"چترال" حسین وادیوں کی سرزمین۔۔۔ لیکن وہاں جانے سے پہلے یہ اہم باتیں جان لیں!

قدرت نے پاکستان کو حسین وادیوں سے نوازا ہے، یہاں کے سونے جیسے پہاڑ، چشمے، جھیلیں ، سرسبز میدان انسان کو اپنی طرف کھینچتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ چھٹیوں میں لوگوں کی بڑی تعداد ان خوبصورت مقامات کا دورہ کرنےکیلئے روانہ ہوجاتی ہے۔ اب بھی مہینوں پر محیط لاک ڈائون کے ختم ہونے کے بعد لوگوں نے ان خوبصورت مقامات کا دورہ کرکے اپنی ذہنی تھکن کو دور کرنے کی کوشش کی۔ جولوگ ان دنوں پاکستان کے حسین ضلع "چترال" کا دورہ کرنے کے خواہشمند ہیں ، وہ اس مضمون کو ضرور پڑھیں ، کیونکہ ہم اس میں چترال کے بارے میں معلومات فراہم کررہے ہیں ، جس سے پڑھنے والوں کو اس خوبصورت وادی کے بارے میں پہلے سے ہی پتاچل جائےگا اور ان کیلئے وہاں گھومنا آسان رہے گا۔
 
 
چترال کو پاکستان کا سب سے پُر امن علاقہ مانا جاتاہے، یہ صوبہ خیبر پختونخوا کے مالاکنڈ ڈویژن کا سب سے بڑا ضلع ہے۔ مرکزی شہر دریائے چترال (جسے دریائے کنٹر بھی کہا جاتاہے) کے قریب واقع ہے۔ ضلع چترال کی ایک تحصیل کا نام بھی چترال ہے، چترال کی مناسبت سے یہاں کی زبان کھوار کو چترالی بھی کہا جاتا ہے اور چترال کے لوگوں کو بھی چترالی کہا جاتا ہے۔ یہ ضلع ترچ میر کے دامن میں واقع ہے جو سلسلہ کوہ ہندوکش کی بلند ترین چوٹی ہے۔ اس کی سرحد افغانستان کی واخان کی پٹی سے ملتی ہے جو اسے وسط ایشیا کے ممالک سے جدا کرتی ہے۔چترال پہلے پاکستان کا حصہ نہیں تھا، بلکہ الگ ریاست تھی، بعد میں یہ پاکستان میں شامل ہوگیا ۔ اسے ضلع کا درجہ ديا گيا اور پھر اسے صوبہ خیبر پختونخوا کے مالاکنڈ ڈويژن سے منسلک کردیا گیا۔
 
وادی کالاش:
چترال میں موجود کالاشی علاقہ مشہور ترین سیاحتی مقامات میں سےایک ہے ۔ یہاں کی ثقافت اور سرسبز وادیاں دنیابھر کے لوگوں کو اپنے یہاں آنے کی دعوت دیتی ہیں ۔16 اکتوبر 2019 کو برطانوی شہزادہ ولیم اور شہزادی کیٹ مڈلٹن بھی یہاں آچکے ہیں۔
 
تہوار:
یہاں کے لوگ دو بڑے اور دو چھوٹے تہوار مناتے ہیں، جس میں چلم جوش اور چوموس شامل ہیں۔ چوموس سب سے اہم اور مشہورتہوار ہے، جو 14 دن تک جاری رہتا ہے۔ یہ تہوار دسمبر میں منایا جاتا ہے۔ کالاش قبیلے کا دوسرا بڑا تہوار چلم جوش ہے، جو سردیوں کے اختتام اور موسم بہار کی آمد پر منایا جاتا ہے۔ اس تہوار کے اعلان کے ساتھ سردیوں کے تکلیف دہ حالات کو رخصت کیا جاتا ہے اور بہار کا استقبال کیا جاتا ہے۔
 
 
بمبوریت :
اس وادی کو سہولتوں کے حساب سے چترال کی سب سے بہترین وادی مانا جاتاہے۔ پاکستان بھر سے آنے والے سیاح اس وادی کا ضرور دورہ کرتےہیں ۔ یہاں مختلف گیسٹ ہائوسز موجود ہیں، جہاں لوگ آسانی سے ٹہر سکتے ہیں ۔
 
رمبور:
رمبور وادی کے چھوٹے چھوٹے علاقے مقامی سیاحوں میں اتنے مشہور نہیں ہیں ، کیونکہ یہاں اتنی سہولیات نہیں ہیں لیکن اس کے باوجود غیر ملکی سیاح یہاں جاکر یہاں کی قدرتی وادیوں میں گھومنے کے شوقین دکھائی دیتے ہیں ۔ یہاں پر صرف تین گیسٹ ہائوس ہیں،جو لوگ یہاں جانا چاہیں انہیں بتادیں کہ گروم وادی کے بائیں جانب ایک گیسٹ ہائوس موجود ہے ،جہاں رُکنے کیلئے فی انسان کو 2سے3ہزار روپے دینے پڑیں گے، قیمتوں میں تبدیلی سیزن کے حساب سے ہوتی ہے ، چھٹیوں کے سیزن میں یہاں کے کرائے بہت بڑھ جاتے ہیں ، مقامی کھانے بھی بہ آسانی دستیاب ہیں ۔ یہاں کے لوگ گرم جوشی سے سیاحوں کا استقبال کرتے ہیں ۔
 
ترچ میر:
ترچ میر دراصل تمام پہاڑی سلسلوں کی لمبی چوٹیوں میں سے ایک ہے جو ہندوکش میں بھی سب سے اونچی ہے۔یہاں سے پورے علاقہ دکھائی دیتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ یہاں مختلف ہوٹلز اور سیاحتی مقامات بنائے گئےہیں ، جہاں آنے والے سیاح پورے علاقے کا نظارہ کرنے کےساتھ ساتھ یادگار تصاویر کھینچ سکتے ہیں ۔ ایڈونچر کے شوقین افراد یہاں کیمپنگ، ہائکنگ اور پہاڑوں پر چڑھ سکتے ہیں۔
 
چترال میوزیم :
اگر آپ چترال گھومنے گئے ہیں اور یہاں کی ثقافت کو قریب سے دیکھنا چاہتے ہیں تو آپ کو چترال میوزیم ضرور جانا چاہئے ، کیونکہ وہاں قدیم زیورات ، مختلف آلات، قدیم روایتی فرنیچر اور دوسری آثار قدیمہ کی چیزیں اور تصاویر موجود ہیں ۔
 
شاہی مسجد ، چترال:
یہ چترال کی پہلی بڑی مسجد ہے، جس میں بیک وقت 6 ہزار لوگ نماز ادا کرسکتے ہیں۔ اس مسجد کا انداز تعمیر جامع مسجد سنہری پشاور سے بہت ملتا جلتا ہے۔ اس لئے یہاں آکر اور مسجد کے منبرومحراب کو دیکھ کر قدیم زمانے کی ثقافت سیاحوں کے دماغ میں گھومنے لگتی ہے۔
 
گرم چشمہ :
گرم چشمہ چترال میں سیاحوں کے پسندیدہ مقامات میں سے ایک ہے۔ عام چشموں کاپانی عام طور پر ٹھنڈا پانی ہوتا ہے لیکن یہاں کا پانی گرم ہوتاہے ۔ مقامی لوگوں کا ماننا ہے کہ اس چشمے کا گرم پانی کئی بیماریوں کیلئے فائدہ مند ہے ، اس لئے کچھ لوگ یہاں علاج کی غرض سے بھی آتے ہیں ۔
 
وادی ایون :
یہ کالاش اور نورستان کا گیٹ وے ہے ۔ اپنی چوٹی ، پانی اور گھاس والی زمین کی وجہ سے یہ سیاحوں میں مقبول ہے۔ یہاں کے سرسبز میدان سیاحوں کی آنکھوں اور روح کو ٹھنڈک پہنچاتے ہیں۔
 
شندور پولو گرائونڈ:
اسے دنیا کا سب سے اونچا پولو گرائونڈ مانا جاتا ہے ۔ یہاں جانے کیلئے سیاحوں کو 4 گھنٹے کا سفر طے کرنا پڑتا ہے۔ یہ میدان ہر سال مختلف میچوں کی میزبانی کرتا ہے۔ چونکہ پولو وادی چترال کا سب سے مشہور کھیل ہے، اسلئے یہاں منعقد کئے جانے والے شندور پولو فیسٹیول میں ہزاروں لوگ شریک ہوتے ہیں ۔
 
 بروغل :
یہ چترال سٹی سے تقریبا 250 کلومیٹر دور واقع واخان کی پٹی پرآخری سرحدی گائوں ہے۔ حال ہی میں یہاں بروغل فیسٹیول کا انعقاد بھی کیاگیا۔ بروغل فیسٹیول یہاں آنےوالے سیاحوں کے لئے انتہائی کشش کا باعث ہوتاہے، فیسٹیول کے دوران سیاح میوزیکل سرگرمیوں سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ یہاں کے سفید گلیشئیرز، دریائوں، جھیلوں، اونچے پہاڑی سلسلوں کا نظارہ کرسکتے ہیں ۔
 
چترال جانے والے سیاح کیا کریں:
 سیاح کوشش کریں کہ مقامی گھروں کے گیسٹ ہائوس میں قیام کرلیں ، اس سے مقامی لوگوں کو آمدنی ہوگی اور آپ کو گھر میں تیار کئے گئے اچھے مقامی پکوان کھانے کو مل سکتے ہیں ۔وادی میں گھومنے کے دوران تصاویر کھینچنے سے پہلے کالاشی لوگوں خاص طور پر خواتین سے اجازت ضرور لیں ۔
 
ٹور گائیڈ کی مدد لیں ، تاکہ مقامی لوگوں کی مدد سے آپ اچھی طرح چترال گھوم پھِرسکیں ۔
 
چترال جانے کا ارادہ ہو اور کالاش بھی جانا ضروری ہو توجان لیں کہ وہاں جانے کا بہترین وقت اپریل سے جولائی کے درمیان ہوتاہے ،جب کالاش تین مختلف تہوار مناتے ہیں۔
 
یہاں آنے والے سیاح پہلے اسلام آباد ائیرپورٹ پر فضائی سفر کرکے آئیں ، اس کے بعد براستہ سڑک کسی جیپ یا گاڑی میں چترال تک آسکتے ہیں ۔
 
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
18 Sep, 2020 Views: 2373

Comments

آپ کی رائے