دھان کی پتا لپیٹ سنڈی کا تدارک

(Sajjad Ali Shakir, Lahore)

تحریر: گلزار احمد اسسٹنٹ ڈائریکٹرزراعت
پیسٹ وارننگ اینڈ کوالٹی کنڑول آف پیسٹیسائیڈز لاہور
سنڈیوں کی شناخت:بالغ:پروانے کی رنگت سنہری بھوری ہوتی ہے ا ور پروں پر کالی دھاریاں ہوتی ہیں ا نڈازرد ، بیضوی، چپٹاجبکہ پتے پر ایک ایک کر کے یا جڑواں انڈے پائے جاتے ہیں سنڈی:سنڈی ابتدا میں ہلکی سفید بمعہ کالا سر اور بعد میں سبز ہو جاتی ہے اور لمبائی ۱۶ ملی میڑ ہوتی ہے۔کویا: باریک ریشمی جالے میں جڑے ہوئے پتے یاپتوں کے درمیا ن کوئے کی حالت میں پایاجاتا ہے۔ حملہ کی علامات:اس کے حملہ کی علامات جولائی تااکتوبر تک رہتی ہیں ۔ انڈے سے نکلنے کے بعد سنڈی ایک یادو دن تک کھلے پتے پر رہتی ہے۔ بعد میں پتے کے دونوں سروں کو لمبائی کے رخ اپنے لعاب سے جوڑلیتی ہے اور اس نالی نما پتے کو اندر سے دھاریوں کی شکل میں کھرچ کرسبز مادہ کھاتی رہتی ہے جو کہ بعد میں خشک ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے ضیائی تالیف کا عمل متا ثر ہوتا ہے اور پودے کی نشوونمانہیں ہو پاتی ۔پتے کا سبز مادہ ضائع ہونے کی وجہ سے خوراک بنانے کی صلاحیت بہت کم ہو جاتی ہے۔ پتے خشک ہوجاتے ہیں اور پیداوار بہت متاثر ہو تی ہے۔ اس کے علاوہ حملہ شدہ پتہ جراثمی جھلساؤ کی خطرناک بیماری کے پھیلاؤ کا باعث بھی بنتا ہے۔مربوط انسداد:(1) یوریا کھادوں کے غیرضروری استعمال سے بچیں کیونکہ فصل کی انتہائی سبز رنگت پتا لپیٹ سنڈی کے پروانوں کو مائل کر نے کا سبب بنتی ہے۔(2) سایہ دار جگہوں پر پتہ لپیٹ سنڈی کا حملہ شدید ہوتاہے لہذا ان جگہوں پر دھان کاشت نہ کریں۔ (3) پتہ لپیٹ سنڈی کا حملہ شدہ پتہ دھان کی جراثمی جھلسا ؤ کی بیماری کا باعث بنتا ہے لہذا پتہ لپیٹ سنڈی کابروقت تدارک اس بیماری کے پھیلاؤ سے بھی بچاتا ہے۔ (4) جنسی پھندے یا رات کو روشنی کے پھندے لگائیں ۔ پھندوں سے ان لیڑوں کے پروانوں کی کھیتوں میں موجودگی کا پتہ چلایا جاسکتا ہے بلکہ ان کی تلفی بھی ہوسکتی ہے۔ (5) جڑی بوٹیوں خصوصاًگھاس کو کھیتوں اور وٹوں سے تلف کریں۔ (6) فصل کی ہفتہ وار باقاعد گی سے پیسٹ سکاؤٹنگ کریں, اگر سنڈی کا حملہ معاشی حد نقصان (۲ متاثرہ یا لپٹے ہوئے پتے فی پودا) تک پہنچ جائے تو کارٹیپ، فپرونل، تھایامیتھاگزم ، لیمبڈا سائی ہیلو تھرن ، کا ربوسلفان وغیرہ میں سے کسی ایک کا لیبل کی ہدایات کے مطابق استعمال کریں۔ (7)دانے دار زیروں کو کھیت میں چھٹہ دینے کے بعد ۳ انچ پانی ۶ دن تک کھڑا رکھیں۔(8) جن زمینوں میں پانی کھڑا نہ ہوسکے تو مائع زہریں ۱۰۰ تا ۱۲۰ لیڑ پانی میں ملا کر سپرے کریں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sajjad Ali Shakir

Read More Articles by Sajjad Ali Shakir: 114 Articles with 67369 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Sep, 2020 Views: 215

Comments

آپ کی رائے