پاکستان میں دو لوگ بڑے اطمینان سے ہیں‘ غریب اور امیر۔۔۔۔

(Saima Rana, )

 یہ جو درمیان والے ’’مڈل کلاس‘‘ ہیں صحیح بیڑا ان کا غرق ہوتاہے‘ یہ رکھ رکھاؤسے لگ بھگ امیر لگتے ہیں لیکن حالت یہ ہوتی ہے کہ گھر میں آئے روز اس وجہ سے لڑائی ہوتی ہے کہ مہینہ ختم ہونے سے پہلے گھر کا راشن کیسے ختم ہو گیایا پھر یہ مہینہ ہی اتنا لمبا کیسے ہو گیاان لوگوں کو تو جس مہینے میں28 دن بھی ہیں وہ بھی 31 دن ہی لگتے ہیں۔ یہ لوگ یہ سوچتے ہیں کہاگر مہینہ اتنا لمبا ہو گیا ہے تو ہم بھی ان چند رپوں کوکھنچے کر اتنا ہی لمبا کر لیں کے یہ مہینہ ختم ہونے کے بعد ختم ہوگھر میں نہ چاہتے ہوئے بھی لڑائی اور بے سکونی ہی رہتی ہے جب وسائل ہمدانی سے زیادہ ہو جائے ان لوگوں کی زندگی بھی ایسی ہی ہے کہ یہ سر اٹھا کر ا?سمان کو تو دیکھے سکتے ہیں لیکن آسمان کو چھونے کا خواب پورا نہیں کر سکتے ان لوگوں کو رات میں خوبصورت تارے تو نظر آتے ہیں لیکن انکی روشنی سے اپنے گھر کی تاریکی کو ختم نہیں کر سکتے ہمارے ہاں قابل نفرت دو ہی طبقے ہیں امیر اور غریب امیر قابل نفرت ہے کیونکہ اس کے پاس دولت ہے دنیا جہاں کے آسائش وآرام ان کے پاس ہے اور غریب قابل رحم ہے کیونکہ ان کے پاس ایسا کچھ بھی نہیں ہے یہ جو مڈل کلاس ہے یہ قابل رحم بھی ہے اور قابل نفرت بھی کیونکہ یہ اپنی مٹھی میں چند پیسے لے کر تو کسی شیشے والے دوکان میں داخل تو ہو سکتے ہیں لیکن کسی چیز کو خرید نہیں سکتے۔حسرت اور مٹھی میں بند پیسے ہی لے کر دوکان سے باہر نکل آتے ہیں اور کہتے ہیں انگور کھٹے ہیں۔میرا ایک دافعہ اتفاق ہوامیں سبزی لینے مارکیٹ گئی وہاں پر میں نے ایک خاتون کامشاہدہ کیا وہ ریڑھی پر پڑی سب سبزیوں کے باؤ پوچھ رہی تھی کہ کوئی بھی سبزی اس کے پاس جمع شدہ رقم سے خریدی جا سکے کبھی وہ حسرت سے سبزیوں کو دیکھتی اور کبھی آتے جاتے خریداروں کو دیکھتی کہ وہ اپنی مرضی سے تھیلے بھرکرجارہے ہیں اور نظر جھکاتی تو اس کو اپنی چادر بہت ہی چھوٹی لگتی میں نے اس خاتون کو مخاطب کیا اور پوچھا کیا بات ہے آج آپ کوئی سبزی لینا ہی نہیں چارہی خاصی دیر سے کھڑی ہیں تو اس نے اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھتے ہوئے مجھ سے کہا کہ مجھے آج سمجھ نہیں آرہی میں گھر میں کیا بناؤں کیونکہ میرے بچوں کو مختلف سبزیوں پسند ہیں تو میں اسی سوچ میں کھڑی ہوں کے کیا لے جا کر پکاؤں اس کے ساتھ ہی میرے کانوں میں مغرب کی اذان سنائی دی اور میں نے قدم بڑھایا گھر واپسی کیلئے تو خاتون اس ریڑھی بان سے کہنے لگی کہ اب تو رات کا پہر ہونے والا ہے 30 روپے میں ہی کوئی سبزی آتی ہے تو مجھے دیدیو کیونکہ میرے گھر میں پچھلے دو دن سے فاقے چل رہے ہیں اور اس وقت کے بعد دوکاندار بھی قیمتوں میں کچھ کمی کر ہی دیتے ہیں میری آنکھوں میں آنسو آگئے اور میں نے اپنے قدم تیزی سے بڑھائے تاکہ اس خاتون کا برہم نہ ٹوٹے میں گاڑی میں جا کر بیٹھے گئی اور اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے ڈرائیور کو کچھ رقم دی وہ سبزی والے کو دے آؤ تاکہ ریڑھی والا اس کو 30 روپے میں تھیلا بھر کے سبزی دے سکے اور اس خاتون کا مان اور بھرم میرے آنسو کی طرح کئی زمین پر نہ گر پڑیں میں سارے راستے یہ بات سوچتی آئی کہ نہ جانے وہ کب سے کھڑی اس وقت کا انتظار میں تھی کہ کب قیمتوں میں کمی ہو اور وہ کچھ لینے کے قابل ہو جائے۔ زندگی تو کسی حد تک غریب یا امیرکی احسان ہے مڈل طبقے والے لوگ تو ہر لحمہ زہر کا گھونٹ ہی بھرتے ہیں۔ویسے بھی پاکستان کا بجٹ ان دو طبقات کو مدنظر رکھ کر بنایا جاتا ہے۔گھی اتنی جلدی کیسے ختم ہوگیاہمارے ہاں قابل رحم اور قابل نفرت بھی دو ہی طبقات ہیں‘ امیر اور غریب۔امیر قابل نفرت ہے کیونکہ اس کے پاس پیسہ ہے اور غریب قابل رحم ہے کیونکہ اس کے پاس پیسہ نہیں۔پاکستان کا بجٹ بھی انہی دو طبقات کو مدنظر رکھ کر بنایا جاتاہے‘ گورنمنٹ بھی انہی دو طبقات پر نظر رکھتی ہے۔درمیان میں جو سینڈوچ بنتا ہے وہ بیچارا مڈل کلاس ہے۔امیر لوگ اسے غریب سمجھتے ہیں اور غریب لوگ امیر۔ یہ مڈل کلاسیا کون ہوتا ہے؟ یہ وہ ہوتا ہے جس کے پاس بظاہر امیروں والی ہر چیز ہوتی ہے لیکن سیکنڈ ہینڈ۔اس کے پاس نسبتاً بہترگھر ہوتاہے لیکن کرائے کا۔ گاڑی ہوتی ہے لیکن بیس سال پرانی۔گھر میں اے سی ہوتاہے لیکن عموماً چلتا ائیر کولر ہی ہے۔کپڑے صاف ہوتے ہیں لیکن چلتے کئی کئی سال ہیں۔ گھر میں یو پی ایس ہوتا ہے لیکن اس کی بیٹری عموماً آدھا گھنٹہ ہی نکالتی ہے۔اس کے پاس اچھا موبائل بھی ہوتاہے لیکن استعمال شدہ۔اس کے گھر میں ہر ہفتے لمبے شوربے والا چکن بنتا ہے۔یہ اپنے بچوں کو پارک میں سیرو تفریح کے لیے لے کر جائے تو عموماً گھر سے اچھی طرح کھانا کھا کر نکلتاہے۔اس کے پاس اے ٹی ایم کارڈ تو ہوتاہے لیکن کبھی پانچ سو سے زیادہ نکلوانے کی نہ ضرورت پڑتی ہے نہ ہمت۔یہ دن رات کوئی ایسا بزنس کرنے کے منصوبے بناتا ہے جس میں کوئی خرچہ نہ کرنا پڑے۔اِس کی گاڑی صرف سردیوں میں بڑے کمال کی کولنگ کرتی ہے۔یہ جب بھی اپنے بیوی بچوں کو لے کر کسی فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ جاتا ہے چھ افراد کی ساری فیملی دو برگرز میں ہی بھگت جاتی ہے۔یہ اگرظاہرکرے کہ میرے پاس بہت پیسہ ہے تو رشتے دار ادھار مانگنے آجاتے ہیں‘ نہ بتائے تو کوئی منہ نہیں لگاتا۔یہ اپنی اوقات سے صرف 20فیصد اونچی زندگی گذارنے کی کوشش میں پستا رہتا ہے۔ اصل میں یہ غریبوں سے بھی بدتر زندگی گذار رہا ہوتا ہے۔ اس کی ساری زندگی کمیٹیاں ڈالنے اور بھگتانے میں گذر جاتی ہے۔ پاکستان میں امیروں اور غریبوں سے کہیں زیادہ تعدادمڈل کلاسیوں کی ہے لیکن یہ کسی کھاتے میں شمار نہیں ہوتے۔ ہمارے ہاں ہر وہ بندہ مزے میں ہے جس کے پاس بہت سارا پیسہ ہے یا بالکل نہیں ہے۔جس کے پاس پیسہ ہے وہ اے سی میں سوجاتاہے۔ جس کے پاس نہیں وہ کسی فٹ پاتھ پر نیند پوری کرلیتاہے۔ پیسے والا کسی سے کچھ نہیں مانگتا اور غریب ہر کسی کے آگے ہاتھ پھیلا کر کھڑا ہوجاتاہے۔رگڑا اْس کو لگتاہے جس کے پاس پیسہ تو ہے لیکن صرف گذارے لائق۔ غریبوں کی اکثریت کو یہ مڈل کلاسیے ہی پال رہے ہیں۔کبھی کبھی تو مجھے لگتاہے کہ سب سے زیادہ خوف خدا بھی اِس مڈل کلاس میں ہی پایا جاتاہے۔ یہی کلاس سب سے زیادہ خیرات کرتی ہے۔ بعض اوقات تو ان کی اپنی زندگی غریب سے بھی بدتر گذر رہی ہوتی ہے لیکن انا کے مارے یہ بیچارے کسی کو بتاتے نہیں۔آپ نے کبھی لوئر ایلیٹ کلاس یا اپر ایلیٹ کلاس کی ٹرم نہیں سنی ہوگی۔لوئر غریب یا اپر غریب بھی نہیں ہوتا صرف لوئر مڈل کلاس یا اپر مڈل کلاس کے الفاظ سننے کو ملتے ہیں۔لوئر اور اپر میں کچھ زیادہ فرق نہیں ہوتا‘ لوئر والے کے پاس موٹر سائیکل ہوتی ہے اور اپر والے کے پاس پرانے ماڈل کی کار۔نیندیں دونوں کی اڑی رہتی ہیں۔یہ عیدالاضحی پر قربانی کی استطاعت نہ رکھنے کے باوجود کسی اونٹ یا گائے میں حصہ ڈال لیتے ہیں۔ان کی ساری زندگی گھر کی فالتو لائٹس آف کرنے اور بل کم کرنے کے منصوبے بناتے گذر جاتی ہے۔یہ موبائل میں سو روپے والا کارڈ بھی پوری احتیاط سے استعمال کرتے ہیں اور گھر والوں کو آگاہ کیا ہوتاہے کہ ایک مسڈ کال دوں تو اس کا مطلب ہے میں آرہا ہوں۔ دو مسڈ کال دوں تو مطلب ہے میں ذرا لیٹ ہوں۔یہ ایک دن کے استری کیے ہوئے کپڑے دو دن چلاتے ہیں۔یہ ہر دو گھنٹے بعد شک دور کرنے کے لیے بجلی کے میٹرکی ریڈنگ چیک کرتے رہتے ہیں۔یہ کبھی بھی اس قابل نہیں ہوپاتے کہ ایک ہی مہینے میں بجلی، گیس اور پانی کے سارے بل اکٹھے ادا کرسکیں لہذا بجلی کا بل ادا کردیں تو گیس کا بل اگلے مہینے پر ڈال دیتے ہیں۔ان کی اکثریت چونکہ پڑھی لکھی بھی ہوتی ہے لہذا کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتی۔ان کے پاس بیٹیوں کی شادی کرنے کے پیسے نہیں ہوتے‘اولاد کے لیے اچھی نوکری کی سفارش نہیں ہوتی اس کے باوجود یہ کسی کو دکھ میں دیکھتے ہیں تو خود بھی آبدیدہ ہوجاتے ہیں۔ان کی گھر کام کرنے والی غریب ماسی چونکہ دیگرمختلف گھروں میں کام کرتی ہے اس لیے رمضان میں ہر گھر سے راشن کے نام پر لگ بھگ پچاس کلو آٹے سمیت چار پانچ ماہ کا راشن اکٹھا کرنے میں کامیاب رہتی ہے۔ لیکن مڈل کلاسئے پریشان رہتے ہیں کہ اپنے گھر کے لیے جو پندرہ دن کا راشن لائے تھے وہ ختم ہونے کے قریب ہے اور تنخواہ ملنے کا دور دور تک کوئی امکان نہیں۔ زکواۃ غریبوں کو جاتی ہے۔ بھیک کے پیسے بھی کوئی غریب ہی لیتا ہے۔ فطرانہ بھی غریب کا نصیب بنتا ہے۔لیکن غریب یہ سب لے کر بھی کوئی کام کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا کیونکہ اس نے طے کر لیا ہے کہ چونکہ وہ غریب ہے لہذا اس پر کسی قسم کی کوئی محنت فرض نہیں اور باقی سب کو چاہیے کہ وہ اسے مل جل کر پالیں۔ بھکاری وہ واحد طبقہ ہے جو کبھی کسی کو بھیک نہیں دیتا۔آپ کسی بھکاری کو ذرا کسی کام پر لگانے کی آفر کریں آگے سے جو سننے کو ملے گا وہ آپ بہتر جانتے ہیں۔ لیکن مڈل کلاسیا کیا کرے؟۔یہ صرف کڑھتا ہے، سسکتا ہے اورمرتا ہے!!! اس غربت کے تناسب پر کیا خوب کہا تھا مولانا رومی نے مولانا رومی ے پوچھا گیا کونسی مسوسیقی حرام ہے ؟ اور انہوں نے موقع کی تناسب سے کیا خوب جواب دیا۔
امیروں کے برتنوں میں گونجتی چمچوں کی آواز
جو بھوکوں اور غریبوں کے کانوں میں پڑے

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Saima Rana

Read More Articles by Saima Rana: 2 Articles with 797 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Sep, 2020 Views: 318

Comments

آپ کی رائے