زہر

(Farzana jabeen, Islamabad)

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ سوچیں ہمارے دماغ کے خلل کا نتیجہ ہوتی ہیں ۔ بعض اوقات تھوڑا مختلف سوچنے والے انسان کو اکثر علاج کا مشورہ بھی ملا کرتا ہے ۔ اگر سچائی کا مظاہرہ کروں تو مجھے بھی کئی بار کہا گیا کے مجھے دماغی امراض کے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے ۔ اس بات کا ذکر کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ ضروری نہیں آپ میرے سوچنے کے انداز سے اتفاق کریں ۔
چلیں اب اصل موضوع کی طرف آتے ہیں ۔

لفظ زہر کو سن کر یا پڑھ کر جو پہلا خیال ذہن میں آتا ہے وہ سانپ کا ہے ۔ زہر حادثاتی طور پر ملے یا جان بوجھ کر دیا جائے نتیجہ ذیادہ تر موت ہی ہوتا ہے۔ پر جیسا کے میں اپنے پچھلے موضوع میں عرض کر چکی ہوں کہ انسان نے ترقی کے بہت سے مراحل طے کئے اور جدید سے جدید تر کی تلاش میں ہم بہت سی نئی عادات سے روشناس ہوئے ۔

انہی بہت سی نئی عادات میں سے ایک عادت یہ بھی ہے کہ ہم انسان سانپوں سے اتنے متاثر ہوئے کہ ہم نے اپنی زبانوں کو بھی زہریلا کر لیا ۔ جدید طریقے کے مطابق اب ہم اختلاف رائے کی صورت میں اپنی زبان سے الفاظ کی صورت میں ایسا زہر اگلتے ہیں کہ دوبارہ کوئی اختلاف کی کوشش بھی نہیں کر سکتا ۔

یہ جدید فنِ گویائی اتنا زیادہ مفید ہے کہ اس کے فائدے دور رس ہیں ۔ اکثر ہماری زبان سے نکلے طنزیہ الفاظ سامنے والے کو ساری عمر گرم تیل میں کھولنے جیسا احساس دلاتے رہتے ہیں ۔ انسان جب تک جئے گا زبان سے نکلا زہر اپنا اثر دکھاتا رہے گا ۔ گولی سے لگا گاؤ بھر سکتا ہے پر زبان سے لگے گاؤ کا ساتھ سانسوں کے ساتھ ہے ۔ اور سب سے بہترین بات کہ کوئی فرد جرم بھی عائد نہیں ہوتا ۔ کوئی جیتے جی بھی مر جائے تو کوئی پھانسی نہیں ، کوئی عمر قید نہیں ۔

اکثر یہ زہریلے ڈنگ ہم چلتے پھرتے طنزیہ یا پھر مذاقیہ مارتے رہتے ہیں ۔ کبھی جوابی وار ہمیں مزید زہریلہ کرتے ہیں اور بعض اوقات سامنے والے کی خاموشی ہمیں فتح کا احساس دلاتی ہے ۔ یہ جنگ بڑی بڑی ایٹمی جنگوں سے زیادہ اچھے طریقے سے لڑی جاتی ہیں ۔ جس میں بظاہر کوئی جانی و مالی نقصان نہیں ہوتا ۔

بس ایک نقصان ہوتاہے جس کا اکثر ہمیں احساس بھی نہیں ہوتا ۔ وہ یہ کے چپ چاپ دلوں میں نفرتوں کو فروغ مل رہا ہوتا ہے ۔ نفرت نہ بھی ہو تو کم از کم اپنائیت نہیں رہتی ۔کبھی سوچئے گا جب آپ سینہ تان کہ بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ میں نے تو ایک بات بولی اور اگلے کی بولتی بند ہو گئی۔ بولتی کے ساتھ ساتھ سامنے والے کے دل کا دروازہ بھی بند ہو چکا ہوتا ہے ۔

آپ کو معلوم ہے اس سب میں سب سے افسوس کی بات کیا ہوتی ہے ۔ ہم زبان کے ان ہتھیاروں کا استعمال اپنوں پر کرتے ہیں ۔ وہ اپنے جن کے ساتھ ہمارہ عمر بھر کا ساتھ ہوتا ہے ۔

میرا یہ ماننا ہے کہ اختلافِ رائے کی صورت میں دلائل سے سامنے والے کو قا ئل کر لیں ۔ بحث کر لیں ۔ یا اختلاف سے پرہیز کرتے ہوئے خاموشی اختیار کر لی جائے ۔ پر اپنے الفاظ سے کسی کو زخمی نہ کریں ۔ پھر رشتہ تو رہ جاتا ہے پر اپنائیت دم توڑ دیتی ہے ۔ میں نے اکثر رشتوں کو ساری عمر محبت اور اپنائیت کے بغیر رشتہ نباہنے دیکھا ہے ۔ ایسے میں ہم سب زندگی بسر نہیں کر رہے ہوتے، زندگی گزار رہے ہوتے ہیں ۔ جانتے ہیں پھر صاحبِ اختیار حکومت کر رہے ہوتے ہیں ۔ اور باقی سب غلامی کر رہے ہوتے ہیں ۔

ہمیں صرف یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہر انسان کی شکل ، خون ، ڈی این اے ، فنگر پرنٹ کے ساتھ ساتھ سوچنے کا انداز بھی مختلف ہو سکتا ہے ۔ اگر ہم صرف اتنا سمجھ لیں کہ سامنے والا ہم سے الگ ہے غلط نہیں تو بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں ۔

اپنی سوچ دوسروں پر تھوپنے کی خود پسندانہ عادات ہمیں تنہا کر دیتی ہیں ۔ ہمیں یہ ماننے کی ضرورت ہے کہ شخصی آزادی سوچ کی آزادی کا ہی دوسرہ نام ہے ۔ پر افسوس ہم اس کا استعمال اپنے گھروں میں نہیں کرتے ۔ ہم خود سے جڑے رشتوں کو اپنے ساتھ نہیں اپنے ماتحت دیکھنا چاہتے ہیں ۔

یا د رکھیے کششِ ثقل ہمیں ایک اور بات بھی سکھاتی ہے ۔ جو تم آج دو گے وہ لوٹ کے تمہاری طرف ضرور آ ئےگا۔ اب یہ آپ پر ہے آپ محبت ، اپنائیت ، درگزر اور چاہت کا بیج بوتے ہیں یا زہریلے الفاظ کا ۔

اشفاق احمد صاحب کہتے ہیں ۔ خدا ہم سب کو آسانیاں تقسیم کرنے کی توفیق دے ۔ آمین
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Farzana jabeen

Read More Articles by Farzana jabeen: 12 Articles with 2230 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
29 Sep, 2020 Views: 107

Comments

آپ کی رائے