڑی نے پہن لی تھیں، اور یہ کٹس “اللہ واسطے” دی گئی تھیں۔
یہ وضاحت خود اس نظام کی بدنظمی کا ثبوت ہے۔ اگر کٹس یوں ہی بانٹی جا سکتی ہیں، اگر کسی کو یہ معلوم نہیں کہ وہ کس کی نمائندگی کر رہا ہے، تو پھر سلیکشن اور کنٹرول کا پورا ڈھانچہ مشکوک ہو جاتا ہے۔ اس معاملے پر وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی اور دیگر حکام کو درخواستیں دی گئی ہیں، مگر ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ ایسے معاملات اکثر فائلوں میں دب کر رہ جاتے ہیں۔دوسری جانب خیبرپختونخواہ اولمپک ایسوسی ایشن کے سیکرٹری نے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق کسی افغانی کھلاڑی کو خیبرپختونخواہ کی جانب سے نہیں بھیجا گیا، اور تمام کھلاڑیوں کے کارڈ چیک کیے گئے تھے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر کسی ایسوسی ایشن کے فرد نے یہ اقدام اٹھایا ہے تو اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔
یہ بیان اپنی جگہ، لیکن شواہد اس کے برعکس ہیں۔ ابھی تک کے پی او اے کے پاس اس معاملے پر کوئی تحریری درخواست بھی نہیں پہنچی، جو خود ایک سوال ہے۔ اگر واقعی کارڈ چیک کیے گئے تھے، تو پھر یہ کھلاڑی کیسے منتخب ہو گئے؟ اگر نہیں کیے گئے، تو پھر یہ سنگین غفلت ہے۔ یہاں دو ہی صورتیں بنتی ہیں، یا تو ادارہ کنٹرول کھو چکا ہے، یا پھر کنٹرول کرنے کی اہلیت ہی موجود نہیں۔یہ افسوس کا مقام نہیں کہ افغان کھلاڑی میدان میں اترے۔ کھیل میں سرحدیں نرم ہو سکتی ہیں، مگر نمائندگی کے اصول سخت ہوتے ہیں۔ افسوس اس دوغلی پالیسی کا ہے جو خاموشی سے چل رہی ہے۔ صوبائی سپورٹس ڈائریکٹریٹ نے اب تک اس معاملے کا واضح نوٹس نہیں لیا۔ نہ یہ بتایا گیا کہ کتنے افغان کھلاڑی مختلف کھیلوں میں شامل ہوئے، اور نہ ہی ایسوسی ایشنز نے کوئی واضح موقف اختیار کیا۔
اس ساری صورتحال کے اثرات مستقبل پر بھی پڑیں گے۔ خیبرپختونخواہ اولمپک ایسوسی ایشن کے آنے والے انتخابات پر یہ تنازع براہ راست اثر انداز ہو سکتا ہے۔ برسوں سے ایک ہی عہدوں پر براجمان افراد اگر اپنے صوبے کے کھلاڑیوں کے حقوق کا تحفظ نہیں کر سکتے، تو وہ پاکستان یا بین الاقوامی سطح پر کیا کردار ادا کریں گے؟ کھلاڑیوں کا اعتماد اداروں سے اٹھتا جا رہا ہے، اور یہی سب سے بڑا خطرہ ہے۔آخر میں سوال یہی ہے کہ نیشنل گیمز کس کے لیے ہیں؟ اگر یہ ایونٹ پاکستانی کھلاڑیوں کے لیے نہیں، اگر یہاں اصول، شفافیت اور انصاف کی ضمانت نہیں، تو پھر اس کی وقعت محض ایک رسمی تقریب رہ جاتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس معاملے کی غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات ہوں، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے، اور مستقبل کے لیے واضح پالیسی بنائی جائے۔ بصورت دیگر، ہر نیشنل گیمز کے بعد ہم یہی سوال دہراتے رہیں گے، اور نقصان ہمیشہ کھلاڑی کا ہی ہو گا۔
#NationalGamesPakistan #SportsGovernance #AthletesRights #KP_Sports #BalochistanSports #OlympicAccountability #FairCompetition
|