وہ ممالک جہاں کے لوگ کورونا کے دوران بھی بہت خوش رہے، جانئے ان کے بارے میں!

 
حال ہی میں ایک فرنچ مارکیٹ ریسرچ کمپنی ’’آئی پی ایس او ایس ‘‘ کی جانب ’’گلوبل ہیپی نیس سروے 2020 ‘‘ کیا گیا ہے ۔ یہ سروے دنیا کے 27 ممالک میں کیا گیا ، وہاں کی عوام کو مختلف زاویوں سے دیکھنے کے بعد ایک فہرست ترتیب دی گئی کہ کورونا کے دوران آخر دنیا کے کونسے ممالک ایسے تھے جو ’’خوش ترین ممالک‘‘ کی فہرست میں اولین جگہ بنا پائے ۔ اس سروے کے دوران 27 ممالک کے 63 فیصد افراد نے کورونا وبا کے دوران بھی اپنے آپ کو خوش اور مطمئن قرار دیا ہے ۔
 
اس فہرست میں پہلے نمبر وہی ملک موجود ہے ، جہاں سے کورونا وائرس کا آغاز ہوا تھا ۔ اس وائرس کے پھیلنے کے باوجود وہاں کی عوام نے ہار نہ مانی ، وائرس کو ناصرف ختم کیا بلکہ اس دوران وہ خوش رہنے کی کوشش بھی کرتے دکھائی دئیے ، یہی وجہ ہے کہ وہ فرنچ ادارے کی اس فہرست میں نمبر ایک پر موجود ہیں ۔اس خوش ترین ممالک کی فہرست میں دوسرے نمبر پر نیدرینڈ اور تیسرے نمبر پر سعودی عرب موجود ہیں ۔
 
 
 2020ء میں دنیا کے پُرمسرت ممالک کا جائزہ لینے کے لیے کیے گئے ایک عالمی سروے میں چین اور نیدرلینڈز کے بعد دنیا کا تیسرا خوش ترین ملک سعودی عرب قرار پایا ہے ۔
 
سروے کے دوران چین اور نیدرلینڈز میں ہر 10 میں سے نو افراد نے خود کو ’’بہت خوش ‘‘ یا ’قدرے خوش ‘ قرار دیا ہے جبکہ سعودی عرب میں ہر 10 میں سے آٹھ افراد نے خود کو کورونا کی صورتحال کے باوجود ’’خوش‘‘ قرار دیا ہے۔
 
اس فہرست میں چوتھے نمبر پر فرانس ، پانچویں نمبر پر کینیڈا ، چھٹے نمبر پر آسٹریلیا ، ساتویں نمبر پر برطانیہ ، آٹھویں نمبر پر سویڈن ، نویں نمبر پر جرمنی اور دسویں نمبر پر بیلجیئم موجود ہے ۔امریکا اس درجہ بندی میں گیارھویں نمبر پر ہے اور اس کے ہر 10 میں سے سات شہری مانتے ہیں کہ وہ ’بہت‘ یا ’قدرے‘ خوش ہیں۔ خوش ممالک کی فہرست میں سترھویں نمبر پر ترکی موجود ہے ۔ یاد رہے کہ پاکستان کو چونکہ اس گلوبل سروے میں شامل نہیں کیا گیا تھا اس لئے یہاں کے اعداد و شمار سامنے نہیں آسکے ہیں ۔
 
 
دنیا کے خوش ترین ممالک کی اس درجہ بندی میں سب سے نیچے اسپین ، چلّی اور پیرو موجود ہیں ۔ جہاں کے لوگ کورونا کے دوران اپنی زندگی سے مطمئن نظر نہیں آئے اور انہیں لگا کہ اس دوران جیسے خوشی ان سے روٹھ سی گئی ہے اور یہ حالات ان کیلئے ذرا سے بھی خوش کن ہیں ہیں ۔
 
اس گلوبل سروے کے نتائج میں آبادی کے تناسب کے اعتبار سے خوش افراد کی بھی درجہ بندی کی گئی ہے۔اس ضمن میں سعودی عرب کے 30 فی صد بالغ افراد نے خود کو سب سے زیادہ خوش قرار دیا ہے۔اس کے بعد بھارت میں 22 فی صد اور نیدرلینڈز میں بھی 22 فی صد بالغ افراد سب سے زیادہ خوش بتائے گئے ہیں۔
 
 
آئی پی ایس او ایس نے کرونا وائرس کی وَبا کے دوران میں 24 جولائی سے سات اگست تک یہ سروے کیا تھا ۔ اس میں شامل ہر ملک سے تعلق رکھنے والےایک ہزار سے زیادہ افراد سے ایک آن لائن سروے پلیٹ فارم کے ذریعے سوالات کے جواب دینے کے لیے کہا گیا تھا ۔سروے کے مطابق تمام 27 ممالک میں ہر 10 میں سے چھے افراد نے خود کو خوش قرار دیا ہے۔فرنچ کمپنی نے اپنے اس سروے کے نتائج کا گذشتہ سال کے سروے کے نتائج سے موازنہ کیا ہے اور یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ دنیا بھر میں پھیلنے والی کرونا وائرس کی وَبا کے باوجود عالمی سطح پر خوشیوں کی سطح میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی ہے بلکہ بعض ممالک میں خوشیوں کی سطح بلند ہوئی ہے۔ان میں چین ، روس ، اٹلی اور ملائشیا شامل ہیں۔
 
وہ ممالک جہاں موجود لوگوں کی خوشی مزید کم ہوئی ا، ان میں پیرو اور چلّی شامل ہیں۔پیرو میں 2019ء کے بعد خوشیوں کی شرح میں 26 فی صد اور چلّی میں 15 فی صد کمی واقع ہوئی ہے۔
 
 
خوشی کی وجوہات:
کورونا کے دوران کئے جانے والے اس سروے میں حیران کن طور پر لوگوں نے دولت کو اپنی خوشیوں کا بڑا سبب قرار نہیں دیا ہے بلکہ سروے میں شامل لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کی جسمانی صحت اور تندرستی ان کی خوشی کا سب سے بڑا سبب ہے ۔ اس کے بعد خاوند اور بیوی کا اچھا رشتہ اور بچّوں سے اچھے تعلقات شرکاء کی خوشی کا دوسرا بڑا سبب قرار پائے ہیں ۔
 
کیسے خوش رہا جائے؟
ان ممالک کے لوگوں کا دوسروں کو یہی پیغام ہے کہ سوشل میڈیا بھی ان کی خوشی کا ذریعہ ہرگز نہیں ہے ، اصل خوشی دراصل جسمانی و ذہنی صحت سے حاصل ہوتی ہے ۔ اس کے علاوہ گھر کے دیگر افراد سے بہترین تعلقات ان کی خوشی کی وجہ بنتے ہیں ، لہذا دنیاوی چیزوں پر وقت ضائع کرنے کے بجائے اگر لوگ اپنی صحت اور گھر والوں کو وقت دیں اور ان کا خیال رکھیں تو زندگی کو ہنسی خوشی گزار سکیں گے اور وہ اجتماعی طور پر خوش رہ سکیں گے ۔
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
15 Oct, 2020 Views: 2710

Comments

آپ کی رائے