فطرت سے بغاوت اور بے برکتی

(Farzana jabeen, Islamabad)

اسلام علیکم قارئین میں فرزانہ جبین ایک اور سوچ میں پریشان ہو کر اپنی سوچ کو آپ سے بانٹتی ہوں ۔ کہ آپ کا اتفاق اور اختلاف مجھے سوچنے کے نئے مواقعے فراہم کرتا ہے ۔ اور اب تیز رفتار زندگی سے دور اکیلے بیٹھ کر کسی موضوع پر سوچنا ایک بہترین مشغلہ لگتا ہے ۔

تو بات کرتے ہیں خدا کی بیشمار مخلوقات میں سے ایک کی کہ جس کے لیے اس پوری کائینات کو سجایا گیا ۔ انسان جو ایک نہایت مشکل اور اپنے آپ میں نہ سمجھ آنے والی مخلوق ہے

انسان فطری طور پر باغی واقع ہوا ہے ۔ جب آدم اور حوا کو جنت میں رہتے ہوے ایک خاص درخت سے دور رہنے کا حکم دیا گیا تو ان کی باغی فطرت نے ان کو وہ پھل ضرور کھانے پر اکسایا۔ پھر وقت گواہ ہے دنیا کے آباد ہونے کے بعد انسان نامی مخلوق نے کہاں کہاں بغاوت کی ۔

دور جدید پر ایک نظر دوڑائیں تو ہر طرف انسانی بغاوت کے عملی نمونے نظر آتے ہیں ۔ دن کی شروعات سے ہی دیکھ لیں ۔ حکمِ ربی ہے صبح سویرے جاگنا ہے ۔ آج کل صبح سویرے جاگنا ایک انتہائی مشکل عمل ہے ۔ جب تک کوئی کام نہیں ہو گا تب تک صبحہ جاگنے کی ضرورت ہی نہیں ہے ۔ کام کی وجہ سے اگر جاگنا بھی پڑے گا تو الارم سے ہی جاگا جا سکتا ہے کیوں کہ عادت جو نہیں ہے ۔ یہاں سے شروعات ہوتی ہے بغاوت کی ۔ پھر بہترین ناشتے کو صحت کی علامت کہا گیا ۔ پر صبح صبح کوئی کھا کیسے سکتاہے

دن بھر کی بے شمار بغاوتوں کے بعد باری آتی ہے شام کی ، مجھے آج بھی یاد ہے بڑے بزرگ کہا کرتے تھے بیٹا مغرب سے پہلے گھر لوٹ آنا ۔ آج بھی کئی گھروں میں مغرب کے بعد غیر ضروری گھر سے نکلنا برا سمجھا جاتا ہے۔ پر اکثر لوگ فراغت کے اس وقت کو دوستوں ، محفلوں اور شاپنگ میں گزارنا پسند کرتے ہیں ۔ رات کو خدا نے آرام کے لیے بنایا ہے ۔ مگر ہمارے معاشرے میں رات کو دیر تک جاگنا ایک فیشن بن گیا ہے ۔ ایسے میں اگر کو ئی ایک جلدی سونے کا عادی ہو تو اس کا اتنا مذاق اڑایا جاتا ہے کہ وہ اپنی عادت پر شرمندہ نظر آتا ہے ۔

غرض روز مرہ زندگی کے چھوٹے چھوٹے معاملات سے لے کر بڑے بڑے معاملوں تک میں ہر جگہ ہمیں بےترتیبی اور بغاوت نظر آے گی ۔

جو کہ ایک لمحہ فکریہ ہے ۔ بڑے بزرگ کہتے تھے ۔ راتوں کو دیر تک جاگنا اور دوپہر چرھے تک سوتے رہنے سے بے برکتی ہوتی ہے ۔ آج اگر اپنی زندگیوں پر نظر دوڑائیں تو پتہ چلتا ہے کہ گھر میں ایک سے زیادہ لوگ کمانے والے ہیں ۔ پر بھی ہر کوئی اخراجات کے نہ پورے ہونے کا رونا روتا ہے ۔ سارہ دن روزی روٹی کے لیے بھاگ دوڑ کرنے والے کو سکون سے بیٹھ کر روٹی کھانے کی فرصت نہیں ۔ ماں اور باپ دونوں مل کر بھی اولاد کی ضروریات پوری نہیں کر پا رہے ۔

کہیں واقعی ہم بےبرکتی کا شکار تو نہیں ۔ ذرا سوچئے گا ۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Farzana jabeen

Read More Articles by Farzana jabeen: 12 Articles with 2220 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 Sep, 2020 Views: 247

Comments

آپ کی رائے