پکی توبہ

(Prof Abdullah Bhatti, Lahore)

پروفیسر صاحب جی جس دن آپ نے مجھ سے بیٹی کا رشتہ قام کیا وہ میری زندگی کا ٹرننگ پوائنٹ تھا آپ مجھے بیٹا کہتے تھے لیکن میں نے آپ سے ضد کی تھی کہ میں مرد نہیں عورت ہوں جبکہ میں بھی جانتی تھی کہ میں نامکمل ہوں نہ مرد نہ عورت میں تیسری نسل سے ہوں جن کو لوگ خُسرا ہیجڑا مخنث کہتے ہیں لیکن یہ درد روگ ہم ہی جانتی ہیں میں نے جب بہت ضد کی درخواست کی توآپ نے مجھے لڑکی کے طور پر بلانے پر رضا مندی کر دی یہ میری بہت بڑی کامیابی تھی یہ بات میں کسی مولوی عام بندے سے کرتی تو وہ دھتکارتا مذاق اڑاتا دھکے دے کر نکال دیتا کہ تم پاگل ہو تم مرد ہو جب تم ہو ہی مرد تو تم کو کیوں کس لیے بیٹی یا لڑکی کہوں جب آپ نے میرے درد کو سمجھتے ہوئے کہاآج سے تم میری بیٹی ہو میں بطور عورت تم کو مانتا ہوں میری سلگتی روح کو قرار آگیا اگر آپ عام انسانوں کی طرح مجھے دھتکار کر نکال دیتے تو میں دوبارہ کبھی آپ کے پاس نہ آتی اور جاکر اپنی غلاظت بھری زندگی میں پھر مشغول ہو جاتی پھر نالی کے گندے کیڑے کی طرح گندگی جنسی شہوت ہوس کے گٹر میں ہی مرجاتی ‘آپ کے مثبت روئیے نے مجھے اور میری شیطانیت کو شکست دے دی ‘ میں گھر چلی گئی رات کو میرے ساتھ والیاں ناچ گانے اورمردوں کو پھنسانے کے لیے تیار ہوکر نکلنے لگیں تو میں نے بھی تیارہو نے کی کو شش کی تو مجھے آپ کی دی ہوئی عزت احترام ادب بیٹی کہنا یاد آگیا بیٹی کا لفظ امر بیل کی طرح میری رگوں میں اُتر گیا تھا میں نے طبیعت کی خرابی کا بہانا بنا یا اُ ن کے ساتھ نہیں گئی اِس کشمکش میں ایک ہفتہ گزر گیا میں کمرے میں بیماری کا بہانہ بنا کر لیٹی رہتی میرا گرو گہری نظروں سے میرا مشاہدہ کر رہا تھا ۔ ایک ہفتے بعد اُس نے مجھے پکڑ کر بٹھا لیا اور بولا تم کس چکر میں ہو میں تم کو غور سے دیکھ رہی ہوں تم بہانے بنا رہی ہو تم بلکل بیمار نہیں ہو یہ سب ڈرامہ بازی کر رہی ہو مجھے اصل با ت بتاؤ تم دھندے پر کیوں نہیں جارہی مجھے سچ بتاؤوہ بہت دیر پوچھتا رہا لیکن میں انکار کر تی رہی کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے لیکن باتوں باتوں میں گرو نے عجیب بات کہہ دی تھی کسی کی چند باتوں میں آکر اپنی زندگی بر باد نہ کر بیٹھنا تمہا را جینا مرنا اب ہمارے ساتھ ہی ہے اب اگر تم کو نیکی شرافت نارمل زندگی کا دورہ پڑے گا تو بربادی ناکامی کے سوا کچھ نہیں ملے گا اِس لیے غلط خیالات دماغ سے نکالو دوبارہ دھندہ شروع کر و خود کو اور مجھے بھوکا نہ مارو جوان ہو چا ر پیسے اکٹھے کر لو نہیں تو بڑھا پے میں کسی روڑی یا گندے نالے میں بھوکی مر جاؤ گی کوئی پانی کا ایک گھونٹ بھی تمہارے گلے میں نہیں ڈالے گا ۔ گرو کی باتوں نے مجھے پریشان سا کر دیا پھر ایک عجیب سا خیال آپ کے بارے میں آیا کہ آپ کون ہیں آپ نے مجھے بیٹی کیوں کہا اِس میں آپ کا مفاد کیا ہے اور آپ مجھے اِس رشتے سے کیوں پکارتے ہیں اب میں نے آپ کی جاسوسی کا پروگرام بنایا اتوار کے دن آپ کے پاس ہزاروں کا مجمع ہو ناتھا میں نے برقع پہنا تھا نقاب اوڑھ کر مجھے میں آکر بیٹھ گئی سارا دن آنے والے لوگوں کو دیکھتی رہی آپ کا اُن سے برتاؤ شام تک نتیجے میرے سامنے یہ آیا کہ آپ نے سارا دل بلا معاوضہ لوگوں سے ملے ہو وہ کو نسا جذبہ ہے جو آپ کو یہ کام کرنے پر مجبور کر تا ہے وہاں پر موجود لوگ آپس میں یہ بات کر رہے تھے کہ انسانوں میں صوفیا کرام ہو تے ہیں جو انسانوں کو بلا مذہب قوم امیر غریب کی تقسیم کے سب سے پیار کر تے ہیں آپ کے مجمعے میں دن گزارنے کے بعد آپ کے حوالے سے دماغ میں غلط سوچیں ختم ہو گئیں کہ آپ جو سارا دن لوگوں کی خدمت کر تے رہے ہو وہ بھی بلا معاوضہ تو آپ غلط نہیں ہو سکتے جو بندہ کسی کو بھی دھوکا نہیں دے رہا وہ مجھے کیا دھوکا دے گا پہلے میں ہر وقت محبوب کے ہجر کی چتا میں بھسم ہو تی رہتی تھی اب مجھے نئی سوچ دماغ میں یہ بیٹھ گئی کہ آپ اچھے انسان ہیں آپ کے پاس ریگولر جانا ہے پھر میں دوبارہ آپ کے پاس آنا شروع ہو گئی ۔ میرا دھندے پر نہ جانا گرو اور میرے ساتھیوں کے لیے بندہ ناقابل برداشت ہو گیا تھا وہ میرے دھندے چھوڑے کے بہت زیادہ خلاف تھے اب سب نے مجھے مل کر سمجھا نا شروع کر دیا کہ دیکھو تم اپنی زندگی برباد نہ کرو لیکن میں پھر بھی نہ مانی تو ایک دن گرو نے مجھے بہت ڈرایا دھمکایا بلکہ مارا بھی لیکن میں اپنی ضد پر اڑی رہی تو گرو اور ساتھیوں نے یہ دھمکی دی کہ تم کو گروپ سے نکال دیا جائے گا اب میں پریشان ہو گئی تو میری سب سے قریبی سہیلی جو میری طرح نامکمل تھی اُس نے مجھ سے بات کی کہ اصل بات بتاؤ تم اِس طرح کیوں کر رہی ہو مجھے اصل بات بتاؤ میں تمہارا مکمل ساتھ دوں گی تو میں نے اُس کو آپ کے بارے میں بتایا سب کچھ بتا دیا تو اُس نے کہا تم زندگی کی بہت بڑی غلطی کر رہی ہو اِسطرح تو گزارا نہیں ہو گا لیکن جب میں ضد پر اڑی رہی تو اُس نے کہا میں جاکر پروفیسر صاحب سے مل کر دیکھوں گی پھر فیصلہ ہو گا پھر سر میں اُس کو ایک دن مجمعے میں لے کر آئی ۔ اُس نے سارا دن گزارنے کے بعد کہا بندہ تو ٹھیک لگتا ہے پھر آپ کو یاد ہو گا آپ سے ملانے لائی تھی ۔ اُس نے آپ سے بہت سارے سوا ل کئے تھے آخری سوال اُس نے بہت کڑوا کیا تھا کہ آپ مورت دیوی کو اپنے گھر بیٹی بنا کر رکھ سکتے ہیں تو آج ہی رکھ لیں تاکہ ہمیں یقین تو ہو کہ آپ صرف باتیں نہیں کر تے۔ حقیقت میں اِس کو بیٹی مانتے ہیں پھر جب آپ کہا ہاں یہ میرے گھر بیٹی بن کر رہے گی تو مجھے بہت خوشی ہو گئی ۔ آپ کے اقرار پر میری دوست بہت حیران ہو ئی واپسی پر بولی یہ بندہ تو واقعی تم کو عزت دے گا تم پریشان نہ ہو آج سے میں تمہارا خرچ اٹھا ؤ ں گی برداری والے کو بھی سمجھا لوں گی پھر واپس جا کر اُس نے گرو اور برادری والوں کو قائل کر لیا کہ یہ اب دھندہ نہیں کرے گی ہما رے لئے کھانا پکائے گی گھر کو سنبھالے گی اِس کا خرچہ اب میں اٹھا یا کروں گی چند دن تو باتیں ہو تی رہیں لیکن پھر میری دوست اور گرو نے سب کو قائل کر لیا سر آپ کے بیٹی کہنے کا مُجھ پر یہ اثر ہو اکہ اُس دن کے بعد میں دھندے پر نہیں گئی وہ توبہ کا دن تھا آپ نے نفرت سے نہیں پیار سے مجھے ذبح کر دیا میری کایا پلٹ گئی آپ کے حکم پر میں نے تسبیح اور نماز بھی شروع کر دی جب کبھی آپ کے گھر آتی آپ کے سارے کام کر کے خوشی ہو تی ‘ناصر بھائی کے ساتھ بھائیوں والا تعلق بن گیا تھا۔ آپ خدا کے عاشق اور ناصراور میں آپ کے عاشق میں رشتوں کے تقدس کو بھول چکی تھی ۔ جنس ہوش غلاظت فحاشی نازو ادائیں گندگی سے نکل کر میں آپ کی آغوش میں آکر پناہ لیتی پھر آپ کے مشورے پر فیصلہ کیا مری کے سیزن کے خاتمے پر پشاور واپس جا کر میک اپ اور ڈریس ڈیزائننگ کے کورس کروں گی پھر اپنا کاروبار کروں گی ۔ یہ مورت باجی کی تفصیل تھی اُس کو مجھے ملے ہو ئے چھ ماہ ہو نے والے تھے وہ گناہوں سے تائب ہو چکی تھی لیکن محبوب کی جدائی بے وفائی ہجر کی حرارت سے ابھی بھی مضطرب رہتی تھی لیکن بار بار یہ کہتی تھی کہ تو بہ کا مزہ آگیا میں دن رات تو بہ کو خوب انجوائے کر تی ہوں تو بہ کر نے کے بعد کبھی اُس کی غلاظت بھری گناہوں بھری زندگی کی طرف جانے کا دل نہیں کیا ۔ میں جب پچھلے چھ ماہ سے اُس کی توبہ کے بارے میں مستقل مزاجی دیکھ رہا تھا وہ آہنی چٹان کی طرح فحاشی جنسی گندگی کو ٹھوکر مار کر کھڑی تھی۔ میں جب سے روحانی زندگی اور خدمت خلق میں آیا تھا حضرت انسان کے بدلتے رنگوں کو بغور دیکھ رہا تھا مشکل آن پڑی تو خیرات تو بہ نماز عبادات عمر ہ حج لوگوں کی مدد ہو رہی ہے جیسے ہی مشکل مصیبت ٹلی پھر وہ گندگی لوٹ مار مادیت پرستی میں غرق مذہب اخلاقیات انسانیت کے سارے رنگ پھیلے ہو ئے لگے وقتی توبہ کی ڈرامہ بازی کرنے والا انسان پھر دنیا داری کے ہو شربا چکروں کو الجھا نظر آتا اگر ایسے انسان کو یاد دلا یا جائے جناب آپ فلاں مشکل کے وقت تو بہ کر کے خدا سے کبھی دوبارہ گناہ نہ کر نے کا وعدہ کر چکے ہیں تو وہ کمال معصومیت سے کہتا جناب انسان تو غلطی کا پتلا ہے وہ بار بار غلطی کر تا ہے خدا تعالیٰ بار بار معاف کر تا ہے پھر اِس دنیا میں رہتے ہوئے دنیا داری کے تقاضے تو پورے کر نے پڑتے ہیں ۔ اگر دنیا داری نہیں کریں گے تو خود کو اور اپنے بیوی بچوں کو بھو کے ماریں گے دنیا داری جھوٹ فراڈ دھوکہ دہی کو جائز قرار دیتے ہیں لیکن اِسی مادیت پرست معاشرے میں ایک مخنث ہیجڑا مورت دیوی ایک بار تو بہ کر کے پوری آن بان شان کے ساتھ کھڑا تھا کہ یہ توبہ کا رنگ آخری سانس تک قائم رہے گا اُس کی پکی تو بہ نے مجھے اُس کا گرویدہ بنا دیا تھا اِس لیے آج مجھے اُس کا انتظار تھا ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Abdullah Bhatti

Read More Articles by Prof Abdullah Bhatti: 534 Articles with 259614 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Sep, 2020 Views: 420

Comments

آپ کی رائے