عورت، اسلام اور پاکستان

(Hassan Ali, Rawalpindi)
حوا کی بیٹی سے بدفعلی۔۔۔۔۔اور زیادتی کے واقعات میں اضافہ۔
وجوہات کیا ہیں؟ حکومت کا کردار اور اِن کا حل؟

عورت کی جو حیثیت مقامِ جاہلیت میں تھی، اُس سے کئی درجے بہتر آج اُس کا معاشرے میں مقام و مرتبہ ہے۔ لیکن گزشتہ کچھ عرصہ میں عورتوں کے ساتھ زیادتی اور دوسرے کئی بدفعلی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، خاص کر وطنِ عزیز میں غیرت کے نام پے قتل، زیادتی کے واقعات تقریباً روز ہی خبروں میں نشر ہوتے ہیں اور ہم سے اکثر ان واقعات کو کسی معمول کی خبر سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ اِس ملک میں عورت کے مسائل، خواہ وہ کتنے چھوٹی سے چھوٹی کیوں نہ ہوں کو حل کرنا نہایت ضروری ہے کیونکہ ہم سے ہر شخص کی زندگی میں عورت ضرور شامل ہے، چاہے وہ ماں کی شکل میں ہو یا بہن، بیوی کی شکل میں۔ عورت کا ایک معاشرے میں قلیدی کردار ہے اور ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ جب وہ گھر سے نکلے تو اُس کے گھر میں بیٹھی ماں، بہن، بیوی اور بیٹی خیروعافیت سے رہے، عورت کو گھر میں بیٹھانے کا قائل نہ میں ہوں اور نہ ہم میں سے کوئی بھی پڑھا لکھا شخص ہو گا لیکن اِن بڑھتے ہوئے بدفعلی کے واقعات دیکھتے ہوئے اکثر ایسا کرنے پر مجبور ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے کڑی سے کڑی سزاوں کو لاگو کرے، تاکہ ایسے گھناؤنے جرائم سے معاشرے کو نجات مل سکے اور عورت کو وہ احترام و مرتبہ دوبارہ حاصل ہو جو اسلام نے اُسے عطا کیا تھا۔ خاص کر زیادتی کی بات کی جائے تو اِس کی کئی وجوہات ہیں جو اِن واقعات میں اضافہ کر رہی ہیں، جن میں جاہلیت یا علم کی کمی سرِفہرست ہے کیونکہ علم انسان کو ادب اور اچھائی بُرائی کا فرق بتاتا ہے اور ایسے شخص کا ذہن جو علم کی روشنی سے منور نہیں ہمیشہ اندھیرا میں رہتا ہے۔ صرف علم کی کمی ہی نہیں، نکاح کو مشکل بنانا اور سماجی سرگرمیاں بھی اِن واقعات کی بڑھوتری میں پیش پیش ہیں۔

خیر صرف معاشرتی بُرائیاں بیان کر کے اختتام کرنا اُن تمام مردوں کے ساتھ زیادتی ہے جو صنفِ نازک کا تہہ دل سے احترام کرتے ہیں، آج بھی اِس معاشرے میں ایسے لوگ موجود ہیں جو عورت کو دیکھ کر نظر جھکا لیتے ہیں اور جن کے لیے تمام عورتیں اُن کی اپنی عورتوں جیسی ہیں خواہ وہ عورت باپردہ ہو یا نہیں کیونکہ پردہ اللہ اور بندے کا معاملہ ہے۔ خیر ربِ کائنات سے التجا ہے کہ اس بُرائی سمیت دیگر تمام معاشرتی بُرائیوں سے ہمارے معاشرے کو نجات عطا فرمائے، آمین!
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Hassan Ali

Read More Articles by Hassan Ali: 5 Articles with 1771 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 Sep, 2020 Views: 195

Comments

آپ کی رائے