اسلامی سماج میں جنسی جرائم کے محرکات اور سد باب (پارٹ 2)

(Prof Masood Akhtar Hazarvi, )

جب تک ماحول اور معاشرہ کی اصلاح و تعمیر نہیں ہوگی، اس وقت تک یہ جرائم نئے نئے انداز میں منظر عام پر آتے رہیں گے۔ بغور جائزہ لیں تو اس وقت ٹی وی چینلز پر پیش کیے جانے والے کچھ ڈرامے ہماری دینی،مِلی اوراخلاقی قدریں تباہ کر رہے ہیں۔ کہیں شادی شدہ عورت اپنے شوہر کو چھوڑ کرآشنا کے ساتھ بغیر نکاح کے رہ رہی ہے تو دوسری طرف محبت کے نام پر بے حیائی، طلاق اورناجائز تعلقات ڈراموں کے مرکزی خیال نظر آتے ہیں۔ اس طرح وطن عزیز کی اسلامی روح اور پاکستانی تہذیب و ثقافت کو مجروح کیا جا رہا ہے۔ جب ان اخلاق باختہ اورگندے ڈراموں کی قسطیں سینما گھروں میں دکھانے کا اعلان کیا جاتا ہے تو کروڑوں روپے کے ٹکٹ فروخت ہوتے ہیں۔ اسی طرح سوشل میڈیا پر فحش مواد بھی اخلاقی پستی کا ایک سبب ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یورپ میں بھی پورنو گرافی اور یہ سب کچھ عام ہے۔ بلکہ اسی نقالی کے نتیجے میں ہمارے معاشرے بھی پدر مادر آزاد ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ لیکن ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ مغربی سماج سے شرم و حیا اور عفت و عصمت جیسی خوبیاں عرصہ دراز سے دم توڑ چکی ہیں۔ وہاں جنسی آزادی اس قدر عام ہے کہ معاشرہ، ملکی قوانین اور خاندان بھی عمر کی ایک حد کے بعد رضا مندی سے کھلے عام جنسی تعلقات کی حمایت کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ مرد و عورت کے مابین نکاح بھی ماضی کا قصہ بن چکا ہے۔ اب بلا امتیاز جنس، مرد و زن جس کا جس سے دل چاہے اس سے جنسی تعلق قائم کرے (الامان والحفیظ)۔ لیکن ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ الحمد للہ ہم مسلمان ہیں اور جب کوئی بے حیائی کا واقعہ پیش آئے تو غیرت ایمانی جاگ جاتی ہے۔ بسا اوقات غیرت کے نام پر قتل و غارت بھی ہوتی ہے۔ ان تمام مسائل کا واحد حل یہ ہے کہ ہم دو کشتیوں پر پاؤں رکھنے کی بجائے ایک ہی کشتی پر پرسکون طریقےسے بیٹھیں، اور وہ ہے اسلامی تہذیب وثقافت پر مبنی اسلامی معاشرہ۔ اگر ہم مسلمان بن کر زندہ رہنا چاہتے ہیں تو پھر معاشرے میں اسلامی اقدار کو رواج دیں۔ پیمرا جیسے اداروں کو موثر بنا کر ہر طرح کے ذرائع ابلاغ پر کڑی نظر رکھتے ہوئے، وہاں سے بے حیائی کا خاتمہ کریں۔ تعلیمی اداروں میں اسلامی اخلاقیات کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کریں۔ موم بتیاں اٹھا کر "ہمارا جسم، ہماری مرضی" والی آنٹیوں اور ان کی فنڈنگ کرنے والی این جی اوز کو وارننگ دیں کہ وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بے حیائی پھیلانے سے باز آجائیں یا بہت ہی شوق ہے تو ان مقاصد کے لیے کوئی اور زمین استعمال کریں۔ والدین اپنے بچوں کی تربیت کرتے ہوئے غیرت ایمانی کا ثبوت دیں، تو معاشرے میں غیرت کے نام پر قتل و غارت میں بھی خاطر خواہ کمی آئے گی۔ اس حوالے سے نئے نئے قوانین بنانے کی کوئی ضرورت ہی نہیں، ملک میں اسلامی شرعی قوانین کا نفاذ کر کے ہر مجرم کو اس کے جرم کے مطابق اسلامی سزائیں دیں۔ ان شاء اللہ اسی سے معاشرہ سدھر جائے گا۔ ورنہ نئی نئی قانون سازی کر کے کتنے ہی لوگوں کو ہر روز "نامرد" بنا کر دنیا بھر میں واحد اسلامی نیوکلیئر پاور پاکستان کی جگ ہنسائی کراؤ گے۔ یاد رکھیں جب تک جنسی جرائم کی تہہ تک پہنچ کر انہیں جڑ سے نہ اکھاڑا گیا، اس وقت تک معاشرے کی اصلاح ممکن نہیں۔

جرائم بڑھنے کا دوسرا بڑا سبب پولیس اور عدالتی نظام کی کمزوریاں ہیں۔ پاکستان میں جب کوئی مقدمہ درج ہوتا ہے تو پولیس کی چاندی ہو جاتی ہے۔ پہلے ایف آئی آر کاٹتے ہوئے مدعی سے مال بٹورتے ہیں۔ جب بات چالان تک پہنچتی ہے تو ملزمان سے مقدمے کی نوعیت کے اعتبار سے مال وصول کرتے ہیں۔ بعد ازاں پراسیکیوشن میں ملزمان کو بچانے کی گنجائش نکال کے مقدمہ کا چالان عدالت میں پیش کر دیا جاتا ہے۔ جج نے اپنے سامنے پیش کردہ چالان کے مطابق ہی مقدمہ کی کاروائی چلانا ہوتی ہے۔ اس طرح پولیس کی رشوت ستانی اور بد دیانتی کی وجہ سے بڑے بڑے سنگین جرائم میں ملوث ملزم آسانی سے رہا ہو جاتے ہیں۔ جب یہ مجرم جیل سے باہر آتے ہیں تو پہلے سے زیادہ بھیانک وارداتیں کرتے ہیں۔ اسی طرح عدالتیں بھی جلد از جلد کاروائی کرکے سزائیں دینے کی بجائے سالہا سال تک مقدمات کو لٹکائے رکھتی ہیں۔ ایک سینئر سیاستدان کے بقول بسا اوقات روز روز کے وکیل بدلنے کی بجائے لوگ ایک دفعہ جج ہی خرید لیتے ہیں۔ پولیس اور عدالت کے نظام میں خاطر خواہ مثبت تبدیلیوں سے بھی جرائم میں خاصی کمی واقع ہو سکتی ہے۔ پھر انصاف اتنا مہنگا ہے کہ عام آدمی اسے خریدنے کی وقعت ہی نہیں رکھتا۔ اگر معاشرے سے مخرب اخلاق اور جنسی ہیجان پیدا کرنے والے محرکات کا سد باب کر دیا جائے اور پولیس کی کاروائی اور عدالتی نظام کی اصلاح پر توجہ دی جائے تو موٹر وے پر پیش آنے والے واقعہ جیسے روح فرسا واقعات سے آئندہ نجات مل سکتی ہے۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ موٹر وے واقعہ کے ملزمان پر پہلے بھی کئی سنگین مقدمات درج ہیں لیکن اس کے باوجود وہ دندناتے پھر رہے تھے۔ اگر انہیں پہلے جرائم میں قرار واقعی سزا مل چکی ہوتی تو ہمیں یہ برا دن نہ دیکھنا پڑتا۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Masood Akhtar Hazarvi

Read More Articles by Prof Masood Akhtar Hazarvi: 195 Articles with 114774 views »
Director of Al-Hira Educational and Cultural Centre Luton U.K., with many years’ experience as an Imam of Luton Central Mosque. Professor Hazarvi were.. View More
24 Sep, 2020 Views: 128

Comments

آپ کی رائے