کورٹس ٹیسٹ اور سٹوڈنٹس

(Saira Younus, khanewal)

کورٹس میں پنجاب لیول پر سٹینو گرافر اور کمپیوٹر آپریٹر کی سیٹس آتی رہتی ہیں جس میں مختلف اضلاع سے لوگ اپلائی کرتے ہیں اور ہزاروں سٹوڈنٹس ٹیسٹ دینے کے لیے کورٹس میں جاتے ہیں۔کمپیوٹر آپریٹر کا تعلق کمپیوٹر سے ہوتا ہے انکا ،ریٹن ٹیسٹ لیا جائے کوئی ہرج نہیں۔البتہ ایک سٹینو کا تعلق تو ،رٹن ٹیسٹ سے بنتا ہی نہیں کیونکہ اسکا تعلق شارٹ ہینڈ اور ٹائپنگ سے بنتا ہے یہی اس کے لیے بہت ضروری ہیں۔بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ جو سٹوڈنٹس رٹن ٹیسٹ پاس کرلیتے ہیں ضروری نہیں انکی شارٹ ہینڈ اور ٹائپنگ اچھی ہو اس سے پھر بہت سٹوڈنٹس ہمت ہار جاتے ہیں اور دل چھوڑ دیتے ہیں۔کورٹس والوں کی اگر رٹن ٹیسٹ کے حوالے سے بات مان بھی لیں مگر سلیبس نہیں بتایا جاتا کسی کو کچھ نہیں پتا ہوتا ایسے میں سٹوڈنٹس کو بہت مشکلات درپیش آتی ہیں اور اسی کشمکش میں مبتلا ہو کر تیاری اچھے سے نہیں کر پاتے ان کے برعکس باقی اداروں میں ٹیسٹ سسٹم دیکھیں وہ سب کچھ بتا کر ٹیسٹ لیتے ہیں اور پھر طلبہ آسانی سے پاس بھی کر لیتے ہیں۔کورٹس میں یا تو رٹن ٹیسٹ ختم کیا جائے یا پھر سلیبس بتایا جائے تاکہ سٹوڈنٹس کا مستقبل داؤ پر نا لگے۔

دوسری بڑی بات جو آتی ہے وہ یہی کہ یہ لوگ رزلٹ نہیں دیتے اگر رزلٹ دیں گے تو پتا چلے گا کہ کون سا سٹوڈنٹس کتنے پانیوں میں ہے۔

جب رزلٹ نہیں دیں گے تو میرٹ کا پتا نہیں چلے گا اور پھر سبکے ذہنوں میں ایک بات آئے گی کہ کرپشن ہوئی ہے جنہوں نے ٹیسٹ پاس کیا انھوں نے سفارش اور پیسے پر بھرتی کیے۔اب انصاف کرنے والے جب ایسے کہلائے جائیں گے تو کون انصاف کا طلبگار رہے گا جب سسٹم ہی اچھا نہیں ہوگا کون امید کا دامن تھام کر رکھے گا۔ایسے میں تو سب سٹوڈنٹس ہمت چھوڑ دیں گے انکی محنت کوڑیوں کے بھاؤ چلی جاتی ہے۔ججز کو اس بارے میں سوچنا چاہیے ہزاروں سٹوڈنٹس ٹیسٹ دیتے ہیں جب سسٹم دیکھتے ہیں دل سبکا خون کے آنسو روتا ہے سب کو پھر کرپشن لگتی ہے تو انصاف کے لیے کس کا دروازہ کھٹکھٹائیں کہاں جا کر اپنی فریاد سنائیں سسٹم کو تبدیل ہونا چاہیے تاکہ حق والوں کو حق مل سکے اور انصاف ہو سکے بے شک اللّہ پاک انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔

ایک مزدور جسکی آمدن ہی پندرہ سے بیس ہزار ہے پانچ بچوں کے اخراجات اور گھر کے اخراجات بامشکل پورے کرتا ہے وہ اپنے بیٹے یا بیٹی کو اس فیلڈ میں لانا چاہتا ہے اور انتہائی قابل بنانے اور دیکھنے کا جذبہ رکھتا ہے مگر جب اسکا بیٹا یا بیٹی ٹیسٹ پاس کرتے تو اسکا نام سر فہرست نہیں آتا جس سے وہ دل برداشتہ ہوجاتے ہیں تو یہ بات ذہن میں آتی ہے جسکا پیسہ اسکا ہی سب کچھ،کتنی افسوس کی بات ہوتی ہے جب ایسا ہوتا ہے یہ سب رزلٹ شو نا کرنے کا نتیجہ ہوتا ہے کیونکہ محنت کا پھل نہیں مل رہا ہوتا پھر خیالات منفی بن جاتے ہیں جو زندگی پر برے اثرات مرتب کرتے ہیں۔اﷲ کا خوف انسان کو پستی سے بلندی کی طرف لے جاتا ہے جو لوگ رب العالمین سے ڈرتے ہیں وہ ہمیشہ رب کے اصولوں پر چلتے ہیں چاہے وہ جس مرضی عہدہ پر فائز کیوں نا ہوں دوسری طرف جنکے دلوں پر شیطان کا قبضہ ہو وہاں بس ہدایت کی دعا کی جا سکتی ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Saira Younus
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
05 Oct, 2020 Views: 86

Comments

آپ کی رائے