✕
ARTICLES
Recent Articles
Most Viewed Articles
Most Rated Articles
Featured Articles
Featured Articles - English
Interviews
Featured Writers
HamariWeb Writers Club
E-Books
Post your Article
NEWS
BUSINESS
MOBILE
CRICKET
ISLAM
WOMEN
NAMES
HEALTH
SHOP
More
SHOP
AUTOS
ENews
Recipes
Poetries
Results
Videos
Calculators
Directory
Photos
Urdu Editor
Travel & Tours
English
اردو
Home
Articles
Recent Articles
Most Viewed Articles
Most Rated Articles
Featured Articles
Featured Articles - English
Interviews
Featured Writers
HamariWeb Writers Club
E-Books
Post your Article
Home
Urdu Articles
Society & Culture Articles
ہمارے قبائلی اضلاع اب قومی دھارے میں مکمل طور پرشامل
(Naghma Habib, Nowshera)
ہمارے قبائلی علاقے ہمارے ملک کے بازوئے شمشیر زن ہیں اور یہ بات ریکارڈ پر موجود ہے کہ جب بھی ضرورت پڑی یہ نہتے بھی ملک کی حفاظت کے لیے اُٹھ کھڑے ہوئے۔ بھارت کے ساتھ کشمیر کی پہلی جنگ تو انہی مجاہدین نے لڑی اور کشمیر کی آزادی کا سہرا اپنے سر باندھا یہی قبائلی مغربی سرحد پر چوکس کھڑے رہے اور اسی لیے ہماری یہ سرحد بغیر باقائدہ فوج کے بھی محفوظ تصور کی جاتی رہی۔ قیام پاکستان سے ہی یہ قبائلی پاکستان کے وفادار بلکہ انتہائی وفادار رہے ہیں۔ قائداعظم کے قبائلی علاقوں کے دورے کے موقع پر ان کے فقید المثال استقبال سے لے کر اب تک یہ قبائلی ہر قسم کے ملک دشمن عناصر کے خلاف ہمیشہ سینہ سپر رہے اور پاکستان کی عزت وتوقیرکا باعث بنے ہیں لیکن بیچ میں ایک ایسا وقت بھی آیا کہ یہی قبائلی علاقے دشمن کی سازشوں کی آماجگاہ بن گئے تھے۔ پاکستان میں دہشت گردی کی طویل جنگ میں نہ صرف یہ علاقے بری طرح متاثر ہوئے بلکہ یہی سے دہشت گرد بن بن کر نکلتے رہے اور پورے ملک میں فساد پھیلایا جاتا رہا اورملک کا امن ہر وقت داؤپر لگا رہا۔ انہی علاقوں میں دشمن بارود اور آگ کی فیکڑیاں بناتے رہے اور افغانستان کے راستے یہاں دہشت گردوں کو داخل کیا جاتا رہا اور اب بھی جب بھی موقع ملتا ہے ایسا کر لیا جاتا ہے۔ اسی مداخلت کے پیش نظر پاکستان کو اپنے محدود وسائل میں طویل پاک افغان سرحد پر خار دار تار لگانا پڑی تاکہ اس مداخلت کو روکا جاسکے تاہم اب بھی افغان مہاجرین کی موجودگی کی وجہ سے ہم مکمل طور پر محفوظ نہیں کیونکہ ان مہاجرین کے ساتھ ساتھ ملک دشمن عناصر بھی سرحد پار کر لیتے ہیں اور قبائلی علاقوں میں ان کی رشتہ داریاں ہونے کی وجہ سے ان کے لیے وہاں رک کر منصوبہ بندی اور کاروائیاں کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ ”را“کے سدھائے ہوئے یہ لوگ جو خاص کر پاکستان کے تناظر میں تربیت یافتہ ہوتے ہیں اپنے ان قبائلی رشتہ داروں کو بھی کانوں کان خبر نہیں ہونے دیتے کہ وہ کس نیت سے آئے ہیں اور یوں یہ قبائلی علاقوں کی بدنامی کا باعث بن جاتے ہیں۔تاہم کئی دہائیوں کے نقصان اٹھانے کے بعد اب یہ قبائلی بھی اس بات کو سمجھ چکے ہیں کہ سرحد پار سے ہرآنے والا ان کا دوست نہیں ہوتا اور ان کے اسی محتاط رویے کی وجہ سے اب وہ اپنی حفاظت بہتر طور پر کر سکتے ہیں اور پاک فوج کی انتھک اور بے مثال کوششوں اور قبائلی عوام میں شعور کی بیداری کی وجہ سے اور اللہ پاک کے فضل سے ان کا روائیوں میں نمایاں کمی آچکی ہے اور جہاں ملک میں امن قائم ہوا ہے وہیں ان ضم شدہ قبائلی علاقوں میں ترقی کا سفر بھی شروع ہوگیا ہے۔ اچھے تعلیمی اداروں کے قیام سے یہاں کے عوام کو بہتر تعلیمی سہولتیں میسر آگئی ہیں خوبصورت اور کشادہ سڑکوں نے فاصلوں کو کم کرکے ان علاقوں میں آمد ورفت کو آسان بنا دیا ہے جس سے وہاں کے لوگ ملک کے دوسرے علاقوں میں با آسانی آجاسکتے ہیں اور گھل مل کر بہتر اور پر امن زندگی کے ثمرات حاصل کرنے کی خواہش کر سکتے ہیں اور اسے حاصل کرتے ہیں۔ ان علاقوں میں شاید پہلی بار صحت کی بہتر سہولیات فراہم کی گئی ہیں اور اب یہ لوگ بھی خود کو ترقی یافتہ دنیا کے شانہ بہ شانہ لانے کے لیے بھر پور کوشش کررہے ہیں اور ایسا ہو بھی رہا ہے۔ ان سارے حالات میں جب کہ زندگی ان علاقوں میں واپس لوٹ رہی ہے پی ٹی ایم جیسے لوگ اب اٹھ کھڑے ہوئے ہیں کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ یہ علاقے ترقی کی دوڑ میں شامل ہوں اور ان کی منفی سیاست کا خاتمہ ہوجائے لیکن یہاں کے لوگ یہ ثابت کر رہے ہیں کہ اب وہ مزید کسی شازش کا شکار نہیں ہوں گے جس کا ایک ثبوت باجوڑ بارکونسل میں محسن داوڑ کے ساتھ شرکاء کا سلوک ہے جو اس بات کا غماز ہے کہ یہ لوگ اب ان لوگوں کو مزید بیوقوف نہیں بناسکتے۔ اس بات کا ایک اور خوشگوار ثبوت اس بار کی پاکستان ملٹری اکیڈمی کی پاسنگ آؤٹ بھی ہے جس میں ان علاقوں کی بھر پورنمائندگی موجود تھی اور پندرہ ایسے کیڈٹ پاس آؤٹ ہوئے جن کا تعلق ان علاقوں سے تھا بلکہ قائداعظم گولڈ میڈل بھی وزیرستان کے ایک کیڈٹ جنید خان نے حاصل کیا۔ مجھے ذاتی طورپراس بات کا تجربہ ہے کہ میرے ایسے کئی طالبعلم جن کاتعلق فاٹا سے ہے وہ اس وقت یا تو پی ایم اے میں زیر تربیت ہیں یابے شمار ایسے ہیں جو اس کا حصہ بننے کی بھر پور خواہش رکھتے ہیں۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے قبائلی اضلاع اب قومی دھارے میں مکمل طور پرشامل ہو چکے ہیں اور اندرونی اور بیرونی دشمنوں کو یہ پیغام دے چکے ہیں کہ اب وہ اپنے علاقے،شہر اور دیہات ان کے مذموم عزائم پورے کرنے کے لیے کسی بھی دشمن کے حوالے نہیں کریں گے اور وہ پاکستان کے وسائل میں بھی اور مسائل میں بھی اسی طرح شریک ہوں گے جیسے کہ پاکستان کا کوئی بھی دوسرا شہری اور وہ دن دور نہیں جب ان کے علاقے کراچی، پنڈی،لاہور،پشاور اور کوئٹہ کے شانہ بہ شانہ چل سکیں گے، انشاء اللہ۔
< PREVIOUS
لاک ڈاؤن تالابندی کے کرامات
NEXT >
خوراک کا تحفظ ،ہماری اجتماعی ذمہ داری
Facebook
WhatsApp
Pinterest
Twitter
Comments
Print
15 Oct, 2020
Views: 895
About the Author:
Naghma Habib
Read More Articles by
Naghma Habib
:
514 Articles with 591430 views
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile
here.
Add Your Article
Article Categories
Politics
سیاست
Society & Culture
معاشرہ اور ثقافت
Religion
مذہب
Other/Miscellaneous
متفرق
Literature & Humor
ادب و مزاح
Education
تعلیم
Health
صحت
Famous Personalities
مشہور شخصیات
Science & Technology
سائنس / ٹیکنالوجی
Novel
افسانہ
Sports
کھیل
True Stories
سچی کہانیاں
Books Intro
تعارفِ کتب
Travel & Tourism
سیر و سیاحت
Career
کیریر
Entertainment
انٹرٹینمنٹ
Kids Corner
بچوں کی دنیا
Poetry
شعر و شاعری
100 Lafzon Ke Kahani
سو لفظوں کی کہانی
Young Writers
نوجوان قلم کار
Arts
ہنر
Military Democracy
سول فوجی جمہوریت
Hamariweb Writers Club
ہماری ویب رائٹرز کلب
Recent
Society & Culture
Articles
والدین کا احترام: نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کی روشنی میں
حجۃ الوداع کا خطبہ: عالمگیر پیغام اور کامیاب زندگی کا راز
عید الفطر: خوشی، رحمت اور ضرورت مندوں کی مدد کا پیغام
انسپکٹر ناصر – ایک بہادر پولیس افسر کی داستان
View all Society & Culture Articles
Most Viewed
(
Last 30 Days
|
All Time
)
تو میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن
اسٹیل ٹاؤن -- اب وہ بہاریں کہاں ؟
عورتوں کا عالمی دن: مساوات اور خودمختاری کی جانب ایک قدم
آخری قہقہہ
The role of media in today's world
CHILD LABOR IN PAKISTAN
Present problems of Pakistan
Short history of pakistan independence (1900-1947)