ایک ہی تو زمین ہے !!!

(Muddasir Ahmed, India)

اس کائنات میں انسانوں و دیگر مخلوقات کیلئے اگر کوئی رہنے کی جگہ ہے تو وہ ہے زمین ، اس زمین کے علاوہ ہمارے پاس کوئی اور زمین نہیں ہےلیکن اس زمین پر ہمیشہ سے ہی ان لوگوں کا راج رہا ہے جو طاقتور رہے ہیں ، دنیا کے مختلف تمدن کا جائزہ لیا جائے تو ہر دور میں کسانوں نے اس زمین پر اپنا پسینہ بہا کر، خون سے زمین کو سینچ کر دوسروں کا پیٹ بھرتے رہے ہیں ، لیکن ہر دور میں ان کسانوں کے ساتھ حق تلافی کی گئی ہے لیکن کسانوں نے کبھی بھی انسانوں کے ساتھ بے وفائی نہیں کی ہے۔ لوگ ان پر کوڑے برساتے رہے، ظلم کرتے رہے لیکن بدلے میںکسانوں نے انسانوں کو اناج ہی دیا ہے۔ جس وقت ایسٹ انڈیا کمپنی اس ملک میں راج کرنے کا عزم لیکر آئی تھی تویہاں کے عالی شان محلوں، قطب مینار، تاج محل کو دیکھ کر نہیں بلکہ اس ملک کی زمین پر اُگنے والے اناج کو وہ سونے کے طور پر دیکھتے تھے اسی لئے اس زمین پر اپناراج قائم کرتے ہوئے یہاں کے کسانوں کی مدد سے یہاں کی زمین میں چھپے ہوئے خزانے نما اناج کو لوٹنا شروع کردیاتھا اسی لئے ایسٹ انڈیا کمپنی نے پوری طاقت لگاکر ہندوستان پر قبضہ کیا۔ جب ہر ممکن طریقے سے اس زمین کو لوٹ لیا تو بلا آخر ہندوستانیوں کے دبائو میں آکر برٹیش تو ملک چھوڑ کر چلے گئے لیکن ان کی سو چ اورذہانت کو ملک میں ہی باقی چھوڑ گئے جس کی وجہ سے کسانوں اورزمینوں پر خطرہ منڈلانےلگا ہے۔ ملک کی موجودہ حکومت نے ایک ایسا قانون بنایا ہے جس میں بظاہر یہ قانون کسانوں کے حق میں ہے لیکن اسکے مثبت ومنفی اثرات کا جائزہ لیا جائےتو یہ قانون پوری طرح سے کسانوں کو موت کے منہ میں ڈھکیلنے والاقانون ہے اورعام شہریوں کو بھوکے مارنے کیلئے کافی ہے۔ دراصل حکومت نے جو قانون بنایا ہے اس میں یہ کہا جارہا ہے کہ اس قانون سے منڈی نظام یعنی اے پی ایم سی کا نظام ختم کردیا جائےگالیکن ان منڈیوں کے خاتمے سے کسان اورعام لوگ دونوں ہی متاثر ہوںگے اورفائدہ صرف کارپوریٹر کمپنیوں کو ہوگا۔ نئے قوانین کے تحت نجی خریداروں کو یہ اجازت ہوگی کہ وہ براہ راست کسانوں سےانکی پیدوار خرید کر ذخیرہ کرسکیںگے۔ پرانے قانون میں صرف حکومت کے طئے شدہ ایجنٹ ہی کسانوں سے انکی پیدوار خرید سکتے تھے اسکے علاوہ اوروہ کسی کو یہ اجازت نہیں تھی ۔ نئے قانون میں اس بات کی بھی اجازت دی گئی ہے کہ خریدار کانٹرایکٹ فارمینگ بھی کرواسکتے ہیں۔ جس کی وجہ سے کسانوں کو وہی اناج یا فصلیں اُگانی ہوں گی جو کانٹرایکٹ میں طئے ہوگا۔ نئے قانون میں اس بات کی بھی اجازت دی گئی ہے کہ کسان اپنی پیدوار کو منڈی کی قیمتوں پر نجی خریداروں کو بیچ سکیںگے ان میں بڑی کارپوریٹر کمپنیاں، سپر مارکیٹ اورآن لائن کمپنیاں بھی شامل ہیں۔ ان تمام کے درمیان اس قانون میں اس بات کا بالکل بھی ذکر نہیں ہے کہ منیمم سپورٹنگ پرائس(یم ایس پی) کا نظام اس قانون میں جاری رکھا جائےگا۔ ایم ایس پی کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسان منڈی کو800 روپئے میں دھان فروخت کرتے ہیں اور8 سوروپئے لاگت سے کم قیمت ہے تو حکومت کی جانب سے تائیدی رقم دی جاتی ہے یعنی کہ کسان کو نقصان نہ مگر یہاں ایم ایس پی کا ذکر نہیں ہے۔ کسانوں کے معاملے میں حکومت مسلسل عام لوگوں کو گمراہ کررہی ہے اوراس بات پر سب سے زیادہ زور دے رہی ہے کہ اس نے منڈی اوردلالوں کے نظام کو ختم کردیا ہے۔ لیکن اس نظام کو ختم کرنے سے کسانوں کو تو فائدہ نہیں ہوگا البتہ کارپوریٹ کمپنیوں کو فائدہ ضرور ملے گا۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muddasir Ahmed

Read More Articles by Muddasir Ahmed: 138 Articles with 38221 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Oct, 2020 Views: 127

Comments

آپ کی رائے