کیکڑا سگریٹ نوشی کرتے ہوئے، ویڈیو وائرل۔ ہم کچرا پھینک کر خود جانداروں کو مار رہے ہیں؟

 
حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہورہی ہے، جس میں ایک کیکڑے نے اپنے پنجوں میں سگریٹ تھام رکھی ہے اور ویڈیو کے دوران جیسے انسان سگریٹ کے کش لگاتا ہے، بالکل ویسے ہی اسے بھی سگریٹ کو منہ کے قریب لاتے اور واپس لے جاتے ہوئے دیکھا جاسکتاہے۔ لوگ اس ویڈیو کو دیکھ کر حیران دکھائی دیتے ہیں۔
 
یہ بات سچ ہے کہ جب بھی جانور، انسانوں کی کسی شے کو استعمال کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں تو ان کی ویڈیوز وائرل ہوجاتی ہیں۔ اس 35 سیکنڈز کے ویڈیو کلپ میں کیکڑے کو باقاعدہ اسموکنگ کے انداز میں سگریٹ پیتے ہوئے دیکھاجاسکتاہے۔ یہ ویڈیو ویسے پہلے پڑوسی ملک انڈیا میں وائرل ہوئی۔ جہاں کے میڈیا نے اسے کوریج بھی دی ہے۔ اس ویڈیو میں واضح انداز میں دیکھا جاسکتاہے کہ کیکڑے کو انداز ہ ہے کہ اس کی ویڈیو بنائی جارہی ہے، وہ کیمرے سے دور جانے کی کوشش بھی کرتا ہوا بارہا دیکھاگیا ہے۔ لوگوں کاکہناہے کہ 2020 میں اب بس یہی کچھ دیکھنے کیلئے رِہ گیاتھاکہ ایک کیکڑا اب تمباکو نوشی کرے گا۔ کچھ لوگوں نے اسے مزاحیہ انداز میں لیا اور کہا کہ اب انہیں سمجھ آیا ہے کہ کیکڑے کو کینسرسائن(برج) کیلئے بطور تصویر کیوں استعمال کیاجاتاہے، وغیرہ۔
 
 
تمباکونوشی ہو یا سگریٹ نوشی، دونوں ہی صحت کیلئے مضر ہیں ۔ ساتھ ہی ہم ماحولیاتی آلودگی کو بڑھانے کا سبب بن رہے ہیں۔ لوگ سگریٹ پینے کے پینے کے بعد اسے کسی بھی جگہ پر پھینک دیتے ہیں۔ سمندروں کی سیر کے دوران بھی یہی طرز عمل اختیار کیاجاتاہے۔ وہاں اپنی مرضی سے کچرا پھینکا جاتاہے۔ اس سے سمندری مخلوق کی جانوں کو نقصان پہنچ رہاہے۔ اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد پڑوسی ملک کے جنگلی حیات کے شعبے کے ترجمان کا کہناتھا کہ کیکڑے کو سگریٹ پکڑتے دیکھ کر افسوس اس بات کا ہے کہ انسان خود تو سگریٹ نوشی کرکے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں تاہم اب جاندار بھی ان کے غیر ذمہ ادارانہ روئیے کی وجہ سے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں ۔ یہ بھی یاد رہے کہ سگریٹ نوشی کی زیادتی کی وجہ سے کئی افراد کینسر جیسے موذی مرض میں بھی مبتلا ہوتے اور مرتے دیکھے گئے ہیں ۔
 
پلاسٹک کی بوتلیں ہوں یا تھیلیاں، ہم پاکستانی بھی ان چیزوں کو جھیلوں، سمندراور دریاؤں میں پھینکنے کے عادی ہیں۔ ہم یہ نہیں سوچتے کہ اگر ہم کچرا سمندر میں پھینکیں گے تو اس کی وجہ سے سمندری مخلو ق مر بھی سکتی ہیں۔ دنیا بھر میں کئی ایسے واقعات دیکھنے میں آئے ہیں، جہاں کچرے کی وجہ سے مچھلیوں، بطخوں، کچھوے، پینگوئین وغیرہ کو مرتے ہوئے دیکھاگیا ہے۔ سب سے بڑی مخلوق وہیل مچھلی کو مانا جاتاہے، اسے بھی پلاسٹک کی وجہ سے کئی مرتبہ مرتے ہوئے دیکھاگیا ہے۔ یوں کہاجاسکتاہے کہ بڑی بڑی سمندری مخلوق جب ہماری جانب سے پھینکے گئے کچرے کی وجہ سے مر سکتی ہے تو پھر چھوٹے جانداروں کا کیاحال ہوتاہوگا۔
 
 
صرف سمندری مخلوق ہی نہیں ہم اردگرد کچرا پھینک کر پرندوں اور دیگر مخلوق کو بھی نقصان پہنچارہے ہیں۔ اگر ہم نے اپنا یہی طرز عمل جاری رکھا اور سمندر یا دیگر جگہوں پر کچرا پھینکتے رہے تو عنقریب جانداروں کی کئی نسلیں معدوم ہوجائیں گی اور ہم ان سے محروم ہوتے جائیں گے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے کیلئے اقدامات کریں، زیادہ کچھ نہیں تو بس اتنا ضرور کریں کہ کچرے کو صحیح جگہ ٹھکانے لگائیں اور انسان ہونے کی اپنی ذمہ داری نبھائیں۔
 
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
24 Sep, 2020 Views: 1582

Comments

آپ کی رائے