سری نگر کا نیا ء شہید بابر قادری

(Asif Ashraf, )

چند ہی روز ہوئے ہوں گے ایک حدیث نظر سے گزری خدا کے آخری پیغمبر کا فرمان تھا جوشخص نا حق کسی کا قتل کرے قیامت تک اسی آلہ قتل سے اس کو سزا دی جاتی رہے گی اور روز قیامت اور بھی کڑی سزا :::فوری مجھے فہیم اکرم یاد آگیا مقبول بٹ کے خاص ساتھی سردار کرم المعروف چچا اکرم مرحوم کے بیٹے فہیم اکرم کو 29سال قبل پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے شہر باغ میں محض 26سال کی عمر میں اس کو اس وقت کی حکمران جماعت کے کارندے نے دن دھاڑے چھرے مار کر شہید کر دیا تھا کیونکہ فہیم اکرم اپنی بولی بولتا تھا اور حکمرانوں کو اسلام آباد کے خلاف اپنی بولی بولنے والا ناپسند تھا 26ستمبر کو اس کا یوم شہادت آیا اس حدیث کی روشنی میں اس کے قاتل اور قتل کے منصوبہ سازوں کی سزا کے بارے میں سوچتے سوچتے سردار عارف شاہد بھی یاد آگے ۔۔۔۔نامعلوم قاتل آج تک Exposeہونے کے باوجود کیوں ابھی تک نامعلوم ہی ہیں یہ سوچتے سوچتے جب آندھیرا پڑتے پھر گھر کی راہ لی اور ایک نئی امید کے ساتھ TVآن کیا کہ شاید شمالی کشمیر (جی بی )کو پڑوسی ملک کا صوبہ بنانے کا فیصلہ روک دیا گیا ہو یہ درد ناک اطلا ع ملی کہ ایڈوکیٹ بابر قادری کو شہید کر دیاگیا میرے لیے یہ کوئی حیرانگی کی بات نہ تھی ۔ایسی بہت ساری خبریں ابھی اور آنا باقی ہیں کہیں تہاڑ جیل میں محمد یاسین ملک اور فاروق (بٹہ کراٹے )کی موت کا ہونا ہے تو سری نگر میں شکیل بخشی، ہاشم قریشی کا انجام بھی ایسا ہی ہونا ہے آزاد کشمیر میں اسی محبت سے صغیر خان نے بھی دوچار ہونا ہے۔کھوج لگاتے لگاتے یہ بھی conferm ہو گیا کہ بابر قادری کو شہادت کا جام پلانے والے اصل میں نا معلوم ہی ہیں جسمانی طور پر میں کبھی بابر قادری سے نہیں ملاتھا لیکن روحانی طور پر میں اسے کبھی نہ کبھی ملتا رہا اور اب اس کی شہادت کے بعد گمان یہی ہے کہ رہتی دنیا تک اس سے آے روز میری ملاقتیں ہوتی رہیں گی اور روز قیامت وہ بھی جنت میں ہمارے استقبال کے لیے موجود ہو گا سات سال قبل پہلی بار جب وہ پاکستان آیا تو خواہش کے باوجود میرے شہر راولاکوٹ نہ آسکا اس کی زیادہ بیٹھک خالد ابراہیم خان مرحوم اور ان کے بعض کارکنوں کے ساتھ رہی یہ سمجھ نہ آسکی کہ نوجوان بابر قادری کا نظریہ کیا ہے لیکن جب وہ واپس سری نگر پہنچا تو آہستہ آہستہ اس کا موقف سامنے آنے لگا وہ وہی بولی بولنے لگا جو بول کر محمد مقبول بٹ تختہ دار پر لٹکا بابر قادری کی بولی آر پار دونوں مراکز پر ناپسندیدہ بن گئی وہ نظروں میں آگیا ۔۔۔نظروں میں آنے والا پھر کبھی معتبر نہیں رہتا وہ بھی ان کے لیے جو خود تو بے اعتبارے ہیں مگر اوروں کو معتبر ہونے کا سرٹیفکٹ وہ دیتے ہیں چند ہی روز قبل جب بابر قادری کے سوشل میڈیا پر کچھ فوٹو ہاشم قریشی کے ساتھ دیکھے تو خطرے کی بو ُ مجھے محسوس ہو گئی تھی بابر قادری مجھے اس لیے بھی اچھا لگ رہا تھا کہ اس نے میرے شہر راولاکوٹ سے جا کر مقبول بٹ اور امان صاحب کی سیاست کو اپنے لیے وجہ شناخت بناتے کو فہ والوں کے ہاتھوں جام شہادت نوش کرنے والے قاری سردار وحید نور شہید کی ہندوستان کے ہاتھوں وکالت کی اور TV ٹاک شوز میں آئے روز کھل کر مسلہ کشمیر کو اس کے اصل تناظر میں پیش کیا وہ جرات سے بھارت مردہ باد توکہہ رہا تھا لیکن بہت ساری کوششوں کے باوجود علی گیلانی کی طرح کسی اور کے لیے اس نے زندہ باد کا نعرہ نہ لگایااس نے عارف شاہد کے انجام سے سبق نہیں سیکھا جو آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے آزادی پسندوں کے اتحاد آل پارٹیز نیشنل الائنس (APNA) کا دائر ہ کار وسیع کرتے ہوئے وادی اور جموں تک بڑھاتے ہوئے جان سے ہاتھ دھو بیٹھا بابر قادری بھی غلط فہمی کا شکار ہو کر ریاست کی تمام اکائیوں پر مشتمل ایک فورم کے قیام کے سلسلہ میں اس کا آئین تیار کر رہا تھا وہ یہ سمجھ بیٹھا تھا کہ جس طرح محمد علی جناح نے پاکستان کے قیام کے لیے سیاست کے ساتھ قانون اور آئین کی جنگ لڑی وہ بھی جموں لداخ وادی گلگت بلتستان آزاد کشمیر اکسائی چن کو ایک وحدت بنانے بناقانون کی جنگ میں سرخروئی پائے گا مگر اسے نہیں معلوم تھا کہ برہمن کی بات تو دُور ہے یہاں وہ جنہوں نے کلمے کے نام پر ریاست بنائی ہے اس بات کا ادراک نہیں کرسکے ہیں کہ حضرت عمر نے کیوں کر یہ کہا تھا ماؤں نے جن کو آزاد جنم دیا ہے تم نے انہیں غلام کیوں بنایا ؟ اس کا شعور ہونا بھی دور کی بات ہے بے موت مارنے والوں بالخصوص موت کا حکم جاری کرنے والے منصوبہ سازوں کو اس بات کا خوف ہے کہ کل جب روز قیامت خدا پوچھے گا کہ ایک مسلمان پر دوسرے کی جان مال عزت حرام تھی تو کیوں کر نقاب اوڑھے گمنام اور نا معلوم بن کر بابر قادری کو شہید کیا گیا ۔۔۔ ایک اور جرم اس نے کیا جب دنیا بھر میں موجود قوم پرست نام نہاد کشمیری گلگت کو صوبہ بنائے جانے پر چپ کا روزہ رکھے ہوئے ہیں اور میر پور میں گرفتا ر محقق تنویر محمود کی گرفتاری پر بھی جو ایک ماہ سے جاری ہے صرف اس گناہ پر کہ تنویر محمود نے ڈڈیال میں قائم مقبول بٹ اسکوائر پر لگے پڑوسی ملک کے پرچم کو اتار ااور یہ جواذ اپنا رکھا ہے کہ مقبول بٹ سے منسوب اسکوائر پر اس جھنڈے کا لہرانا مقبول بٹ کی روح کو تڑپانا ہے اس بے حسی بلکہ بے غیرتی پر بابر قادری سرینگر میں للکارا تو اس کی للکار صرف اسلام آباد والوں کو ہی اچھی نہیں لگی بلکہ ان نام نہاد قوم پرستوں کے لیے بھی موت بن گئی جو صرف فیس بک پر GBکو صوبہ بنانے کے خلاف بھاشن تو دے رہے ہیں لیکن سڑکوں پر نکلنا گوارہ نہیں کر رہے۔ نوجوان بابر قادری نے یورپ ، امریکہ سمیت دنیا کے دیگر ملکوں میں سیاسی پناہ لیے ہوئے ان قوم پرستوں کو بھی ننگا کر دیا جو ایک مظاہرہ تک نہ کر سکے۔ بابر قادری کو اس جرم کا ارتکاب کرنے سے پہلے نہ جانے کیوں یہ بھول ہو گئی تھی کہ جرم ضعیفی کی سزا ہے مرگ مفاجات۔۔۔۔۔ اس کی موت کا مجھے دکھ نہیں لیکن جب اس کے ساتھ کھیلتی اس کی دو معصوم بچیوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر دیکھی تو دل خون کے آنسو رو پڑا ۔ منصوبہ ساز اور قاتل کیوں اس کو لہو میں نہلانے سے پہلے کربلا کا وہ منظر بھول گئے تھے جہاں معصوم علی اصغر اور زینب کو ظالموں نے درندگی سے شہید کیا ۔ کل کربلا کے قافلے کے ساتھ جب بابر قادری اٹھے گا اور اس کی معصوم بچیاں جب بارگاہ خداوندی میں اپنا نوحہ پڑھیں گی تو پھر قاتل اور منصوبہ ساز وہ اختیارات اور طاقت جس کے گھمنڈ میں آج وہ بابر کا لہو بہا ء گئے قدرت کے سامنے جواب کہاں سے لائیں گے؟؟ہاں مجھے اس کا بھی ادراک ہے کہ بابر قادری کے لہو پر کھل کر سیاست کی جائے گی۔ اس کے اصل قاتلوں کو دنیا کے سامنے بظاہر تو طاقت کے مراکز نہیں آنے دیں گے لیکن مجھے یہ لکھنے میں کوئی خوف نہیں کہ اس کی شہادت کے چند گھنٹوں میں ہی سارا کچھ بے نقاب بھی ہو گیا اور سب کے چہروں سے نقاب بھی الٹ گیا بابر قادری سے قبل نامعلوم ایسے کہیں ناحق قتل کر چکے لیاقت علی خان محترمہ بینظیر بھٹو مرتضیٰ بھٹو سمیع الحق کے خون کا زکر میرے لیے شاید کوئی معنی نہ رکھے لیکن میرے مادر وطن میں غلام نبی بٹ ڈاکٹر عبدل احد گرو ڈاکٹر فاروق عشائی این ایچ وانچو قاضی نثار ،مقبول ملک ادریس خان ڈاکٹر غلام قادر وانی عبدل غنی لون مجید ڈار شجاعت بخاری اور شمالی کشمیر میں حیدر شاہ رضوی جیسے حق پرستوں کا خون اور نا حق قتل مجھے سارے اپنوں اور مخالفین کا فرق سجھا چکا ہے بابر قادری اس کارواں کا نیا سپاہی بن کر سامنے آیا ہے ۔۔مجھے جرات کے ساتھ اس کا لڑنا اور حق بات کہنا اچھا لگا مجھے اس کے کردار پر خوشی بھی ہے اور فخر بھی ۔۔ہاں مجھے اس بات پر اپنے آپ سے شرم بھی آرہی ہے اور نفرت بھی ۔۔۔وہ مجھ سے کم عمر تھا لیکن بڑا مقام پا گیا شاہداس میں خلوص زیادہ تھا ۔۔۔وہ ہم جیسوں کی طرح زبان سے مقبو ل بٹ کا flowerنہ تھا بلکہ دل وجان سے اس کا دیوانہ تھا اسے جب یونیورسٹی کانووکیشن میں Student of year کا ایوارڈ ملا تھا تب کم عمری میں ہی اس نے اس ایوارڈ کو مقبول بٹ کی جدوجہد نظریات اور مزاحمت سے منسوب کر دیا تھا شاعر نے اس جیسوں کے لیے کہا تھا ۔۔بلند رتبہ جس کو ملنا تھا مل گیا ۔۔۔ہر مدعی کے واسطے دار ورسن کہا ں۔۔میں مقبول بٹ کے نام سے طلوع ہونے والے آزادی کشمیر کے سورج کی اس ضوفشاں کرن (بابر قادری )کے نام بس اتنا کہنا چاہوں گا ۔۔۔بار یابی جو ہو حضور مالک تو کہنا ۔۔۔ایسے سوختہ جاں وہاں اور بھی ہیں ۔۔۔اپنے رستے ہوئے زخموں کے نشان دیکھا کر کہنا ۔۔۔ایسے تمغوں کے طلب گار وہاں اور بھی ہیں ۔۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Asif Ashraf

Read More Articles by Asif Ashraf: 10 Articles with 1976 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
05 Oct, 2020 Views: 93

Comments

آپ کی رائے